نئی باتیں / نئی سوچ

Friday, March 18, 2005

اکسپورٹنگ انپیج اردو ٹیکسٹ

image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib image by shuaib

متحرک الفاظ

Animation by shuaib

Animation by shuaib

Blogger Nabeel said...

Dear Shuaib

Excellent work. What versions of InPage and CorelDraw have you used? Are these images of original size. It would be nice if one could enlarge these images in a separate window.

Nabeel

March 18, 2005 3:18 PM  
Anonymous Shuaib said...

Dear Nabeel, thanks. I used Inapge urdu software and CorelDRAW version 10. This all images in 200 dpi, you can see enlarge view in your sys. I will try to change image sizes in separate window.

March 22, 2005 10:51 AM  
Blogger Danial said...

Your page takes so much time to get load now. I don't have photoshop or coreldraw I use MS paint :)

April 01, 2005 6:09 AM  
Anonymous Shuaib said...

Ok Danial, I removed some images for fast downloading :)

April 01, 2005 12:32 PM  

Post a Comment

Friday, March 11, 2005

کیسے؟

دفتر میں ذاتی مفادات کی تمام ویب سائٹوں کو بلاک کردیا گیا ہے ـ بہت سارے الفاظ جو کمپنی کے لوکل نیٹورک میں مقفوع ہیں: اردو، ہندی، ای میل، چیٹنگ، ڈیٹنگ، سیکس، گرلز، نوکری، میوزک، ڈاؤن لوڈ، ویڈیو، گیمز، انڈیا، پاکستان، فٹ بال، کرکٹ، ہالی ووڈ، بالی ووڈ، مووی اور یہاں تک کہ لفظ نیوز بھی ـ خیر کوئی بات نہیں، ہفتے میں دو بار سائبر کیفے جانا پڑتا ہے جو اپنے فلیٹ سے بالکل قریب ہی ہے ـ اور اس نیٹ کیفے کا مالک عربی ہے، عربیوں کا دماغ بھی بالکل صدام حسین جیسا ہے، سائبر کیفے میں موجود کمپیوٹرس سے فلاپی ڈرائیو نکال دیا کہ وائرس اٹیک ہوجائے گا ـ شکر ہے کہ عربی کو کم از کم وائرس اٹیک ہوجانے کی خبر تو ہے ـ اکثر سائبر سنٹرس میں فلاپی ڈرائیو نہیں ہوتے ـ اپنے ای میلز چیک کرنے اور یاھو پر کام و کاج کی فائلیں اپلوڈ کرنے میں ایک دو گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں ـ اب اردو بلاگرس کو پڑھنے کیلئے اردو کے فونٹس ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے سائبر کیفے والوں سے پرمیشن لینی پڑتی ہے کیونکہ انسٹالیشن کیلئے ایڈمنسٹریشن پاسورڈ رکھ دیا گیا ہے ـ حالت کچھ یوں ہے کہ اپنے کمرے میں نیٹ کنیکشن لگوا نہیں سکتا کیونکہ آج کا دن دبئی میں تو کل کی رات شارجہ میں بسر ہوتی ہے ـ پریزنٹیشن کیلئے ادھر ادھر آنا جانا پڑتا ہے ـ امارات جیسا بھی ملک ہو مگر یہاں کے ورکرس کو بہت ہی مصروف کرکے رکھ دیا ہے ـ نیٹ کیفے جانے کے بعد اپنی فائلوں کو اپلوڈ کرتے ہی بہت سارا وقت گذر جاتا ہے اور اسی کے ساتھ چند اردو بلاگرس کو بھی تھوڑا بہت پڑھ لیتا ہوں ـ

Post a Comment

Monday, March 07, 2005

انپیج

اردو زبان سے محبت اور اسکی ترویج کیلئے نبیل بھائی کا توجہ دلانا بہت پسند آیا ـ شروع کے تین پوسٹ انہی کی فرمائش پر ہیں ـ ــــ اردو الفاظوں کے درمیان انگریزی الفاظ کو پڑھنے کیلئے صفحے کو بائیں سے دائیں کرلینا ٹھیک ہے ــــ انپیج اردو سافٹویئر کے تمام نسخ بذریعہ کورل ڈرا ورژن ٩، ١٠، ١١، ١٢ کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں گل کھلا سکتے ہیں ـ اب تک تو شاید ہر کسی کو معلوم ہو، مگر یہ ذاتی تجربہ پانچ سال پرانا ہے ـ انپیج اردو سافٹویئر کی فائل میں، جیسا کہ لکھنے کیلئے ٹیکسٹ باکس ضروری ہے، کسی بھی اردو نسخ میں اپنا نام لکھنے کے بعد ٹیکسٹ باکس کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کورل ڈرا کے کسی بھی نئے ورژن میں لانے کے بعد Arange کی قسم میں جاکر Brake Apart کا حکم دیں تو پیسٹ کیا ہوا اردو نسخ یعنی اپنا نام الفاظ میں تبدیل ہوجائے گا ـ اپنے نام کو کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے کمپیوٹر کے کسی بھی سافٹویئر میں چاہے وہ ڈیٹا بیس ہو یا گرافک، لیجایا جاسکتا ہے ـ سب سے پہلے انپیج اردو کا پروگرام کھلا ہو پھر بعد میں دوسرے پروگرامز کھولیں تو انپیج اردو سافٹویئر کے تمام اردو نسخ فونٹ ہر کسی پروگرام کے فونٹ مینو میں نظر آئیں گے ـ کورل ڈرا سے لائے گئے اردو نام کو مختلف سافٹویئرس میں پیسٹ کرنے کے بعد فونٹ مینو سے نظر آنے والے انپیج اردو کے کسی بھی نسخ فونٹ کو ایپلائی کریں تو تجربہ سامنے نظر آتا ہے ـ اسی تجربے سے انپیج اردو کے تمام نسخ فونٹس کو ایچ ٹی ایم ایل میں بھی لکھا جاسکتا ہے، مشکل یہ ہے کہ براؤس کرنے والے کے سسٹم میں انپیج اردو کا پروگرام ہو اور جو پہلے سے کھلا رہے ـ یہ تجربہ دفتر میں ہی آزما کر دیکھ لیا، مختلف کمپیوٹروں سے براؤس کرنے کے بعد جس میں انپیج کا پروگرام انسٹال تھا مگر باہر سائبر سنٹرس سے ایسا تجربہ کبھی نہیں کیا ـسائڈ بار میں نیچے چند اردو کے گِف پکچر ہیں جو اسی تجربے سے بنایا ہے جو کہ چار سال پرانے ہیں جس میں تین نئے گِف بھی ہیں
Blogger Nabeel said...

ڈیر شعیب۔ بہت خوب۔ اس قابل قدر انفارمیشن کا شکریہ۔ میں اس کوشش میں مشغول ہوں کہ تمہاری فراہم کی گئی ہدایات پر عمل کرکے اردو کو فوٹو شاپ میں استعمال کرسکوں۔ آج میں نے مایا کا ایجوکیشنل ورژن بھی ڈاؤنلوڈ کیا۔ تقریبا 150 میگابائیٹ کی ڈاؤنلوڈ ہے۔ تمہیں اگر کوئی اس کا اچھا ٹیوٹوریل معلوم ہے تو اس کے بارے میں بتاؤ۔میں امید کرتا ہوں کہ تم اسی طرح ہمیں قیمتی معلومات فراہم کرتے رہو گے۔

March 11, 2005 12:55 AM  

Post a Comment

نئے ورژن

کورل ڈرا کے ورژن ١٢ میں اردو یونیکوڈ کام کر رہا ہے اور ایم ایس آفس کی طرح اس میں بھی اردو کو ٹائپ اور ایڈٹ کرسکتے ہیں مگر دفتری کام کے دوران چند ایپلیکیشن ٹھیک سے کام نہیں کر رہے جسکی وجہ سے دوبارہ ورژن ١٠ استعمال کر رہا ہوں ـ کورل ڈرا کے ورژنوں میں ٥، ٧ ـ اور ١٠ میرے خیال سے بالکل پرفیکٹ ہیں ـ میرا کمپیوٹر ونڈوز پروفیشنل پر چل رہا ہے ـ کئی طریقوں سے چیک کرلیا مگر پتہ نہیں کام کے دوران ورژن ١٢ لنگڑاکر گر جاتا ہے اور کبھی سی ڈی آر فائلیں ناقابل بھی ہوجاتی ہیں جسکی وجہ سے دوبارہ کام کرنا پڑتا ہے ـ فی الحال ورژن ١٠ پر دفتری کام صحیح ہو رہا ہے ـ اڈوب کا فوٹوشاپ، اپنی مرضی کیمطابق اردو یونیکوڈ دکھاتا ہے اور کبھی منہ تیڑھا کرلیتا ہے ـ ایم ایس ورڈ کی فائل میں ٹائپ کئے ہوئے اردو مواد کو فوٹوشاپ میں پیسٹ کریں تو اردو ٹیکسٹ سوالیہ نشان بن جاتے ہیں زبردستی کرو تو صحیح اردو الفاظ نظر آتے ہیں اور جب پی ایس ڈی بناکر دوبارہ فائل کھولیں تو پھر سے سوالیہ نشانات نظر آتے ہیں ـ یہی حال میکرو میڈیا کا ہے چاہے وہ ڈائرکٹر ہو یا فلاش، اسے بھی اردو یونیکوڈ کو سوالیہ نشانات دکھانا آتا ہے ـ کورل ڈرا کا ورژن ١٢ جانچنے کیلئے مفت دستیاب ہے ـ ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے رجسٹریشن کے کئی مرحلوں سے گذرنا پڑیگا ـ

Post a Comment

ننھا تجربہ

اپنے اکاؤنٹ ہاٹ میل سے اردو یونیکوڈ کی چند سطریں اپنے ہی یاھو میل کے اکاؤنٹ پر تجربے کے لئے روانہ کیا تو الفاظ ةةةةة چوکور خانوں کی طرح نظر آرہے تھے اور جب ان ةةةةة خانوں کو ایم ایس ورڈ کی فائل پر پیسٹ کرنے کے بعد اردو نسخ ایشیا ٹائپ کا فونٹ اپلائی کیا ـ زبردست ـ تجربہ کامیاب رہا ـ اردو یونیکوڈ میں لکھ کر ای میل کئے ہوئے الفاظ یاھو اور ہاٹ میل میں صحیح نظر نہیں آتے مگر انہی ةةةةة خانوں کو ایم ایس ورڈ کی فائل میں پیسٹ کرنے کے بعد کوئی بھی اردو یونیکوڈ والا فونٹ اپلائی کریں تو اردو الفاظ صاف دکھائی دیتے ہیں ـ دقّت ضرور ہوتی ہے مگر اتنا تو معلوم ہوگیا کہ اردو یونیکوڈ کو بدریعہ ای میل بھیجا جاسکتا ہے ـ ایم ایس ورڈ میں ٹائپ کرلینے کے بعد کاپی ـ پیسٹ کے ذریعے ای میل کرسکتے ہیں ـ وصول کرنیوالے کو چاہئے کہ مواد کو ایم ایس ورڈ پر لاکر پڑھے ـ

posted by Shuaib at 11:37 PM 3 comments

Blogger Abdul Qadir said...

محترم شعیب صاحب

تعریف و ستائش کا بہت بہت شکریہ ۔ جناب میری تحریروں میں کیا دلچسپی ہونی ہے یہ تو آپ کے حسنِ نظر کا کمال ہے (انکساری) ۔ مٹھائی آپ کو مل سکتی ہے مگر میں خود بھی ابھی مٹھائی کے انتظار میں ہوں ۔ ڈاکٹر افتخار صاحب(http://esperidr.blogspot.com) نے مٹھائی کا وعدہ کیا ہے ، اگر مل گئی تو آپ کو بھی ضرور شاملِ حال کریں گے ۔
اور میں آپ سے معذرت کا خواستگار ہوں کہ شاید میں نے کچھ ناشائستہ الفاظ استعمال کر لیے آپ کی تحریروں کے بارے میں ، اصل میں میں بولنے کے بعد سوچتا ہوں ، امید ہے کہ آپ معذرت قبول فرمائیں گے ۔ دراصل میں ذرا قدامت پسند بندہ ہوں اس لیے آزادیِ تحریر تھوڑی سی بری لگی ۔ معیاری تحریریں تو خیر میری بھی نہیں ہیں ، میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔

آپ نے بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے کہ ان پیج وغیرہ سے متعلق سبق فراہم کرنے شروع کر دیے ہیں ۔ اس سے مبتدی حضرات کے علم میں اضافہ ہوگا ۔ گرافکس سے متعلق آپ کا تجربہ اور علم ہماری رہنمائی کرے گا ، اسی طرح ٹیوٹوریل لکھتے رہیے ۔ ایک سوال آپ سے کرنا تھا کہ swishmax مین نفیس نستعلیق درست کام کیوں نہیں کرتا ۔ میں نے تو بہت کوشش کی مگر کام نہیں بنا ۔ ضرور بتائیے گا ۔

March 08, 2005 1:22 AM  
Anonymous shuaib said...

عزیز قدیر صاحب ـ جہاں تک میری معلومات ہے نفیس نستعلیق ایم ایس آفس کے سوا دوسرے پروگرامز میں صحیح نظر نہیں آتا ـ آپ flash mx کیوں نہیں استعمال کرتے، میرے انپیج ٹیوٹوریل کے ذریعے باقاعدہ نستعلیق اور نسخ میں ننھی فلمیں بناسکتے ہیں ـ اگر آپ کے پاس کورل ڈرا کا ورژن ١٢ ہے، تو کورل آر ـ اے ـ وی ـ اي کا پروگرام بھی شامل ہوگا ـ میرا ذاتی تجربہ ہے کورل آر اے وی اي کے پروگرام میں اردو انپیج کے نستعلیق اور نسخ کے علاوہ اردو یونیکوڈ کے تمام فونٹس کے ذریعے فلاش اور گِف فارمیٹ کی جاذب نظر انیمیٹڈ مووی بناسکتے ہیں ـ بہت آسان ہے، آزماکر ضرور دیکھئے ـ میرے بلاگ کے سائڈ بار میں (نیچے) موجود چند گِف پکچرس اسی پروگرام پر بنی ہیں ـ ورژن ١٢ اسلئے کہ اس میں اردو یونیکوڈ کام کر رہا ہے ـ

March 09, 2005 10:48 AM  
Anonymous Anonymous said...

FOR THIS PROBLEM GOTO VIEW ==>ENCODING==>UNICODE

August 31, 2006 2:34 AM  

Post a Comment

مایا

میٹرکس سیریز، لِٹل ہارٹ سیریز، ممی سیریز اور اسکے علاوہ دوسرے نئے ہالی ووڈ کی فلموں میں مایا کا کردار زیادہ ہی نرالا ہے ـ آنے والی فلموں میں بھی جس میں بھر پور اسپیشل افیکٹس ہوں، سب کچھ مایا کا کمال ہے ـ مایا کا ایجوکیشن ورژن مفت دستیاب ہے مگر بغیر استاد کے مایا سیکھنا مشکل ہے ـ ایجوکیشن ورژن کو ڈاؤن لوڈ کرنے میں کافی دقتیں پیش آتی ہیں چونکہ ٦٠ ایم بی کا پروگرام ہے اور اس سے پہلے رجسٹریشن کے کئی مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ـ آجکل ٹی وی پر دل لبھانے اور چکاچوند کردینے والے اشتہارات میں بھی اسی پروگرام کا ہاتھ ہے ـ

posted by Shuaib at 11:35 PM 0 comments

Post a Comment

مختلف زبانوں میں

ویب دنیا بھی دوسرے عالمی معیار کی ویب سائٹوں میں سے ایک ہے ـ اس سائٹ میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنے ای میل اکاؤنٹ سے تقریبا گیارہ ہندوستانی زبانوں کو آسانی کیساتھ بغیر فونٹس ڈاؤن لوڈ کئے استعمال کرسکتے ہیں ـ زبانیں نہ بھی آتی ہوں مگر رومن ہندی، رومن، گجراتی، رومن پنجابی وغیرہ ٹائپ کریں تو اسکرین پر اپنی مرضی کی زبان خود بخود نمودار ہوتی رہتی ہے ـ اس ای میل سائٹ میں مشکل جیسا کچھ بھی نہیں کہ نہ سمجھ میں آئے ـ ای میل کے کمپوزنگ صفحے کو دیکھتے ہی استعمال کرنے والا خودبخود سمجھ کر استعمال کرنے لگتا ہے ـ بہت خوب ہے یعنی کہ زبانیں سمجھ میں نہ آئیں پھر بھی نہ سمجھ میں آنے والی زبانوں میں ای میل کرسکتے ہیں ـ مثال کے طور پر دماغ میں اردو الفاظ ہیں جسے مراٹھی زبان میں ٹائپ کرنا ہے، صرف مراٹھی کی زبان کو پسند کرکے ٹائپ کرنا شروع کریں تو مراٹھی ہمارے نظروں کے سامنے ٹائپ ہوتی دکھائی دیتی ہے دوسری اسکرین پر دماغ کے اردو الفاظ یعنی رومن اردو ـ

posted by Shuaib at 11:34 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, March 04, 2005

اس بلاگ میں ـ

تمام بلاگرس کے خیالات ایک جیسے ہونا ضروری نہیں پھر بھی چند اردو بلاگرس کو دیکھ کر خیال آیا کہ اپنے بلاگ پر تہذیب، اخلاق اور معلوماتی تحریریں بھی لکھنا چاہئے ـ جب معلوم ہوگیا کہ بلاگ جو کہ اپنی روز مرّہ اور ذاتی خیالات کو لکھنا ہوتا ہے پھر اس بلاگ پر اپنے ذاتی خیالات کو لکھ کر پوسٹ کرنا شروع کردیا تو جناب قدیر صاحب نے میری تحریروں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جو کہ انکے خیال سے ٹھیک ہی کیا ـ ـ اس بلاگ میں مسئلے مسائل جیسا کچھ نہیں لکھتا کہ تبصروں کی ضرورت پڑے ـ تمام اردو بلاگرس عمدہ تحریریں لکھ رہے ہیں اور ان کا آپسی تبادلہ خیال بھی اچھا ہے ـ میری تحریریں اردو بلاگرس کو کھٹکتی ہیں کہ میں ان کی طرح نہیں لکھتا ـ چند اردو بلاگرس کی قدر کرتا ہوں جو اپنی تحریروں سے دوسروں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں ـ

posted by Shuaib at 10:04 AM 3 comments

Blogger Nabeel said...

ڈیر شعیب

تمہاری تحریریں اردو بلاگرز کو نہیں کھٹکتی اور نہ ہی تمہیں دوسروں کی پسند کے مطابق لکھنا ضروری ہے۔ تم نے کسی کے اختلاف رائے کو خوش اخلاقی سے تسلیم کیا ہے جو کہ قابل تعریف ہے۔

جہاں تک دانیال کا تعلق ہے تو اس نے محض تم سے انڈیا میں اردو کی زبوں حالی کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اس کا کسی قسم کے تعصب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ خود انڈیا کے لوگ بھی اردو کے بارے میں متفکر رہتے ہیں جیسا کہ اس مضمون سے ظاہر ہے۔ اگر تمہیں بہتر معلومات حصل ہوں تو ضرور اس کے بارے میں لکھو۔

ہماری اردو ترویج کی کاوش محض پاکستانیوں کے لیے ہی نہیں، تمام اردو جاننے والوں کے لیے ہے۔ انڈیا میں اردو بولنے والوں کی تعداد شاید پاکستان میں اردو بولنے والوں سے زیادہ ہو۔ میں نے تم سے اسی لیے گذارش کی تھی کہ تم اس کام میں اپنے طور پر ہمارا ہاتھ بٹاؤ۔ تم نے ذکر کیا تھا کہ تمہیں اردو فونٹس کو گرافکس پروگرامز میں استعمال کرنے پر عبور حاصل ہے۔ اگر تم ان معلومات کو عام کر سکو تو بہتوں کا بھلا ہو گا۔ Corel Draw کے نئے ورژن کے سوا کوئی دوسرا گرافکس کا پروگرام اوپن ٹائپ اردو فونٹس کو سپورٹ نہیں کرتا۔ اگر تم اس سلسلے میں ہماری مدد کرسکو تو ہم تمہارے شکر گزار ہوں گے۔

March 05, 2005 6:17 PM  
Blogger Danial said...

یہ آپ سے کس نے کہہ دیا کہ آپ کی تحریریں کھٹکتی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو یقین مانئیے میں کبھی آپ کو اپنے بلاگ کے لنکس والے صفحے پر شامل نہیں کرتا۔ بلکہ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ آپکا بانکپن، سادگی کافی پرکشش ہیں اردو بلاگز میں آپکا بلاگ ایک بہتریں اضافہ ہے اور میں تو آپکی انشا۶ پروازی سے پاک اردو پڑھ کر بہت محظوظ ہوتا ہوں۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ میرے بھائی اگر تمہارا بلاگ پسند نہ ہوتا تو کون اسے پڑھنے آتا؟

میرے تبصرے کا یہ مقصد قطعا نہیں تھا کہ میں آپ کو ہندوستانی سمجھ کر ایک کونے سے لگانے کی کوشش کروں۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی بات صحیح طرح آپ تک نہیں پہنچا پایا۔ بات دراصل یہ ہے کہ آپ واحد اردو بلاگر ہیں ہندوستان سے تو میں نے سوچا آپ سے اس بارے میں بات کی جائے۔ علاوہ ازیں آپ کیا سمجھتے ہیں کہ دیگر ہندوستانی اردو میں بلاگ کیوں نہیں کرتے۔ جیسا میں پہلے عرض کرچکا ہوں اردو آپ کی زبان پہلے ہے بعد میں ہماری ہے پھر کیا وجہ کی ہندوستان میں اردو کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگے ہیں؟

کیسی بچوں جیسی باتیں کرتے ہو شعیب بھائی۔ ہم یہاں آپ سے مدد مانگ رہے ہیں اور آپ پتہ نہیں کیا سمجھ رہے ہیں۔
ا

March 06, 2005 6:12 AM  
Anonymous Shuaib said...

میرے بھائی دانیال، میں اپنے گذشتہ تبصرے کے آخری الفاظ سے مطمئن ہوں ’’صرف ایک لکیر کیوجہ سے ہمارے خیالات اور سوچ کا بدل جانا تعجب ہے؟‘‘ آپ میری چالاکی سمجھیں یا کچھ اور میں نے لفظ ’’ہمارے‘‘ استعمال کیا ہے ـ آپکے جذبات کو چھیڑ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگا ـ آپ سے معذرت خواہ ہوں اور شرمندہ بھی ـ

نبیل بھائی کیلئے عرض ہے، میری آنے والی پوسٹوں پر توجہ فرمائیں ـ آپ کے خیالات اور جذبات کی قدر کرتا ہوں ـ امید ہے نزلہ اور زکام سے چھٹکارا پاچکے ہونگے ـ

قدیر احبد صاحب کے تبصرے سے بالکل ناراض نہیں ہوں، وقت ہی نہیں مل رہا کہ ان بلاگ وزٹ کروں کیوں کہ دفتر میں لفظ ’’اردو‘‘ کی تمام سائٹس بلاک ہیں ـ امید ہے بہت جلد انکے بلاگ پر آؤں گا، بہت تعریفیں سن رکھا ہے اب دیکھنا بھی چاہوں گا ـ

March 07, 2005 1:38 PM  

Post a Comment

اف

روم میٹ سے ہمیشہ کہتا رہتا ہوں ـ ـ ـ اف ـ تمہارے خراٹوں سے تنگ آچکا ہوں ـ روم میٹ ہے کہ مانتا ہی نہیں ـ اب اس کو کیسے یقین دلاؤں کیونکہ وہ نیند میں خراٹے لیتا ہے ـ میں نے بھی ٹھان لیا، رات تین بجے اٹھ کر اپنے موبائل فون کے ویڈیو پلائر میں روم میٹ کو مزے سے خراٹوں کیساتھ سوتے ہوئے ریکارڈ کرلیا ـ دوسرے دن موبائل فون میں محفوظ کیا ہوا ویڈیو روم میٹ کو دکھایا تو وہ شرم سے پانی ہوگیا اور میرے ہاتھ سے موبائل فون چھین کر اسکے خراٹوں والا ویڈیو ڈیلیٹ بھی کردیا تاکہ میں کسی اور کو نہ دکھا دوں ـ روم میٹ کہنے لگا، یار نیند میں ہر کوئی خراٹے لیتا ہے ـ اور پھر اس نے جھوٹ بھی کہا کہ کئی بار میرے خراٹوں کی آواز بھی سنا تھا ـ خراٹے، اور وہ بھی میں ـــــ چھی ـ چھی

posted by Shuaib at 10:03 AM 0 comments

Post a Comment

اردو نسخ ایشیا ٹائپ

جیسا کہ نیٹ پر اردو لکھنے والے سب جان چکے ہیں کہ اردو نسخ ایشیا ٹائپ بی بی سی کا کاپی رائٹ فونٹ ہے ـ چند لوگ جو اپنے صفحات پر اردو نسخ ایشیا ٹائپ استعمال کر رہے تھے چونکہ اب نیٹ پر اردو کا نفیس نسخ مفت دستیاب ہے ـ آج گوگل کی اردو سرچ انجن سے کھوج کریں تو ایسی کئی اردو ویب سائٹس ظاہر ہوتی ہیں جو اردو نسخ ایشیا ٹائپ استعمال کر رہے ہیں ـ بی بی سی ادارے کو چاہئیے کہ وہ اپنے صفحے پر ایک خاص نوٹ شائع کرکے بتائیں ان لوگوں کیلئے جو اس فونٹ کو ذاتی مفادات کیلئے بلا اجازت استعمال کر رہے ہیں ـ امید ہے بی بی سی ادارہ اردو نسخ ایشیا ٹائپ کے سلسلے میں بہت جلد فیصلہ کرے گا کہ آیا ہر کوئی اس فونٹ کو اب استعمال کرسکتا ہے یا نہیں ـ اردو نسخ ایشیا ٹائپ نیٹ پر دوسرے اردو فونٹس سے زیادہ بہتر نظر آتا ہے ـ

posted by Shuaib at 10:03 AM 0 comments

Post a Comment

ظالم شوہر

ہماری بلڈنگ کے برابر میں ایک اور پندرہ منزلے کی بلڈنگ، اس حساب سے برابر والے فلیٹ میں رات تین بجے ایک عورت کی چیخنے چلانے اور رونے کی آوازیں آرہی تھیں ـ چیخوں سے اندازہ ہوا کہ عورت پر کچھ زیادہ ہی تشدد ہو رہا ہے ـ رات دو بجے یوسف نائٹ شو دیکھنے کے بعد واپس آکر سونے ہی والا تھا کہ پڑوسی بلڈنگ کے برابر والے فلیٹ سے کسی عورت کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں ـ ہمیں کھڑکیاں کھلی رکھ کر سونے کی عادت ہے ـ یوسف کو برداشت نہیں ہوا، عورت کی چیخوں سے اسے نیند نہیں آرہی تھی ـ بیقرار ہوکر کمرے کا لائٹ آن کردیا اور اسی کے ساتھ میں بھی جاگ گیا ـ تقریبا آدھے گھنٹے تک عورت کی چیخنے چلانے کی آوازیں آتی رہیں ـ چیخوں سے اندازہ ہوا کہ اس عورت پر بہت زیادہ ظلم ہو رہا تھا ـ یوسف نے اپنا موبائل اٹھایا اور بحیرہ کورنیش پولیس اسٹیشن کو خبر کردیا ـ کہ ہم سو نہیں سکتے کیونکہ ساتھ والی بلڈنگ کے فلیٹ سے چیخیں سنائی دے رہی ہیں، اور پولیس کو یہاں کا ایڈریس بھی بتا دیا ـ پولیس اور اس علاقے میں گھوم رہے سی آئی ڈی کے دو جوان سیدھے ہمارے فلیٹ میں داخل ہوگئے اور بیڈ روم کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے یوسف سے پوچھا کہ چیخوں کی آواز کونسے فلیٹ سے آرہی تھیں ـ یوسف نے ساتھ والی بلڈنگ کے فلیٹ کی طرف اشارہ کیا ـ مگر افسوس کہ پولیس کے آنے سے چند منٹ قبل ہی عورت نے چیخنا بند کردیا ـ اس وقت رات کے ساڑھے تین بج چکے تھے ـ پولیس نے پڑوسی بلڈنگ کا محاصرہ کرلیا ـ انسپکٹر نے کہا آدھی رات کو کسی کا دروازہ کھٹکھٹانا ٹھیک نہیں، پھر سے اگر چیخنے چلانے کی آواز آئے تب ہم فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور کہا کہ وہ یہیں بلڈنگ کے آس پاس گھومتے رہیں گے ـ انسپکٹر نے ہمیں مطمئن کراکر بھیج دیا کہ جائیے آپ اپنے فلیٹ میں جاکر سوجائیے ـ پھر کیا ہوا پتہ نہیں، مجھے بہت نیند آرہی تھی کیونکہ ٹی وی پر آسکر ایوارڈ کی تقریب دیکھتے ہوئے رات دیر سے سویا تھا ـ دوسرے دن پتہ چلا کہ وہ ایک عربی کا فلیٹ ہے اور اس بلڈنگ کے واچ مین کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ میں موجود عربی روزانہ اپنی بیوی پر تشدد کرتا رہتا ہے ـ یہ واقعہ دوسری مرتبہ رونما ہوا تھا، اگر پھر سے اس عورت کی چیخنے چلانے کی آواز آئے، ہم نے طئے کرلیا کہ فورا پولیس کو خبر کرکے اس ظالم شوہر کو سزا دلوائیں گے ایک تو ہماری نیند حرام کردیا تھا ـ

posted by Shuaib at 10:02 AM 0 comments

Post a Comment

چہلم

زندگی خود ایک لطیفہ ہے ـ بچپن میں اسکول سے گھر لوٹ رہے تھے کہ محلّے میں ایک گھر کے سامنے لوگ جمع تھے جیسے دعوت ہورہی ہو ـ بزرگ لوگ ہم اسکول کے بچوں کو پکڑ گھر میں داخل ہوئے جہاں دسترخوان پر مزیدار کھانا لگا ہوا تھا ـ پیٹ بھر کھانے کے بعد ہاتھ دھوتے ہوئے میرے کلاس میٹ نے کہا واقعی شادی کی دعوت بہت خوب رہی ـ ایک بزرگ نے سن لیا اور کہا کمینوں یہ شادی نہیں چہلم کی دعوت ہے ہماری بیٹی کی ساس کو مرے چالیس دن ہوگئے ـ

posted by Shuaib at 10:02 AM 0 comments

Post a Comment

کچھ باتیں سائنس اور عقل کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں

دعاؤں کی افادیت کو دیکھ کر مغرب کے عیسائی مبلغین نے اسے بھی کیش کرنا شروع کردیا ہے ـ ان میں ایک بڑا نام ہے امریکہ کے بینی ہن کا جنہیں مایوس مریضوں کو شفا عطا کرنے کا دعوی ہے ـ یروشلم میں پیدا ہوئے، کینیڈا میں پلے بڑھے ہن، امریکہ کے مالدار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ـ گیارہ سال کی عمر میں خواب میں انہیں حضرت عیسی سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا جن سے ان کو بیماروں کی شفایابی کا وردان ملا ـ ٢١ سال تک ہکلانے والے ہن، ١٩٧٤ میں جب اپنا پہلا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہیں ایسا لگا جیسے کوئی برقی رو ان کی زبان کو چھوگئی ہے ـ ان کی ہکلاہٹ غائب ہوگئی اور اسی کے ساتھ شروع ہوا ان کا مبینہ کراماتی سلسلہ ـ پچھلے سال ممبئی میں دس سے پندرہ لاکھ افراد نے ان کے پروگرام میں شرکت کی تھی ـ بینی ہن کا دعوی مبنی برحقیقت ہے یا وہ بھی دوسروں کی طرح ایک فراڈ ہیں؟ جواب جاننے کے لئے ہمیں چند دوسرے سوالات کو ذہن میں رکھنا ہوگا ـ اسٹیج پر صرف شفایاب لوگوں ہی کو کیوں بلایا جاتا ہے؟ شفا پانے والے حضرات کیا ہمیشہ کے لئے بیماری سے چھٹکارا پالیتے ہیں؟ شفا کی سند دینے کیلئے ہن کے ڈاکٹروں کی ٹیم کی بجائے مقامی ڈاکٹروں کو کیوں مدعو نہیں کیا جاتا؟ ہن اور ان کے گروہ کے لوگ ان سوالات کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں اور اسے علاج بالاعتقاد قرار دیتے ہیں ـ ہم یہ بھی بتادیں کہ مغرب میں ہن ایک متنازعہ شخصیت ہیں ـ ان کے ناقدین میں مذہب پرست اور عقلیت پسند دونوں شامل ہیں اور ان کے دعوؤں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ دسمبر ٢٠٠٢ اور نومبر ٢٠٠٤ میں این بی سی ڈیڈ لائن اور کینیڈین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے تحقیقات کے بعد ہن کے دعوؤں کو غلط اور جھوٹا قرار دیا اور ان کے ذرائع آمدنی اور اخراجات کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ـ اب آیئے حقیقت کی طرف ـ یہ بنگلور والے پروگرام کی بات ہے ـ پورا گراؤنڈ ــ اٹھو اور شفایاب ہوجاؤ ــ کی پکار سے گونج رہا ہے ـ اسٹیج پر شفایابوں کی پریڈ کرائی جارہی ہے ـ ریٹائرڈ کرنل سیموئل جن کے جسم کے دائیں حصے پر فالج کا اثر ہے ـ اپنی بیوی کے ساتھ ہن کی معجزاتی قوت سے فیضیاب ہونے کیلئے جیسے تیسے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن منتظمین انہیں یہ کہہ کر لوٹا دیتے ہیں کہ اسٹیج پر صرف شفا یافتہ لوگوں کو جانے کی اجازت ہے ـ اتنے میں ایک دوسرا شخص اسٹیج کے گرد لگی باڑ کو پھلانگتا ہوا پروگرام والینٹرز تک پہنچتا ہے اور انہیں اپنی بیماری اور شفا کے بارے میں بتاتا ہے ایک امریکی والینٹر ہن کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے ــ پیسٹر پیسٹر (پادری) اسے دیکھئے ـ یہ شخص برسوں سے چلنے پھرنے سے معذور تھا اس جلسے میں شرکت کے بعد یہ معجزاتی طور پر ٹھیک ہوگیا ہے اب یہ چل پھر سکتا ہے اور دوڑ سکتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ باڑ کو پھلانگتے ہوئے آپ کے پاس آیا ہے‘‘ ــــــ ہن ــ خدا یا تیری تعریف ہو ــ کہتے ہوئے اس شخص کی ٹھڈی کو ٹھوکا دیتے ہیں لیکن یہ شخص دوسروں کی طرح گرتا نہیں ویسے ہی کھڑا رہتا ہے اور تھوڑی دیر بعد مجمع میں گم ہوجاتا ہے ـ اب اصل کہانی سنئے مذکورہ شخص انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کا نمائندہ تھا جس نے حقیقتِ حال جاننے کیلئے فرضی بیماری اور شفا کا ڈھونگ رچا تھا اور اسے کوئی بیماری نہیں تھی ـ روز نامہ انقلاب ممبئی کے سنڈے ایڈیشن میں خالد شیخ کا خاص مضمون

posted by Shuaib at 10:01 AM 0 comments

Post a Comment

کچھ غلطیاں

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں اردو اخبار میں نوکری کر رہا تھا اور اس عرصے میں جو عظیم الشان غلطیاں ہوئیں یہاں بلاگ کر رہا ہوں ـ اس اخبار کا ایک صفحہ جو تلاش گمشدہ اور انتقال کے اشتہارات کے لئے مخصوص تھا، ایک دفعہ گیارہ سالہ بچے کی فوٹو جو تلاش گمشدہ کے اشتہار کی تھی اسے ایک ستّر سالہ بوڑھے کے انتقال کے اشتہار میں اور ستّر سالہ بوڑھے کی فوٹو کو تلاش گمشدہ کے اشتہار میں پیسٹ کردیا ـ دوسرے دن اخبار کے دفتر میں ہنگامہ کھڑا ہوگیا کہ ایک ستّر سال کا بچہ گم گیا اور گیارہ سال کا بوڑھا مرگیا ـ پہلے صفحے کی پیج کمپوزنگ میرا ہی کام تھا، ایک دفعہ نمبر چودہ کے حرف کو لفظ چودھ بنا دیا اور اخبار میں یوں شائع ہوگیا ــــ چودھ افراد حراست میں ــــ اس میں صرف ـ ھ ـ اور ـ ہ ـ کا فرق تھا ـ ہمارا اردو کیبورڈ کمال کا ہے اور اس پر سے مخفف کئے ہوئے الفاظ جیسے رحمة اللہ علیہ کو ــ رح ــ اور رضی اللہ عنہ کو ــ رض ــ جسے خاص شکل دیکر کیبورڈ کے کسی ایک کي میں رکھ دیا جاتا ہے جسے شفٹ کیی دباکر کسی خاص بزرگ ہستی کے نامِ مبارک پر ــ رح ــ لگایا جاتا ہے ـ اب پہلے صفحے کی ٹائپنگ اور کمپوزنگ رات کے آخری پہر میں تیز رفتاری سے ہوتی ہے اور غلطی تو ہو ہی جاتی ہے ـ دوسرے دن اخبار کی ایک خبر میں اڈوانی کے نام پر ــ رح ــ صاف دکھائی دے رہا تھا، اڈوانی جو ایک خاص طبقے کیلئے نا پسندیدہ ہیں اور اوپر سے یہ اخبار بھی یہی طبقہ پڑھتا ہے ـ پتہ نہیں اس رات ٹائپنگ کے وقت غلطی سے کونسا بٹن دب گیا جس کی وجہ سے اڈوانی کے نام پر ــ رح ــ بن گیا ـ بھلا انگریزی ٹائپنگ سیکھے ہوئے کو اردو ٹائپنگ کہاں آتی ہے ـ نئے نئے میں اندرونی صفحات کی ٹائپنگ اور کمپوزنگ کا کام سونپ دیا گیا ـ سب سے پہلی خبر تھی رویت ہلال کمیٹی والوں کی طرف سے کہ چاند نظر آگیا ـ بہت ہی احتیاط سے ٹائپنگ کر رہا تھا ـ کیونکہ اخبار میں نیا نیا جوائن ہوا تھا اور پھر شروعات تو غلطیوں سے ہی ہوتی ہے اور خبر کی سرخی کو یوں ٹائپ کردیا ــــ رویت ہلاک کمپنی ــــ جو اصل میں رویت ہلال کمیٹی ہے ـ پھر دوسرے دن ایک اشتہار میں ایک اور غلطی ــــ حجامِ کرام ــــ جو اصل میں حجاج کرام تھا ـ ایڈیٹرس کی رائٹنگ اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ بتا نہیں سکتا ـ ایڈیٹر لکھتے وقت نقطے، حاشیے وغیرہ کو غیر ضروری سمجھتے ہیں یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ ٹائپسٹ پڑھ کر خود سمجھ جائے گا ـ ایڈیٹرس کی خوشخط ڈاکٹروں سے بھی بھیانک ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی زبان کے اخباری ایڈیٹر ہوں ـ اخباری ایڈیٹروں کی زبان سمجھنے میں کم از کم مجھے ایک سال کا عرصہ لگا ـ ایک وقت مجھے صرف اشتہارات بنانے پر معمور کردیا ـ نئی ہندی فلم کا اشتہار تھا جس کے ہیرو نانا پاٹیکر تھے اور فلم کا نام ــ غلامِ مصطفے ــ ہم اکثر فلمی اشتہارات میں تصویروں کے نیچے فلم کا نام لکھتے ہیں ـ تصویر میں نانا پاٹیکر دو نالی بندوق اٹھائے کھڑے تھے اور تصویر کے نیچے (معذرت کیساتھ) فلم کا نام یعنی ـــ غلامِ مصطفے ــ دوسرے دن اخبار کے دفتر میں صبح سے ہی فون آنے لگے ـ لوگ اخبار والوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ نانا پاٹیکر کے قدموں کے نیچے(معذرت کے ساتھ) مقدس شخصیت مصطفے کا نام تھا ـ تیسرے دن اخبار کے پہلے صفحے پر ادارے نے غلطی قبول کرتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا کہ ـــ غلطی کمپیوٹر آپریٹر کی تھی جسے سزا کے طور پر نوکری سے برخاست کردیا گیا ـــ اسکے بعد تقریبا چھ سال تک اسی اخبار میں نوکری کرتا رہا ـ نیوز میڈیا میں نوکری کرتے مجھ سے ایسی مختلف قسم کی غلطیاں اور بھی ہیں جنہیں پھر کبھی لکھ کر بلاگ کروں گا ـ

posted by Shuaib at 10:01 AM 0 comments

Post a Comment

دبئی میں ہندوستانی

ویسے امارات میں موجود غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ ہندوستانی ہی ہیں اور ہندوستانیوں میں ملباریوں کی تعداد زیادہ ہے ـ یہاں پر اکثر ہندوستانی تاجر ہیں اور بقیہ مجھ جیسے یعنی نوکری کرتے ہیں ـ سرکاری ادارے ہوں، بینک کاری کے ادارے اور مختلف اعلی عہدوں پر بھی ہندوستانی قابض ہیں کیونکہ امارات ہندوستانی تعلیم یافتہ لوگوں کی بہت قدر ہے ـ میں نے سنا ایک زمانے میں یہاں پر ہندوستانی کرنسی کا راج تھا ـ امارات میں یوروپی، امریکی، کینیڈین، جاپانی اور آسٹریلیا کے ہزاروں باشندے اپنے اپنے کلچر کے حساب سے رہتے ہیں مگر یہاں کے سنیما گھروں میں ہندوستانی فلموں کا راج ہے جسے افغانی، پاکستانی اور عربیوں کے علاوہ غیر ملکی بھی بڑے شوق سے دیکھنے آتے ہیں ـ اسکے علاوہ یہاں ہر ہفتے ہندوستانی اداکاروں، سنگرز اور ہندوستانی ثقافت سے جڑے قسمہا قسم کے پروگرامز منعقد ہوتے رہتے ہیں ـ کسی بھی ہندوستانی کو دبئی پہنچ کر یہ احساس نہیں ہوتا کہ واقع یہ دبئی ہے ـ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ ممبئی یا بنگلور شہر ہے اور ہر طرف ہندوستانی چہرے ـ امارات جو تیل کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے مگر دبئی شہر تجارت کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے ـ زیورات کی دکانیں، ملبوسات کی شورومس اور ہوٹل ہو یا مارکیٹ یہاں کے دکانداروں میں اکثریت ہندوستانیوں کی ہی ہے ـ ویسے یہاں کے ہندوستانی سمندر پار رہتے ہیں مگر محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم اپنے وطن سے دور ہیں لیکن جب اپنے یاد آتے ہیں تو احساس ضرور ہوتا ہے کہ اپنوں سے بہت دور ہیں ـ یہاں ہندوستانی تاجروں میں اکثریت ملباری، گجراتی، دہلی اور ممبئی والوں کی ہے اور امارات ـ ہندوستان کے تجارتی تعلقات بہت گہرے ہیں ـ امارات میں ہندوستانی اشیاء کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہے ـ تجارت ہو یا ثقافت پورے امارات میں جیسے ہندوستان پھیلا ہوا ہے ـ ہندوستان کی ہر ریاست، ہر شہر، ہر گاؤں ہر گلی کوچے کے لاکھوں لوگ یہاں امارات میں مقیم ہیں ـ صرف امارات ہی نہیں، پوری دنیا میں لاکھوں ہندوستانی سکون پذیر ہیں پھر بھی ہمارا ملک ہندوستان آبادی کی وجہ سے آج بھی ہرا بھرا ہے ـ

posted by Shuaib at 10:00 AM 0 comments

Post a Comment

کاش کہ

کہتے ہیں بد دعا جلد اثر دکھاتی ہے تو میرے خیال میں دعا سے زیادہ بد دعا بہتر ہے کہ دعا کی بجائے بد دعا کروں کہ جلد قبول ہو ـ فی الحال ایسا کوئی نہیں جس کے لئے بد دعا کروں کہ اسکی دولت مٹّی ہوجائے ـ ایسا نہیں کہہ سکتا کہ اسکی دولت میری ہوجائے کیونکہ یہ بد دعا نہیں بدنیتی ہے ـ کاش کہ یہ الفاظ بھی بد دعا میں شامل ہوتے کہ اسکی دولت میری ہوجائے ـ

posted by Shuaib at 9:55 AM 0 comments

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters