نئی باتیں / نئی سوچ

Friday, February 25, 2005

اردو تماشہ

کبھی توجہ ہی نہیں دیا کہ کوئی میرے بلاگ کے پوسٹ میں تبصرے بھی لکھیں گے ـ ہفتہ بھر چند پوسٹیں لکھ کر کسی ایک دن اپنے بلاگ پر پوسٹ کردیتا ہوں، بس میرا اتنا ہی کام ہے اور کبھی وقت ملے تو اپنے بلاگ کی نوک پلک درست کرلیتا ہوں ـ غلطی سے اپنی ایک پرانی پوسٹ پر نظر پڑی جہاں پر مسٹر دانیال نے مجھے رائے دی کہ میں اپنے بلاگ میں نفیس نسخ استعمال کروں اور انہوں نے مجھے آگاہ بھی کیا کہ اردو نسخ ایشیا ٹائپ بی بی سی کا ذاتی فونٹ ہے ـ میری ایک اور پوسٹ کے تبصرے میں نبیل صاحب نے تو مجھے چونکا ہی دیا، جو جرمنی سے اردو بلاگ لکھتے ہیں ـ نبیل صاحب نے مجھے بہت ساری باتوں سے آگاہ کیا ـ اگر نبیل صاحب مجھے خبر نہ کرتے تو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ چند لوگ انٹرنیٹ پر اردو زبان کیلئے خدمت کر رہے ہیں ـ نبیل صاحب کا شکریہ کہ وہ میرے بلاگ پر آئے اور مجھے بہت ساری معلومات پہنچائیں جس سے میں بے خبر تھا ـ بہت خوشی ہو رہی ہے کہ آج نیٹ پر چار نہیں پانچ نہیں درجن بھر اردو بلاگر موجود ہیں ـ سستی کہوں، کاہلی کہوں یا پھر وقت نہیں ملتا کہ دوسروں کے اردو بلاگ پر وزٹ کرسکوں ـ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے کمرے میں نیٹ کنیکشن نہیں ہے اور خود ہفتے میں ایک بار سائبر کیفے سے بلاگ کرتا ہوں ـ کبھی سوچا بھی نہیں کہ ایک دن نیٹ پر اتنے سارے اردو بلاگرس دیکھنے کو ملیں گے ـ مگر افسوس ہے کہ میرے علاوہ کسی دوسرے ہندوستانی نے ابھی تک اردو میں بلاگ لکھنا شروع نہیں کیا ـ
Anonymous Qadeer Ahmad Rana said...

السلام علیکم

جناب میں بھی آپ کا بلاگ پلے دیکھ چکا ہوں اور بہت زبردست ہے ۔ مگر معاف کیجیے گا مجھے آپ کی چند تحریریں پسند نہیں آئیں تھیں جس کی وجہ سے میں تھوڑا ادھر ادھر ہو گیا تھا ۔ میرا خیال ہے کہ تحریریں معیاری ہونی چاہیں ۔ ناراض مت ہوئیے گا ۔

March 02, 2005 4:41 AM  
Blogger Danial said...

شعیب بھائی ہندوستان میں ٹیکنالوجی کے سیلاب کے باوجود۔ خیر چھوڑئیے آپ کہیں گے کہ دانیال پاکستانی ہے نا اسلئیے ایسا کہہ رہا ہے۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہندوستان میں پایا جانا والا عام تاثر کہ اردو پاکستانیوں کی زبان ہے قطعا بے تکا ہے۔ ہندوستان میں اردو کے بارے کچھ لکھئیے مجھے پڑھ کر خوشی ہوگی۔ خصوصا اس بارے میں کچھ بتائیں کہ آخر ہندوستانی اردو سے کیوں دور ہورہے ہیں؟

March 02, 2005 8:43 AM  
Anonymous Shuaib said...

دانیال بھائی، توجہ دلانے کیلئے شکریہ ’’ہندوستان میں اردو‘‘ اپنے بلاگ پر ضرور لکھوں گا ـ آپ کیلئے خاص عرض ہے کہ تعصب نہیں رکھنا چاہئے کہ میں ہندوستانی اور آپ پاکستانی ہیں ـ ہم پڑوسیوں کا ثقافتی کلچر ملتا جلتا ہے ـ ساٹھ سال قبل ہند اور پاک ایک تھے اب دونوں ملکوں کے درمیان صرف ایک لکیر کیوجہ سے ہمارے خیالات اور سوچ کا بدل جانا تعجب ہے؟

March 03, 2005 1:22 PM  
Blogger Abdul Qadir said...

جناب شعیب صاحب آپ میری بات کا برا مت مانیے ۔ میں آپ سے دوسرے بلاگرز کی روش پر چلنے کا نہیں کہ رہا کیونکہ ہر شخص کے خیالات مختلف ہوتے ہیں اور ہم کسی کے خیالات و افکار کو تبدیل نہیں کرسکتے ۔ میں کہنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کی تحریریں ذرا معمول سے ہٹ کر ہوتی ہیں اور آپ ذرا آزادی سے لکھتے ہیں ۔ میری مقصد آپ کی دل آزاری یا توہین ہرگز نہیں تھا۔

March 05, 2005 7:33 AM  

Post a Comment

پانچ انگلیاں

ہمارے ملک میں ایک نہیں دو نہیں کئی مذہب اور درجنوں فرقے ہیں اگر آپس میں دو فرقے لڑ پڑیں تو تیسرا فرقہ یا تو فائدہ اٹھائے گا یا پھر دونوں فرقوں میں بھائی چارگی بحال کرنے کی کوشش کرے گا ـ مگر وہاں عراق میں ایک ہی مذہب کے دو فرقے لڑ کر مرجائیں کوئی پوچھنے والا نہیں ـ پورا کا پورا میڈیا جھوٹا نہیں ہوتا ـ ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ عراق میں ایک ہی مذہب کے دو گروہ آپس میں ایکدوسرے کیلئے خون کے پیاسے ہیں ـ عبادت گاہوں میں بم دھماکوں کا سلسلہ پاکستان سے اب عراق پہنچ گیا، لوگ عبادتوں میں مشغول پھر اچانک خون میں لت پت لاشیں ـ یہ کیسا ملک، کیسا ماحول، کس قسم کی ذہنیت کے لوگ ہیں معلوم نہیں ـ ملک کا حاکم ہی نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے ـ معمولی سی مثال یہاں امارات کا نظام ایسا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ہو اور ہوتا رہے مگر یہاں ایک ہی فلیٹ میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی اور کسی کی مجال ہے جو یہاں آپس میں مذہبی اختلافات کا ذکر چھیڑے ـ سب جانتے ہیں صرف دبئی ہی نہیں پورے امارات میں دنیا بھر کے تمام مذہبوں کو ماننے والے لاکھوں لوگ آباد ہیں اور یہاں پہچاننا مشکل ہے کہ کون ہندو اور کون مسلمان ہے ـ سب کی انگلیاں کاٹو تو ایک ہی رنگ کا خون بہتا ہے ـ امارات چونکہ ایسا ملک ہے یہاں دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے پھر چلے جاتے ہیں، اپنے ملکوں میں مذہب پسندی اور یہاں آکر آپس میں بھائی چارگی ـ کیا یہ لوگ واپس اپنے ملکوں کو جاکر غیر مذہبی لوگوں کے ساتھ ملکر رہیں جیسا یہاں امارات میں سب ایک ساتھ ملکر رہتے ہیں ـ

Post a Comment

چاکلیٹ

کیسی عادت ہے، بچپن سے لیکر آج بھی ہمیشہ چاکلیٹ چباتا رہتا ہوں ـ ساتھی منہ تیڑھا کرکے کہتے ہیں ابھی بھی بچوں کی طرح چاکلیٹ کھاتا رہتا ہے ـ پھر میں بھی چڑ کر جواب دیتا ہوں کہ چاکلیٹ صرف بچوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر ایک کیلئے ہے ـ چاکلیٹ بڑے شوق سے کھاتا ہوں اور اب بھی میرے منہ میں سوئٹزرلینڈ کا چاکلیٹ ہے ـ مجھے فرانس، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے چاکلیٹس بہت پسند ہیں، ہیں تو مہنگے مگر مجھے مزیدار چیزیں کھانا پسند ہے ـ اگر میری تلاشی ہوئی تو قسمہا قسم کے چاکلیٹ نکلیں گے ـ بچپن میں سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلے منہ میں چاکلیٹ رکھ لیتا پھر امّی میرے منہ میں انگلی ڈال کر چاکلیٹ کھینچ لیتی اور کہتیں چل پہلے منہ دھولے ـ ـ ـ

Post a Comment

بیلے ڈانس

کمر ہلاتے، سینہ نچاتے، واہ کیا خوب ڈانس تھا ـ نچنیا یعنی ناچنے والیاں لبنان کی تھیں جو کہ بیلے ڈانس کیلئے مشہور ہے اور واقعی بہت ہی حسین اور خوبصورت بھی تھیں ـ پچھلے روز اپنے ایک معزز دوست کے ساتھ دبئی میں ایک پانچ ستارہ ہوٹل جانا نصیب ہوا جہاں یہ بیلے ڈانس جو صرف امیروں کیلئے مخصوص تھا مگر ہمارے معزز دوست کے طفیل مجھے بھی دو گھنٹوں کیلئے امیر بننا پڑا ـ ہوٹل اور ہوٹل کا نظام بڑا ہی شاندار تھا جس کا جواب نہیں اور آخر پانچ ستارہ ہوٹل ہے تو نظام بھی عالیشان ہی ہونا چاہئیے ـ لبنان کی مخصوص بیلے ڈانسرس رنگ برنگے لباسوں میں پتلی نازک سی لڑکیاں میرے سامنے اپنی کمر مٹکاتے ہوئے ـ ـ ـ میں تو بنا شراب کے مدہوش ہوگیا ـ شیخ لوگ روپیہ پانی کی طرح بہا رہے تھے، پورا ہال مدہوشی میں ڈوبا ہوا تھا ـ حسین لڑکیاں گلاسوں میں شراب انڈیل انڈیل کر ارباب کو اور مدہوش کر رہی تھیں ـ میرے رگ رگ میں گرم خون دوڑنے لگا اور سامنے رنگ بکھیرتا حسن ـ واقعی امیروں کی زندگی بھی بہت خوبصورت ہوتی ہے ـ کاش کہ میں بھی امیر ہوتا اور روزانہ رنگ برنگی محفلیں سجاکر روپیہ پانی کی طرح بہاتا ـ کاش ـ ـ ـ اس مدہوش محفل میں جتنے بھی امیر لوگ تشریف فرما تھے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا سماج میں اونچا مقام ہے اور یہ لوگ مذہبی اجتماعوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ـ مجھے تو شک ہے کہ یہ انکی اپنی دولت ہے یا عوام کی یا پھر سرکاری خرچے پر ـ کیونکہ جو محنت کرکے روپیہ کماتا ہے وہ فضول میں ایک روپیہ بھی خرچ کرنا پسند نہیں کرتا ـ یہ امیر لوگ ایک طرف نہایت ہی شریف ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنی من مانی ـ یہ لوگ اپنی خواہشات کیلئے روپیہ پانی کی طرح بہا دیتے ہیں اگر کوئی غریب ان سے دس روپئے مانگے تو دھتکار دیتے ہیں ـ ـ ـ ـ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ـ نہیں چاہئے مجھے ایسی دولت اور نہ ہی مجھے امیر بننا پسند ہے جس سے فخر، غرور، بدتمیزی، انا پرستی جنم لیتی ہے ـ یہاں تک کہ ماں باپ اور بزرگوں کا احترام نہیں اور نہ ہی غریبوں اور محتاجوں سے ہمدردی ـ

Post a Comment

مغلِ اعظم

دبئی کے سنیما ہالوں کے باہر بڑے بڑے رنگین اور ڈیجیٹل پوسٹرس آویزاں ہیں ـ یہاں گذشتہ روز دلیپ کمار بھی ایک سنیما ہال میں مہمانِ خصوصی شریک تھے ـ یہاں مغلِ اعظم جہاں کہیں بھی دکھائی جارہی ہے آج بھی پبلک کا بے تحاشہ رش ہے، اس دیارِ غیر میں مغلِ اعظم کو رنگین دیکھنے کیلئے خاندان کے خاندان امڈ پڑے جن میں جوان بوڑھے دونوں برابر ہیں اور جن لوگوں نے فلم مغلِ اعظم کو پچیس مرتبہ دیکھ لیا اب چھبیس اور ستائیسویں مرتبہ دیکھ رہے ہیں اور جنہوں نے پہلی بار دیکھا وہ دوسری اور تیسری مرتبہ بھی دیکھنے کے خواہشمند ہیں ـ میں نے کبھی فلم مغلِ اعظم نہیں دیکھا حالاں کہ ہندوستانی ٹی وی چینلوں پر کئی کئی بار دکھائی جاتی ہے ـ اگر کسی ٹی وی چینل میں مغل اعظم فلم چل رہی ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی چینل بدل دیتا تھا ـ پتہ نہیں کیوں مجھے پرانی فلموں سے دلچسپی نہیں ہے ـ آج بھی لوگ پرانی ہندی فلموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ اس زمانے کی ہندی فلمیں صاف ستھری ہوتی تھیں ـ بچپن سے ہی ایکشن، ایڈوینچر، کامیڈی اور کارٹون فلمیں دیکھنے کا شوق ہے ـ پرانی ہندی فلموں سے دلچسپی نہیں جس کا مجھے افسوس بھی ہے ـ

posted by Shuaib at 10:02 AM 0 comments

Post a Comment

انٹرنیٹ

فحش حرکات دیکھنے کا آسان آلہ ہے ـ امارات میں فحش اور عریاں قسم کے تمام ویب سائٹس کو حکومت نے بلاک کردیا ہے تاکہ لوگ انٹرنیٹ کا صرف صحیح استعمال کریں اور یہاں انٹرنیٹ کا غلط استعمال جرم ہے اور سزا بھی ـ اگرکوئی ای میل سے بھی فحش تصویریں بھیج یا وصول کر رہا ہو تو اتصالات والوں کو پتہ لگ جاتا ہے اور پھر انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے والا فورا پکڑا جاتا ہے ـ انٹرنیٹ پر چالیس فیصد سے بھی زیادہ فحش ویب سائٹس موجود ہیں یعنی کہ امارات میں انٹرنیٹ پر آدھا درجن ویب سائٹوں کو بلاک کردیا ہے ـ پھر بھی یہاں کے لوگ پرسکون ہیں کیونکہ دبئی شہر میں فحاشی دیکھنے کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں ـ یہاں فحش قسم کی ویب سائٹوں کو بلاک کردینے سے کوئی مسئلہ نہیں رہا ـ

posted by Shuaib at 10:01 AM 0 comments

Post a Comment

روزگار

چندہ وصول کرنا بھی اب روزگار میں شامل نظر آرہا ہے ـ دینی مدرسے جو اکثر چندوں سے ضرورتیں پوری کرتے ہیں، باقاعدہ چندہ وصول کنندگان کی ایک ٹیم تشکیل دیتے ہیں جنہیں ماہانہ تنخواہ یا کمیشن دیا جاتا ہے ـ یہ چندہ وصول کرنے والے پورے یا ادھورے مولوی ہوتے ہیں جو پیدل یا سائیکل کے ذریعے شہر در شہر چکر کاٹتے ہیں اور پھر شام کو کمیٹی کے دفتر پہنچ کر جس طرح آٹو رکشہ ڈرائیور شام کو مالک کے پاس آکر حساب کرتا ہے ـ پہلے پہلے دینی مدرسوں کیلئے چندہ وصول کرنے والے صرف بوڑھے لوگ نظر آتے تھے مگر اب نوجوان مولوی بھی اس خدمت میں یعنی کہ ہنر سے روزگار میں پیش پیش ہیں ـ یہ غلط بات ہے کہ مولوی محنت نہیں کرتے ـ مولوی بھی محنت کرتے ہیں در در بھٹک کر چندہ وصول کرتے ہیں ـ شاید یہ بھی روزگار کی ایک قسم ہے ـ

posted by Shuaib at 10:01 AM 0 comments

Post a Comment

گرین چائے

ہم ہندوستانی چائے کے شوقین ہیں ہی مگر چائے بھی ایسی ہو جس میں دودھ، شکر اور الائچی شامل ہو جسے ہم اسپیشل چائے کہتے ہیں ـ یہاں عرب ممالک میں بغیر دودھ کی چائے عام ہے ـ ہم ہندوستانیوں کو دیکھ کر آج عربی بھی دودھ کی چائے کے شوقین ہیں ـ ژوسیا نے بتایا کہ پولینڈ میں لوگ گرین ٹی (ہری چائے) پینا پسند کرتے ہیں ـ ژوسیا کو (ہری چائے) بنا شکر اور دودھ کے پسند ہے ـ اب مجھ ہندوستانی کو بغیر دودھ اور شکر کے چائے پینے کی عادت نہیں پھر بھی ژوسیا کے کہنے پر سوپر مارکیٹ سے لیپٹون کا گرین ٹی (ہری چائے) لے آیا جس میں ٣٠ ٹی بیاگ تھے ـ خرید کر ایک مہینہ ہوگیا مگر اب تک صرف دو بار ہی استعمال کیا ـ بغیر دودھ اور شکر کے ہری چائے زبان کو ایکدم کڑوی لگی ـ پتہ نہیں ژوسیا اتنی کڑوی چائے کیسے پیتی ہے اور کہتی ہے بغیر دودھ اور شکر کے چائے صحت کیلئے مفید ہے ـ ایسی چائے اسی کو مبارک ہو ـ

posted by Shuaib at 10:00 AM 1 comments

Blogger namaste said...

سلام علیکم، جناب۔

جاپان میں بھی بڑے شوق سے شکر کے بغیر کڑوی چاے پیتے ہیں۔
ایک بار عادت پڑ جائے تو اس کی کڑواہٹ بھی مزہ آئے گی۔۔۔

مع السلامۂ

February 26, 2005 1:06 AM  

Post a Comment

طرزِ فیشن

صرف لبنان ہی نہیں، سعودی عرب اور امارات کے لوکل شہری بھی یوروپی طرز فیشن پسند کرتے ہیں ـ اس وقت امارات کے فیشن ملبوسات میں ساٹھ فیصد برانڈس یوروپی ممالک کے ہی ہیں اور میں جس کمپنی میں کام کر رہا ہوں، ہمارے مالک کے پاس جملہ آٹھ یوروپی برانڈس کے حقوق محفوظ ہیں جن میں عالمی معیار کے پیر کارڈن، ڈانیل ہیچٹر، ٹیڈ لاپیڈوس، ویرری، ورچاسی اور چیروٹی شامل ہیں ـ یوروپ کے بعد دوسرا نمبر ہندوستانی ملبوسات کا ہے ـ ویسے یہاں ہندوستانی طرز کے کپڑے صرف ہندوستانی ہی خریدتے ہیں ـ امارات میں آبادی کے لحاظ سے ہندوستانی ملبوسات کی شورومس زیادہ ہیں ـ دوسرے ممالک کے ملبوسات سے ہندوستانی ملبوسات سستے اور معیاری بھی ہوتے ہیں ـ یہاں کے اخباروں میں جس طرح یوروپی برانڈس کے بڑے بڑے اشتہارات شائع ہوتے ہیں اسی کے ساتھ ہندوستانی برانڈس کے بھی لاتعداد رنگین اشتہارات دیکھنے کو ملتے ہیں ـ ہماری کمپنی کے ملبوسات جو معیاری برانڈس کے اعتبار سے قیمتیں آسمان کو چھوتی ہیں مگر ہم ورکرس کیلئے تیس فیصد رعایت بھی ہے ـ یہاں امارات میں بھی کئی کمپنیاں ہیں جو ملبوسات تیار کرتی ہیں مگر اکثر ملبوسات امپورٹ ہوتے ہیں ـ عام قسم کے کیژیول لباس جیسے جیکٹ، اوؤر کوٹ، اسپورٹس ویئر اور جوتے وغیرہ ہندوستان اور چین سے امپورٹ ہوتے ہیں ـ

posted by Shuaib at 9:59 AM 0 comments

Post a Comment

ماموں

ابّا نے فون پر کہا ـ مبارک ہو، تو ماموں بن گیا ـ سچّی ـ ـ ـ زندگی میں پہلی بار ماموں بننا نصیب ہوا ـ بہن کو ماں اور امّی کو نانی بننا مبارک ہو ـ ایک سال قبل جب بہن کی شادی ہوئی تو بتایا نہیں اور آج ماموں بننے کی خوشخبری سنا رہے ہیں ـ ویسے سچ مچ ماموں بن گیا ـ مبارک ہو ـ

posted by Shuaib at 9:59 AM 0 comments

Post a Comment

انیمیٹر

نیٹ پر فلاش سیکھنے کیلئے کئی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں پر فلاش سافٹویئر کے استعمال کی مکمل گائیڈ موجود ہے جن لوگوں پر انیمیشن کا بھوت سوار ہے وہ ان ویب سائٹس سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور مستقبل کے بہتر انیمیٹر بن سکتے ہیں ـ میں پچھلے دیڑھ سالوں سے فلاش جاوا ڈاٹ کوم اور فلاش کٹ ڈاٹ کوم سے فائدہ اٹھا رہا ہوں اور اب فلاش سافٹویئر پر اپنے آپ کو بہتر سمجھتا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:57 AM 0 comments

Post a Comment

Friday, February 18, 2005

زبردست

حالانکہ ویب گرافک ڈیزائنر ہوں لیکن ہلکا پھلکا ٹیمپلیٹ پسند ہے تبھی تو (بالآخر) اس اردو بلاگ کا ٹیمپلیٹ بدل دیا ـ بہت دنوں سے صرف سوچ رہا تھا کہ اس بلاگ کا ٹیمپلیٹ بدل دوں، آج پہلی بار خود کا بلاگ اچھا لگ رہا ہے ـ ایچ ٹی ایم ایل اور جاوا اسکرپٹس پر زیادہ عبور نہیں ورنہ اس بلاگ کو اور بہتر بنا دیتا ـ پوسٹ کی سرخیوں کا رنگ گرین تھا جسے بدل کر لال کردیا تاکہ کچھ فرق نظر آئے ـ چاہتا تو نہیں پھر بھی چند پوسٹوں میں تصویروں کا استعمال بھی کرلیا، کوشش کروں گا کہ تصاویر کا استعمال کم ہو، چونکہ یہ صرف بلاگ ہے ذاتی ویب سائٹ نہیں ـ ہفتے بھر کئی پوسٹ ٹائپ کرنیکے بعد سب کو ایک ساتھ کسی ایک دن بلاگ کرتا ہوں ـ رات دیر سے سونے کی عادت ہے کچھ نہ کچھ ٹائپ کرتا رہتا ہوں (کچھ بھی) ـ

posted by Shuaib at 9:49 AM 0 comments

Post a Comment

یومِ حیوانیت

دہشت گردی کہوں، انتقام کہوں یا کیا کہوں ـ دہشت گرد تو دہشت گرد ہوتے ہیں انکا کام ہی دہشت پھیلانا ہوتا ہے وہ محبت کا مفہوم تک نہیں سمجھتے اور ان سے انسانوں کی خوشی دیکھی نہیں جاتی ـ آج ١٤ فروری کو منیلا اور بیروت میں بم دھماکوں کیساتھ ویلنٹائنس ڈے منایا گیا ـ درجنوں انسانوں کے چیتھڑے ہوا میں اڑگئے یہ وہی انسان تھے جو بم دھماکوں سے صرف چند لمحے قبل ہنس کھیل رہے تھے ـ جہاں کہیں بھی خوشیاں منائی جارہی ہوں وہاں دہشت گرد ’’یوم حیوانیت’’ ضرور مناتے ہیں کیونکہ انپر جنت کا بھوت سوار ہے ـ چاہے وہ ابو سیاف ہو یا حزب اللہ، انسانی جانوں سے کھیلنا کتنا آسان بن گیا ہے ـ انسان انسانیت کو عذاب دے رہا ہے ـ دہشت گردوں کو اچھا لگتا ہوگا کہ انکے سامنے انسانیت خون میں لت پت تڑپ رہی ہے ـ لوگ خدا سے ڈرتے ہیں، شیطان سے نفرت کرتے ہیں اور آپس میں ایکدوسرے سے پیار کرتے ہیں مگر وہ انسان جو دوسرے انسانوں کو جان بوجھ کر تکلیفیں دیتا ہے میری نظر میں وہ انسانی شکل میں درندہ ہے ـ اور ایسے درندہ صفت انسانوں کو جتنے بھی گندے الفاظ لکھوں کم ہے ـ

posted by Shuaib at 9:46 AM 0 comments

Post a Comment

بچت

کل کے بارے ذرا بھی فکر نہیں، شروع سے ہی نہیں ـ بچت کیسے کیجاتی ہے معلوم نہیں ـ تعجب ہوتا ہے لوگ اپنی کمائی کا ایک حصہ فیوچر کیلئے محفوظ کرلیتے ہیں ـ مگر مجھ میں یہ خوبی نہیں ہے، آج میرے پاس جو بھی ہے آج ہی خرچ کردیتا ہوں ـ ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں مرتبہ کوشش کرکے دیکھ لیا مگر مجھ سے بچت نہیں ہوپاتی ـ لوگ دو روپئے میں سے ایک روپیہ کل کیلئے بچا رکھتے ہیں، کئی مرتبہ کوشش کرکے دیکھ لیا مگر ناکام رہا ـ اب پھر سے ایک بار کوشش کر رہا ہوں ـ

posted by Shuaib at 9:45 AM 0 comments

Post a Comment

جنوبی ہند

جنوبی ہند سے شائع ہونے والے چند مشہور اردو اخبارات روزنامے : سالار، پاسبان، کاروان، سلطان، منصف، سیاست، انقلاب، اردو ٹائمز، دکن، مسلمان، صدف ٹائمز اور خوبصورت ہفت وار : سالار، انقلاب، نشیمن، نئی دنیا، بیلٹز اور کاروان

posted by Shuaib at 9:44 AM 0 comments

Post a Comment

مذہبی یادیں

امّی کا کہنا ہے شعیب اب پہلے جیسا نہیں رہا، پہلے پہلے روز رات کو مجھ سے کہتا ’’امّی مجھے فجر میں جگا دیں‘‘ ـ امّی کی بات صحیح ہے، مگر انہیں کیا پتہ کہ مجھے کنگفو کی کلاس اٹینڈ کرنی تھی اسی لئے فجر میں جگا دینے کو کہتا تھا ـ امّی کی ضد ہے سویرے نماز اور قرآن کی تلاوت کے بعد ہی ناشتہ ملتا تھا ورنہ ناشتہ تو کیا پانی تک نہیں اور اوپر سے پٹائی بھی ـ تمام بھائی بہن ہنسی خوشی نماز اور قرآن پڑھنے کے بعد ساتھ ملکر ناشتہ کھاتے تھے مگر میں ـ ـ ـ میں بھی اسی ضدی ماں کا بیٹا ہوں بغیر ناشتے کے ہی گھر سے نکل جاتا تھا ـ
00000000000000
ابّا ہر اتوار کو شہر کے تبلیغی مرکز لیجاتے جہاں کثیر تعداد میں شہری اور بیرون شہروں سے آئی ہوئی جماعتیں ڈیرہ ڈالتے ہیں ـ ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قریب کے کسی سنیما چلا جاتا ویسے اس تبلیغی مرکز کے آس پاس بے شمار سنیما گھر ہیں ـ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہاں تبلیغی مرکز میں بیٹھ کر علماؤں کے بیانات سے بوریت محسوس کرنے والوں کیلئے ہی یہاں درجن بھر سنیما ہیں ـ بوریت تو ہونی ہی ہے کیونکہ یہاں ہفتہ وار تبلیغی اجتماع میں ایک ہی واقعہ دوہرایا جاتا ہیکہ آسمان سے دسترخوان اتارا گیا ـ
00000000000000
رمضان واقع برکتوں والا مہینہ ہے، سحری، صبح کا ناشتہ، دوپہر کا لنچ، شام کا ناشتہ پھر افطاری میں بے شمار میوے، سموسے، شربت وغیرہ پھر رات کو ہلکا پھلکا ڈنر ـ امّی اور ابّا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ برخوردار گھر میں روزہ دار اور باہر سیر سپاٹے کرتا ہے ـ اسکے علاوہ بھائی بہنوں کو بھی خوب علم تھا کہ برادر کھانے کے بہت شوقین ہیں ـ والدین اور بھائی بہنوں کے صبر کی داد دیتا ہوں کہ افطاری میں ساتھ بٹھاتے تھے اگر دیر ہوگئی تو میرے حصے کی افطاری کو سلیقے سے محفوظ رکھ دیتے ـ بھوکے رہنا کیا خاک عبادت ہے ـ سحری کو اٹھنا اور مسجد میں والد صاحب کیساتھ دیر تک عبادات کرتے رہنا رمضان میں میرے لئے نہایت ہی ہولناک اذیت ہے ـ
00000000000000
مذہبی فرائض سے بیزارگی والد صاحب کی نافرمانی کے برابر ہے ـ سچّی بات تو یہ ہے کہ والد صاحب کی خوشنودی کیلئے مذہبی رسم و رواجوں کا احترام کرتا تھا ورنہ والد صاحب تو والد ہیں، میرے گالوں پر بجائے ہوئے لاکھوں تھپڑاخیں آج بھی گواہ ہیں صرف اسلئے کہ مسجد میں نماز کے وقت انہیں نظر نہیں آتا تھا ـ
00000000000000
نماز کے وقت گھر میں بیٹھے رہنا سخت منع ہے، باجماعت نماز سے پہلے ہی گھر سے مسجد کیطرف ہانک دیا جاتا ہے ـ ویسے گھر سے نکلتے ہی یہ شریف النفس انسان مسجد کہاں جاتا ہے ـ وقت کا پابند، نماز ختم ہونے کا وقت تعین کرکے ٹھیک وقت پر گھر واپس اور اوپر سے طعنہ بھی کہ اتنا جلدی آگیا، سنتیں کون تیرا باپ پڑھے گا ـ پھر مسجد کی طرف ہانک دیا جاتا ہے اور پھر وہی گلی کے دو چکّر اور گھر واپس ـ

posted by Shuaib at 9:40 AM 0 comments

Post a Comment

Friday, February 11, 2005

پہلا ہندوستانی

نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا واحد ہندوستانی ہوں باقی سب پاکستانی ہیں ویسے اردو بلاگرس ہیں بھی صرف چند گنتی کے ـ فی الحال نیٹ پر نئے نئے اردو بلاگرس ابھر رہے ہیں جو صرف اور صرف پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں ـ میرے جان پہچان والے جو ہندوستانی ہیں اور چند جو اردو لکھنا پڑھنا بھی جانتے ہیں مگر بلاگ انگریزی میں لکھتے ہیں ـ میرے ایک ساتھی جو شاعری کے شوقین ہیں اور رومن اردو میں بلاگ بھی لکھتے ہیں، ان سے خواہش کیا تھا کہ وہ رومن اردو کے بجائے میری طرح خالص اردو میں بلاگ لکھا کریں تو اچھا ہے ـ ان کا جواب تھا کہ بلاگ پڑھتا کون ہے، یہ تو صرف اپنی روز مرّہ زندگی کے بارے میں لکھنا ہوتا ہے ـ بالآخر انہوں نے خالص اردو میں بلاگ لکھنے کی ٹھان لی مگر ایک شرط پر کہ میں انکے بلاگ پر وزٹ کرتا رہوں اور ساتھ ہی انکے لکھے ہوئے اشعار پر تبصرے بھی لکھوں ـ خاک میں جائے وہ اور انکی شاعری کیوں کہ مجھے شعر اور شاعر بالکل پسند نہیں ـ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ نیٹ پر اردو میں بلاگ لکھنے والا اکیلا ہندوستانی ہوں، کتنا اچھا ہوتا کہ میرے علاوہ دوسرے ہندوستانی اردو دان بھی اردو میں بلاگ لکھنا شروع کردیں ـ

posted by Shuaib at 12:26 PM 1 comments

Blogger Nabeel said...

Dear Shuaib

You have a nice blog. I am glad to know that you love Urdu and would like to promote Urdu. Maybe you already know that some of the Urdu bloggers have joined hands to create resources for promoting Urdu on the web. We now have an Urdu blogging resource and the Urdu Wikipedia. The Urdu blogging resource is our common blog for discussing ways of promoting Urdu. The Wikipeida on the other hand contains information meant for guiding other people on how to use Urdu on their computers for different tasks, blogging being one of these.

I have always wanted Urdu speaking people from India to join in this effort. You have expertise in multimedia and graphics design. It would be nice if you could create new section on the Wikipedia where you could share your experiences of creating Urdu graphics, use of Urdu in Flash etc. Creating a new page on the Wikipedia is straightforward. If you want any help, contact me at simunaqv[ at ] gmail [ dot ] com.

Regads

February 24, 2005 10:09 PM  

Post a Comment

آوارہ صحافی

ہرگز نہیں ہوسکتا، ہاں بلاگ کا تعارف صحافت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرایا گیا جس کے ذریعے ہر کوئی اپنے خیالات کا دل کھول کر اظہار کرسکے ـ شکر ہے بلاگ لکھنے والے آوارہ صحافیوں میں میرا بھی ایک مقام ہے ـ زیادہ آوارہ نہیں کیونکہ نیوز میڈیا میں کام کرتے پورے آٹھ سال کا تجربہ ہے ـ ان آٹھ سالوں میں تقریبا تین اخباروں اور انگنت رسالوں میں کام کرنے کا زبردست نہیں تھوڑا بہت تجربہ ضرور ہے ـ اخبار کے دفتر میں کام کرنے والا ہر ایک صحافی نہیں ہوتا ـ ہاں ، اتنا ضرور ہے کہ صحافت کے بارے میں تھوڑی بہت جانکاری ضرور ہوتی ہے اور ساتھ ہی اخبار کے دفتری کاموں میں سالہا سال کام کرتے نیوز میڈیا کے بارے میں کافی تجربہ حاصل ہوتا ہے ـ مگر ٹیکنالوجی نے بلاگ کا تعارف کرانے کے بعد آج ہر کسی کو جرنلسٹ بنا دیا ـ بلاگ لکھنے والے اکثر اپنے روز مرّہ کے بارے میں لکھتے ہیں یا پھر طنز و مزاح، یادداشت، خطوط، دوستی، سچی جھوٹی کہانیاں، مذہبی تبلیغ، علاقائی خبریں، المناک خبریں، عالمی خبروں پر تبصرے، مختلف قسم کے مضامین، شاعری اور کوئی امریکی صدر کے نام خط بھی لکھ دیتے ہیں ـ اچھا ہے، یعنی ٹیکنالوجی کا بڑا کمال ہے، صحافیوں کو سماج میں جو ایک الگ اونچا مقام ہے ـــــ لو ، آج ہم بھی صحافی بن گئے ـ ـ ـ ـ ـ مگر اردو صحافت بھی کیا صحافت ہے، آج سے کئی سال پہلے اردو صحافیوں کی جو حالت تھی آج بھی وہی ہے ـ مگر یہ کبھی سوچا نہیں، کبھی تصور تک نہیں کیا کہ ایک دن یعنی آج اردو صحافت بھی الیکٹرونک میڈیا میں تمام دوسری زبانوں کے برابر ہے ـ

posted by Shuaib at 12:25 PM 0 comments

Post a Comment

حمام میں

سویرے نہاتے وقت بہت برا پھسل پڑا ـ روزانہ صبح آٹھ بجے نیند سے بیدار ہوتا ہوں، آج ہفتے کی صبح الارم بجنے کے باوجود ساڑھے آٹھ بجے اٹھا، باتھ روم میں جلدی جلدی نہا رہا تھا کہ ـ ـ ـ ـ ـ مجھے نو بجے آفس میں ہونا چاہئیے اور یہاں حمام میں پونے نو بج گئے ـ روزانہ ٹب میں شاور کے نیچے کھڑے ہوکر نہاتا ہوں، جسم اور چہرے پر صابن ملنے کے بعد آنکھ بند کرکے صابن کو اسکی جگہ واپس رکھ دیا ـ چہرے پر صابن کی وجہ سے میری آنکھیں بند تھیں، دماغ میں گھڑی کی ٹک ٹک، دل میں دیر سے اٹھنے کیلئے اپنے آپ پر لعنتیں ـ انہی خیالوں میں پتہ نہیں میرے پیروں کے نیچے کب صابن آگرا اور نہاتے وقت صابن پر پیر رکھ دیا اور پھر ـ ـ ـ ـ ٹب کے اندر ہی ایسے گرا جیسے دھوبی کپڑے چھانٹتا ہے ـ ٹب کے بازو واش بیسن بھی تھا پھسلتے وقت میرا سر اگر واش بیسن سے ٹکرا جاتا تو تو تو پھر ـ ـ ـ ایک ہی جھٹکے میں پھر اٹھ کھڑا، جلدی جلدی دوبارہ ٹھیک سے نہالیا، ٹاول سے جسم سکھایا اور دروازہ کھولا تو فلیٹ کے تمام ساتھی میری خیریت کیلئے باتھ روم کے دروازے پر پہلے سے موجود تھے ـ میں نے سب کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا: بس ایسے ہی پھسل گیا ــــ ہی ہی پھسل کر گرنے اور اسکے بعد دوپہر تک کچھ بھی نہیں ہوا، مگر اب پیٹھ، کمر، سر اور کاندھے پر بہت ہی درد محسوس ہو رہا ہے ـ

posted by Shuaib at 12:21 PM 0 comments

Post a Comment

ٹوپی

عید یا جمعہ کے دن امّی میرے سر پر ٹوپی پہناکر کہتیں: یا اللہ کتنا پیارا لگ رہا ہے، پھر امّی میری آنکھوں میں سرمہ لگاکر میرے پہنے ہوئے کپڑوں پر عطر چھڑکتیں ـ امّی کے ہاتھوں بن سنور کر جیسے ہی گھر سے باہر نکلتا، سب سے پہلے ٹوپی اتار کر اپنی جیب میں رکھ لیتا ـ ہر آنے جانے والا مجھے غور سے دیکھ کر گذرتا ـ میں سمجھتا کہ شاید خوبصورت لگ رہا ہوں اس لئے ہر کوئی مجھے دیکھ رہا ہے ـ جب آئینے میں اپنا چہرا دیکھتا تو ـ ـ ـ آنکھوں میں لگائے ہوئے سرمے کی جلن سے آنکھوں کا پانی، میرے گالوں پر کالی کالی لکیریں صاف نظر آتی تھیں ـ اور پھر جب گھر واپس آتا تو، کپڑے گندے، سر کے بال بکھرے ہوئے اور جیب سے ٹوپی غائب اور پھر امّی کے ہاتھوں خوب پٹائی ـ آج امّی کی بہت یاد آرہی ہے ـ

posted by Shuaib at 12:18 PM 0 comments

Post a Comment

ننگے فرشتے

گلے سے لیکر ٹخنوں تک لمبا جبّہ، چہرے پر چیچک داڑھی، سر پر سفید اور شفاف رومال اوڑھے، ہاتھ میں منکوں والی تسبیح ـ کبھی لینڈ کروزر میں اور کبھی مرسیڈیز بینز پر، کبھی ہوٹلوں یا ریسٹورینٹس میں اور پارکوں، شاہراہوں، سنیما ہالوں یا پھر لڑکیوں کے پیچھے، سگنلوں پر ہارن بجاتے ہوئے، کار میں بیٹھے تالیاں بجاتے ہوئے ـ چوبیسوں گھنٹے منہ میں سگریٹ اور انکے آس پاس کا پورا ماحول بھی دھواں دار ہوتا ہے ـ ایسے فرشتہ لباس لوگ اکثر دبئی اور شارجہ میں دیکھنے کو ملتے ہیں ـ کار چلانے میں ماہر، گاڑی چاہے جیسی بھی ہو مگر آواز راکٹ کی طرح ـ انکے جسم کی بدبو بتاتی ہے کبھی نہایا ہی نہیں مگر کپڑے ایسے جیسے ابھی ابھی آسمان سے اترے ہوں ـ خطروں کو مولنا انکا پسندیدہ مشغلہ ہے، کبھی بھوک کا احساس نہیں کیونکہ ہر پانچویں منٹ میں کسی بھی ہوٹل پہنچ جاتے ہیں ـ ایسے فرشتوں کے لباس والے اگر ہندوستان کے کسی گلی محلے سے گذریں تو نادان لوگ انہیں کھڑے ہوکر سلام کریں گے کہ مولانا آگئے ـ مزے کی بات ہے جب چند فرشتے ایک ساتھ اکٹھا جمع ہوگئے تو آپس میں ایسے ہنسی مذاق کریں گے جیسے خونریز جنگ چھڑ گئی ہو، لباس فرشتوں جیسا اور ہاتھوں میں چپل پکڑے ایکدوسرے کا سر بجاتے ہوئے ـ پتہ نہیں ان کا دن کب سے شروع ہوتا ہے مگر رات دیر گئے تک سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر سگریٹ کے دھؤیں میں انکے چہرے بھی نظر نہیں آتے ـ کھانے پینے کے بے انتہا شوقین، لڑکیوں کیلئے جان ہتھیلی پر لیجانے والے، دونوں ہاتھ چھوڑ کر بائیک چلانے والے ـ پیشاب کرنیکے بعد باتھ روم کا فلش بھی نہیں کرتے اور پنچ وقتہ نمازی بھی ـ یہ فرشتے لڑکیوں کو چیونگم کی طرح استعمال کرتے ہیں اور لڑکیاں بھی جان بوجھ کر ان فرشتوں کیلئے چیونگم بننا پسند کرتی ہیں، ان فرشتوں کے والدین کا اتہ پتہ نہیں، ان کے روز مرّہ کی مصروفیات کا کسی کو علم نہیں اور خود فرشتوں کو بھی ـ اپنی مرضی کے راجہ جہاں دل چاہے دندناتے پھرتے ہیں ـ یہاں تمام فرشتوں کا لباس سب ایک جیسا، سر پر پگڑی باندھے، آنکھوں میں سرمہ، خوشبودار پرفیوم، منہ میں سگریٹ اور ہاتھ میں موبائل فون جس میں درجنوں لڑکیوں کے نمبر اور انکی تصویریں، کبھی سڑکوں پر، کبھی ہوٹلوں میں اور کبھی پارکوں میں بھی، یہی ہے انکی دن بھر کی مصروفیات ـ خیر، یہ ان کا اپنا ملک ہے اور یہ ننگے فرشتے یہاں کے باشندے ہیں ـ انہیں بھوک اور پیاس کا احساس نہیں، فساد اور کرفیو کا علم نہیں، تھانے اور حوالات کا ڈر نہیں، غریب کا مطلب غلام سمجھنے والے، روپیوں کو پانی کی طرح بہانے والے، لڑکیوں کو کپڑوں کی طرح بدلنے والے، عالیشان بنگلوں میں رہنے والے، قیمتی کاروں میں گھومنے والے ــــــــ اچھا تھا کہ میں بھی فرشتہ ہوتا، پھر بھی خوش ہوں کہ انسانوں میں ہوں، اگر ان ننگے فرشتوں میں ہوتا تو جاہل ہوتا ـ کیا فائدہ ایسی زندگی کا؟؟

posted by Shuaib at 12:17 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, February 04, 2005

سیکس

ہندوستان کے تمام شہروں میں ہر دس سنیما ہالوں میں سے دو سنیما سیکس فلموں کیلئے مخصوص ہوتے ہیں جو باقاعدہ لائسنس یافتہ بھی ہیں ـ آجکل ہندوستان میں خالص سیکس فلمیں بننا بند ہوگئیں کیونکہ آج بالی ووڈ کی تمام فلموں میں چاہے وہ کمرشیل ہوں یا آرٹ فلمیں سیکس اب ضرورت بن گئی ہے جس کے بغیر فلموں میں رونق ہی نہیں ـ یہاں دبئی میں غیر قانونی طریقے سے سیکس دیکھنا، دکھانا، کرنا، کروانا قانونا جرم ہے اور سخت سزا بھی، پھر بھی دبئی غیر قانونی سیکس کیلئے بہت مشہور ہے، یہاں غیر قانونی طریقے سے سیکس دیکھنا اور دکھانا اسکے علاوہ سیکس خریدنا اور بیچنا بہت آسان ہے لیکن کہیں بھی باقاعدہ خالص سیکس سنیما ہال نہیں جس کی وجہ سے یہاں اکثر لوگ سیکس سے بھرے نقلی سی ڈیز خرید کر گھر بیٹھے تنہا اور کبھی اجتماعی طور پر دیکھ لیتے ہیں ـ دبئی میں غیر قانونی طریقے سے سیکس کرنا بہت بڑا جرم ہے ہی پھر بھی ہر جگہ غیر قانونی سیکس آسانی کیساتھ دستیاب ہے ـ مگر وہاں ہندوستان کے بڑے شہروں میں سیکس کیلئے مخصوص علاقے آباد ہیں جہاں باقاعدہ لائسنس یافتہ لوگ انسانی جسموں کا کاروبار کرتے ہیں جس سے ہونے والی آمدنی کو ہنسی خوشی کیساتھ سرکار، پولیس، دلال اور دوسرے بھائی لوگ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ـ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ غیر قانونی سیکس بھی تمام ترقی پذیر ملکوں کا راز ہے ـ جرم کو جرم بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسکا دارومدار سزا دینے والی سرکار پر ہے، وہ جو چاہے کرسکتی ہے، مجرم کو معاف اور بے گناہ کو سزا بھی دے سکتی ہے ـــــــ انسانی حقوق، آزاد خیال، عیاشی کا سامان اور تعلیم ہر ترقی پذیر ملک کی شان ہے ـ ہندوستان ان سب چیزوں سے بہت دور تھا مگر اب یہاں سب کچھ موجود ہے جو ایک ترقی پذیر ملک میں ہونا چاہیئے ـ اپنے ملک کیلئے نیک امیدیں رکھتا ہوں کہ دن بدن ترقی کرتا جائے ـ

posted by Shuaib at 10:05 AM 0 comments

Post a Comment

پکنک کی تصویریں

بقر کی چھٹیوں میں پکنک کے موقع پر اتاری گئیں تصویریں پرنٹ ہوکر آگئیں ـ تصویروں کا پرنٹ ’’کوڈاک‘‘ اسٹوڈیو سے کروایا، تمام تصویریں بہت ہی صاف اور عمدہ تھیں مگر ـ ـ ـ پکنک منانے گئے ہم تمام دوست جو تعداد میں دس اور دو کاروں میں سوار ہوکر گئے تھے، ریگستان میں اتاری گئی تصویریں دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے ہم سب جنگ کے میدان میں کھڑے ہوں ـ جمعہ کی نماز کے بعد خوبصورت مسجد کے سامنے اتاری گئی تصویروں میں جیسے ہم جنازے کی نماز ادا کر رہے ہیں ـ نماز کے بعد ایک ریسٹورنٹ میں دوپہر کے کھانے کے وقت نکالی گئی تصویر میں لگا جیسے ہم سب گھر میں بیٹھے کھانا کھا رہے ہیں ـ ہائی وے پر اپنی گاڑیوں کو کنارے کھڑی کرکے اتاری گئی تصویر دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا ہے جیسے ہم پولیس چیک پوسٹ سے گذر رہے ہیں ـ العین شہر میں دونوں کاروں کے سامنے کھڑے ہوکر ہم تمام دس ساتھیوں نے جو گروپ فوٹو لیا تھا، تصویر میں ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی احتجاجی جلوس میں شریک ہوں ـ ایک اور مزیدار فوٹو بھی ہے جب ہم ریگستان میں پلٹیاں کھاتے ہوئے ایکدوسرے کو دھکا دیئے جارہے تھے، اس تصویر میں صاف نظر آرہا تھا جیسے ریگستانی کتّے ہمارا پیچھا کر رہے ہوں یا پھر ہم سب مل کر کسی بیل کیساتھ بل فائٹنگ کے گیم میں شامل تھے ـ پہاڑ کے اوپر اتاری گئی تمام تصویروں میں ہم سب ایسے لگ رہے تھے جیسے بارات میں آئے ہیں ـ تصویریں صاف بتا رہی تھیں کہ ہم میں سے کسی کو بھی فوٹو گرافی کا فن نہیں تھا، ایسا معلوم ہورہا ہے جیسے یونہی آنکھ بند کرکے تصویریں اتاری گئیں ہوں ـ اچھا ہوا کہ میری تصویریں بہت کم تھیں یعنی زیادہ تصویروں میں میرا نظر آنا مشکل ہے پھر بھی پکنک پر بہت مزہ آیا اور یہ پکنک ہمارے لئے ایک یادگار بھی ہے ـ

posted by Shuaib at 10:05 AM 0 comments

Post a Comment

ڈبل بس

ممبئی شہر میں جہاں ڈبل ڈیکر بسوں کا نظام ہے ـ ایک وقت تھا جب بنگلور شہر میں بھی ہر جگہ ڈبل ڈیکر بسیں دوڑتی نظر آتی تھیں، شہر کی عام سڑکوں پر مسافروں سے بھری ڈبل ڈیکر بسیں مسافروں کو شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچاتی تھیں پھر جیسے جیسے شہر میں فلائی اوورس بنتے گئے تو ہماری سرکار نے ڈبل ڈیکر بسوں کی تعداد بھی گھٹادی ـ آج بنگلور میں ڈبل ڈیکر بسیں بہت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں ـ ڈبل ڈیکر بسوں کی رفتار دوسری عام بسوں سے دھیمی ہوتی ہے مگر ایک ساتھ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو لیکر ایک اسٹاپ سے دوسرے اسٹاپ ہوتے ہوئے آگے بڑھتی رہتی ہے جس میں دو کنڈیکٹر ہوتے ہیں ایک اوپر کے حصے میں دوسرا نیچے ـ مجھے یاد ہے جب پندرہ سال کا تھا اور چلتی ہوئی ڈبل ڈیکر بس سے اترنے کی کوشش میں گر پڑا، مگر بال بال بچ گیا ـ آج شہر کی تمام بسوں میں آٹومیٹک دروازے موجود ہیں ـ بنگلور کی تاریخ میں ڈبل ڈیکر بسوں کا بھی زبردست رول ہے ـ آج بنگلور میں سرکار نے ڈبل ڈیکر بسوں کو شہر سے دور کردیا جو شہر کے باہر سے ہی مسافروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہے ـ ڈبل ڈیکر بس جو ایک وقت بنگلور کی شان تھی مگر اب ان بسوں کو شہر سے باہر کردیا گیا ہے ـ جب بھی امّی کے ساتھ ڈبل ڈیکر بس میں سفر کرتا تو ضد کرتا کہ اوپر کے حصے میں جاکر بیٹھیں گے مگر امّی نیچے کے حصے میں ہی بیٹھنا پسند کرتی تھیں تاکہ اسٹاپ آتے ہی جلدی اترنے میں آسانی ہو اور میں منہ تیڑھا کرکے بیٹھ جاتا ـ

posted by Shuaib at 10:04 AM 0 comments

Post a Comment

عمر شریف

کبھی دیکھا نہیں صرف سنا تھا کہ اردو دان کو ہنسانے والا بہت بڑا چھچورا ہے ـ پرسوں اپنے ایک پاکستانی دوست کے فلاٹ میں عمر شریف کا ڈرامہ دیکھنا نصیب ہوا، واقع لوگوں کو ہنسانے والا بہت بڑا جوکر ہے ـ عمر شریف کے ڈرامے میں ایک خاص بات جو میں نے نوٹ کیا اور سنا بھی تھا کہ وہ ہندوستان، ہندوستانیوں، ہندوستان کے فلمی اداکاروں پر ہمیشہ طنز کرتا ہے یعنی کہ پاکستانی ناظرین میں اپنا ڈرامہ کامیاب کرنے کیلئے ہندوستان کے خلاف کچھ نہ کچھ بولنا یا کر دکھانا اسکا پیشہ ہے ـ مانتا ہوں کہ ایک جوکر پبلک کو ہنسانے کیلئے کچھ بھی بول سکتا ہے اپنا ایمان اور اپنے ملک کی شان کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کو ہنسانا چاہتا ہے ـ اور پبلک بھی جوکر کی عجیب حرکتوں اور اسکی باتوں سے لطف اندوز ہوکر تالیاں بجاتے ہیں ـ شاید یہ بھی ایک قسم کا انٹرٹینمنٹ ہے ـ فی الحال سننے میں آیا ہے کہ عمر شریف ہندوستانی فلموں میں کام کر رہا ہے کہ اسکی زندگی کی آخری خواہش بھی یہی ہیکہ وہ بالی ووڈ کے اداکاروں کیساتھ کام کرے ـ میری نیک تمنّائیں ہیں کہ عمر شریف اپنی عمر کے اس آخری دور میں ہندوستانی فلموں کے ذریعے اپنی چھچوری حرکتوں سے ایسا کچھ کر دکھائے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے عوام ایکدوسرے کا احترام کریں ـ

posted by Shuaib at 10:04 AM 0 comments

Post a Comment

سائبر کیفے

ویسے آج بنگلور شہر کی گلی گلی میں دو انٹرنیٹ سنٹر اور دو سائبر کیفے موجود ہیں ـ اچھی طرح یاد ہے جب ١٩٩٥ء میں پہلی بار سائبر کیفے میں ایک گھنٹہ نیٹ استعمال کرنے کیلئے سو روپئے ادا کرنا پڑتا تھا ـ اور صرف آج سے دو سال قبل یعنی ٢٠٠٢ء کو میرے گھر کے سامنے موجود سائبر سنٹر میں براؤسنگ کرتا تھا، یہاں ایک گھنٹے کیلئے صرف دس روپئے چارج ہوتا ہے اس کے علاوہ دو صفحے پرنٹ کئے ہوئے مفت میں لیجاسکتے ہیں ـ میرے خیال سے آج بنگلور کے انٹرنیٹ براؤسنگ سنٹرس میں فی گھنٹہ پانچ روپئے بھی ہوسکتا ہے ـ ویسے آج شہر میں انٹرنیٹ براؤس کرنے کیلئے بہت سی سہولتیں اور آئی ٹی کمپنیوں کی طرف سے بے شمار آفرس بھی ہیں جیسے سیٹیلائٹ یا کیبل نیٹ کے ذریعے مگر ٹیلیفون سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا رواج بہت ہی پرانا ہوچکا ہے جس میں براؤسنگ کی رفتار بہت ہی سست ہے ـ دو سال پہلے ہی گلی کے ہر تیسرے گھر میں انٹرنیٹ موجود تھا، میں خود گھر سے براؤسنگ کرتا تھا صرف ویب کیمرا استعمال کرنے کیلئے سائبر سنٹر کا رخ کرتا تھا ـ میرا مقصد یہ لکھنا ہے کہ یہاں دبئی کے کسی بھی انٹرنیٹ کیفے میں فی گھنٹہ براؤسنگ کیلئے پانچ سے دس درھم ادا کرنا پڑتا ہے یعنی ہندوستان کے تقریبا پچاس روپئے فی گھنٹہ ـ اور یہی پچاس روپئے خرچ کرکے ہندوستان کے انٹرنیٹ سنٹرس میں تقریبا پانچ یا چھ گھنٹے انٹرنیٹ کا استعمال کرسکتے ہیں ـ لیکن ایک بات ضرور ہے کہ دبئی مہنگا شہر ہے مگر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ آج انٹرنیٹ ہر ایک کی ضرورت بن گیا ہے اور اوپر سے یہاں دبئی میں انٹرنیٹ صرف ایک کمپنی کی ملکیت ہے جبکہ ہندوستان میں سرکاری اور غیر سرکاری بے شمار کمپنیاں ہیں جو آئی ٹی کے میدان میں ایکدوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں ـ مجھے یقین ہے آئندہ پانچ سالوں میں ہندوستان آئی ٹی شعبے میں چین کے برابر کھڑا ہوجائے گا ـ

posted by Shuaib at 10:03 AM 0 comments

Post a Comment

تھنڈ میں گرم

امارات کی تاریخ میں چھ ہفتے طویل سردیوں میں گرم ملبوسات فروخت کرنے والی دکانوں کی چاندی نکل پڑی ـ گذشتہ ماہ اچانک کشمیر، شملہ اور اوٹی جیسی شدید سردیوں میں لوگ دھڑا دھڑ گرم ملبوسات خریدنے لگے ـ میں تو نہیں جانتا مگر یہاں عرصہ دراز سے رہنے والوں نے بتایا کہ ایسی شدید سردی پہلے کبھی محسوس ہوئی نہیں ـ میں تو صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ دو سال کے عرصے میں پہلی بار مجھے بھی گرم جیکٹ پہننا پڑا ـ سال کے آٹھ مہینے گرمی میں تپنے والے اس ملک میں شاید پہلی بار یہاں کے عوام گرم ملبوسات پہننے پر مجبور ہوگئے ـ اسکے علاوہ ملبوسات اور فیشن کی شورومس میں بھی سوئٹرس، جیکٹس، مفرلس اور گلاؤز وغیرہ اچھی قیمتوں میں فروخت ہوگئے جیسے لگ رہا تھا امارات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ گرم ملبوسات فروخت ہوئے ہوں ـ حالانکہ یہاں سردی اور تیز تھنڈی ہواؤں کا سلسلہ صرف پانچ ہفتوں تک ہی رہا یعنی جنوری کا پورا مہینہ مسلسل تھنڈی ہواؤں نے یہاں کے عوام کو بالکل تھنڈا کردیا ـ مجھے یاد ہے سرد ہواؤں کا سلسلہ جنوبی ایشیاء میں ہوئے سونامی کے دوسرے دن سے شروع ہوا، اور اس دوران ٹھہر ٹھہر کر برساتیں بھی ہوتی رہیں جو یہاں کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے اسکے علاوہ چند پہاڑی علاقوں میں اسنوفال بھی ہوا ـ نئے سال کے پہلے ماہ جنوری میں ہوئے ان عجیب و غریب واقعات کی وجہ سے یہاں گرم ملک میں رہنے والوں نے جو سکون کا سانس لیا یہیں چند لوگ خوفزدہ بھی ہوگئے کیونکہ اسی دوران یہاں ایک ننھے سونامی نے اپنی آنکھیں کھول دیں ـ

posted by Shuaib at 10:02 AM 0 comments

Post a Comment

ماڈرن نقشہ

لائبریری میں بوسیدہ دیمک لگی سو سال پرانی کتاب کے اوراق چھانٹ رہا تھا کہ اچانک ایک نقشے پر نظر پڑی جس کے نیچے لکھا تھا ’’ورلڈ میاپ‘‘ ـ پہلے تو سمجھا آج سے سو سال قبل لوگوں کو دنیا کے نقشے کے بارے زیادہ علم نہیں تھا، شاید اسی لئے خیالی نقشہ بنادیا ہوگا ـ کیونکہ آج کے ماڈرن نقشے اور پرانے زمانے کے خیالی نقشے میں زمین آسمان کا فرق نظر آرہا تھا ـ
حالیہ انگریزی فلم ’’الیکزینڈر‘‘ میں بھی بالکل ویسا ہی دنیا کا نقشہ دکھایا گیا جیسا میں نے پرانی کتاب میں دیکھا تھا یعنی بتایا جارہا ہے کہ ہزاروں سال قبل افریقہ جنوبی ہندوستان کی جانب تیڑھا سویا ہوا، شمالی امریکہ یوروپ کو چومتا ہوا، آسٹریلیا افریقہ کو پکڑے لٹکا ہوا یعنی کہ پوری دنیا ایکدم سکڑی ہوئی لگ رہی تھی مطلب یہ ہے کہ آج دنیا میں پھیلے ہوئے سارے ممالک ہزاروں سال قبل ایکدوسرے سے جڑے ہوئے یعنی ایک تھے ـ میں بھی سوچوں ہزاروں سال پہلے لوگ کس طرح ایکدوسرے ملکوں کا سفر کرتے تھے، کیونکہ میرے دماغ میں ہمیشہ سے دنیا کا ماڈرن نقشہ ہی چھایا ہوا تھا ـ

posted by Shuaib at 10:02 AM 0 comments

Post a Comment

پوسٹ

گذشتہ کئی پوسٹس میں عرب ممالک اور عربیوں کے خلاف بہت کچھ لکھ چکا ہوں ـ یہ تمام پوسٹس کہیں باہر سے نہیں بلکہ یہیں عربی ملک اور انہیں عربیوں کے درمیان بیٹھ کر لکھتا رہتا ہوں اور امید ہے ایک دن اسی وجہ سے میری شامت بھی آئے گی ـ عربی لوگ اردو نہیں پڑھتے لیکن انہیں کسی بھی طرح معلوم تو ہوجائے گا کہ ایک شخص یہیں سے اور عربیوں کے درمیان بیٹھے انہیں کے خلاف لکھ رہا ہے، تب میرا کیا ہوگا مجھے خود نہیں معلوم ـ ایک بات اور ہے کہ مذہب اور اندھی تقلید سے بیزار آچکا ہوں، اپنی پیدائش سے لیکر اٹھارہ سال کی عمر تک اپنے مذہب سے محبت اور اسکی پیروی کرتا رہا اور جب پوری طرح ہوش سنبھالا تو دنیا حسین لگنے لگی اور مذہب سے بیزارگی ـ پھر رفتہ رفتہ اپنے مذہب اور اندھے رسم و رواجوں سے بے انتہا نفرت سی ہوگئی ـ اور آج اپنے انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بلاگ بھی کرتا رہتا ہوں ـ یقینا یہ بلاگ پڑھنے والا مجھ پر بھڑکے گا یا پھر دوسرے مہذب لوگوں کو میرے خلاف بھڑکائے گا ـ اب تو دوستوں میں بھی میری زبان مذہب کیخلاف قینچی کی طرح چلنے لگی ہے ـ مجھے سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین کی صف میں آنا پسند نہیں ـ مہذّب تو نہیں لیکن مجھ میں تہذیب ضرور ہے، انسانیت، ہمدردی اور ایمانداری زیادہ نہ سہی مگر ہے ـ اپنے مہذب دور میں جو کچھ کیا اور جو دیکھا انہیں باتوں کو لیکر بلاگ کرتا ہوں ـ میرے والدین، بھائی بہن اور پورا خاندان بے انتہا مہذب اور اپنے مذہب سے محبت کرتے ہیں ـ یہ بھی نہیں سوچتا کہ کاش کسی ایسے گھرانے میں پیدا ہوتا جہاں کوئی مذہب ہی نہ ہوتا، کیونکہ میں نے جو سوچا تھا آج بہتر محسوس ہو رہا ہوں ـ اپنے خیالات کا شکر گذار ہوں کہ مجھے دنیا کو پہچاننے اور سمجھنے کا موقع دیا ـ ڈر صرف اس بات کا تھا کہ اگر آج سے صرف سو سال قبل پیدا ہوتا تو میں بھی مذہبی ہوتا ـ

posted by Shuaib at 10:01 AM 0 comments

Post a Comment

بچپن میں

میری اسکول ٹیچر نے مجھ سے پوچھا، جہاں اور بھی کئی ٹیچرس کھڑی تھیں: شعیب، بڑا ہوکر کس قسم کی لڑکی سے شادی کرنا پسند ہے؟ میں نے جواب دیا: جو اچھا کھانا بنائے گی، اسی سے ـ تمام ٹیچروں نے میری طرف غصّے سے دیکھا، ایک ٹیچر نے دانت پیستے ہوئے مجھ سے پوچھا: کیوں رے؟ شادی کا مطلب صرف بیوی کے ہاتھوں مزیدار کھانا ہوتا ہے، اور کچھ نہیں؟ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ میری عمر اسوقت آٹھ یا دس سال کی تھی، سوچنے لگا: پتہ نہیں میں نے ایسا کیا کہہ دیا کہ ٹیچرس میری طرف غصّہ کر رہی ہیں ـ بچپن میں یہی سمجھتا تھا کہ مرد عورتوں سے شادی اس لئے کرتے ہیں تاکہ انہیں کھانا بناکر دے، کپڑے دھوئے، گھر کی صاف صفائی کرے وغیرہ ـ تھوڑا بڑا ہونے پر سب کچھ پتہ چل گیا کہ شادی کا مطلب کیا ہے اور شادی کیوں کرتے ہیں ـ یہ پوسٹ لکھنے کا مقصد کچھ نہیں، صرف یادوں کے جھروکوں سے کچھ یاد آگیا تھا ـ

posted by Shuaib at 10:00 AM 0 comments

Post a Comment

جنت

یہ بات بالکل صحیح کہ انسان کو کنٹرول میں رہنے کیلئے جنت اور دوزخ کا تصور کرنا ٹھیک ہے مگر کیا یہ بھی ضروری ہے کہ انسان خیالی، سنی سنائی باتوں کو سچ مان کر جب کہ اسکا ضمیر گوارا نہیں کرتا پھر بھی سوسائٹی میں رہنے کیلئے آنکھ بند کرکے اندھی تقلید کرتا ہے، جنت اور دوزخ کے تصور نے شریف انسان کو مہذب بنا دیا ـ میرے نزدیک شریف انسان اور مہذب انسان میں بہت زیادہ فرق ہے ـ مہذب انسان ہمیشہ اپنے مرنے کے بعد ہونے والے واقعات کی فکر کرتا ہے جبکہ شریف انسان زندگی کا لطف اٹھاتا ہے ـ مہذب انسان ہمیشہ خیالی تصورات میں رہتا ہے جبکہ شریف انسان دورِ خاضرِ کے پیش نظر زمانے کیساتھ قدم بڑھاتا ہے ـ تعلیم کے کئی راستے ہیں مگر مذہبی اور دنیاوی تعلیم کا رجحان عام ہے ـ میں تو سمجھتا ہوں کہ مذہبی تعلیم کے ذریعے انسانوں کو دنیا سے نفرت اور بیزارگی کا درس دیا جاتا ہے اسکے علاوہ خیالی تصورات میں رہنا سکھایا جاتا ہے جبکہ عصری تعلیم کے ذریعے انسان کو خود کی اور دوسروں کی زندگی سنوارنے کے ہزاروں طریقے سکھائے جاتے ہیں ـ شکر ہے آج پوری دنیا میں عصری تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے اور میرے نزدیک مذہبی تعلیم عمر ضائع کرنے کے برابر ہے ـ دنیا کے تمام شریف اور ایماندار لوگ عصری تعلیم کی طرف ہی توجہ دیتے ہیں اور دنیا کے ہر ترقی پذیر ممالک کی شان بھی عصری تعلیم ہی ہے ـ مذہبی تعلیم نے کبھی کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ ہی خود کو جس نے مذہبی تعلیم حاصل کیا ـ

posted by Shuaib at 9:59 AM 0 comments

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters