نئی باتیں / نئی سوچ

Friday, December 31, 2004

واہ

کیا خوبصورت موسم ہے، لگے جیسے جنت میں ہوں، واقع اس طویل عرصے میں پہلی بار محسوس ہورہا ہے کہ آج کا موسم نہایت ہی خوشگوار ہے ـ چاروں طرف تیز تھنڈی ہوائیں، سمندر کا پانی پورے جوش کے ساتھ مستی سے موجیں مار رہا ہے اور یہاں بحیرہ کورنیش میں بھی پانی اپنی سطح سے اوپر آگیا ـ کورنیش کے کنارے لگے کھجوروں کے درخت تیز ہواؤں کی وجہ سے جھومنے رہے ہیں، دھند کی وجہ سے قریبی عمارتیں بھی نظر نہیں آتیں ـ اس حسین موسم کو دیکھ دل چاہتا ہے کہ باہر جاؤں اور خوب موج مستی کروں مگر کیا کیا جائے دفتر میں ڈیوٹی پر ہوں ـ
Blogger Lucifer's Angel said...

Enjoy the weather. Close the door and start dancing in the office. :^)

BTW, what software do you use to write the urdu text for this blog?

January 02, 2005 12:10 AM  

Post a Comment

8.5

سنتے ہی دل دہل گیا، زیادہ سے زیادہ ٦ء٥ ریکٹر اسکیل کی دہشت سے تو سب کچھ دہل جاتا ہے مگر کل اتوار کے ہولناک زلزلے کی خبریں سننے اور ٹی وی پر دیکھنے کے بعد بہت افسوس ہوا، پتہ نہیں یہ چھوٹے چھوٹے جزیرے انڈومان اور نکوبار آج ہیں بھی یا نہیں کیوں کہ یہ ٨ء٥ ریکٹر اسکیل کا زلزلہ کوئی معمولی قیامت نہیں ہے جو انڈونیشیا کی ریاست سماترا سے لیکر ہزاروں کلومیٹر دور ہندوستان کے مشرق میں ساحلی علاقوں کو ہلاکر رکھ دیا اور نہیں معلوم ان کے درمیان موجود جزیروں کا کیا حشر ہوا ہوگا اور میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ زلزلے کی وجہ سے ساحلوں پر سمندر کی موجیں دس میٹر اونچی چل رہی ہیں ـ ہنستی کھیلتی زندگی میں اچانک قیامت کا برپا ہوجانا بہت بڑے دکھ کی بات ہے ـ ابھی یہاں بلاگ کیلئے پوسٹ لکھ رہا ہوں اور ریڈیو پر مزید ہزاروں اموات کی اطلاع دیجا رہی ہے ـ

Post a Comment

سونامی

چوں کہ جاپانی نام ہے، پہلے کبھی نہیں سنا تھا، آج کل اخباروں میں یہ نام لیڈ پر ہے ـ گذشتہ روز جنوب ایشیا میں ہوئی تباہکاریوں کو جسے میں زلزلہ سمجھتا تھا مگر جاپانی اسے سونامی کہتے ہیں یعنی سمندر کی تہہ میں ہونے والے زلزلوں کو جو بکثرت جاپان اور انڈونیشیا کے علاقوں میں ہوتے ہیں، زیر سمندر زلزلے جسکی وجہ سے آس پاس کے علاقے دہل جاتے ہیں، ان علاقوں کے لوگ اس آفت کو سونامی کہتے ہیں ـ

Post a Comment

بارش

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ امارات میں پچھلے اڑتالیس گھنٹوں سے ٹھہر ٹھہر کر بارش ہورہی ہے اور پہلی بار گرجدار آوازوں کیساتھ مسلسل بجلیاں چمک رہی ہیں ـ آدھی رات کو بجلیوں کی آواز سنکر نیند سے جاگا، کھڑکیاں بند کرکے واپس اپنے بیڈ پر آکر سو گیا ـ جب دوبارہ نیند سے جاگا تو صبح کے آٹھ بجے تھے، وہ تو شکر ہے آج دفتر میں ہمارے پروڈیکشن ڈیپارٹمنٹ کو چھٹی تھی کیوں کہ سنڈے کے دن ہم ڈیوٹی پر تھے جس کی وجہ سے آج منگل کے دن چھٹی کردی گئی ـ کیا بات ہے! صبح صبح زبردست بارش، تیز اور تھنڈی ہوائیں اور اوپر سے چھٹی کا دن ــــ صبح آٹھ بجے اٹھنے کے بعد جیسے ہی یاد آیا کہ آج تو چھٹی کا دن ہے، دوبارہ بلانکٹ میں گھس گیا اور پھر جب آنکھ کھلی تو بارہ بج چکے تھے جب کھڑکیوں سے باہر جھانکا تو ایسا لگا جیسے صبح کے چھ بج رہے ہوں ـ بہت تھنڈ لگ رہی تھی، بیڈ سے اتر کر زمین پر کھڑا ہوا، زمین اتنی تھنڈی تھی جیسے برف پر کھڑا ہوں ـ صبح کسی نے گیزر آن کرکے آف کرنا بھول گیا تھا جسکی وجہ سے میرے نصیب میں نہانے کیلئے گرم گرم پانی بھی تھا ـ نہانے کے بعد اپنے لئے چائے بنایا اور جب کھڑکیاں کھولا تو اب بھی بارش ہورہی تھی، چائے کا کپ لیکر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا، چینل ون پر کارٹون پروگرامس دکھائے جا رہے تھے ـ امارات میں رہتے ہوئے زندگی میں پہلی بار چوبیس گھنٹے بارش دیکھنا نصیب ہوا شاید امارات میں رہنے والے آج کا دن کبھی نہیں بھولیں گے ـ میرے خیال سے یہاں امارات میں اچانک موسم کا تبدیل ہوجانا شاید انڈونیشیا اور ہندوستان میں ہونے والے سونامی کی وجہ سے ایسا ہوا ہوگا کیوں کہ جس دن سونامی ہوا، ٹھیک اسکے دوسرے دن سے ہی یہاں لگاتار بارشیں ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی تھنڈی تیز ہوائیں بھی ـ آج چہارشنبہ ہے اور آج بھی تیز اور تھنڈی ہوائیں گشت کر رہی ہیں اور دفتر میں بیٹھے اپنے بلاگ کیلئے پوسٹ لکھ رہا ہوں ـ امارات میں اچانک اور مسلسل بارش کا ہوجانا ـ ـ ـ تعجب ہے ـ

Post a Comment

شوق

کتابیں پڑھنے کا بالکل شوق نہیں اور نہ ہی شعر و شاعری میں دلچسپی ہے، شاعروں سے چڑ ہوتی ہے اور شاعروں کے قریب بھی نہیں جاتا اور کوئی دوست جو شاعر نہیں پھر بھی شاعری کا شوق رکھتا ہے تو اس سے بھی دور رہتا ہوں ـ ہاں دنیا بھر کے اخبارات پڑھنے کا شوق ہے اسکے علاوہ بچوں کی کہانیاں اور کامِکس پڑھنے میں دلچسپی رکھتا ہوں ـ میرے خیال میں افسانے اور جاسوسی ناولس کے شوقین کا دماغ ساتویں آسمان پر ہوتا جو اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں، اسی لئے میں نے کبھی نہ تو افسانے پڑھے اور نہ ہی جاسوسی ناول ـ مجھے خط لکھنا پسند نہیں ویسے خط لکھنا آتا بھی نہیں ویسے بہت سارے خطوط وصول ہوئے مگر کسی کو جواب نہیں دیا ـ اپنے بلاگ کیلئے بہت کچھ لکھ لیا یہی میرے لئے بہت بڑی بات ہے، اردو میں ٹائپنگ کرتے وقت بہت اچھا لگتا ہے اسی لئے اس شوق کو پورا کرتے ہوئے اپنے بلاگ کیلئے زیادہ سے زیادہ لکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں ـ

posted by Shuaib at 10:15 AM 0 comments

Post a Comment

Friday, December 24, 2004

شعیب

علی اور سکندر یہ دونوں نام مجھے بہت پسند ہیں ویسے میرا نام شعیب بھی کوئی برا نہیں ہے ـ جب میں چھوٹا تھا تو پورے خاندان ہی میں نہیں پورے اسکول، پورے علاقے میں اور دور دور تک شعیب نام کا کوئی نہیں تھا مگر آج ہر سو بچوں میں ایک کا نام شعیب رکھا جاتا ہے ـ انگریزی کے چھ اور اردو کے چار حروفوں سے بنا شعیب نام مجھے پہلے پسند نہیں تھا مگر اب اپنے نام پر فخر کرتا ہوں، غیر اردو ـ عربی دان میرے نام کو سویٹ نیم (پیارا نام) کہتے ہیں ـ مزے کی بات یہ ہے کہ میرا نام تو شعیب ہے مگر اسکا مطلب کبھی جاننے کی کوشش نہیں کیا، کہتے ہیں یہ ایک ہزاروں سال پرانی زبان ہے جسے عبرانی کہتے ہیں اور اس دور کے ایک معزز ہستی کا نام بھی شعیب ہی تھا ـ پاسپورٹ میں میرا پورا نام ’’ٹیپو محمد شعیب‘‘ ہے مگر شعیب کو چھوڑ کر شروع کے دونوں نام مجھے پسند نہیں اور ہر جگہ صرف شعیب ہی لکھا کرتا ہوں اگر کوئی مجھ سے پورا نام پوچھے تو صرف شعیب ہی کہتا ہوں ـ جب میں چھوٹا تھا اور رشتہ داروں کو پتہ چلا کہ میرا نام شعیب ہے تو سبھی نے تعجب کیا کہ یہ کیسا نام ہے مگر ہے تو پیارا نام، شعیب نام سننے اور پکارنے میں اچھا لگتا ہے اور چند لوگ ایسے بھی ہیں جو شعیب کو تلّفظ کے ساتھ ادا نہیں کرسکتے یعنی شعیب کا جملہ اس طرح ادا کرتے ہیں صحیب، سویب، شیب یا پھر صاحب ـ ـ ـ اور اسکول میں مجھے سیب کہہ کر چھیڑتے تھے تو بہت غصّہ آتا تھا ـ آج نئے ملنے والوں کو اپنا نام شعیب بتاتا ہوں تو کہتے ہیں: اووہ شعیب اختر! ـ ـ ـ جواب میں کہتا: اختر پختر کچھ نہیں میرا نام صرف شعیب ہے ـ والد نے میرا پورا نام ٹیپو محمد شعیب رکھا تھا اور جب اپنے والد سے ٹیپو کے متعلق پوچھا تو پتہ چلا ٹیپو ہمارے دادا کا نام تھا اور میرے دیگر بھائی بہنوں کے ناموں میں بھی ٹیپو نام جڑا ہوا ہے ـ خاندان اور پڑوسی کہتے ہیں کہ والد نے ہم بھائی بہنوں کے نام بہت ہی عمدہ اور خوبصورت رکھے ہیں، میرا نام شعیب اور باقی دو بھائیوں کے نام عمیر اور معاذ ـ پورے اسکول، کالج اور انسٹیٹیوٹس میں اکیلا شعیب تھا، جہاں بھی جس کمپنی میں نوکری کیا وہاں بھی اکیلا شعیب تھا اور آج بھی جس کمپنی میں نوکری کر رہا ہوں، یہاں تقریبا پانچ سو افراد کام کرتے ہیں پھر بھی اکیلا شعیب ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:45 AM 0 comments

Post a Comment

ایک اور

کل رات ایک اور نیا موبائل خرید لایا، اب تک موبائل فونس کی خریداری میں یہ میرے لئے سب سے مہنگا موبائل سیٹ ہے ـ اس نئے موبائل میں مزید سہولتیں ہیں: وائس ریکارڈنگ، ویڈیو ریکارڈنگ، فوٹو کیمرا، کالر فوٹو آئی ڈی، انٹرنیٹ براؤسنگ، ریڈیو ایف ایم، انفراریڈر، بلوتوتھ (وائرلیس ٹیکنالوجی) کے علاوہ ہیڈفون بھی ساتھ ہے اور اس موبائل میں ٥٠ ایم بی کا چپ ہے جس میں ایک ہزار نام اور فون نمبرس کے علاوہ پانچ سو ایس ایم ایس محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی ہے مزید یہ کہ اس موبائل سیٹ میں میڈیا پلائر، ایم پی تھری، ڈیجیٹل ساؤنڈ ایفیکٹ، اسپیکرس اور تھری ڈی گیمز بھی شامل ہیں ـ یہ موبائل سیٹ نوکیا کمپنی کا ماڈل نمبر ٦٢٣٠ ہے اور اسکی قیمت ایک ہزار تین سو درھم یعنی ہندوستان کے تقریبا ١٥ ہزار چھ سو روپئے ہے ـ

posted by Shuaib at 9:44 AM 0 comments

Post a Comment

انوکھی جہالت

داڑھی : ہاں بھائی مانتا ہوں کہ مرد کی زینت ہے، مرد کا حسن ہے، مرد کا زیور ہے اور چند طبقوں کیلئے مقدس مقام بھی رکھتی ہے ـ مگر کہتے ہیں داڑھی اور مونچھیں مرد ہونے کی علامتیں ہیں، تو کیا بغیر داڑھی مونچھوں والا نامرد ہے؟ عورت کے سر کے بال لمبے اور گھنے ہوتے ہیں مگر مرد اپنے سر کے بالوں کا سائز چھوٹا رکھتا ہے اگر چاہتا تو وہ بھی عورتوں کی طرح اپنے سر کے بال لمبے اور گھنے رکھ سکتا تھا، لمبے بالوں میں صرف عورت ہی خوبصورت نظر آتی ہے مرد نہیں ـ اگر مرد چہرے پر گھنی داڑھی اور مونچھیں ترشوالیں تو کیا ہوا، مرد شیو کرنے بعد بھی مرد ہی نظر آتا ہے ہیجڑا نہیں ـ ایک عام مرد یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ عورتوں کی طرح اپنے سر پر لمبے بال رکھے اور اسکی چٹیا بنالے ـ آج بھی مرد صرف مردوں کے ہی لباس پہننا پسند کرتا ہے، کبھی یہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ ایک فروفیشنل پڑھا لکھا مرد بازار میں ساڑی یا اسکرٹ پہن کر آیا ہو مگر ان عورتوں کا کیا کہنا جو مردوں جیسے بال، مردوں کے کپڑے پہنے بازاروں میں گھومتی ہیں اور عورتوں کیلئے یہ فیشن بھی بن گیا ہے کہ شرٹ اور ٹراؤزر پہنے اور اپنے سر کے بالوں کو مردوں کی طرح چھوٹے رکھے ـ دنیا میں روایت چلی آرہی ہے کہ عورتیں اپنے سر کے بالوں کو لمبے اور مرد اپنے سر کے بالوں کو چھوٹے رکھتے ہیں ـ مرد صرف اپنے چہرے کے بال صاف کرتا ہے اور عورتیں اپنے ہاتھ اور پیروں کے بال صاف کرتی ہیں اور عورتوں کو اپنے جسم کے بال نکالنے کیلئے بازاروں میں نئے نئے تکنیکی آلات بھی ملتے ہیں جسے باقاعدہ ٹی وی پر تشہیر بھی کیا جاتا ہے ـ مرد کے ہاتھ، پیر اور سینے پر بے تحاشہ بال ہوتے ہیں جنہیں وہ شیو نہیں کرتا مگر عورتیں اپنے پیروں پر ابھرے ہوئے بالوں کو صاف کرکے منی اسکرٹ پہنے بازاروں کو گھومنے نکلتی ہیں اگر چار دن کیلئے یہ اپنے پیروں کے بال نہ تراش لیں تو انکی منی اسکرٹ سے نکلی ہوئی ٹانگوں پر باریک باریک کالے دانے نظر آتے ہیں جیسے مرد کے چہرے پر شیونگ کے دو دن بعد نظر آتے ہیں ـ مرد ہو یا عورت دونوں کی اپنی اپنی مرضی کہ جیسا چاہے ویسا اپنے جسم پر سے بال صاف کرسکتے ہیں اور ایسا کرلینے سے دونوں کے جنس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ـ

posted by Shuaib at 9:44 AM 0 comments

Post a Comment

میک اپ

اپنا ایک ساتھی انڈیا جارہا ہے، ابھی سے خریداری شروع کرچکا ہے، ڈی وی ڈی، گھڑیاں، زیورات، کپڑے، چاکلیٹس وغیرہ، اب صرف ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنا باقی ہے ـ خریداری کرتے وقت اس نے مجھ سے پوچھا کہ گھر والوں کیلئے اور کیا کیا خریدوں؟ میں نے اسے رائے دیا کہ اپنی بہنوں کیلئے میک اپ سیٹ بھی خریدلے ـ کہنے لگا مجھے میک اپ قطعی پسند نہیں، جہاں تک ہوسکے ضروری سامان لیکر جاؤں گا مگر میک اپ سیٹ ہرگز نہیں ـ میں نے پوچھا کیوں نہیں؟ جواب میں کہنے لگا اسلام میں میک اپ کرنا جائز نہیں اور مجھے خود میک شدہ چہرے بالکل پسند نہیں ـ میں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا: تم اپنے چہرے پر شیو کیوں کرتے ہو؟ جبکہ مردوں کو داڑھی رکھنا اسلام میں ضروری ہے؟ میرے دوست نے اسکا کوئی صحیح جواز پیش نہیں کیا اور ٹال مٹول کرکے کنارے ہوگیا ـ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا: جس طرح تم خوبرو نظر آنے کیلئے اپنے چہرے سے داڑھی صاف کرتے ہو اسی طرح زیورات پہننا اور میک اپ کرنا عورت کا حق ہے اور اسکی ضرورت بھی ہے ـ مگر میرا دوست کہتا ہے اسے میک اپ بالکل پسند نہیں اور اس نے کہا کہ وہ اپنی بہنوں کو بھی میک اپ کرنے پر سختی سے منع کر رکھا ہے ـ خیر یہ میرے دوست کی جہالت ہے کہ خود اپنے چہرے پر شیونگ لیتا ہے اور اپنی بہنوں کو میک اپ کرنے سے منع کرتا ہے لیکن میں نے تو اپنی بہنوں کیلئے بہت سارا میک اپ کا سامان پارسل کرچکا ہوں اور آگے بھی انکی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مدد کرتا رہوں گا ـ میری نظر میں عورت ہو یا مرد دونوں کو برابر کا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق رہیں ـ میری نیک تمنّائیں میرے دوست کیساتھ ہیں کہ سہاگ رات کو اسکی بیوی بغیر میک اپ میں آئے جسے دیکھ کر میرے دوست کو احساس ہو کہ عورت کا میک اپ کرنا کتنا ضروری ہے ـ

posted by Shuaib at 9:43 AM 0 comments

Post a Comment

ٹریفک

امارات میں انسانوں سے زیادہ گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے ـ عمارتوں کی چھتوں پر گاڑیاں، زیر زمین پارکنگ میں گاڑیاں، باہر کھلی جگہوں پر بھی گاڑیاں، شاپنگ سنٹروں اور بازاروں میں بھی تمام پارکنگ اسپیس گاڑیوں سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اسکے علاوہ تمام شہروں کی ہر شاہراہ پر گاڑیوں کی لائن ہوتی ہے جیسے کاروں کی ٹرین ہو ـ کہیں بھی سڑک پار کرنا گویا جان ہتھیلی پر لیجانے کے مصداق ہے، ویسے روزانہ حادثات کا رونما ہونا اب عام ہوگیا ہے ـ شارجہ سے دبئی یا دبئی سے شارجہ جانے کیلئے بذریعہ ٹیکسی صرف پندرہ منٹوں کا راستہ ہے مگر ٹریفک کا اژدھام اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ پندرہ منٹوں میں پہنچنے والا پورے ایک یا دیڑھ گھنٹے میں پہنچتا ہے ـ حکومت فلائی اوورس بناتے بناتے تھک گئی مگر روزانہ سڑکوں پر پچاس گاڑیوں کا اضافہ ہوتا جارہا ہے، عام لوگوں کی سہولت کیلئے حکومت نے دبئ ـ شارجہ کیلئے منی بسوں کا انتظام بھی کردیا تاکہ ٹریفک میں کچھ کمی ہو مگر کمی کہاں ہوئی؟ روز بروز ٹریفک کا مسئلہ برقرار ہے اور مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے ـ شکر ہے حکومت شارجہ نے اب پٹھان ٹیکسی ڈرائیورس کو دھیرے دھیرے ریٹائرڈ کرنا شروع کردیا اور انکی جگہ پڑھے لکھے با شعور ڈرائیوروں کو بھرتی کر رہی ہے اور ٹیکسیوں میں میٹر بھی لگوا دیا ـ ان پٹھان ٹیکسی ڈرائیوروں سے بات کرنا گویا حکومت کو منوانے کے مترادف ہے، ٹیکسی تو عوام کی سہولت کیلئے ہے مگر پٹھان ہیں کہ اپنی مرضی سے ٹیکسی چلاتے ہیں اور وہ بھی پچاس ـ ساٹھ سال کے بوڑھے، منہ میں نسوار، جمعہ میں ایک دن نہانے والے، عوام کیساتھ بدتمیزی سے پیش آنے والے ـ ـ ـ اب تو ان پٹھانوں سے واسطہ چھوٹا، اب شارجہ میں ٹیکسی ڈرائیورس سے کرایہ پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں کیوں کہ دبئی کی طرح اب یہاں بھی میٹر والی ٹیکسیاں دوڑ رہی ہیں جسکے ڈرائیورس صاف ستھرے اور جوان ہیں ـ

posted by Shuaib at 9:43 AM 0 comments

Post a Comment

سنڈے ایڈیشن

انگریزی ہو یا اردو اخبار، ہر سنڈے ایڈیشن میں گھسے پٹے یا پرانے لطیفے شائع کر رہے ہیں اور میں نوٹ کر رہا ہوں یہ سلسلہ تقریبا چار یا پانچ سالوں سے چل رہا ہے اس سے پہلے اخبارات کے سنڈے ایڈیشنوں میں مزیدار چٹ پٹے اور نئے نئے لطیفے شائع ہوتے تھے ـ ایک اخبار کے سنڈے ایڈیشن میں جو لطیفے پڑھتا ہوں وہی لطیفے دوسرے کسی اخبار میں دو ہفتوں بعد پڑھنے کو ملتے ہیں ـ ویسے مجھے میگزینس، رسالے یا ماہنامے وغیرہ پڑھنے کی عادت نہیں اگر پڑھتا بھی ہوں تو وہی جو من کو بھائے یعنی کہ لطائف، نئی ٹیکنالوجی یا پھر معلومات وغیرہ ـ میں جس اخبار میں کام کرتا تھا، وہاں بھی سنڈے ایڈیشن کے لطیفے کسی دوسرے اخبار یا رسالے سے کاپی کرکے شائع کرتے تھے ـ کسی بھی اخبار کے سنڈے ایڈیشن میں بچوں کا ایڈیشن، فلم ایڈیشن، ایڈوینچرس اور معلوماتی مضامین کے علاوہ کارٹونس پسند ہیں ان صفحات کو چھوڑ کر باقی کا اخبار میرے لئے بیکار ہے ـ

posted by Shuaib at 9:42 AM 0 comments

Post a Comment

Tuesday, December 21, 2004

Buhaira Corniche - Evening view

Here is my Office and Flat infront of Buhaira Corniche - Sharjah UAE

posted by Shuaib at 10:14 PM 0 comments

Post a Comment

پوسٹ

یوں تو روزانہ اپنے بلاگ کیلئے کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا ہوں پھر دس بارہ پوسٹ لکھنے کے بعد ہی اپنے بلاگ پر پوسٹ کرتا ہوں ـ اگر روزانہ آفس میں بیٹھے انٹرنیٹ پر اپنے بلاگ کو براؤس کرتا رہوں تو آئی ٹی منیجر میرے اس بلاگ کو بھی بلاک کردے گا پھر مجھے باہر کسی سائبر کیفے میں جاکر پوسٹ لکھنی پڑے گی ـ چوں کہ جمعہ کے دن کمپنی کو چھٹی ہے سوائے ہمارے پروڈیکشن ڈیپارٹمنٹ کے، اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والوں کی چھٹی اتوار کو ہے اور جمعہ کا دن آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ بھی بند رہتا ہے سوائے سرور کے ـ تو میرے لئے جمعہ کا دن غنیمت ہے، جمعہ کا پورا دن دفتر میں بیٹھے انٹرنیٹ میں گھسا رہتا ہوں مگر ای میل چیک کرنا ہو یا چیٹنگ سائبر کیفے کو جانا پڑتا ہے کیوں کہ کمپنی میں ذاتی مفادات کے تمام سائٹوں کو آئی ٹی منیجر نے بلاک کردیا ہے ـ اسی لئے ایک ساتھ دس بارہ پوسٹوں کو صرف جمعہ کے دن ہی اپلوڈ کرتا ہوں ـ تمام مضامین نوٹ پیڈ میں ٹائپ کرنے کے بعد ہفتے میں ایک بار جمعہ کے دن پوسٹ کرتا ہوں ـ اس دفعہ بہت ساری پوسٹ اپلوڈ کر رہا ہوں جو پچھلے دو ہفتوں سے لکھ رہا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:59 PM 0 comments

Post a Comment

جو بھی ہو

میں مانتا ہوں موٹا پا ایک بیماری ہے، موٹا پا صحت کیلئے مضر ہے اور موٹاپے سے انسان بہت جلد مرجاتا ہے مگر میں کیا کروں کھانے کا اتنا شوقین ہوں کہ اپنے موٹاپے کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا اگر دیتا بھی ہوں تو خود جواب بھی رکھتا ہوں ’’جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا‘‘ـ مجھے یہاں عام ہوٹلوں کے کھانے پسند نہیں، صبح کو چائے کے ساتھ چیز کھاتا ہوں، دوپہر میں آلو کے چپس اور کیک کیساتھ جوس پیتا تھا مگر اب باقاعدہ کھانا کھا رہا ہوں ـ رات میں برگر اور شورما کھانے کے بعد سونے سے پہلے دودھ پیتا ہوں ـ ہر دو دن میں ایک بار پیٹزاہٹ یا پھر کے ایف سی ریسٹورنٹس میں کھاتا ہوں ـ اسکے علاوہ دوسری بہت ساری تیل والی غذائیں، کیک اور چاکلیٹ وغیرہ خوب کھاتا ہوں ـ دوست مجھے موٹو کہتے تھے تو بہت غصّہ آتا تھا مگر اب نہیں، کیوں کہ موٹو کہہ کر چھیڑنے والوں کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا ـ دوست کہتے ہیں: ’’شعیب کو دیکھو کھاتا پیتا ہمیشہ خوش رہتا ہے، اسے ذرا بھی ٹینشن نہیں‘‘ ـ میں بھی یہی چاہتا ہوں کیونکہ مجھے ٹینشن لینا پسند نہیں اور جب بھی ٹینشن ہو خوب کھاتا ہوں اور جب غصّہ آتا ہے تب بھی خوب کھاتا ہوں، مجھے ہمیشہ کھاتے پیتے خوش رہنا پسند ہے ـ کل جو ہوگا اچھا ہی ہوگا ـ

posted by Shuaib at 9:58 PM 0 comments

Post a Comment

بچ گیا

کچھ نہیں ہوا، میرے ہاتھ پیر بھی سلامت ہیں اور اپنے بلاگ کیلئے یہ دوسری پوسٹ بھی لکھ رہا ہوں ـ صبح سے ہی طرح طرح کے خیالات آرہے تھے کہ اس لبنانی لڑکی نے اپنے گھر والوں کو میری شرارت کے بارے میں بتا دیا ہوگا اور اسکے چاروں بڑے بھائی پوری تیاری کے ساتھ میری تاک میں ہوں گے! باپ رے ــ سوچتے سوچتے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے ـ آج بھی روز کی طرح اسی راستے سے گذر ہوا، دور سے ہی اس لبنانی حسینہ کو دیکھ کنارے ہوگیا اور پارکنگ میں کھڑی کاروں کے پیچھے سے چھپ کر دفتر تک پہنچا ـ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکی نے بھی مجھے دیکھ کر تھوڑی دیر کیلئے عمارت کے اندر چلی گئی تھی اور جب میں نے اسے دور سے اس کی طرف دیکھا تو وہ بھی جھانک جھانک کر دور ہی سے مجھے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ـ وہ تو کل کی بات تھی، آج اسے آنکھ مارے تیسرا دن ہے ـ آج تو وہ سر پر اسکارف پہنے کھڑی تھی ـ کل کی طرح آج بھی پارکنگ میں کھڑی کاروں کے پیچھے سے ہوتے ہوئے دفتر پہنچا ـ جس لڑکی کو روزانہ اسکے قریب سے ہوتے ہوئے نظروں سے ملاقات کرتا تھا، پرسوں اسے آنکھ مارنے کے بعد اب نظریں ملانے کی ہمّت نہیں ہورہی ہے ـ اب نہیں معلوم کل کیا ہوگا، معابلہ بہت گمبھیر ہوگیا ہے ـ

posted by Shuaib at 9:57 PM 0 comments

Post a Comment

حسینہ

روزانہ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد دفتر کو جانے کے راستے میں ایک لڑکی سے نظروں کی ملاقات ہوتی رہتی ہے، یہ سلسلہ پچھلے تین مہینوں سے چل رہا ہے ـ یہ لڑکی روزانہ دوپہر ڈھائی بجے کالج کی بس کے انتظار میں ایک عمارت کے نیچے کھڑی رہتی ہے اور میرا گذر بھی روزانہ اسی عمارت کے نیچے سے ہوتا ہے ـ اگر لڑکی کہیں کنارے کھڑی ہو تو میں اسے جھانک کر دیکھے بغیر نہیں جاتا اسی طرح وہ بھی مجھے دیکھے بغیر نہیں مڑتی، روزانہ پابندی سے ہم دونوں کے درمیان نظروں کی ملاقات ہوتی رہتی ہے ـ پتہ نہیں وہ مجھے کیوں دیکھتی ہے مگر میں تو اسکے خوبصورت مکھڑے کو دیکھتا ہوں اگر ایک دن وہ مجھے نظر نہ آئے تو دل کو سکون نہیں ملتا ـ کل دوپہر کو پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس حسینہ سے نظروں کی ملاقات ہوئی اور اسے دیکھ کر مسکرا دیا اور ساتھ میں آنکھ بھی ماردیا ـ میرے آنکھ مارنے سے لڑکی کچھ حیران اور کچھ پریشان سی ہوکر مڑگئی ـ میں خود پریشان ہوگیا کہ یہ میں نے کیا کردیا! یہ میری شرارت تھی یا میری آنکھ کی؟ بغیر سوچے سمجھے اسے آنکھ کیسے مار دیا؟؟ پھر بڑے بڑے قدم اٹھاتے ہوئے آفس کی جانب چل پڑا ـ دفتر پہنچ کر سوچنے لگا میں نے آج ایسی حرکت کیوں کیا؟؟؟ شام تک اس لڑکی کے بارے میں دریافت کرلیا، یہ ایک لبنانی لڑکی ہے جسکے چار بڑے بھائی بھی ہیں! اب پتہ نہیں کل میرا کیا حشر ہوگا، اگر کل میرے ہاتھ پیر سلامت رہیں تو اگلا پوسٹ ضرور لکھوں گا ـ

posted by Shuaib at 9:56 PM 0 comments

Post a Comment

چائنیز

امّی کے ہاتھوں بنایا ہوا کھانا میرا پسندیدہ کھانا ہے، ویسے ہندوستانی کھانے بہت لذیذ ہوتے ہیں ـ امارات میں ہندوستانی ہوٹل کا مطلب ملباری ہوٹل ہے اور ان ہوٹلوں میں وہی پکایا جاتا ہے جو ملباری اپنے گاؤں میں کھاتے ہیں مگر ملباری یہاں امارات میں آنے کے بعد تھوڑا بہت ملا جلا بھی پکاتے ہیں جسے عام الفاظوں میں ’’گھٹیا کھانا‘‘ کہہ سکتے ہیں ـ انکے علاوہ اور دوسرے ہندوستانی ریسٹورنٹس بھی ہیں جہاں پر خالص ہندوستانی کھانے بنائے جاتے ہیں مگر ان ہوٹلوں کی تعداد بہت ہی کم ہے مطلب کہ دھونڈنا پڑتا ہے مگر ملباری ہوٹلوں کو دھونڈنے کی بالکل ہی ضرورت نہیں کیوں کہ یہاں ہر جگہ جہاں تک نظر اٹھائیں صرف ملباری کی ہوٹلیں دکھائی دیں گی باقی سوپر مارکیٹس بھی ملباریوں کے ہی ہیں ـ ذائقے کیلئے دبئی اور شارجہ میں دنیا بھر کے ایک سے بڑھ کر ایک قسمہا قسم کے ریسٹورنٹس بھی ہیں جہاں پر اعلی قسم کے بہترین کھانے ملتے ہیں، مہنگے ضرور ہیں مگر کھانے کو جی چاہتا ہے امیر تو امیر شوقین لوگ بھی روپیہ پیسہ نہیں دیکھتے انہیں صرف اچھا کھانے کو چاہئیے ـ یہاں آنے کے بعد قسمہا قسم کی ہوٹلوں میں کچھ نہ کچھ کھاتا رہا، برگر کنگ، پیٹزاہٹ، کے ایف سی، میاکڈونالڈ اور گولڈن فورک یہ سب اب عام ہوچکا ہے، اسکے علاوہ اور بہت سارے انٹرنیشنل ریسٹورنٹس بھی ہیں مگر یہاں میرا پسندیدہ کھانا چائنیز ہے کیوں کہ میں جس چائنیز ریسٹورنٹ کو جاتا ہوں، وہاں نہایت ہی پاکی صفائی کے ساتھ بہت ہی لذیذ اور چینی مسالے دار کھانے کو ملتا ہے، مہنگا ضرور ہے مگر لاجواب ہے ، ہفتے میں دو بار چائنیز کھانے ضرور جاتا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:55 PM 0 comments

Post a Comment

ننھے منے

عرییوں کے ننھے منے پیارے پیارے بچے، جی چاہتا ہے انہیں گود میں اٹھالوں پھر ان کے سویٹ گالوں پر ایک تھپڑ مارکر زور سے نیچے اتار دوں ـ عمارتوں کی بالکونی میں کھڑے ہوکر نیچے راہ چلتے لوگوں کے اوپر پیپسی کولا کی بوتلیں پھینکتے ہیں یا پھر اوپر سے پانی یا پیپسی سے نیچے چل رہے راہ گیروں کو گندہ کردیتے ہیں، عمارتوں کے اندر بیٹھک میں چیونگم چباکر کرسیوں پر چپکا دیتے ہیں ـ پیپسی کولا کی بوتلوں کو فٹ پاتھوں پر توڑ کر چکناچور کردیتے ہیں، پارکنگ میں کھڑی ہوئی گاڑیوں کے ٹائر سے ہوا نکالتے ہیں، سوپر مارکیٹوں میں گھس کر چھوٹی موٹی چیزیں چرا لیتے ہیں، گندی گندی گالیاں دیتے ہیں، راہگیروں پر پتھر پھینکتے ہیں ـ ان عربی بچوں کے مانباپ کون ہیں یہ تو پتہ نہیں مگر بچوں کے پہنے ہوئے کپڑوں سے اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ امیر باپ کی اولاد ہیں مگر ان بچوں کی شرارتیں بھی بہت عجیب ہیں، وہاں انڈیا میں ننھے منے بچوں کی شرارت تو خیر ٹھیک ہے مگر یہاں عربیوں کے بچوں کی شرارت شرارت نہیں بلکہ شیطانیت کہہ سکتا ہوں ـ ان عربی بچوں کو ماں باپ نہیں گھر کی ملازمائیں پالتی ہیں، ماں باپ کی نگرانی میں پلنے والا بچہ شرارت ضرور کرتا ہے مگر شیطانیت نہیں ـ

posted by Shuaib at 9:54 PM 0 comments

Post a Comment

بیچاریاں

یہاں عربیوں کے گھروں میں چھوٹے قد والی انڈونیشا، فلپائن اور سری لنکا کی نہایت ہی بدشکل لڑکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، ویسے ان تینوں ملکوں میں خوبصورت لڑکیاں بھی ہوتی ہیں مگر عربی عورتیں اپنے گھروں میں نوکر صرف بدشکل لڑکیوں کو ہی رکھتی ہیں ـ بڑی سی پھیلی ہوئی ناک، چہرے پر ہلکی پھلکی داڑھی اور مونچھیں، جھیترے دانت، معمولی یونیفارم جیسے کپڑے، چہروں پر بدحواسی لئے اور چہرے پر چیچک جیسے دانے وغیرہ، کچھ ایسی ہی قسم کی لڑکیاں ہوتی ہیں جنہیں عربی عورتیں اپنے گھروں میں ملازمہ رکھنا پسند کرتی ہیں ـ یہ بیچاری بدشکل ملازمائیں گھریلو کاموں میں اتنا مصروف رہتی ہیں کہ خود اپنے وجود کو ہی بھول جاتی ہیں ـ صبح سب سے پہلے اٹھ کر گھر کی صفائی کرنا، بچوں کو نہلانا، بازار سے سامان لانا، شام میں بچوں کو پارک گھمانے لیجانا پھر رات کو سب سے آخر میں سونا وغیرہ ـ عربیوں کے بچے بھی اتنے ہوتے ہیں کہ گنتی کرنا مشکل ہے اور یہ بدشکل بیچاریوں کو سب کا خیال رکھنا پڑتا ہے ـ میرے خیال سے عربی عورتیں اپنے گھروں میں بدشکل ملازمائیں اس لئے رکھتی ہیں تاکہ عربی اور اسکے بچے ان بدشکل ملازماؤں سے پرہیز کرسکیں لیکن مجھے نہیں لگتا کیوں کہ انسان جب جانور بنتا ہے تو کسی سے پرہیز نہیں کرتا ـ

posted by Shuaib at 9:54 PM 0 comments

Post a Comment

پڑوسی

پرانے پڑوسیوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ وہ ہمیں فلیٹ خالی کرتے ہوئے دیکھ کر سکون محسوس کر رہے تھے کیوں کہ صرف پانچویں منزل پر ہی نہیں پوری بلڈنگ میں صرف فیملی والے ہی ہیں سوائے ہمارے ـ کوئی بھی فیملی والا نہیں چاہتا کہ اسکا پڑوسی بیچلر ہو! ہم بیچلرس تقریبا دو سال سے زیادہ عرصے تک ان فیملی والوں کے پڑوسی رہے، ٹیپ ریکارڈ پر زور زور سے گانے بجانا، ٹی وی کا ساؤنڈ زیادہ رکھنا اور زور سے دروازہ بند کرنا یہ سب ہمارا معمول تھا جس کی وجہ سے پڑوسی اپنے دروازے اور کھڑکیاں ہمیشہ بند رکھتے تھے ـ نئے فلیٹ کو شفٹ ہوتے وقت ہم بیچلرس بھی خوش ہیں کہ نئی جگہ نئی بلڈنگ کے پاس نئے پڑوسیوں کو دیکھنا نصیب ہوگا یوں بھی ان پرانے پڑوسیوں سے بور ہوچکے ہیں، روزانہ وہی چہرے مگر اب نئے چہرے دیکھنے کو ملیں گے ـ اس نئی شاندار پچیس منزلہ عمارت کے آس پاس بالکل ایسی ہی ہمہ منزلہ عمارتیں بھی ہیں، ہر بلڈنگ میں تقریبا سو، دیڑھ سو فلیٹس ضرور ہیں ـ آس پاس کی بلڈنگوں کے فلیٹوں میں رہنے والوں نے تقریبا ایک سال تک اپنی کھڑکیوں کو بند رکھا تھا کیوں کہ جب یہ بلڈنگ تیار ہورہی تھی تو دھول مٹّی اور اس سے بڑھ کر کنسٹریکشن کے وقت ہونے والی آوازوں نے ان عمارتوں میں رہنے والوں کو بہت پریشان کیا تھا اب جب کہ یہ بلڈنگ تیار ہوگئی تو پڑوسی بلڈنگوں کے فلیٹوں میں رہنے والوں نے اپنی کھڑکیاں کھول کر سکون کا سانس لیا مگر انہیں کیا پتہ کہ اس نئی بلڈنگ کے ایک فلیٹ میں ہم بھی آرہے ہیں ـ ہم ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ نئی جگہ شرافت سے رہیں گے اور پڑوسیوں کا احترام بھی کریں گے ـ نئے فلیٹ پر پہنچتے ہی ایک ساتھی نے زور سے گانا کیا بجایا کہ پڑوس کی بلڈنگ میں ساتھ والے فلیٹ میں رہنے والوں نے اپنی کھڑکیاں بند کرلیں ـ

posted by Shuaib at 9:54 PM 0 comments

Post a Comment

ہیلپ

یوں تو یہ لفظ انسانیت سے جڑا ہے، کرنا پڑتا ہے کیوں کہ یہی بھائی چارہ ہے ـ تقریبا ہم چھ افراد کا سامان تھا جس میں تمام ساتھیوں کے چھ المارے، چھ پلنگ، دو ٹیبل، آٹھ کرسیاں، دو ٹی وی، ایک فریج، ایک واشنگ مشین کے علاوہ ہر ساتھی کے چار سوٹ کیس اور بہت سارا سامان جو بڑے ڈبوں میں باندھ رکھا تھا شامل تھے ـ ویسے سارا سامان لفٹ کے ذریعے نیچے اتارا گیا پھر بھی سامان باندھ کر لفٹ تک لانے، لفٹ سے نیچے اتارکر پک اپ تک لیجانے اور اس میں سارا سامان چڑھانے میں آدھی جان چلی گئی ـ پھر دوسری عمارت کے سامنے سارا سامان اتارا گیا، تھوڑا تھوڑا سامان اٹھاکر لفٹ کے ذریعے اوپر پانچویں منزل تک لیجانا اور پھر اپنے فلیٹ میں اپنے اپنے کمروں میں لیجاکر سارا سامان کھول کر پھر سے سجانا واقعی میرے لئے بہت زیادہ محنت کا کام تھا کیوں کہ اس سے پہلے ایسی محنت کبھی نہیں کیا ـ میرا سامان زیادہ نہیں تھا مگر ساتھیوں کا سامان باپ رے، ساتھ رہتے تھے اس لئے ہیلپ کرنے میں پیش پیش تھا اگر کوئی اور ہوتا تو دور سے ہی سلام کردیتا ـ المارے اتنے وزن تھے کہ چار ساتھیوں کی ضرورت تھی جیسے ہم جنازہ اٹھا رہے ہوں، پورے چھ المارے تھے ـ ہیلپ کرنے کا صلہ بھی مل گیا آج صبح سے ہی جسم میں کھٹا میٹھا درد ہونے لگا ہے ـ

posted by Shuaib at 9:53 PM 0 comments

Post a Comment

نشہ

بہت ساری نشہ آور چیزیں ٹرائی کرچکا ہوں بیڑی، سگریٹ، شراب، پان، پان پراگ، گانجہ، شیشہ وغیرہ اور کئی دفعہ پٹھانوں سے نسوار بھی مانگ کر کھالیا مگر اب تک کسی بھی نشے کی عادت نہیں ـ دوستوں کیساتھ شوقیہ سگریٹ پیتا ہوں، جب کبھی ڈسکو یا نائٹ کلب جاتا ہوں تو تھوڑی سی بیئر ضرور پیتا ہوں اور ایک دفعہ تھوڑی سی وہسکی کیا پی لیا کہ میری تو جان ہی نکل گئی تھی ـ فی الحال ایک آوارہ دوست سے روزانہ تھوڑا تھوڑا پان مسالہ مانگ کر کھا رہا ہوں اگر ایک دن یہ آوارہ دوست مجھے نہ ملا تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج ایک ضروری کام بھول گیا ـ ویسے مجھے نشہ کرنا یا نشے میں رہنا بالکل پسند نہیں اور مجھے سگریٹ کے دھوئیں اور بدبو سے بہت تکلیف ہوتی ہے، ہاں خوشبو کیلئے پان مسالے کے چار قطرے منہ میں رکھ لیتا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:53 PM 0 comments

Post a Comment

ٹائپنگ

انگریزی، اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں ٹائپنگ کرسکتا ہوں اسکے علاوہ ان چاروں زبانوں کے ساتھ ملٹی میڈیا پریزنٹیشن، ویب ڈیزائننگ اور گرافک ڈیزائننگ بھی اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کاموں میں اچھا خاصہ تجربہ بھی ہوچکا ہے، عربی اور فارسی زبانیں صرف پڑھ اور لکھ سکتا ہوں مگر سمجھ نہیں سکتا اور ان چاروں زبانوں میں ٹائپنگ کی رفتار یکساں ہے ـ اگر انگریزی ـ اردو یا انگریزی ـ عربی کو ایکساتھ ٹائپ کرنا ہے تب بھی ٹائپنگ کی رفتار وہی رہے گی کیوں کہ ایک میڈیکل کی چار سو صفحات والی کتاب ٹائپ کرچکا ہوں جو ایک ساتھ انگریزی، اردو اور عربی میں تھی ـ اب تو ان چاروں زبانوں میں کام کرتے مکمل دس سالوں کا تجربہ ہوچکا ہے فی الحال اپنی ایک دوست سے جرمن زبان سیکھ رہا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:52 PM 0 comments

Post a Comment

ٹیکسٹائل

آج ہندوستان کے ہر شہر میں فیشن انسٹیٹیوٹ کے مراکز موجود ہیں جہاں پر فیابرک ڈیزائننگ بھی سکھایا جاتا ہے اور فیابرک ڈیزائن کرنے کیلئے بے شمار کمپیوٹر سافٹویئرس بھی بازار میں آچکے ہیں ـ مگر ٹیکسٹائل ڈیزائنرس یہ جان کر چونک پڑیں گے اور شاید مجھ پر ہنسیں گے کہ میں بھی ٹیکسٹائل ڈیزائن کر رہا ہوں مگر کسی مخصوص سافٹویئر میں نہیں بلکہ کورل ڈرا کے ورژن ١٠ میں ـ فی الحال ٹائی کیلئے مختلف گرافیکل فیابرکس تیار کر رہا ہوں اس سے پہلے سوٹس کیلئے بھی فیابرک بناچکا ہوں صرف کورل ڈرا میں، کیوں کہ میں پروفیشنل ٹیکسٹائل ڈیزائنر نہیں ہوں اور نہ ہی کسی ٹیکسٹائل سافٹویئر کو جانتا ہوں مگر کورل ڈرا اور فوٹوشاپ میں کافی تجربہ ہوچکا ہے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر اب ہوبہو ٹیکسٹائل بھی ڈیزائن کرنے لگا ہوں حالاں کہ کمپنی والوں کو اطلاع کرچکا ہوں کہ مجھے بھی ٹیکسٹائل سافٹویئر لادیں، مشکل یہ ہے کہ ٹیکسٹائل ڈیزائن کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اسکے لئے باقاعدہ کورس کرنا ہوگا مگر جو بھی ہو کسی بھی ٹیکسٹائل کو دیکھ کر اس کا ہوبہو کورل ڈرا میں ڈیزائن کرلیتا ہوں، ہوبہو ڈیزائن کرنا بھی بہت بڑا کام ہے کیوں کہ ہر سنٹی میٹر اور ملی میٹر سے گذرنا پڑتا ہے ویسے آنکھیں کمزور ہونے کے سو فیصد امکانات ہیں ـ

posted by Shuaib at 9:52 PM 0 comments

Post a Comment

بال

بچپن کو چھوڑ کر آج تک اپنے بالوں میں تیل نہیں لگایا ـ بچپن میں امّی میرے بالوں میں تیل لگاتیں تو اسکے فورا بعد کھڑکیوں کے پردے سے اپنے بالوں کو صاف کرلیتا اور پھر امّی گندے پردوں کو دیکھ کر مجھے خوب مارتیں اور دوبارہ میرے بالوں میں تیل ڈال دیتیں ـ جب تھوڑا بڑا ہوا پھر سر کے بالوں کو پانی سے بھگوکر امیتابھ بچن کے اسٹائل سے سیدھی مانگ نکالتا تو امّی کنگھے سے میرے سر پر مارتیں اور پھر اپنے ہاتھوں سے میرے بالوں میں کنگھا کرکے سائڈ کی مانگ بنادیتیں ـ بالوں میں تیل نہ ڈلوانے کی وجہ سے امّی کے ہاتھوں اتنا پٹا ہوا ہوں کہ آج بھی وہ منظر یاد کرنے سے میرے سر کے بال کھڑے ہوجاتے ہیں ـ سر پر بالوں میں تیل ڈالنا مجھے بالکل پسند نہیں بہت ہی گِھن ہوتی ہے، چکنا چکنا، سر کھجا بھی نہیں سکتا اور تکیے پر سر رکھ کر سوتا تو تکیہ کا نقشہ ہی بدل جاتا ہے ـ مگر آج جب اپنے ساتھ والوں کو دیکھتا ہوں تو اپنے آپ میں فخر کے ساتھ خوشی بھی محسوس کرتا ہوں کیوں کہ میرے تمام دوست گنجے ہوتے جارہے ہیں اور سب کے سب اپنے جھڑتے بالوں کی وجہ سے بہت پریشان بھی ہیں ـ تمام دوست روزانہ اپنے بالوں میں تیل ڈالتے ہیں، شیمپو استعمال کرتے ہیں، ڈاکٹروں کے کہنے سے اور ٹی وی کے اشتہاروں پر عمل کرتے ہوئے ہر بار نئے صابون استعمال کرتے ہیں پھر بھی انکے بال ہیں کہ جھڑتے رہتے ہیں اب تو انکے سروں پر خالی خالی جگہ نظر آنے لگی ہے یعنی کہ گنجے پن کی نشانی ہے ـ میں خوش ہوں کہ میرے سر کے بال مضبوطی کیساتھ ملائم بھی ہیں کیوں کہ میں نے کبھی سر پر تیل نہیں ڈالا، کبھی شیمپو استعمال نہیں کیا اور بچپن سے لیکر آج تک ہر روز ایک ہی قسم کا صابون استعمال کر رہا ہوں اور کبھی اپنے بالوں کی طرف توجہ نہیں دیا جس کی وجہ سے آج میرے بال سلامت ہیں ـ

posted by Shuaib at 9:51 PM 0 comments

Post a Comment

’فارمولہ ون‘

آج جمعہ ١٧ دسمبر ٢٠٠٤ء شہر کے ہزاروں لوگ بحیرہ کورنیش کے اطراف جمع ہیں، ہم آفس میں بیٹھے کام کر رہے ہیں اور کورنیش آفس کے سامنے ہے ـ واہ واہ کیا بات ہے، ویسے یہ آفس فرسٹ فلور پر ہے اور تھرڈ فلور پر بھی جسکی کھڑکیاں اور بالکونی بحیرہ کورنیش کی طرف ہیں یہاں سے بحیرہ کورنیش کا خوبصورت منظر دیکھ سکتے ہیں ـ آج یہاں بحیرہ کورنیش میں ’فارمولہ ون‘ یعنی بوٹ ریسنگ کا مقابلہ شروع ہونے جارہا ہے جو تقریبا دو گھنٹوں تک چلتا رہے گا ـ ابھی یہاں ٹائپ کر رہا ہوں اور وہاں کھڑکیوں کے باہر بحیرہ کورنیش میں زور و شور سے بوٹ ریسنگ کی تیاریاں تقریبا مکمل ہونے کو آرہی ہیں ـ یہاں الماسا سنیما کے آگے چار دن قبل سولہ بڑے بڑے کنٹینرز اتارے گئے جس میں تیز رفتار قیمتی بوٹس موجود تھیں اور آج یہاں بوٹ ریسنگ مقابلہ دیکھنے کیلئے بحیرہ کورنیش کے اطرف ہزاروں افراد دوپہر سے ہی جمع ہوگئے ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے پورے شارجہ کے لوگ یہاں آگئے ہوں ـ گذشتہ سال کی بوٹ ریسنگ میں امارات کی بوٹ پہلے نمبر آئی ـ ہاں! اب میں آفس کی بلڈنگ میں تیسری منزل کی بالکونی میں کھڑے ہوکر بحیرہ کورنیش کی جانب دیکھ رہا ہوں ـ شام چار بجے کا وقت ہے ـ لیجئے بوٹ ریسنگ شروع ہوگئی، چھوٹی چھوٹی بوٹس راکٹ کے ڈیزائن والی بجلی کی رفتار سے پانی کو کاٹتے ہوئے پلک جھپکتے ہی بہت دور نکل گئیں ـ یہ ریسنگ ٹھیک ساڑھے پانچ بجے اختتام پذیر ہوئی ـ ہزاروں آنکھوں نے بحیرہ کورنیش پر امارات کی بوٹ کو پہلے نمبر پر آتے ہوئے دیکھا مگر اس بار صرف پندرہ فیصد لوگوں نے تالیاں بجائیں کیوں کہ باقی لوگ جو گذشتہ سال کا مقابلہ دیکھ چکے تھے، کنفیوژ ہوگئے تھے کہ گذشتہ مرتبہ بھی امارات کی بوٹ پہلے نمبر تھی اور اس بار بھی ـ ایک ہفتے سے آفس میں اپنے ساتھیوں سے یہی کہتا آرہا تھا کہ پتہ نہیں یہ بوٹ ریسنگ کیوں کرواتے ہیں جبکہ امارات ہی فرسٹ آتی ہے لیکن آفس کے ساتھی ہیں کہ مانتے ہی نہیں ـ بالکل میچ فکسنگ کی طرح ہمیشہ کی طرح امارات کا نمبر ایک پر آنا تعجب ہے یعنی کہ ہزاروں لوگ جو تقریبا دو گھنٹوں سے کھڑے بجلی کی رفتار سے بھاگتی ہوئی بوٹس کو دیکھ رہے تھے بیوقوف بن گئے ـ جب میں واپس پہلی منزل پر آکر بحیرہ کورنیش سے لوگوں کو واپس آتے ہوئے دیکھ رہا تھا انکے چہرے مشکوک تھے اور کنفیوژ بھی ـ آفس میں بیٹھ کر کام کر رہے ساتھیوں کو جب یہ خبر ہوئی کہ امارات پہلے نمبر پر آگیا تو تمام ساتھی چونکے اور میری طرف مسکراکر دیکھ رہے تھے ـ میرا اندازہ صحیح نکلا کہ امارات ہی پہلے نمبر پر آئے گا کیوں کہ ایسا ہی ہے ـ تمام ساتھیوں کا یہی کہنا ہے کہ پبلک کو بیوقوف بنایا کیلئے بوٹ ریسنگ کا مقابلہ رکھا تھا ـ

posted by Shuaib at 9:47 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, December 17, 2004

مسافر

رات کو سونے سے پہلے نئی ہندی فلم ’مسافر‘ دیکھا، کچھ خاص نہیں مگر آئٹم گانے دل کو لبھانے لگے اور سنجے دت کی اداکاری میں دم تھا مگر انیل کپور کو پروفیشنل آوارہ دکھایا گیا ـ تمام آئٹم گانوں میں لڑکیوں کا ڈانس اچھا رہا جس میں تھوڑی بہت ہالی ووڈ کی جھلک دکھائی دے رہی تھی کل ملاکر مسافر ایک بکواس فلم ہے ـ

posted by Shuaib at 10:26 AM 1 comments

Anonymous Anonymous said...

Salam dost, maine bhi Musafar dekha, story bhi pasand ayi aur gane bhi.... thik hai achi film hai. hai na.

Yahya Khan

December 17, 2004 3:47 PM  

Post a Comment

جیون

سوچ لیا، خدا تو صرف ایک خیال ہے سمجھ لیا، دنیا ایک عظیم جنت ہے پھر خیال آیا، یہ بھوک کیا بلا ہے سوچ لیا، بہت بڑا دولت مند بنوں گا سمجھ لیا، اور میں بھی جنت میں رہوں گا پھر خیال آیا، میرے مرنے کے بعد کیا ہوگا سوچ لیا، اگر مرنا ہی ہے تو دولت کس کام کی سمجھ لیا، دنیا جنت بھی ہے اور جہنم بھی پھر خیال آیا، جینا اسی کا نام ہے

posted by Shuaib at 10:24 AM 1 comments

Anonymous Anonymous said...

Shuaib bhai, yeh tumne kiya likh diya? kuch bhi samajh me nahi araha hai.... kiya matlab hai.

Yahya Khan

December 17, 2004 3:49 PM  

Post a Comment

کھانا

آجکل دوپہر میں تقریبا اچھا کھانے کو مل رہا ہے اور میں اس کھانے سے خوش بھی ہوں کیوں کہ ایک سال بعد دوپہر میں کچھ اچھا کھانے کو مل رہا ہے ـ رات میں تو خیر برگر یا شورما پر گذارا کرتا ہوں ـ میرے ساتھ دوسرے ساتھیوں نے بھی دوپہر کے کھانے کی تعریفیں کیں ـ یہ کھانا ایک ہندوستانی ہوٹل سے آتا ہے جو ہمارے فلیٹ سے بہت دور ہے جسے ڈیلیوری بوائے بذریعہ کار ہم تک پہنچاتا ہے اب سوچ رہا ہوں رات کو بھی وہیں سے کھانا منگوالوں مگر رات کا تو میرا کوئی ٹھکانا نہیں کبھی یہاں تو کبھی وہاں ـ

posted by Shuaib at 10:23 AM 0 comments

Post a Comment

Wednesday, December 08, 2004

روبوٹ کی شرارت

میری دوست نے پوچھا کہ کیا تم شیطان پر یقین کرتے ہو؟ کیوں کہ کل رات کو ہمارا روبوٹ (کتّا) ایک جانب دیکھ کر بھونکنا شروع کردیا ساتھ ہی عجیب حرکتیں کرنے لگا، روبوٹ کے بھونکنے پر میں نے آس پاس دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا سب کچھ خاموش ہی تھا سمجھ میں نہیں آرہا کہ روبوٹ کسے دیکھ کر بھونک رہا ہے اور وہ بھونکتے ہوئے ایک جانب غصّے سے گھور رہا تھا ـ ایسا پہلی بار ہوا کہ ہمارا روبوٹ اچانک کسی انجان چیز کو دیکھ اچھل اچھل کر بھونکتا رہا اور یہ ہمارا روبوٹ بہت ہی اچھا چالاک شریر اور نٹ کھٹ کے علاوہ بہت ہی سمجھدار ہے ـ اپنی دوست کی باتیں سن کر ہنستے ہوئے پوچھا کہ اس وقت وہ کیا کر رہی تھی ـ کہنے لگی اس وقت گھر پر کوئی نہیں تھا، میں اکیلی صوفے پر بیٹھے دوسرے ورلڈ وار کی کہانی پڑھ رہی تھی اور روبوٹ میرے سامنے ہی بیٹھا کسی چیز کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک وہ تیزی سے اٹھا ہال میں ایک جانب جہاں نہ کھڑکی تھی اور نہ دروازہ کہ اچھل اچھل کر بھونکنے لگا اور میری طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے وہاں کوئی ہے ـــ اففف میں تو ڈرگئی تھی، صوفے سے اٹھنے کی ہمّت چھوٹ گئی میں اس طرف دیکھنے لگی جس طرف روبوٹ بھونک رہا تھا مگر مجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیا ـ رات دس بجے ممّی اور میرے بھائی بہن سب واپس آئے تو انہیں یہ واقعہ سنایا اور پھر ہم سب نے ملکر عبادت کیا اور بائبل بھی پڑھا ـ دوست کی ساری باتیں سن کر میں نے کہا: ہممممممم ـ ـ ـ ـ لگتا ہے تمہارا روبوٹ بہت ہی شریر ہے اور تمہیں ڈرانے کیلئے ایسا کیا ہوگا اور تم ڈر گئیں ہاہاہا ـ پھر کہنے لگی: ہممم تم ہنس رہے ہو، ویسے مجھے بھی بھوت اور شیطانوں پر یقین نہیں ہے پھر بھی پتہ نہیں کل رات تھوڑی دیر کیلئے شیطان پر یقین کر بیٹھی ہی ہی ہی ـ

posted by Shuaib at 11:35 PM 2 comments

Anonymous Anonymous said...

Salam to you.

from : Aysha naaz

December 14, 2004 11:16 PM  
Anonymous Anonymous said...

SHUKRIYA AYSHA, UMMEED HAI KE TUM MERA BLOG REGULAR PADHTI HOGI.

SHUAIB

December 17, 2004 3:51 PM  

Post a Comment

اندھیرے میں خدا

لوگ اپنے معبود کی تلاش کرتے ہیں شاید کہ وہ اندھیرے میں ہو کیوں کہ اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا اور وہ اشاروں کے سوا بات بھی نہیں کرتا اسی لئے اس کی موجودگی کا احساس بھی نہیں ہوتا مگر وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے سوائے ظلم کے کیوں کہ اسے کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا پسند نہیں اور وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتا جارہا ہے وہ تو اسکا روز مرّہ کام ہے کیوں کہ اسے بیکار بیٹھنا پسند نہیں اور وہ ہمارے دل کی بات کو سنتا ہے مگر سمجھ نہیں سکتا کیوں کہ اسے زبانیں آتی نہیں رہ گئی بات کہ وہ دنیا کا حاکم ہے اور ہم اسکے محکوم ہیں اب اسکے علاوہ دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں کہ جب انسان انسان سے نہیں ڈرتا پھر کوئی تو ہو جسکے نام سے سامنے والے انسان کو ڈرائے ـ کہتے ہیں جو اس کے دربار میں مانگے گا آج تک تو ہر کوئی خالی ہاتھ ہی لوٹا ہے ضرورت تو یہ ہے کہ جب دعاؤں میں اثر نہیں تو بد دعا ہی سہی مگر جب چاند و سورج ہوا اور پانی ہر چیز سب اس کے قبضے میں ہے تو کمپیوٹر کیوں نہیں شاید کہ اسے پسند نہیں کیوں کہ کمپیوٹر انسان کی ایجاد ہے ـ

posted by Shuaib at 11:33 PM 0 comments

Post a Comment

قصے کہانیاں

صرف سن کر مزے لینے کیلئے ہے یہ نہیں کہ سچ مچ چیزوں کا غائب ہوجانا، آسمان سے دسترخوان کا اترنا، چاند کو تکڑوں میں بانٹنا، اچانک پتھروں کا برسنا وغیرہ وغیرہ وغیرہ خیر ایسی کہانیوں سے بچپن اچھا گذر جاتا ہے لیکن ان مذہبی کہانیوں کا کیا کہنا جو اسپائڈر مین اور سوپر مین سے مختلف ہوتی ہیں اور مذہب پسند ہیں کہ ایسی کہانیوں پر کھلے دل و دماغ سے یقین بھی کرلیتے ہیں کہ انسان کا غائب ہونا بھی مذہب میں عظیم مانا جاتا ہے مگر ایسا تو کسی نے نہیں دیکھا لیکن مذہبی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ آسمان سے دسترخوان اتارا گیا ـ ـ ـ خون کی بارش ـ ـ ـ پنکھ والے انسان کا زمین پر اترنا ـ ـ ـ اشاروں میں ہی زمین پر کھڑے چاند کو تکڑے کردینا ـ ـ ـ یہ ساری باتیں عجیب اور غریب ہیں جیسے ایک ڈراؤنی فلم میں اسپیشل افیکٹ سے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ کر محسوس کرلیتے ہیں مگر کیا کتابوں میں پڑھ کر یا سنی سنائی باتوں پر یہ یقین کرلیں کہ گذرے زمانوں میں انسان ایسی عجیب الغریب حرکتیں کرتا تھا تو آج ایسی گھسی پٹی حرکتیں کرنے والے انسان کہاں ہیں جو مریض کو انگلی کے اشارے سے شفا دیدے؟ آدھی رات کو دروازے کے باہر چھم چھم کی آوازوں کا آنا، نیم کے درخت پر چمکتی ہوئی آنکھوں کا گھورنا، دروازے کا پاٹھک اچانک کھل جانا، مرے ہوئے انسان سے ملاقات کرنا، قبر پر سے دھواں نکلنا ـ ـ ـ یہ ساری چیزیں شہروں میں کیوں نہیں ہوتیں صرف گاوؤں میں ہی کیوں؟ یہ نہیں کہ گاؤں کے سارے لوگ جاہل ہیں وہ تو ساتھ بیٹھے ہوئے انسان کا سودا کردیتے ہیں ـ ایسی منحسوس باتوں پر انسان کا ضمیر نہیں مانتا لیکن انسان بچپن سے ہی مذہبی رسومات میں پلا بڑھا اور وہ اپنے مذہب کی ہر بات کو آنکھ بند کرکے یقین کرلیتا ہے اگر اپنے مذہب میں واہیات بھی ہے تب بھی ـ شکر ہے ان انسانوں کا جنہوں نے دنیا کو بتادیا کہ بارش کیسے برستا ہے، آسمان میں بجلیاں کیوں چمکتی ہیں، زلزلے کیوں ہوتے ہیں، چاند میں کیا ہے، زمین کیوں گول ہے، بھاپ کیا چیز ہے، انسان کے جسم میں کتنی ہڈیاں ہیں وغیرہ ـ ـ ـ اور یہ انسان کا ہی کارنامہ ہے کہ منٹوں میں ہزاروں کلو میٹر دور اپنوں کو دیکھ کر ان سے بات بھی کرسکتے ہیں ـ گذرے ہوئے لوگ قصے کہانیاں بنانے میں ماہر تھے اور آج کا انسان دنیا میں نئے نئے انقلاب لا رہا ہے پھر لوگ ہیں کہ انہونی قصے کہانیوں پر یقین کرلیتے ہیں ـ

posted by Shuaib at 11:30 PM 0 comments

Post a Comment

باڈی بلڈنگ

بچپن سے ڈبلیو ڈبلیو ایف دیکھتے مجھ میں بھی تمنّا جاگی کہ باڈی بلڈر بنوں مگر بالآخر باڈی بلڈنگ پسند نہیں آیا ـ یہ بات صحیح ہے کہ ہاف آستین کی ٹی شرٹ پہنے باڈی بلڈر لڑکوں کو لڑکیاں بہت پسند کرتی ہیں اور لڑکے بھی باڈی بلڈر بننا پسند کرتے ہیں تو صرف لڑکیوں کی خاطر ـ میری نظر میں روزانہ جیم کرنا انسان کے مشغلوں میں ایک ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے جیم کرنے والا انسان طاقتور ضرور ہوجاتا ہے مگر بہادر نہیں ہوتا ہے! میرے اکثر دوست سالوں سے جیم جا رہے ہیں اور اب تک تو وہ اپنے جسموں کو بہت ہی مضبوط بنواچکے ہیں مگر سب کے سب ڈرپوک اور نازک طبیعت والے ہیں ـ آج یہاں اپنے بلاگ میں جیم کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کروں گا کیوں کہ جیم جانے والے میرے دوست ہمیشہ مجھے تنگ کرتے ہیں کہ میں جیم نہیں کرتا جیم جانے والوں کی تعریف نہیں کرتا، انکی باتوں کا نوٹس نہیں لیتا وغیرہ ـ میرے فلیٹ میٹ رات کو جیسے ہی جیم خانہ سے واپس آتے ہیں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر جگہ جگہ سے اپنے ابھرے ہوئے جسم کو فخر سے دیکھتے ہیں اور جب تک کوئی دوسرا انکے مضبوط جسم کی تعریف نہ کرلے سکون نہیں ملتا ـ میں مانتا ہوں کہ باڈی بلڈنگ انسان کا اپنا شوق ہے، ارنالڈ بھی اسی شوق کو پورا کرنے کیلئے آرمی کیمپ سے بھاگ نکلا تھا ـ جسم کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے جسم کو جگہ جگہ سے ابھارو! ہاتھ پیر موٹے کرلو، یہاں تک کہ ایک باقاعدہ باڈی بلڈر پھرتی کیساتھ اٹھ بیٹھ نہیں سکتا، تیزی سے دوڑ بھی نہیں سکتا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا پانی کے گلاس کو اپنے منہ تک نہیں لے جاسکتا صرف اوپر سے ہی انڈیلتا ہے! کیا ضرورت ہے ایسے گینڈا نما جسم کی؟ ایک بات تو ضرور ہے کہ اگر انکے ہاتھ مجھ جیسا کوئی پھنس جائے تو چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا ـ سننے میں آیا ہے کہ باڈی بلڈرس میں مردانہ قوت فنا ہوجاتی ہے! خیر یہ تو وہ خود جانیں اور انکی عورتیں ـ لیکن میں اپنے لئے چاہوں گا کہ جسم میں مضبوطی ہو یا نہ ہو مگر بہادر ضرور بننا چاہوں گا، مجھے اپنے دوستوں کی طرح ڈرپوک بننا پسند نہیں ـ باڈی بلڈنگ سے زیادہ کنگفو، یوگا اور تائیچی کو ترجیح دیتا ہوں کیوں کہ ان کی مشقوں سے انسان میں جسمانی اور روحانی قوتیں پیدا ہوتی ہیں، انسان بہادر کیساتھ طاقتور بھی ہوتا ہے اور ساتھ ہی خوبرو بھی نظر آتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ کنگفو کی مشقوں سے انسان شریف بھی ہوتا ہے، مثال بروسلی جیسا ـ کنگفو کی مشقیں کرنے والے دبلے پتلے انسان میں جسم کی ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور وہ بہادر بھی ہوتا ہے، اپنوں کیلئے اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتا ہے ـ میرے ساتھ رہنے والے دوست جو روزانہ جیم جایا کرتے ہیں، ہر دن دوائیوں کا استعمال کر رہے ہیں، مہینے میں چار دن بیمار ضرور ہوتے ہیں چھوٹی موٹی کھانسی بخار میں بھی ایسے لگتے ہیں جیسے برسوں سے بیمار ہوں کیوں کہ ان میں نزاکت بہت ہے میرا مطلب ہے ان میں بہادری نام کی کوئی چیز ہی نہیں صرف شوق رکھتے ہیں باتیں بہت کرتے ہیں اپنے جسم پر ابھار لانے کیلئے دوائیوں پر ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں ـ پتہ نہیں ایسا کیوں کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ باڈی بلڈنگ میرے دوستوں کا صرف شوق ہے اور وہ بھی جنونی شوق ـ میرے تمام باڈی بلڈر دوست بہت ہی سست اور کاہل ہیں، رات میں سونے کے علاوہ دن میں بھی دیر تک سوتے رہتے ہیں ـ اسی لئے مجھے باڈی بلڈنگ میں دلچسپی نہیں ـ یہاں جو میں نے لکھا ہے دنیا بھر میں موجود لاکھوں باڈی بلڈنگ کے شوقین حضرات کیلئے نہیں صرف اپنے باڈی بلڈر دوستوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لکھا ہوں ـ

posted by Shuaib at 11:30 PM 0 comments

Post a Comment

اپنا ذاتی اردو فونٹ

کورل ڈرا ورژن ١٠ یا اس سے آگے میں اپنا ذاتی اردو فونٹ تیار کیا جاسکتا ہے ـ کورل ڈرا میں ٹی ٹی ایف ایکسپورٹ کرنے کی سہولت دستیاب ہے ـ اگر پورے قواعد اور نقطہ نظر سے اردو فونٹ ڈیزائن کرلیں تو اپنا ذاتی اردو فونٹ ممکن ہے ـ حرف بہ حرف ڈیزائن کرکے اپنی پسند کا اردو کیبورڈ تیار کیا جاسکتا ہے ـ اپنا ذاتی اردو ٹی ٹی ایف تیار کرنے کے بعد فونٹ ڈائریکٹری میں اسے انسٹال کرکے باقاعدہ کمپیوٹر کے کسی بھی حصے میں کام لیا جاسکتا ہے ـ مگر یہ کام وہی کرسکتے ہیں جو فونٹس سے واقف ہوں ساتھ ہی اردو الفاظوں کو تکنیکی اعتبار سے ہر باریکی کو سمجھ سکیں اور وقت بھی درکار ہو ـ یہ خود کا تجربہ ہے، آزمائش شرط ہے ـ

posted by Shuaib at 11:29 PM 1 comments

Anonymous Anonymous said...

hello..... I am zabee ullah from lahore, my i ask you something the urdu writing in blog, where can download the urdu writing software? Can do with Inpage.

Zabee ullah
zab_br@hotmail.com

December 08, 2004 11:48 PM  

Post a Comment

اردو یونیکوڈ اور کورل ڈرا

کورل ڈرا ورژن ١٢ میں اردو یونیکوڈ کو سپورٹ کرنے کی سہولت دستیاب ہے ـ جس طرح ایم ایس آفس میں آسانی کیساتھ اردو ٹائپ کرتے ہیں بالکل اسی طرح کورل ڈرا ورژن ١٢ میں بھی اردو ٹائپنگ آسان ہے ـ ایسا بھی کرسکتے ہیں کہ ایم ایس ورڈ میں اردو کا ٹائپ کیا ہوا مواد کاپی کرنے کے بعد کورل ڈرا میں پیسٹ کرسکتے ہیں اور اسکا الٹا طریقہ بھی ممکن ہے ـ مگر افسوس فوٹو شاپ اور فلاش کے کسی بھی ورژن میں اردو یونیکوڈ کو سپورٹ کرنے کی صلاحیت نہیں نہیں ہے اگر فوٹو شاپ یا فلاش سافٹویئر میں اردو الفاظوں کو لانا ہے تو انپیج کا اردو سافٹویئر واحد ذریعہ ہے ـ

posted by Shuaib at 11:28 PM 0 comments

Post a Comment

انپیج اردو سافٹویئر اور فوٹو شاپ

ایسا ہرگز نہیں کہ انپیج اردو سافٹویئر کے نسخ فونٹس صرف کورل ڈرا کو ہی سپورٹ کرتے ہیں، انپیج سافٹویئر کے تمام اردو نسخ کورل ڈرا کے علاوہ دیگر ڈیٹا اور ڈیزائننگ سافٹویئرس میں بھی ممکن ہے بہ شرط انپیج اردو سافٹویئر کھلا ہو ـ جہاں تک میرا تجربہ ہے انپیج اردو کے نسخ فونٹس ایم ایس آفس کے علاوہ فلاش، فوٹو شاپ، تھری ڈی میکس اور آٹو کیڈ کو بھی سپورٹ کرتے ہیں ـ انپیج کے اردو نسخ کو بذریعہ ای میل بھی کیا جاسکتا ہے اگر ایمیل وصول کرنے والے کے کمپیوٹر میں انپیج اردو سافٹویئر موجود ہو تو بآسانی پڑھا جاسکتا ہے ـ انپیج اردو سافٹویئر کے نسخ فونٹس کو دیگر سافٹویئرس میں کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے ایڈٹ کرسکتے ہیں مگر اردو ٹائپنگ ممکن نہیں ـ جس طرح تھری ڈی میکس اور میکرو میڈیا فلاش میں انگریزی ٹیکسٹ کے ساتھ انیمیشن کرتے ہیں بالکل اسی طرح انپیج اردو نسخ فونٹس کیساتھ بھی ممکن ہے ـ جہاں تک اردو انپیج نسخ فونٹس کو دیگر سافٹویئرس میں کاپی ـ پیسٹ کرنا ہو، کورل ڈرا واحد ذریعہ ہے جس کے بغیر ممکن نہیں ـ کورل ڈرا ورژن ٩ اور اس سے آگے کے ورژنوں میں یہ سہولت ہے کہ انپیج اردو نسخ فونٹس کو کورل ڈرا میں کمبائن کرنے کے بعد آسانی سے کٹ ـ پیسٹ کرسکتے ہیں ـ یہ طریقہ آسان ہے ـ

posted by Shuaib at 11:27 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, December 03, 2004

میرا اردو بلاگ

مجھے اردو میں بلاگ لکھنا، اردو میں ٹائپنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہے ـ میرے جان پہچان والے سب کے سب انگریزی ہی میں بلاگ لکھتے ہیں اور ہمیشہ مجھ پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں کہ اپنے بلاگ پر انگریزی میں بھی لکھا کروں کیوں کہ جو بھی میرے بلاگ پر وزٹ کرتا ہے، پہلی بات تو اردو پڑھنا نہیں آتا، اگر کسی کو اردو پڑھنا بھی آتا ہے تو اردو فونٹ ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھنا انکے لئے مسئلہ ہے ـ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ کوئی میرے بلاگ کو پڑھ نہ سکے تاکہ میں اپنے دل کی بھڑاس اردو الفاظوں کے ساتھ ادا کرسکوں ـ اگر کوئی دور دراز رہنے والے جو میری جان پہچان کے نہ ہوں اور میرے بلاگ کو پڑھ لیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ـ میرے ساتھ رہنے والے ساتھیوں کا شکر گذار ہوں کہ اگر انہیں اردو پڑھنا آتا تو میرے بلاگ کو پڑھنے کے بعد یا تو میرا مذاق اڑاتے یا پھر سوالات کی بوچھاڑ کردیتے کہ ایسا کیوں لکھ دیا اور میں انکی نظروں میں برا ہوجاتا ـ شروع میں انگریزی بلاگ لکھا کرتا تھا تو چند مہذب دوستوں کو میرے الفاظوں پر اعتراض تھا، اب صرف اردو میں ہی بلاگ لکھا کروں گا کیوں کہ اردو میری ماں کی زبان ہے ـ

posted by Shuaib at 10:15 AM 3 comments

Anonymous Anonymous said...

Hello.... all of posts is very nice .... but

Regards: Aysha

December 06, 2004 4:57 PM  
Anonymous Anonymous said...

Don't worry friend, always I want to read your urdu posts.
S.M. Yahya

December 08, 2004 11:40 PM  
Anonymous Anonymous said...

Salam alaikum.... good work with urdu font, i am interesting to read your all posts.... me: Shaukat aziz from Krachi, Pakistan. No reason you are Indian and i am Pakistani, after reading your posts i feel you are open minded and good thinking men.... keep writing, always i am waiting for your new posts.

December 08, 2004 11:42 PM  

Post a Comment

مسئلہ کھانے کا

یہ مسئلہ صرف آج کیلئے نہیں ایسا پچھلے دو سالوں سے ہے، امارات میں آنے کے بعد سے اب تک کھانے کا مسئلہ برقرار ہے ـ ہندوستانی لوگ خود کھانا بنالیتے ہیں اور بہت کم لوگ ملباری ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ شروع میں ملباری ہوٹلوں ہی میں کھانا کھایا کرتا تھا، یہ ملباری وہی کھانا بنانا جانتے ہیں جو اپنے گاؤں میں کھاتے تھے اور تھوڑا بہت یہاں آکر سیکھ لیا اور پھر الٹا سیدھا پکاکر پیسہ کما رہے ہیں اور یہاں کے اکثر لوگ مجبوری میں انہی کی ہوٹلوں میں کھاتے ہیں ـ اب تو مجھے ملباری ہوٹلوں میں کھانا جیسے کڑوی دوا نگلنے کے برابر ہے، ایک تو ملباریوں کے کھانے مجھے صحیح نہیں لگتے اور ملباریوں کے ہوٹلوں میں پاکی صفائی ہوتی ہی نہیں ـ پاکستانی ہوٹل، یہاں پر ہر قسم کے کھانوں میں تیل اور چکنائی بہت ہوتی ہے، بہت ہی زیادہ مسالے استعمال کرتے ہیں جس سے دوسروں کا نہ سہی میرا معدہ ضرور خراب ہوجائے گا ـ مجھے مرغن اور چکنی چپاٹی غذائیں زیادہ پسند نہیں اور میں گوشت خور بھی نہیں اور نہ ہی خالص سبزی خور ہوں، پتہ نہیں میں کونسا خور ہوں! یہاں امارات کو آنے کے بعد آج تک میرے ساتھ کھانے کا مسئلہ برابر جاری ہے ـ چائے ابالنے کے سوا کچھ بھی پکانا نہیں آتا اور روزانہ صرف برگر اور پیتزا بھی نہیں کھایا جاسکتا ـ ہر دن رات کو کھانا کھانے کیلئے نئے ہوٹلوں کی کی طرف جاتا ہوں اور وہاں آدھا کھانے کے بعد آدھا چھوڑ دیتا ہوں ـ انڈیا میں بھی صرف امّی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا! پچھلے چار دنوں سے دوپہر میں بریڈ پر مکھن لگاکر کھا رہا ہوں اور رات کو سیب کے ساتھ دودھ پی کر سو رہا رہوں، سچ مچ ہوٹلوں سے بوریت ہوچکی ہے اگر رات کو کسی ہوٹل میں ٹھیک سے کھانا نہیں ملا تو اپنے آپ پر بہت غصّہ آتا ہے ـ اپنے لئے کنجوس ہرگز نہیں، اپنی من پسند غذاؤں کیلئے دل کھول کر خرچ کرتا ہوں اور اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ اپنے کھانے کیلئے خرچ کرتا ہوں ـ لوگ ٹیسٹ کیلئے پیتزاہٹ، کے ایف سی اور ماکڈونالڈ جاتے ہیں مگر یہ سب میرے لئے روز مرّہ کی غذاؤں میں شامل ہوگیا ہے، میری عیاشی یہی ہے کہ بہترین کھانے کھاتا ہوں مگر یہ شاہی کھانے مجھ جیسا شخص روزانہ نہیں کھا سکتا صرف مجبوری ہے کہ ہر دن ایک نئی ہوٹل سے کھاؤں ـ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کھاؤں، کیا کروں؟؟؟

posted by Shuaib at 10:15 AM 1 comments

Anonymous Anonymous said...

Bachelors ki zindagi me aisa hota hi hai. Regards from: S.M. Yahya

December 08, 2004 11:44 PM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters