نئی باتیں / نئی سوچ

Monday, October 31, 2005

اردو انیمیشن

اردو کی ننھی منّی یا پھر یوں لکھوں کہ ابتدائی Animations جسے انٹرنیٹ پر اردو لکھنے والے استعمال کرسکتے ہیں ـ اگر یہ ننھی منّی انیمیشنس مقبول عام ہوگئیں تو حوصلہ پاکر مزید اور بہترین ’’اردو انیمیشن‘‘ بنانے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں ـ میں صرف ایک چھوٹا سا ڈیزائنر ہوں اور انیمیشن میرا جنون ہے علاوہ ازیں میری اپنی اردو زبان میں انیمیشن کرتے ہوئے بہت خوشی ہوتی ہے ـ یہ تمام انیمیشن فائلیں گِف فارمیٹ پر ہیں اور اسکا سائز بھی بہت کم رکھا ہے تاکہ استعمال میں آسانی ہو، امید کرتا ہوں جلد سے جلد مقبول عام ہوجائیں گی ـ یہ انیمیشنس انپیج اردو سافٹویئر کی مدد سے Corel R.A.V.E - 1.0 پر کم سے کم یعنی 10-1 فریمس پر بنایا ہے اور میں نے اِن فائلوں کو جس امیج ہوسٹ پر اپلوڈ کیا تھا، وہاں میرا کوٹہ مکمل ہوگیا ہے ـ اِس سے پہلے کہ یہ ننھی منّی انیمیشنس فائلوں کو ڈیلیٹ کردوں اردو کے شیدائیوں سے گذارش ہے کہ وہ پہلی فرصت میں اسے اپنے کمپیوٹر پر (by right clicking & save as a picture) کے ذریعے اتارلیں ـ یہ انیمیشنس کامیاب ہوگئیں تو سلسلہ جاری رکھوں گا ـ
Blogger Abdul Qadir said...

یار آپ اوپیرا کمیونٹی پر اپنا اکاؤنٹ بنا لیجیے اور 300 میگا بائٹ کی جگہ لے لیجیے ۔

اگر آپ اجازت دیں تو ان اینیمیشنز کو اردو فورم پر شامل کیا جاسکتا ہے ۔ ایسا کیجیے کہ ان کا سائز زرا مختڈر کر دیجیے ، جتنا کہ وہاں پہلے سے موجود اینیمیشنز کا ہے۔ امید ہے کہ آپ مثبت جواب دیں گے ۔

November 01, 2005 7:09 AM  
Blogger iabhopal said...

ٹھیک ہیں لیکن سائز بڑا ہے ۔ اگر ہو سکے تو سمائیلیز کے سائز کا بنائیے

November 01, 2005 11:10 AM  
Anonymous بدتمیز said...

nice work
if you wish ur animations to b widely spread use some of yahoo and msn's fun groups to do so
i think i cud post them to those i joined with a back link to ur blog hope it will work
you may put a guest book so pplz may ask u for the type of animation they want :)

November 01, 2005 8:43 PM  
Anonymous SHUAIB said...

قدیر احمد :
میں نے اوپیرا کمیونٹی پر بہت پہلے ہی اکاؤنٹ بنالیا تھا، وہاں نہایت ہی سست رفتاری سے امیجس اپلوڈ ہوتے ہیں، پتہ نہیں کیوں؟
ہاں آپ اِن انیمیشنس کو بغیرکسی اجازت ’’اردو فورم‘‘ پر استعمال کرسکتے ہیں کیونکہ یہ میری اردو خدمت ہے (: ہاں سائز کچھ زیادہ ہی بڑا ہے، آپ امیجس کی ٹیگ میں سائز چھوٹا بھی کرسکتے ہیں مثال (width اور Height) تبدیل کرکے ـ یہ انیمیشنس صرف ایک نمونہ کے طور پر ہیں، اردو بلاگرز انہیں استعمال کرنے لگیں تو اسکے بعد بہت عمدہ انیمیشنس بناؤں گا اور فلاش کی انیمیشنس بھی جو شاید ہی کسی نے اردو میں اسطرح دیکھا ہو ـ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی میں نے اِن انیمیٹڈ تصویروں کا سائز %50 گھٹا دیا ہے ـ

اجمل صاحب:
اِن انیمیشنس کا سائز سمائیلیز کی طرح ہی ہے، یہاں نمایاں دکھانے کیلئے اِن کا سائز بڑھا دیا تھا ـ کچھ نہیں کرنا صرف امیج کے ٹیگ میں جو مثال :
img scr="http://....jpj"width="15"
کی طرح پرفیکٹ سائز جسطرح چاہیں استعمال کرسکتے ہیں ـ یہ سب صرف چند مثالیں ہیں، آپ انہیں استعمال کرکے میرا حوصلہ بڑھائیں تو اور بھی بہترین اردو انیمیشنس بناکر پیش کروں گا ـ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی میں نے اِن انیمیٹڈ تصویروں کا سائز %50 گھٹا دیا ہے ـ

بدتمیز:
Thanks and welcome,
Yes you can use & share my animated pictures anywhere.

November 01, 2005 9:05 PM  
Anonymous Asma said...

Assalamoalaykum w.w!!

Remarkable ...!

:)

I'll add some to my msn emoticons :-)

wassalam

November 02, 2005 9:19 AM  
Anonymous SHUAIB said...

Asma:
Thanks, yes you can use the pictures.

November 02, 2005 8:04 PM  
Blogger باذوق said...

شعیب صاحب ، imageshack ہوسٹنگ یہاں سعودی عرب میں مستقلاََ BAN ہے
لہذا تمام تصاویر دیکھنے سے میں قاصر ہوں ، کوئی حل ہے کسی کے پاس ؟

June 11, 2006 8:17 PM  

Post a Comment

Sunday, October 30, 2005

Gmail

Blogger Asma said...

Gmail ... Gmail kiya :)

October 31, 2005 1:44 AM  
Blogger urdudaaN said...

شعیب، حروف ء اور ن کے درمیان اگر ایک شوشہ ھوتا یعنی "ڈیزائنر" تو کیا ذیادہ صحیح نہ ھوتا؟ برائے مہربانی واضح کریں۔

November 08, 2005 6:48 PM  

Post a Comment

Saturday, October 29, 2005

امارات کی خبریں

برڈ فلو یہاں کے مرغی فروشوں نے آستین چڑھالیا جب حکومت نے اِن سے کہا کہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی مرغیوں کو ہلاک کر ڈالیں اور ایسا کرتے ہوئے ہاتھ کانپنے لگیں تو برائے مہربانی بلدیہ والے آئیں تو اپنی مرغیاں انکو عنایت کردینا ـ مرغی فروش یونین نے بھی ٹھان لی کہ مرغیوں کو ہلاک کرنا کونسی بڑی بات ہے پہلے حکومت کو چاہئے کہ ہمارا نقصان بھرے پھر دیکھے کہ انہی کے سامنے ہم مرغیوں کو ہلاک تو کیا ریزہ ریزہ کر ڈالیں گے ـ عربوں کی شامت آگئی جو روزانہ دو چار مرغیاں چبا لیتے تھے، اب کیا خاک کھائیں گے جو مرغوں میں ہی بیماری کو آنا تھا؟ ایک مزے کی بات ہے KFC والوں نے چالیس فیصد ڈسکاؤنٹ (رمضان آفر) جیسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنواکر لٹکا لئے ہیں ـ رمضان فیسٹیول امارات کے سات شہروں میں سالانہ مختلف فیسٹیولس منعقد ہوتے ہیں جسطرح دبئی میں عالمی شاپنگ فیسٹیول منایا جاتا ہے اور شارجہ ’’رمضان فیسٹیول‘‘ کو اپنا حق سمجھتا ہے ـ پچھلے کئی سالوں سے اِس رمضان میں بھی پورے شارجہ کو دلہن کی طرح سجایا ہوا ہے، تمام دکانیں اور شاپنگ مال وغیرہ صبح چار بجے تک کھلے رہتے ہیں ـ پارکوں اور کھلی جگہوں پر مختلف قسم کے ڈسکاؤنٹ اسٹال، بچوں کیلئے زبردست تفریحات کے علاوہ سمندر کنارے اور کورنیش پر شیشہ (حقّہ) کے اسٹال، کپڑوں اور چمچماتی چیزوں کے اسٹالس وغیرہ جیسے پورا شارجہ رات بھر جگمگاتا رہتا ہے ـ بحیرہ کورنیش پر لوگوں کا ہجوم امڈ آتا ہے یہاں روزانہ شام سات بجے کے بعد سرکاری خرچے سے بلدیہ والے آسمان کو قیمتی پٹاخوں سے روشن کرتے ہیں ـ شارجہ میں ہر طرف ٹریفک جام ہے اور اس مسئلے کا آج تک کوئی حل نہیں نکلا ـ موسم بہار دنیا کا کوئی بھی ملک امارات میں پڑنے والی گرمی کا مقابلہ نہیں کرسکتا سوائے چند افریقی ملکوں کے ـ یہاں لگاتار سات مہینے آگ اگلنے والی گرمی سے پچھلے ماہ واسطہ چھوٹا اور اب موسم بہار کی آمد ہے ـ ہر جانب ساحل سمندر سے لیکر تمام سڑکوں پر سرِ شام سے ہی انسانوں کے غول نظر آتے ہیں جو صرف دو ماہ پہلے باہر نکلنا جیسے عذاب تھا یہاں تک کہ درختوں کے سائے میں بھی گرم گرم بھانپ نکلتی ہے اور روزانہ شاور سے ابلتا ہوا پانی نہانا پڑتا تھا باہر تھوڑی دیر چہل قدمی کریں تو پسینے میں بھیگ جاتے تھے جیسے بارش میں بھیگے ہوئے ہوں ـ میرا تو یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی انسان یہاں کی گرمی میں چند سال گذار لے تو اس پر دہکتی آگ بھی دیر سے اثر کرتی ہے ـ خیر اب آئندہ چند مہینوں تک ہر دن خوشگوار گذرے گا اور موسمِ گرما کو میری طرف سے سات سلام ـ وزٹ ویزے امارات کا یہی وہ خوشگوار موسم ہے اور یہ بات دنیا بھر کے لوگ جانتے بھی ہیں ـ نوکری کی تلاش میں ہند، پاک، فلپائن، چین، روس، ملائیشیا، انڈونیشیا، سری لنکا اور یوروپی ممالک سے ہزاروں لوگ وزٹ ویزے (سیاحتی ویزا) پر آکر جاب تلاش کرتے ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ چار پانچ مہینوں تک چلتا رہتا ہے ـ کئی خوش قسمتوں کو اعلی عہدوں اور اچھی سی تنخواہ پر پوسٹ ملجاتی ہے اور کئی ایسے قسمت کے مارے بھٹکے اعلی تعلیم یافتہ ہونے باوجود انہیں چھوٹے موٹے ریسٹورنٹس میں جھاڑو پونچھا لگانے کے کام پر بھی راضی ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ ہزاروں روپئے خرچ کرکے، آنکھوں میں خواب سجائے اپنے گھر والوں سے بڑے بڑے وعدے کرکے آتے ہیں اسلئے شرمندگی سے بچنے کیلئے کوئی بھی چھوٹی موٹی نوکری انہیں قبول ہوتی ہے ـ واہ ری قسمت جنہیں کچھ نہیں آتا وہ یہاں آکر لاکھوں لوٹ لیجاتے ہیں ـ کھانے وانے ایسی بات نہیں کہ یہ رمضان کا مہینہ ہے، بات دراصل یہ ہے کہ موسم خوشگوار ہوچکا ہے اب ریسٹورنٹس والے بلدیہ سے اجازت مانگ کر سڑکوں پر بھی اسٹال لگوا لئے اور یہ اسٹالس بھی آئندہ چار پانچ مہینوں تک خوب چلیں گے جب تک کہ موسم گرما آجائے ـ مختلف ملکوں کے مختلف شہروں سے نت نئے اور عجیب و غریب کھانے وانے پکائیں گے ہر کسی سڑک سے گذریں تو مست مست خوشبوئیں سونگھنے کو ملیں گی ـ یہاں اکثریت ہندوستانیوں کی ہے مگر اکثر کھانے کے اسٹال ملباریوں کے ہوتے ہیں اور ملباری کھانے انہیں کو مبارک ـ دوسرے اسٹالوں میں چینی، لبنانی، شامی، ایرانی، پاکستانی، مصری، عربی، روسی اور چند یوروپی اسٹال بھی لگے ہوئے ہیں ـ دنیا بھر کے مرغوب اور لذیذ کھانے اور وہ بھی ایک جگہ! واہ بھئی واہ ـ

Post a Comment

دیوالی مبارک

Post a Comment

دھماکوں کا تہوار

دہلی کے پہاڑگنج اور سروجنی نگر میں آج شام ساڑھے پانچ بجے یکے بعد دیگر چار بم دھماکوں میں تقریبا چالیس افراد ہلاک اور عورتوں، بچوں سمیت متعدد زخمی ہوگئے ـ یہ دھماکے ایک ایسے وقت پر ہوئے جب ہندو دھرم کے لوگ دیوالی تہوار منا رہے تھے اور مسلمان عید کی خریداری میں مصروف تھے ـ پولیس نے شبہ کے طور پر دو کشمیریوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ابھی تک کسی نے دھماکوں کی ذمّہ داری قبول نہیں البتہ پولیس نے شک ظاہر کیا ہے کہ دھماکوں کے پیچھے جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسے گروپوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے ـ مزید خبروں کا انتظار ـ

posted by Shuaib at 9:19 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, October 28, 2005

انتقال

آج چہارشنبہ صبح نو بجے باس نے مجھے پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ سے ویژیول مرچنڈائزنگ کے ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کردیا ـ اِس ڈیپارٹمنٹ میں اکثریت فلپائنس اور اعلی عہدوں پر سیرین (Syrian) قابض ہیں ـ ایک بری خبر یہ بھی کہ اس ڈیپارٹمنٹ میں اتوار کی بجائے جمعہ کو چھٹی ہے، یہاں کے ایک گرافک ڈیزائنر نے استعفٰی دیدیا تو دوسرے ہی دن اسکی سیٹ پر مجھے پرمننٹ کردیا ـ ڈھائی سال تک کسی ایک ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہوئے اچانک دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کردینا مجھے بہت برا لگا مگر یہ ڈیپارٹمنٹ دوسرے ڈیپارٹمنٹس سے تھوڑا آزاد قسم کا ہے اسلئے کہ یہاں Visual Merchandising کا کام ہوتا ہے ـ اب میں نے بھی ٹھان لیا کہ میرا ویزا دسمبر میں ایکسپائر ہوجائے گا اور ویزا رینیو کروانے کے بجائے کینسل ہی کرکے چلا جاؤں تو بہتر ہے ـ آٹھ سالوں تک لگاتار مختلف اخباروں میں ڈیزائننگ اور کمپوزنگ کرتے ہوئے اوب چکا تھا اب یہاں بھی پچھلے ڈھائی سالوں سے گارمنٹ اور فیشن کے مختلف ڈیزائنس بناتے بناتے بور ہوچکا ہوں ـ پورے امارات میں اس کمپنی کے تقریبًا ایک سو سے زائد شورومس ہیں، تمام شورومس کے ڈسپلے، سجاوٹ، ماہانہ مختلف برانڈس کیلئے فیشن شوز کا انتظام وغیرہ سب اسی ویژیول مرچنڈائزنگ ڈیپارٹمنٹ کا کام ہے - مطلب کہ یہاں بہت زیادہ محنت کرنی پڑے گی -

posted by Shuaib at 5:24 PM 3 comments

Blogger urdudaaN said...

بھائی شعیب
ویسے تو یہ انتقال پُر مَلال ھے، لیکن کیا آپ انتقال کے رنج میں جنّت الفردوس (ہندوستان) آرھے ھیں؟

October 28, 2005 9:36 PM  
Blogger میرا پاکستان said...

موضوع "انتقال" پڑھ کر پہلے تو میں ٹھٹھر گیا لیکن آپ کی پوسٹ پڑھ کر پتہ چلا کہ آپ کا انتقال نہیں ہوا تبادلہ ہوا ہے۔
دراصل ہم لوگ انتقال کا لفظ کسی کے مرنے پر یا زمین کی منتقلی کیلے استعمال کرتے ہیں۔
حوصلہ رکھۓ اگر وہ وقت نہیں رہا تو یہ بھی نہیں رہے گا

October 29, 2005 3:49 AM  
Anonymous SHUAIB said...

پرویز بھائی :
دسمبر میں یہاں میرے تین سال مکمل ہوجائیں گے اور جنوری کے آخیر تک جنت الفردوس کو واپس آجاؤں گا، اپنوں کی بہت یاد آتی ہے ـ

(میرا پاکستان) :
میری اردو صحیح کرنے کا شکریہ اور ویسے بھی مجھے اردو ٹھیک سے نہیں معلوم ـ کسی نے بتایا تھا کہ ’’انتقال‘‘ منتقل ہونے کو کہتے ہیں اور انتقال ’’تبادلہ‘‘ سے تھوڑا کڑک لگا اسی لئے موضوع کو انتقال بنایا (:

October 29, 2005 9:17 PM  

Post a Comment

Wednesday, October 26, 2005

موبائل کیمرا

تعجب ہے! مجھے کیا معلوم تھا کہ میرے موبائل (Nokia 6230) کے کیمرے سے اتنی زبردست فوٹو بھی نکلے گی اور وہ بھی کار کے شیشے سے!

posted by Shuaib at 9:14 PM 2 comments

Blogger Asma said...

Assalamoalaykumw.w.!

The picture quality and te scene both are really good!

impressed by Nokia 6230 :)

October 28, 2005 12:41 AM  
Anonymous SHUAIB said...

اسماء :
میرے نوکیا 6230 میں ڈیجیٹل کیمرا موجود ہے اور اس میں موجود تصویروں کو پہلی بار کمپیوٹر میں ڈالنے کے بعد ہی مجھے پتہ چلا کہ واقع میرا موبائل زبردست ہے ـ

October 28, 2005 5:53 PM  

Post a Comment

Monday, October 24, 2005

"پہیلی" کو آسکر کیلئے بھیج دیا

مغرب سے بے کار کی امیدیں
آسکر کیلئے "پہیلی" فلم کے انتخاب کے بعد ہی یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا یہی فلم سب سے بہترین ہے؟ اِسطرح کا ہنگامہ تقریبًا ہر سال پیدا ہوتا ہے ـ ایسا ہونا قدرتی بھی ہے اور ویسے بھی دنیا میں سب سے زیادہ فلمیں ہندوستان میں ہی بنتی ہیں، نہ صرف ہندی زبان میں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی ـ اب جب "پہیلی" کا انتخاب "آسکر" کیلئے ہو ہی گیا ہے تو مختلف قسم کے خیالات سامنے آ رہے ہیں، بالخصوص اِس لئے بھی کہ فلم کے ہدایتکار امول پالیکر کا کہنا ہے کہ وہ فلم کیلئے کیجانے والی لابنگ کو لیکر پریشان نہیں ہیں ـ ویسے انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی وہ عامر خان اور آشوتوش گوریکر سے بھی ملاقات کریں گے ـ بھلے ہی امول پالیکر "آسکر" کیلئے کی جانے والی لابنگ کے سلسلے میں پریشان نہ ہونے کی بات کہہ رہے ہوں، لیکن ایسا بھی نہیں کہ اِسکے تعلق سے وہ کچھ کریں گے ہی نہیں ـ اِن کے مطابق وہ فلم کے ہیرو اور پروڈیوسر کے ساتھ ملکر آگے کی حکمت عملی طے کریں گے ـ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ امول پالیکر اور شاہ رخ خان امریکہ جاکر اِسطرح کی لابنگ کرتے ہیں یا نہیں، جس طرح عامر خان اور اشوتوش گوریکر نے اپنی بے حد کامیاب فلم لگان کیلئے کی تھی ـ لیکن اِس سے بہرحال اب انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آسکر کے نامزد کی گئی فلم کیلئے لابنگ نہیں کرنی پڑتی ہے ـ یہ لابنگ اب اتنے بڑے پیمانے پر ہونے لگی ہے کہ گذشتہ کچھ برسوں سے امریکہ میں یہ مطالبہ بڑھتا چلا جارہا ہے کہ انتخاب کے لئے کی جانے والی لابنگ کے بعد اگر کہیں تصحیح کی ضرورت ہے تو وہ "آسکر ایوارڈ" کے تعلق سے ہے ـ یہ مطالبہ اِس لئے بھی بڑھ رہا ہے کیونکہ ہالی ووڈ کے فلم پروڈیوسرس ہر سال 6 کروڑ ڈالر اپنی اِن فلموں کی تشہیر میں بہا دیتے ہیں جو آسکر کے لئے نامزد ہوتی ہیں ـ آسکر کی لابنگ کا چلن اتنا بڑھ گیا ہے کہ لابنگ کے لئے غلط طریقوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے ـ 2001ء کے آسکر کیلئے جب ریاضی میں نوبل انعام یافتہ جان نیش کی حیات پر بنی فلم "اے بیوٹی فل مائنڈ" نامزد ہوئی اور اسے سب سے طاقتور دعویدار سمجھا جانے لگا تو اچانک "نیش" کی برائیاں اجاگر کی جانے لگیں ـ اُسوقت فلم کے ہدایت کار "ران ہاورڈ" نے کہا تھا کہ تشہیر کا یہ غلط طریقہ صرف اِن کی فلم کو آسکر جیتنے سے روکنے کیلئے کیا گیا تھا ـ حقیقت جو بھی ہو، امریکہ میں یہ خیال عام ہوتا جارہا ہے کہ آسکر جیتنے کے لئے صرف ایک اچھی فلم بنانا ہی ضروری نہیں بلکہ اِس انعام کو حاصل کرنے کیلئے معمولی تشہیر کے علاوہ جیوری کے ارکان سے بھی رابطہ قائم کرنا پڑتا ہے ـ یہی نہیں وہاں کے اخباروں میں اپنی فلم کے تعلق سے خوبیاں بیان کرنے کیلئے اشتہارات بھی دینے پڑتے ہیں ـ حالانکہ تمام بیرون ممالک ہدایتکاروں کیلئے یہ سب کرپانا اتنا آسان نہیں ـ آسکر کیلئے اِسطرح کی لابنگ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ اگر کوئی اپنی فلم کیلئے تشہیر نہ کریں تو شاید آسکر والے اِسکی فلم کو دیکھنے کی زحمت بھی گوارہ نہ کریں ـ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہندوستان کو ایسی جگہ اپنی فلم بھیجنے کیلئے بے تابی کا مظاہرہ کرنا چاہئے جہاں کی جیوری اسے صحیح ڈھنگ سے دیکھنے سمجھنے کا بھی وقت نہیں نکالتی؟ اگر آسکر جیوری بیرون ممالک فلموں کو صحیح ڈھنگ سے پرکھ اور سمجھ نہیں سکتی تو پھر اِن فلموں کے ہدایتکاروں، پروڈیوسروں کو امریکہ جاکر اور وہاں اِتنا زیادہ زر خرچ کرکے لابنگ کیوں کرتے ہیں؟ کچھ فلم پروڈیوسرس تو ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس امریکہ جاکر وہاں اپنی فلم کی تشہیر کرنے کیلئے بھی دولت نہیں ہوتی ـ یاد کیجئے کہ گذشتہ سال مراٹھی فلم "سواس" کے پروڈیوسر کو امریکہ میں اپنی فلم کی لابنگ کیلئے کس طرح سے چندہ جمع کرنا پڑا تھا؟ بڑی مشکل سے وہ اتنا روپیہ جمع کرپائے تھے کہ امریکہ جاکر اپنی فلم کی تشہیر کرپاتے ـ "آسکر" اِن فلم ہدایتکاروں اور پروڈیوسروں کے لئے صحیح جگہ نہیں ہے جو مالی طور پر خستہ ہیں ـ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ آسکر ایک عزت و توقیر والا اعزاز ہے اور یہ انعام جیتنے والی فلم کے فلمساز، ہدایتکار، ہیرو وغیرہ پوری دنیا میں شہرت کے حامل بنتے ہیں، لیکن اِس میں بھی دورائے نہیں کہ یہ اعزاز بنیادی طور پر ہالی ووڈ یا یوروپ میں بننے والی فلموں کیلئے ہے بھلے ہی ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی فلمیں ہالی ووڈ میں بنی فلم کی نقل ہوتی ہوں، لیکن باوجود اِسکے اِن میں ہندوستانی تہذیب کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی جھلگ بھی ہوتی ہے جو نظر آتی ہے ـ تہذیب کے معاملے میں ہندوستان اور مغرب میں اتنا فرق ہے کہ آسکر جیوری ہماری فلموں کو صحیح پس منظر میں سمجھ ہی نہیں سکتی ـ یہ تعجب نہیں ہے کہ اب تک ایک بھی ہندوستانی فلم "آسکر" حاصل نہیں کرپائی ـ اِس پر ملال یا افسوس والا انداز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے آج تک ہالی ووڈ کی فلموں کو اعزاز دینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ـ کیا کبھی ہالی ووڈ کے کسی ہدایتکار یا پروڈیوسر نے اِس بنیاد پر اپنی کوئی فلم "آئیفا"، "فلم فیئر" اور "زی" جیسے فنکشنوں میں بھیجنے کی کوشش کی کہ اِن کی فلم نے ہندوستان میں کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے؟ ہالی ووڈ بہت بہترین فلمیں بناتا، لیکن اپنے سماج کیلئے ـ آسکر بے حد عزت والا اعزاز ہے لیکن ہالی ووڈ اور یوروپ کی فلموں کیلئے ـ ہندوستانی فلموں کیلئے آسکر کسوٹی نہیں ہوسکتا ـ ایک عدد انعام حاصل کرنے کے لالچ میں ہندوستانی پروڈیوسرس کی اِس ذہنیت کا نتیجہ ہے جس کے تحت ہم مغربی اصولوں کو کامیابی کی راہ سمجھ بیٹھے ہیں، بدقسمتی سے ہم نے تمام معاملات میں ایسا ہی رویہ اختیار کر رکھا ہے ـ مغرب کو جن ہندوستانی چیزوں کی سمجھ نہیں، اِن سے اچھے برے ہونے کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت ہی کیا ہے ـ لیکن مغرب جب تک ہماری کسی چیز پر عظمت کی مہر نہیں لگاتا، تب تک ہمیں اِسکی عظمت پر شبہ رہتا ہے ـ یہ کہیں نہ کہیں ہماری کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بارہا ثابت ہوچکا ہے ـ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکہ کے موقر جریدے "ٹائم" نے جب پٹنہ کے سابق ضلع افسر گوتم گوسوامی کو ایشین ہیرو قرار دیا تھا تو ہم ہندوستانیوں نے بھی بغیر کسی تحقیقات کے انہیں "ہیرو" تسلیم کرلیا، جو آجکل سلاخوں کے پیچھے ہے ـ تحریر : راجیو سچان ـ روز نامہ انقلاب

posted by Shuaib at 10:01 PM 1 comments

Blogger urdudaaN said...

انقلاب جیسے اخبارات نجانے کیوں اِس قسم کی باتیں کرتے ھیں۔ ھم ھندوستانیوں کو مغرب پرستی میں مزہ آتا ھے تو ِان کا کیا جاتا ھے۔
کسی ملک کے صدر کو ١٣٦ لوگوں کے مارنے کے فرضی جرم کی سزا دینے کیلئے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے پر جو لوگ بغلیں بجائیں اُن کی یہی اوقات ھے۔
بد نامِ ھند انقلاب کا ایسے موضوع پر ھمارا وقت ضائع کرنے سے کوئی فائدہ تو نہیں ھوگا، الٹا مغرب کا عتاب ملے گا جسکی ھمیں قطعی ضرورت نہیں ھے۔

October 26, 2005 10:45 AM  

Post a Comment

ہندوستان کی پہلی ایئر ایمبولنس

دہلی کے اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر نے ملک کی پہلی ایئر ایمبولنس (فضائی ایمبولنس) کے آغاز کیلئے دکن ایویشن سے معاہدہ کیا ہے جو کم خرچ والی ایئرلائن "ایئر دکّن" چلاتی ہے ـ اس ایئر ایمبولنس کو "ایئر رسکیو ون" کا نام دیا گیا ہے اور مریضوں کو فضا میں دس ہزار فٹ کی بلندی پر طبی نگہداشت کی سہولت بہم پہنچانے ضروری آلات اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا ہے ـ معاہدہ کے تحت دکّن ایویشن 8 ہیلی کاپٹرس اور 2 طیارے فراہم کرے گا جبکہ اسکارٹ ہارٹ انسٹی ٹیوٹ طبی نگہداشت، مریضوں کو بچانے اور طیاروں کو طبی آلات سے لیس کرنے کا ذمّہ دار ہوگا ـ دکّن ایویشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ طبی نگہداشت کے شعبہ میں اپنے اپنے میدان کے دوسرے گروہ قائدین کی یہ ایک مشترکہ کوشش ہوگی ـ تاہم ان خدمات کی لاگت جو ایک گھنٹہ کی پرواز کیلئے 45 تا پچاس ہزار کے درمیان اور فکسڈ میڈیکل چارجس کے طور پر 30 ہزار روپئے مقرر کی گئی ہے، موجودہ طور پر عام انسان کی پہنچ سے باہر ہے ـ کیپٹن گوپی ناتھ نے بتایا کہ وہ جنرل انشورنس فرم سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ ایئر ایمبولنس کے ذریعہ فراہم کی جانے والی طبی نگہداشت کی قیمت کیلئے پالیسی تیار کی جاسکے جس سے قیمتوں میں زبردست کمی واقع ہوگی ـ انہوں نے کہا کہ پالیسی تیار ہوجانے کے بعد اس کا پریمیم لگ بھگ 2 ہزار روپئے مقرر کیا جائے جس کے بعد عام آدمی بھی اِن خدمات سے استفادہ کرسکے گا ـ News from: THE HINDU

posted by Shuaib at 9:55 PM 0 comments

Post a Comment

Thursday, October 20, 2005

ہنومان ـ پہلی کارٹون فلم

سہارا ون موشن پکچرس نے Percept پکچر کمپنی اور Silvertoons کے اشتراک سے ہنومان پر پہلی کارٹون انیمیٹڈ فلم بنائی ہے، اِس فلم کے 150 پرنٹ بھی تیار کرلئے گئے جو 21 اکتوبر سے دنیا بھر میں ریلیز کیجائے گی ـ عام کمرشیل ہندی فلموں کی طرح اِس فلم میں بھی ڈرامہ، موسیقی، ایکشن وغیرہ سب کچھ ہے مگر Spiderman اور Batman سے بالکل جدا یعنی پوری فلم ہندوستان کی گنگا جمنا تہذیب کا عکس بتایا گیا ہے ـ سہارا ون موشن پکچرس کے چیف آپریٹنگ آفیسر سندیپ بھارگوا نے کہا انیمیٹڈ فلمیں ہمیشہ سے بچوں کو محفوظ کرتے آئے ہیں، امید ہے "ہنومان" بچوں کے علاوہ ہر عمر کے لوگوں کیلئے خاصی دلچسپ ثابت ہوگی ـ V.G. سامنت نے اِس انیمیٹڈ فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے اور مکیش کھنہ نے "بالغ ہنومان" کیلئے اپنی آواز دی، تاپاس رائیلا نے موسیقی کو ترتیب دیا تو شان اور سونو نگم نے اپنی آواز کا جادو جگایا ـ ہندو دھرم میں "ہنومان" کو Superhero کا خطاب حاصل ہے اور انکے بھگوان شری رام کی آرمی میں ایک "بہادر سولجر" مانے جاتے ہیں ـ سہارا ون موشن پکچرس نے اِس انیمیٹڈ فلم پر کروڑوں روپئے خرچ کئے جبکہ اسکی مارکیٹنگ کیلئے بھی بہت زیادہ روپیہ خرچ کیا ـ اِس دیوالی تہوار کے موقع پر خاندان کے جملہ افراد کیلئے ہندی اور انگریزی زبانوں میں ریلیز ہونے والی فلم "ہنومان" ضرور دیکھنا چاہئے، بتایا جارہا ہے کہ "ہنومان" ہندوستان کی انیمیشن انڈسٹری کیلئے ایک نیا انقلاب ثابت ہوگی ـ

posted by Shuaib at 10:10 PM 2 comments

Anonymous Asma said...

Hanumaan's kafi azay ka character hay ... and in india they have him almost in every mythological drama/film.... there animated films are quite good, btw ...animations and depictions i mean!

wassalam

October 21, 2005 2:28 PM  
Blogger iabhopal said...

آج کے زمانہ میں ہنو مان کا کردار کچھ عجیب نہیں ؟
مجھے تعلیم دیجئے ۔ ہندی میں بھوجن کھانے کو کہتے ہیں ۔ بھوج کا کیا مطلب ہے ؟ از راہ کرم میرے بلاگ پر تبصرہ میں لکھ دیجئے

October 21, 2005 5:49 PM  

Post a Comment

Tuesday, October 18, 2005

نمبر آٹھ

پوری کمپنی میں تقریبا پانچ سو سے زائد کمپیوٹرس زیرِ استعمال ہیں، ہمارے پروڈیکشن ڈیپارٹمنٹ میں میرے کمپیوٹر کا سیریل نمبر آٹھ ہے ـ کمپنی کا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ قریب ہی ایک اور بلڈنگ میں قائم ہے جہاں پر پوری کمپنی کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ ہوتا رہتا ہے اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں موجود منیجر اپنے کمپیوٹر اسکرین پر بقیہ سارے کمپیوٹرس پر نظریں گاڑے بیٹھتا ہے ـ ہمارے کمپیوٹرس پر انٹرنیٹ کی کوئی بھی سائٹ براؤس کریں تو کوکیز آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ چلے جاتے ہیں پھر وہاں سے فون پر منیجر چیختا ہے کہ آپ اِس سائٹ میں کیوں داخل ہوئے جبکہ وہ ہمارے کام کی سائٹ نہیں ہے؟ خاص طور پر آئی ٹی منیجر کی نظریں نمبر آٹھ پر ہوتی ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نمبر آٹھ بہت ہی شریر اور شاطر ہے، شارٹ کٹ طریقے سے گیمز اور ایم پی تھری وغیرہ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے اور غلط نمبر استعمال کرکے انٹرنیٹ کی سائٹس سے ایس ایم ایس بھیجتا ہے وغیرہ ـ منیجر نے نمبر آٹھ کو کئی بار وارننگس بھی دیئے مگر نمبر آٹھ کی چلبلی انگلیاں اپنا کام کرتے نہیں تھکتیں ـ نمبر آٹھ نے آفس میں ہی بیٹھ کر اپنے کمپیوٹر میں موجود انٹرنیٹ پر کئی ذاتی ویب سائٹس بنا ڈالیں، اپنا اردو بلاگ بناکر کئی پوسٹ اپلوڈ کردیئے تھے ـ نمبر آٹھ جب اس کمپنی میں نیا نیا جوائن کیا تو اسکے کمپیوٹر میں دنیا بھر کی ویب سائٹس پر وزٹ کرنا آسان تھا ـ آئی ٹی منیجر نے کئی قیمتی ویب سائٹس جس پر نمبر آٹھ اکثر وزٹ کرتا تھا ایک ایک کرکے بلاک کرتا جارہا ہے ـ فی الحال نمبر آٹھ کے کمپیوٹر میں انٹرنیٹ پر یاھو اور گوگل کا صفحہ ظاہر ہوتا ہے مگر سرچ انجن میں تلاش کرنے کے بعد اکثر ویب سائٹس کی لِنکس کو کلک کرے تو نیا صفحہ کھلتا ہے جس پر صرف اتنا لکھا ہوتا ہے:
Forbidden No.8 (user shuaib) are not allowed to access this url. Administrator

posted by Shuaib at 9:32 PM 0 comments

Post a Comment

Monday, October 17, 2005

چھٹیوں کا چاند ـ ٢

گذشتہ روز عالم اسلام نے چاند دیکھا تو رمضان کا شاندار استقبال کیا اور مجھے چھٹیوں کے چاند کا بڑی بے صبری سے انتظار ہے ـ جی ہاں، مجھے عید کے چاند کا انتظار ہے، عید کا چاند نظر آتے ہی ہماری کمپنی میں سب کیلئے دو دن چھٹی رہے گی اور پھر گذشتہ سال کی طرح ہم سب دوست کرائے کی کاروں میں بیٹھ کر لمبے سفر پر جائیں گے ـ سچ مچ یہ دو دن کی چھٹیاں ہمارے لئے ایک بڑی نعمت ہے ـ چند دنوں بعد یہاں موسمِ بہار کی بھی آمد ہے، ہماری گذشتہ ٹرپ مجھے ابھی تک یاد ہے جب ہم سب دوست کرائے کی کاریں لیکر پہلے ریگستانی جنگل پہنچے پھر وہاں سے امارات کی سب سے اونچی پہاڑی (جبلِ حتیف) کی چوٹی پر، پہاڑ پر کار چلاتے ہوئے واقع ہمارے لئے یہ ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھا، شہر کے شور شرابے سے دور پر فضا ماحول میں: دوستوں کی شرارتیں، مستیاں اور ہنسی مذاق ـ ہم بیچاروں کی قسمت سال میں صرف دو دن ملتے ہیں تاکہ آپس میں ہنسی مذاق کرلیں، کہیں دور گھومنے چلے جائیں ـ پھر روزانہ سائیکل کی طرح آفس سے گھر اور پھر سویرے آفس ـ

posted by Shuaib at 10:30 PM 0 comments

Post a Comment

Sunday, October 16, 2005

ہندوستان سے امداد - پاکستان میں اختلافات

پاکستان میں حالیہ تباہ کن زلزلے میں متاثرین کیلئے ہندوستانی وزیراعظم مسٹر منموہن سنگھ نے پاکستانی صدر مشرف سے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی جانب سے ایک سو کروڑ روپئے کی پیشکش کی مگر مشرف نے ہندوستانی پیشکش کو قبول نہیں کیا البتہ ہندوستان کی جانب سے عطیہ جات (ریلیف) پر رضامند ہوگئے ـ وہاں پاکستان میں اہم سیاسی پارٹیوں نے ہندوستان کی طرف سے باز آبادکاری اور راحتی کاموں میں امداد کا خیر مقدم کیا جبکہ متعدد دیگر نے سخت مخالفت کی ـ پاکستان کی 58 سالہ تاریخ میں گذشتہ دنوں آئے سب سے تباہ کن زلزلے میں ہزاروں لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے - بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے پیش نظر بیرونی ممالک پاکستان کیلئے امداد روانہ کر رہے ہیں جن میں ہندوستان اور اسرائیل بھی شامل ہے لیکن پاکستان کی اہم سیاسی پارٹیوں اور مذہبی گروہوں میں ہندوستان کی جانب سے امداد کے متعلق اختلاف پیدا ہوگیا جس کے تحت اہم سیاسی پارٹیوں نے جہاں ایک طرف ہندوستان کی امداد کا خیر مقدم کیا ہے تو دوسری جانب مذہبی پارٹیوں نے شدت پسند رویہ اپناتے ہوئے اس کی مخالفت کی اور اس کے پس پشت ہندوستان کا کوئی غلط مقصد کارفرما ہونے کا شک ظاہر کیا - پاکستان کی حزب مخالف پارٹی پاکستان پیوپلز (پی پی پی) کے لیڈر تاج حیدر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اگر کوئی پاکستان آکر مدد اور تعاون کرنا چاہے تو ہم منع نہیں کریں گے - انہوں نے مشرف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور صوبہ سرحد میں لوگوں کی قیمتی جانیں بچانے میں ناکام ہوگئی ہے - تاج حیدر نے کہا کہ جنرل مشرف اب تک بہت سے علاقوں تک نہیں پہنچ سکے، جس کی طجہ سے ہزاروں متاثرہ افراد کو پریشانی کا سامنا ہے اور یہ پریشانی دور ہوسکتی ہے اگر سیاست کو کچھ دیر کیلئے ایک جانب رکھتے ہوئے ہماری مدد کیلئے آنے والوں کا خیر مقدم کیا جائے - مذہبی گروپوں کی ایک اہم پارٹی جماعت اسلامی، جس نے دایاں سیاسی محاذ متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بنایا ہے، اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ باز آبادکاری اور راحت کے کاموں میں ہندوستان ملوث ہو - جماعت اسلامی کے لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا کہ تباہی بڑے پیمانے پر ہوئی جس میں ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے لیکن ہم نہیں چاہتے کہ امدادی کاموں میں ہندوستان ملوث ہو، کیونکہ وہ عرصہ سے پاکستان کیلئے نقصاندہ رہا ہے - انہوں نے مزید کہا کہ اس ملکی المیہ پر ہم نے اپنے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ دیا ہے لیکن کشمیر اور خارجہ پالیسیوں کے دیگر اہم مسئلوں کے متعلق اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے - جمعیتہ العلما اسلام کے نائب صدر حافظ حسین احمد نے بھی یکساں کام کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے لیکن وہ جماعت اسلامی کی طرح اس معاملہ میں اتنے شدت پسند نہیں - حافظ حسین نے کہا کہ حکومت نے اسرائیل کا تعاون لینے سے انکار کردیا اور اسی طرح ہندوستان سے صرف ریلیف کا سامان قبول کیا ہے لیکن ہماری زمین پر ہندوستانی دستہ کو نہیں بلانا چاہئے کیونکہ اس سے ہمارے ملک پاکستان کو نقصان پہنچے گا - نواز شریف کے ایک وفادار گروہ نے پاک مقبوضہ کشمیر اور دیگر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں ہندوستان کی امداد کو سراہا، اس تعلق سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کے لیڈر ممنون حسین نے کہا کہ ہماری عوام کی جان کی حفاظت کرنے کے علاوہ کوئی اور بات ضروری نہیں اور اس مقصد کے لئے ہمیں پڑوسی ملک سے امداد مل رہی ہے تو خوشی سے قبول کرلینا چاہئے - اس زلزلہ کی وجہ سے حزب مخالف پارٹیوں نے جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کا پروگرام ملتوی کردیا ہے، واضح رہے آج سے چھ سال قبل ١٢ اکتوبر کے روز پرویز مشرف نے بغیر کسی خون خرابے کے پاکستان پر قبضہ کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو معزول کردیا تھا - پاکستان کی موجودہ حکومت پاکستان مسلم لیگ نے حزب مخالف کی حکومت کے خلاف احتجاج کو رد کرنے اور ہندوستانی امداد کی حمایت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے - جنوبی سندھ علاقہ کے وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے لیڈر ارباب غلام رحیم نے کہا کہ ہمیں ہر چیز کو سیاست سے نہیں جوڑنا چاہئے، دونوں پڑوسی ملک آج ایکدوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور ایسے نازک اور امتحانی گھڑی میں ہندوستان کیجانب سے پیش کی گئی امداد کو قبول کرلینا چاہئے کیونکہ ہندوستانی امداد کا مقصد ہمارے پاکستانی عوام کی مدد کرنا ہے - متحدہ قومی موومنٹ، جس کا غلبہ کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں ہے، نے کھلے طور پر ہندوستانی امداد کی حمایت کی اسکے علاوہ مذہبی پارٹیوں کی شدت پسند سیاست پر سخت تنقید بھی کی ہے - متحدہ قومی موومنٹ کے لیڈر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کی اکثریت آزاد ہے اور کسی بھی مذہبی جماعت کی شدت پسند پالیسی کی حمایت نہیں کرتی - یہ وقت سیاست بازی کا نہیں بلکہ ہماری حقیقی ضرورت کا ہے کہ ہم لوگوں کی جان بچائیں اور انکی امداد کریں - روزنامہ انقلاب ممبئی کیلئے کراچی سے حسن منصور کی خصوصی رپورٹ

posted by Shuaib at 9:55 PM 0 comments

Post a Comment

Tuesday, October 11, 2005

گھبراؤ نہیں

خدا سے ملو نظر نہ آئے تو تصور کرلیا جائے سمجھ لو کہ وہ تمہارے سامنے ہے، وہ صدا غایب ہے اسی لئے اسکا نام خدا ہے اگر نظر آجائے تو لوگ اسے قید میں ڈال دیں گے ـ سب سے پہلے امریکہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی اسامہ کہاں ہے؟ کیتھرینا اور ریٹا سے بے گھر ہوئے لوگوں سے معافی مانگے ـ موقعہ غنیمت تبلیغی جماعت والے خدا کو جھنجوڑتے ہوئے فریاد کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو بتا دے ہماری جماعت ہی جنّتی ہے جیسا کہ تبلیغی نصاب میں لکھا ہے ـ فلسطین میں زبردست جلسے اور جلوس کی تیاریاں کہ وہ کب سے خدا کا انتظار کر رہے تھے، وہ آیا بھی تو رہے گا اسرائیل میں پھر بھی فلسطینیوں کو امید کہ خدا اسرائیل آئے تو اسکا سایہ فلسطین پر ہی ہوگا ـ لیکن عراقی پریشان کہ اب کیا جواب دیں جب کہ سب اپنا کیا ہے مگر خدا سے ایک فریاد ہے علی کی مزار سعودی عرب منتقل کردے بس ہمیں اور کچھ نہیں چاہئے ـ خدا کی مدد سے مصریوں نے خزانے تلاش کرکے امریکہ کے حوالے کردیئے ـ صدام نے خدا کو دیکھا تو دوبارہ ایمان لے آیا یہ جان کر شرمندہ ہوگیا کہ وہ بھی امریکہ کے قبضے میں ـ ادھر چین نے مذہبی لوگوں کو خوش کرنے کیلئے خدا کے ہمشکل بناکر فروخت کرنا شروع کردیئے بٹن دباؤ تو سارے راز اگل دیتا ہے ـ ابھی تک افغانستان سے کوئی شکایت نہیں آئی شاید کہ امریکی سائے میں محفوظ ہوں ـ خدا نے امریکی میزبانی سے خوش ہوکر بادشاہت کی ٹوپی اسکے سر پر باندھ دی ـ اسامہ چھپتے چھپاتے خدا سے شاباشی لینے پہنچے مگر امریکی جال میں بری طرح پھنس گئے ـ امریکہ نے خدا کا گشت کروایا، افغانوں سے پوچھا کیا یہی ہے تمہارا رب جس سے مدد کی بھیک مانگتے تھے؟ مانگ لو جو مانگنا ہے اس سے پہلے کہ خدا غایب ہوجائے ـ بل گیٹس نے نئے ونڈوز کا تعارف کروایا مگر خدا کو ذرا نہ بھایا اور نہ اسکی سمجھ میں کچھ آیا ـ افغانوں نے افیم گانجہ اور چرس کی پیداوار میں دوگنی برکت کروالی ساتھ فصلوں کی حفاظت بھی ـ ایران کی لاچارگی کہ اب کرے تو کیا کرے خدا بھی امریکہ کے قبضے میں، ضرورت ہے صلح کرلے ورنہ خیر نہیں ـ خدا کے غایب ہونے کا وقت آچکا تو لوگوں نے منّت سماجت شروع کردی ـ اب خدا بھی بیت بازی کیلئے راضی ہوگیا، شیطان کو بلاکر پاس بٹھایا پھر دونوں میں زبردست مقابلہ شروع ہوا مگر کسی نے ہار نہیں مانی ـ خدا نے بلا جھجک بیان دیدیا کہ سونامی سے ناراض لوگوں کو خوش کرنے کیلئے کیتھرینا اور ریٹا کو طوفان میں لپیٹ دیا تھا ـ اور خون خرابہ، فتنہ فساد تو بالکل پسند نہیں جہاں کہیں بھی ایسا ہو فورا اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیونکہ دل کمزور ہے ـ شیطان نے خدا کو ٹونکا کہ وہ تو کبھی کا کنگال ہوچکا ہے کیونکہ نوٹ چھاپنے کی مشین لوگوں کے پاس ہے ـ خدا نے ہمّت باندھ لی کہ دنیا تو اسکے اپنے قبضے میں ہے اس پر شیطان نے پھر چھیڑا مگر خدا امریکہ کے قبضے میں ہے ـ سرِ عام یوں شرمندہ ہونا خدا کو بالکل پسند نہیں اور وہ غایب ہونے کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر پہنچا تو زبردست زلزلہ ہوگیا، اِس سے پہلے کہ خدا غایب ہوجاتا لوگوں نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا: مانا کہ ہمارا آپس میں مل جل کر رہنا تجھے پسند نہیں، ہمیں یہ بھی یقین ہے اِس میں شیطان کا کوئی دوش نہیں، بھلے تو اِس دنیا کا مالک مگر امریکہ کے آگے کچھ بھی نہیں ـ عراقی، فلسطینی اور بوسنیائی یہ لوگ تو پاگل ہیں جو سالوں سے تجھے پکارتے رہے تو اتنا لاچار اِن پاگلوں کو معلوم نہیں ـ ـ جاری بقیہ پھر کبھی ـ ـ ـ

posted by Shuaib at 10:06 PM 8 comments

Blogger Nabeel said...

شعیب، کیا پی کر لکھتے ہو۔ یا مجھے کچھ پی کر پڑھنا پڑے گا تاکہ کچھ پلے پڑ جائے۔

October 12, 2005 1:16 AM  
Blogger میرا پاکستان said...

آپ کے شکوہ کا انداز نرالا ہے مگر ياد رہے کہ ادب کا دامن نہ چھوٹنے پاۓ۔ اسي طرح جب اقبال نے شکوہ لکھا تھا تو کافي لوگوں نے اعراض کيا تھا۔ شعيب صاحب آپ بھي جواب شکوہ لکھنا مت بھولۓ گا۔

October 12, 2005 5:50 AM  
Anonymous Kashif said...

That is the most pathetic post ever. Remember the freedom of your sticks is upto the nose of other.

October 12, 2005 10:09 AM  
Blogger urdudaaN said...

جب سے لوگوں نے ميرے "خدا حافظ" كا جواب "اللّه حافظ" دے كر يہ باور كراديا كہ "Allah is in, KHuda is out" مُجهے خدا كى بدنامى اب اُتنى بُرى نہيں لگتى۔

October 12, 2005 1:08 PM  
Blogger SHUAIB said...

نبیل :
میں نے كچھ پیا نہیں كہ بكواس لكھوں ـ آپ خود كچھ پی لیجئے تاكہ پلے پڑے (:

(میرا پاكستان) :
آپ كا شكریہ كہ خوب تبصرہ كیا ـ اقبال كا شكوہ اور جوابی شكوہ کبھی پڑھا نہیں البتہ سنا تھا ـ میں نے حالات حاضرہ كو دماغ میں ركھ كر ٹائپنگ كرنے كے بعد كچھ اس قسم كی تحریر بن گئی مگر یہ نامكمل ہے، اور بھی لكھنا باقی ہے ـ

کاشف :
لوگ قصے کہانیاں سن کر اور مختلف کتابیں پڑھ کر مختلف انداز لگاتے ہیں - یہ پڑھنے والوں پر منحصر ہے وہ کس ذہنیت سے پڑھتے ہیں - میں شخصی طور پر دوسروں کے جذبات کا احترام کرتا ہوں اور آج تک اس بلاگ میں بیکار اور فضول تحریریں نہیں لکھا کیونکہ سبھی تحریریں میرے اپنے لئے سمجھ کر لکھتا ہوں نہ کہ شہرت کیلئے-

پرویز بھائی :
اچھا ہوا كہ میں آپ كو ناراض كرنے سے بچ گیا كیونكہ اِس پوسٹ میں ہر جگہ صرف خدا لکھا ہے (:

October 12, 2005 9:16 PM  
Anonymous Mullah said...

Yaar-- I need this one. Where did you find a God like that?
ادھر چین نے مذہبی لوگوں کو خوش کرنے کیلئے خدا کے ہمشکل بناکر فروخت کرنا شروع کردیئے بٹن دباؤ تو سارے راز اگل دیتا ہے ـ

January 06, 2006 9:58 AM  
Blogger باذوق said...

میں یہاں یہ دیکھنے آیا کہ ۔۔۔ آخر کیا طرزِ تحریر ہے کہ جس کے سبب پردیسی بھائی نے اردو سیارہ سے شعیب صاحب کو نکالنے کی بات کی ہے ۔۔۔
فی الحال تو یہ سلسلہ ۔۔خدا سے ملو ۔۔ نظر میں آیا۔
مجھے نہیں معلوم کہ پردیسی بھائی نے کس پوسٹ کی جانب اشارہ کیا ہے۔
جہاں تک اس تحریر کا معاملہ ہے ۔۔۔ مجھے کوئی تعجب نہیں ۔
ایسا طرزِ تحریر تو ماضی میں کئی نامور اردو ادیبوں نے استعمال کیا ہے ۔
دہریت ایک نظریہ ہے اور جو اس سے اتفاق رکھتا ہو ہم اس کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ نہیں سکتے ۔۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ۔۔۔
آپ کے مکے کی حد وہاں تک ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔
ویسے ۔۔۔ اُردو میں پورنوگرافی پر کیا کہا جائے
عصمت کا لحاف ، منٹو کا ٹھنڈا گوشت اور واجدہ کی نتھ سیریز ۔۔۔
پورنوگرافی ہو یا دہریت پسندی ۔۔۔ یہ ایسی بنیادیں تو بہرحال نہیں ہیں کہ زبان و ادب ( کے سیارے ) سے انہیں بے دخل کر دیا جائے۔

البتہ میرے اپنے خیال میں ، اگر میں خالصتاََ کتاب و سنت کا حامی ہوں تو جہاں میرا بس چلے وہاں میں پابندی ضرور لگاؤں گا ، اُس قرآنی آیت کے تحت کہ
تم خیر الامت ہو جو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے
اور اُس حدیثِ مبارکہ کے تحت کہ
برائی کو قوت سے مٹاؤ ، اگر ممکن نہ ہو تو زبان (قلم) سے اور یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں اسے برا سمجھو

June 11, 2006 8:00 PM  
Blogger باذوق said...

میں یہ پوچھنا تو بھول ہی گیا کہ آپ جناب وہ شعیب تو نہیں جو انڈیا میں "کارٹونسٹ شعیب" کے طور پر مشہور ہیں ؟

June 11, 2006 8:10 PM  

Post a Comment

Sunday, October 09, 2005

چیتا

چیتا سب جانورں سے تیز رفتار ہے ـ اس کی رفتار 120 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے ـ اس کا تعلق بلی کے خاندان سے ہے مگر بلی کی طرح اپنے ناخن اندر کھینچ نہیں سکتا، اسلئے کچھ عرصہ بعد اسکے ناخن گھس جاتے ہیں ـ چیتا چھپ کر شکار نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے رینگتے ہوئے شکار کے قریب جاکر دبوچ لیتا ہے ـ پنجہ گلے پر مارتا ہے اور حلق کی نلی کو باہر چھوڑ دیتا ہے ـ چھوٹے ہرن اور بارہ سنگھے اسکی مرغوب غذاء ہے ـ یہ غراتا نہیں بلکہ چڑیوں کی طرح آواز نکالتا ہے ـ مادہ دو تین بچے ایک جھول میں دیتی ہے ـ بچے پیدائش کے وقت اندھے ہوتے ہیں، انکا رنگ بھی سیاہ ہوتا ہے بعد میں رنگ بدلتا ہے مگر چیتیاں نمایاں (خوبصورت) ہوتی ہیں ـ خونخوار جانوروں میں اسے سِدھایا بھی جاسکتا ہے ـ عرب ممالک میں اس کی تربیت کی جاتی ہے اور شکار کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ـ ہرن، خرگوش، نیل گائے وغیرہ شکار کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ـ اِس میں تابعداری اور وحشت کا ایک عجیب امتزاج پایا جاتا ہے ـ دماغ اس بات کو قبول نہیں کرتا کہ ایک وحشی جانور شکار کئے ہوئے جانوروں کو اپنے مالک کے سپرد کردے مگر شاید تربیت کا اثر ہے اور پھر حضرتِ انسان سے بعید نہیں ـ خوفناک شیروں کو سِدھایا کر سرکس میں انہیں گدھا بناسکتا ہے تو چیتا کس کھیت کی مولی ـ بچوں کا صفحہ روز نامہ منصف حیدر آباد

posted by Shuaib at 11:02 PM 0 comments

Post a Comment

Saturday, October 08, 2005

اظہارِ افسوس

ہند اور پاک میں زلزلہ سے متاثر افراد کے اہل و عیال کے ساتھ اظہار ہمدردی اورافسوس

posted by Shuaib at 9:40 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, October 07, 2005

نئے گرافکس

یہ بھی صحیح
اردو کو فروغ دیں نئے انداز کے ساتھ مختلف اردو گرافکس یہاں ایک کلک پر دستیاب ہیں

posted by Shuaib at 9:21 PM 6 comments

Blogger urdudaaN said...

سچ مُچ بہت عمده ھيں

October 07, 2005 9:46 PM  
Blogger SHUAIB said...

اردو دان تعریف کا شکریہ مگر اسے استعمال کرکے اردو گرافکس کو مقبول بنائیں - میں یہ لوگو آپ کے بلاگ پر دیکھنا چاہوں گا -

October 07, 2005 9:54 PM  
Blogger WiseSabre said...

گستخی معاف
مجھے آپ کے گوگل میں ایک 'و' اضافی نظر آرہا ہے۔

گو گل والے بھی ایک و ہی استعمال کرتے ہیں۔
دیکھیں۔
http://www.google.com.pk/

ابھی میں اپنے بلاگ سے گوگل اور یاہو کو کوئی لنک نہیں دے رہا۔
میرے امتحان قریب آرہے ہیں اس کے بعد میں اپنا بلاگ ری ڈیزاین کروں گا تو آپ کے لوگو استعمال کروں گا۔

October 07, 2005 10:27 PM  
Blogger urdudaaN said...

جناب شعيب، اگلى مرتبہ ميں اپنا خاكہ بدلوں تو اِن كے استعمال پر ضرور غور كرونگا۔

October 08, 2005 4:16 PM  
Anonymous SHUAIB said...

اچھا صلہ دیا اردو دانوں نے میری محنت کا - دیر سے صحیح مگر استعمال کریں ضرور -

October 08, 2005 9:36 PM  
Blogger urdudaaN said...

برادرِ من
جى ہاں دير سے سہى ليكن استعمال ضرور كرونگا۔ ميرے نئے خاكہ كيلئے اِنتظار و دُعا كريں :)

October 10, 2005 7:22 PM  

Post a Comment

Tuesday, October 04, 2005

دعوتِ افطار اور سمندر

آج بروز منگل یہاں رمضان کا پہلا دن ہے، صبح آفس میں داخل ہوتے ہی سب ایکدوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں روزے میں ہو؟ ابھی اپنی چیئر پر بیٹھے کمپیوٹر آن کیا، ایک ہندو ساتھی نے آکر مبارکباد دی ’’Happy Ramadan‘‘ اسکے بعد سب ایکدوسرے کو رمضان کی مبارکبادیاں دینا شروع کردیں ـ تقریبا آدھا گھنٹہ یوں ہی رمضان کی ٹائمنگ اور احکامات پر ڈسکس شروع ہوگیا کہ اچانک باس نمودار ہوا تو سب خاموشی سے معمول کے کام و کاج میں جٹ گئے ـ صبح کے گیارہ بجتے ہی میرے پیٹ میں چوہے دوڑنا شروع ہوگئے، آفس میں موجود دونوں کچن چھان مارا، نہ چائے، نہ کول ڈرنکس ـ باہر آیا تو ہوٹل ریسٹورنٹس وغیرہ سب بند تھے ـ پتہ نہیں آج کیوں اتنی بھوک لگ رہی جیسے دو دن سے کچھ کھایا نہیں ـ اپنی بھوک کا اظہار کسی سے کر بھی نہیں سکتا کیونکہ سب کا خیال ہے کہ میں بھی روزے میں ہوں ـ قریب ایک سوپر مارکیٹ گیا اور وہاں سے مختلف قسم کے چاکلیٹس، کیک اور اورینج جوس کا ایک ڈبہ خریدا ـ سوپر مارکیٹ میں موجود جو سبھی مجھے پہچانتے ہیں، پوچھا: کیوں روزہ نہیں؟ میں نے جواب دیا: یہ سب افطاری کیلئے خریدا ہے ـ واپس دفتر کے Sample Room میں آکر چاکلیٹس، کیک اور جوس وغیرہ کھانے پینے کے بعد جان میں جان آئی ـ منیجر نے پوچھا: آدھے گھنٹے سے تم اپنی سیٹ پر نہیں تھے؟ میں نے جواب دیا: باہر نماز پڑھنے گیا تھا ـ منیجر نے تعجب سے پوچھا: گیارہ بجے کونسی نماز؟ میں نے جواب دیا: ایسے ہی دل میں خیال آیا تو مسجد جاکر نماز پڑھ لی ـ منیجر نے پھر پوچھا: روزے میں کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ میں نے منہ پونچھتے ہوئے جواب دیا: کچھ نہیں، سب کچھ ٹھیک جارہا ہے ـ شام پانچ بجے آفس سے چھٹی ہوئی، اپنی بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی کئی جان پہچان والوں نے افطاری کی دعوت کا آفر دیا کہ آج پہلا روزہ ہے اور تم ہمارے فلیٹ میں ہمارے ساتھ افطاری کرو گے، آؤ گے نا ـ تقریبا پانچ چھ لوگوں سے دعوتِ افطار قبول کرلی، واقع زبردست بھوک لگ رہی تھی ـ ابھی افطاری کیلئے بہت ٹائم باقی ہے، سامنے دیکھا Pizza Hut کا ریسٹورنٹ کھلا تھا ـ شام کے چھ بج چکے تھے، شہر میں جیسے سنّاٹا چھا گیا، سڑکیں سنسان ہوگئیں ـ سب لوگ اپنے اپنے گھروں اور مسجدوں میں افطاری میں مشغول اور کہیں دور سمندر کنارے کھلے آسمان کے نیچے اکیلا اور تنہا میں اور میرا Pizza ـ

posted by Shuaib at 10:31 PM 10 comments

Blogger میرا پاکستان said...

آپ کو بھي رمضان مبارک ہو۔
صرف ايک چھوٹي سي گزارش ہے کہ اگر آپ روزہ نہيں رکھتے تو نہ رکھيں اور اگر آپ مسلمان نہيں ہيں تو بھي يہ آپ کا ذاتي فعل ہے مگر اس طرح کي صاف گو تحريروں سے آپ پرہيز کريں تو ہزاروں لوگوں کي دعائيں ليں گے۔ آپ صرف انسان ہونے کے ناطے سوچۓ دوسرے انسان کا دل دکھاناآپ جيسے اچھے لوگوں کا کام نہيں ہونا چاہۓ۔
دنيا ميں بے شمار موضوع ہيں آپ کسي پر بھي لکھ سکتے ہيں مگر پليز ہم مسلمانوں کي دلآزاري نہ کيجۓ۔ اس بات کو سنجيدہ ليجئۓ گا اور اميد ہے کہ آپ ميري نصيحت کا برا بھي نہيں منائيں گے۔

October 05, 2005 5:39 AM  
Blogger urdudaaN said...

يہ بھى ايك عجيب بات ھيكہ نام نہاد اسلامى ملكوں ميں آپ روزه دار نہ ھوں تو بھى آپ سرِ عام كھا پى نہيں سكتے۔
يہ بالكل اُسى طرح ھے جيسے ہمارے جيسے نام نہاد جمہورى ممالك ميں گاندھى جى كے يومِ پيدائش پر شراب نوشى و گوشت خورى جيسے بنيادى حقوق سلب كرلئے جاتے ہيں۔
ميں اپنے عقيده كے تحت اللّه كو حاضر و ناظر جان كر كہتا ھوں كہ ميں آپ كى تنہائى و بے بسى كے غم ميں شريك ھوں۔

October 05, 2005 11:22 AM  
Blogger urdudaaN said...

ہمارے جيسے نام نہاد جمہورى ملك ميں

October 05, 2005 11:27 AM  
Blogger SHUAIB said...

(میرا پاکستان) :
سب سے پہلے میں آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میری اس پوسٹ سے آپکے عقیدے کو ٹھیس پہنچی ـ میں ہرگز نہیں چاہتا اور نہ ہی میری ایسی نیت ہے کہ میں دوسروں کے عقیدوں کا مذاق اڑاؤں یا دل آزاری کروں ـ میری یہ پوسٹ بس یونہی روز مرّہ کے متعلق ہے اور میرے خیالات کا اظہار بھی ـ میں آپکے ایمان اور عقیدے کا احترام کرتا ہوں اور کوئی نصیحت کرے تو میں انکی بہت عزت کرتا ہوں ـ رہا سوال ایسی تحریریں دوبارہ نہ لکھنے کا، یہی تو میرا موضوع ہے اور دل کی بھڑاس نکالنے کیلئے بھلا بلاگ سے اچھا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں ـ میری تحریروں سے کسی قسم کی ٹھیس پہنچتی ہے تو برائے مہربانی اسے ایک ’’مزاحیہ تحریر‘‘ سمجھ لیں ـ میں پھر سے کہوں گا کہ مجھے کسی کا دل دکھانا بالکل پسند نہیں اور نہ ہی میری ایسی نیّت ہے ـ

پرویز بھائی :
میری تنہائی اور بے بسی میں شریک ہونے کیلئے آپ کا بے حد شکریہ مگر میں غمگین ہرگز نہیں تھا کیونکہ میں ہمیشہ خوش و خرّم رہنے والا انسان ہوں البتہ کبھی کبھار تنہا اور بے بس ہوجاتا ہوں مگر خوشی اور سکون ہر پل مجھے اپنے سائے میں رکھتی ہے، دکھ درد اور غم جیسی چیزں کو پاس بھٹکنے بھی نہیں دیتیں ـ

آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے :
اسی ملک کی مثال دیتا ہوں، یہ ایک عرب ملک ہے، یہاں پر اسلامی شریعت کا قانون لاگو ہے اسکے باوجود پوری طرح مغربی کلچر میں غرق ہے ساتھ ہی پانچوں وقت عبادت کی پابندی بھی کرتے ہیں، عام دنوں تو دور کی بات رمضان میں بھی صبح و شام ہر جگہ زنا عام بات ہے اور شراب بھی ـ رمضان میں بھی ایسے کاموں کو چھوٹ ہے مگر باہر کھانے پینے پر ممانعت کے ساتھ جرمانہ بھی ہے اور اِس ملک کا شمار پہلے درجے کے اسلامی ممالک میں ہوتا ہے ـ کیا یہ اسلامی ملک ہے؟ اسلام تو ایک پاک و صاف مذہب ہے بالکل ایک آئینے کی طرح ـ

یہاں ہر قسم کے لوگ آباد ہیں ـ ہند، پاک کے مختلف شہروں سے، گاؤں گاؤں سے، ہر قسم کی کیٹگیری لوگ، دنیا بھر کے تمام مذہبی لوگ، آپ کے خاندان سے بھی کئی لوگ اور میں تو خود یہیں ہوں ـ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے کونے کا فرد یہاں آکر ہر وہ نیک کام کر رہا ہے جسے آپ جیسے اللہ والے گناہ تصور کرتے ہیں ـ عرب ممالک کے علاوہ جنوب ایشیا اور دوسرے کئی ممالک کے اکثر افراد یہاں سیرآب ہونے آتے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ آپ بھی یہاں آکر سیرآب ہوں آپ تو ٹھہرے اللہ والے اور آپ کی ملاقات کئی اللہ والوں سے ہوچکی ہے جو دبئی سے سیرآب ہوکر آئیں ہونگے جنہیں آپ پنچگانہ نمازی بھی پائیں گے ـ سمجھ میں نہیں آتا یہ کیسا چھچورا پن ہے کہ ایک بدترین گناہگار بہترین انداز میں اپنے گناہ چھپاتے ہوئے دوسروں کو وصیتیں نصیحتیں وغیرہ کرتے ہیں ایک تو گناہ کو گناہ سمجھ کر بھی کردیتے ہیں اپنی برائی سننا بھی پسند نہیں اور چلے دوسروں کو ٹوکنے ـ سچ تو یہ ہے کوئی بھی اپنا عقیدہ سمجھ نہیں پایا سوائے تصور کے، صرف امیج بنائے رکھنے کیلئے شرافت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ـ پرویز بھائی، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، یہ سب میرے ذاتی خیالات ہیں، آپ اپنے بارے میں بہتر جانتے ہیں ـ آپکی تحریروں سے ظاہر ہیکہ آپ ایک باشعور اور روشن خیال انسان ہیں مگر افسوس کہ آپ بھی تصور کی دنیا میں کھوئے رہتے ہیں ـ

October 05, 2005 9:08 PM  
Anonymous شعیب صفدر said...

شائد اس لئے ہی بزرگ کہتے ہیں کہ جھوت نہ بولوں کیوں کہ ایک کے بعد ایک لائن لگ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

October 05, 2005 9:40 PM  
Blogger urdudaaN said...

مجھے لگا نہيں تھا كہ ميں اِس جواب كا مُستحق ھونگا۔ ميں نے تو آپ سے معذرت چاہنے جيسا بھى كُچھ نہيں لكھا تھا!
ميں مذہبى خيالات كا آدمى نہيں ھوں، مُجھے صرف غلط بيانى سے نفرت ھے جسے لوگ كٹّر پن كا نام دے سكتے ھيں۔
ويسے ميں اردو كے خيالوں ميں گُم رھتا ھوں۔ :)
ميں تو صرف يہ كہنا چاھوں گا كہ يہ نجانے كون جانتا ھے كہ مسلمان مذھبى و مذھب بيزار آخر ايكدوسرے اور ليڈروں سے چاھتے كيا ھيں؟

October 05, 2005 9:47 PM  
Blogger urdudaaN said...

ميں كئى بار خود تبديلئ مذھب كا سوچ بھى چكا ھوں، كيونكہ مُجھے مفت كے ڈنڈے راس نہيں آتے، جو روزآنہ ذرائع ابلاغ اور ھم مذھبوں سے ملتے رھتے ھيں۔
نہ ھى ميں اوروں جيسا مر مر كے جينا چاہتا ھوں۔ ميں عيسائيوں كى باھمى طرفدارى سے بہت مرعوب ھوں اور امّتِ مسلمہ كے "اُمّه" كے ڈھكوسلے سے بيزار بھى۔
ميرے ناپاك خيالات http://brother-hood.blogspot.com پر قلمبند كرتا ھوں، مُلاحظہ ھوں۔

October 05, 2005 10:09 PM  
Anonymous SHUAIB said...

میرے بھائی پرویز؛
میں آپ سے معافی چاہتا ہوں، اب آپ یہ نہ پوچھیں کس بات کی معافی - میں سچ مچ شرمندہ ہوچکا ہوں !

October 05, 2005 10:15 PM  
Blogger WiseSabre said...

میں نے سنا ہے اپنے والد صاحب سے کہ عرب میں جو لوگ اچھے ہیں وہ بہت ہی اچھے ہیں اور جو برے ہیں وہ بہت ہی برے ہیں۔
---------------
آپ ضرور لکھا کریں،بندہ اپنوں ہی سے تو دل کی بات کرتا ہے اور جو کوئی آپ کو نصیحت کرتا ہے اپنا سمجہ کر ہی کرتا ہے۔اصلاح کی گنجائش ہر انسان میں ہوتی ہے۔

October 05, 2005 10:47 PM  
Anonymous SHUAIB said...

بھائی ثاقب ؛ پتے کی بات کہنے کیلئے آپ کا بہت بہت شکریہ ! میں آپ سب سے گذارش کروں گا میرے بنائے ہوئے اردو گرافک اپنے صفحات پر استعمال کرکے اردو کو فروغ دیں !

October 05, 2005 10:57 PM  

Post a Comment

Sunday, October 02, 2005

میرے ہاتھی جیسے دانت

صرف والدین کی خوشنودی کیلئے انکے ساتھ سحری کھالیتا، دن بھر بھلے باہر کچھ بھی کھالوں مگر واپس شام کو گھر آکر سب کے ساتھ افطاری میں بھی شریک ہوجاتا تھا ـ والدین تو اولاد کی ہر حرکت سے واقف رہتے ہیں مگر میں اِس امید سے رہتا کہ والدین کی نظر میں روزے سے ہوں ـ اوپر سے والدین کا حکم کہ شہر میں جہاں کہیں بھی رہے افطاری کے وقت سیدھا گھر آجانا ورنہ خیر نہیں ـ شرمسار سوکھی صورت لئے افطاری کے وقت گھر آجاتا جیسے سچ مچ روزے میں ہوں ـ میرے والدین بہتر جانتے ہیں کہ انکا ہونہار ساتھ سحری اور افطاری کھاتا ہے اور باہر جاکر ریسٹورنٹس میں یہاں وہاں دن بھر کچھ بھی کھالیتا ہے ـ ایک دن اپنے والدین سے کہہ بھی دیا جب آپ جانتے ہی ہیں کہ میں روزے کی پابندی نہیں کرتا تو مجھے زبردستی سحری اور افطاری کیوں کھلاتے ہیں؟ والدین نے جواب دیا: تو ہمارا اپنا ہے اور تیرا طریقئہ زندگی وہی ہونا چاہئے جیسا گھر میں ہم سب رہتے ہیں ـ ایک تو میرے کندھوں پر زبردستی مذہب کا بوجھ دوسری طرف والدین کا لاڈ و پیار، یہی وہ پیار ہے کہ اپنے والدین کو خوش دیکھنے کیلئے جھوٹ موٹ کا مذہبی بننا پڑتا ہے ـ کل شام کی ہی بات ہے، امّی نے ٹیلیفون پر ایک لمبی نصیحت کرڈالی کہ مجھے رمضان میں کیا کیا کرنا ہے اور میں ہاں ہوں میں جواب دے رہا تھا تو امّی نے ٹونکا انشاء اللہ کہہ کر جواب دے ـ حالانکہ وہ بہتر جانتی ہیں کہ میں رمضان میں ایسا ہی رہتا ہوں جیسے عام دنوں میں گذارتا ہوں ـ امّی نے اپنا فرض ادا کردیا کہ اپنے بیٹے کو رمضان کے متعلق نصیحت کرے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس پر کچھ اثر نہیں پڑنے والا ـ کئی سال پہلے ڈیڈی نے مجھ سے کہا تھا: تو ہمارا اپنا خون ہے، ہماری طرح تو بھی مذہبی بنے رہے تو بے حد خوشی ہوگی ورنہ ہم تجھ سے ناراض رہینگے چاہے جتنی بھی کمائی ہم پر نچھاور کرے ـ والد کی یہ باتیں مجھے شرمندہ کرگئیں کہ انہوں نے اسطرح اپنائیت سے نصیحت کی تھی کہ مجھے سچ مچ شرمندہ ہونا پڑا اور آج بھی اگر مذہبی ہوں تو صرف اپنے ماں باپ کی خوشنودی کیلئے ورنہ میں اور مذہبی؟ ہرگز نہیں ـ

posted by Shuaib at 9:09 PM 11 comments

Blogger urdudaaN said...

بھائى شعيب
اِس سے پہلے كہ آپ نالاں ھوجائيں ميں آخرى بار ذاتى طور پر نصيحت كرنے كى حماقت كررہا ھوں اور پيشگى معذرت پيش كرتا ھوں۔
١۔ ہاتھى اپنے دانتوں كيلئے ھى مارا جاتا ھے
٢۔ مذہب سے برتر صرف ايك چيز ھے اور وہ ھے "انسانيت"۔ اسلام كافر انسانوں كو صرف جنگى حالت ميں مارنے كى اجازت ديتا، كفر يا شرك كيلئے ھرگز نہيں
٣۔ اسلام اپنے مانباپ سے حسنِ سلوك كى تلقين كرتا ھے بھلے ھى وہ كافر رھيں
٤۔ اسلام والدين كى حكم عدولى كى صرف اسوقت حمايت كرتا ھے جب وہ مذہب سے روكيں
٥۔ اللّہ ھم تمام انسانوں كافر، مشرك، منافق و مومن سے ستّر ماؤں جتنى محبّت اگر نہ كرتا تو؛
۔ كفر سے پہلے جان لے ليتا
۔ مشرك كو روزى ھى نہ ديتا
۔ منافق كو اولاد نہ ديتا
٦۔ اگر انسان كى آزمائش مقصود نہ ھوتى اور انسان كو كفر كا اختيار نہ ديا ھوتا تو اعمال كا حساب اور سزا و جزا محض ايك ظلم ھوتا
٧۔ اگر مذہب ايك انسانى ڈھكوسلا ھوتا تو ھميں صحيح و غلط كى بنيادى سمجھ ھى نہ ھوتى

October 02, 2005 11:33 PM  
Blogger Abdul Qadir said...

شعیب صاحب کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ بچپن سے ہی ایسے ہیں یا بعد میں ہوئے ہیں ۔ اگر بعد میں مذہب سے دور ہوئے ہین تو کیا آپ کو اس کی وجہ معلوم ہے؟
اگر عیسائی ہر وقت گلے میں صلیب ڈال سکتے ہیں ، ہندو مندروں میں ہر وقت جا تے ہیں تو مسلمان کو اپنے مزہبی فرائض ادا کرتے ہوئے کیا ہوتا ہے ۔ میں اس پر اور بھی لکھنا چاہتا تھا مگر فائدہ نہیں ہے

October 03, 2005 8:29 AM  
Blogger Fahd Mirza said...

Islam never comes by force. It is a movment which comes from inside. Shuaib, I want to clear two things before hand. First, I am not going to advice you second I have no intention of offending you.

What I want to say is that, when our parents, well wishers or friends force us (by love or by words) to get inclined towards Islam, we sometimes comply just to make them happy and other times we think that we are doing some sort of favour to Allah, by observing fasts and salat.

So I think, this should be kept in mind that whether we observe the relegious rites or not, this is just for us, and we are not doing any sort of favour or dis-favour to Allah. May Allah Bless you.

October 03, 2005 10:23 AM  
Blogger urdudaaN said...

On second thoughts, I guess Mr. Shuaib might be playing the religion-card just to attract comments.
On third thoughts, I guess he might just be collecting statistics of how religious muslims are.
:)

October 03, 2005 11:13 AM  
Blogger iabhopal said...

اردو دان ۔ قدیر احمد رانا اور فہد مرزا تینوں صاحبان نے بہت اچھی باتیں لکھی ہیں ۔ میں آپ کو نصیحت کرنے نہیں جا رہا ۔ میں صرف ایک مسند واقع‏ اور کچھ آنکھوں دیکھا بیان کروں گا ۔
ایک مسلم صحابی کا نزع کے وقت برا حال تھا جان نکل نہیں رہی تھی ۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلّ اللہ علیہ وسلّم کے پاس جا کر ماجرہ بیان کیا ۔ انہوں نے پوچھا اس کی ماں زندہ ہے ؟ کہا ہاں ۔ تو رسول اللہ صلّ اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ جا کر اس کی ماں سے کہیں کہ اسے معاف کر دے ۔ ماں نہ مانی تو پھر رسول اللہ صلّ اللہ علیہ وسلّم نے کہا جا کر اس کی ماں سےکہیں کہ ہم اس کو آگ میں پھینکنے لگے ہیں ۔ اس پر ماں نے معاف کر دیا ۔ اور صحابی کی جان آسانی سے نکل گئی ۔
ایک لڑکا بی ایسی کرنے کے بعد برطانیہ گیا اور وہاں کا ہو کر رہ گیا ۔ والدین کو کبھی کبھار ملنے پاکستان آ جاتا ۔ ماں کہتی بیٹا چھوڑو آزادیاں پاکستان آ جاؤ اور مسلمان بن کر میرے پاس رہو ۔ سالوں گذر گئے اس کے بال آدھے سے زیادہ سفید ہو گئے ۔ اور پھر ایک دن اس کی والدہ اپنے پیدا کرنے والے کے پاس چلی گئی ۔ اتفاق سے اسے جلد فلائٹ مل گئی اور وہ پہنچ گیا ۔ وہ کبھی دیواروں سے ٹکریں مار رہا تھا کبھی ہاتھ ۔ کوئی اسے افسوس کے لئے گلے لگانے لگتا تو وہ یہ کہہ کر پیچھے ہٹ جاتا میں اس قابل نہیں ہوں میں اس قابل نہیں ۔
میں نے ہندوؤں کو اپنی ماں کے پاؤں چھوتے دیکھا ہے اور مسلمانوں کو اپنی ماں کے پاؤں چومتے بھی ۔

October 03, 2005 4:13 PM  
Blogger SHUAIB said...

اردو دان:
میں آپ کا ممنون ہوں کہ مجھے ایک بھائی کی طرح نصیحتیں لکھیں، اور معذرت خواہ ہوں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت میرے لئے بہترین باتیں لکھنے میں صرف کیا ـ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ ہمارے ملک میں ہر قسم کے فسادات ننانوے فیصد مذہب کیوجہ سے ہوتے ہیں ـ برائے مہربانی غور فرمائیں، کیا ضرورت ہے ایسے مذہبوں کی؟ ہر مذہب میں بہترین باتیں، نصیحتیں وغیرہ تاکہ آدمی ایک اچھا انسان بنے ـ مگر انسان بننے کے بجائے اپنے مذہب میں غرق ہوکر ایکدوسرے مذہب سے نفرت کیوں؟ اگر آپ نے کہہ دیا کہ آپ دوسرے مذہبوں کا احترام کرتے ہیں، تو میں اسے جھوٹ سمجھوں گا کیونکہ آپ تو ٹھہرے ایک کٹّر مذہب پسند تو بھلا آپ دوسرے مذہبوں اور انکی رسموں کا کیونکر احترام کریں گے ـ مذہب تو پاک ہے مگر آپکی مذہبی ذہنیت ایسی کہ دوسرے مذہبوں سے نفرت کرتے ہیں ـ میرے اِس جواب سے آپ کو ذرا بھی ٹھیس پہنچے تو معذرت چاہتا ہوں ـ
اور دوسرے تبصرے میں میرے متعلق آپ کے دونوں اندازے غلط ہیں ـ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ایسی تحریریں شہرت کیلئے لکھتا ہوں تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے ۔ میری حالیہ تحریروں کے علاوہ تمام گذشتہ تحریریں گواہ ہیں کہ میری ہر پوسٹ خود سے مخاطب جیسی ہوتی ہے ـ اور مجھے شہرت مقبولیت وغیرہ جیسی چیزیں بالکل پسند نہیں ـ اِس بلاگ پر اپنے خیالات اور روز مرّہ لکھ کر پوسٹ کرتا ہوں، میں یہ ذرا بھی نہیں سوچتا کہ لوگ میری تحریریں پڑھ کر کیا سمجھتے ہونگے کیونکہ یہ تحریریں اپنے لئے سوچ کر لکھتا ہوں ـ میرے والد کے علاوہ چند دوسرے دوست بھی اردو سے اچھی طرح واقف ہیں اور وہ سب روزانہ آن لائن بھی ہوتے ہیں مگر ابھی تک انہیں میرے اِس اردو بلاگ کا علم نہیں ـ

قدیر احمد :
بھائی صاحب، آپ نے ٹھیک کہا کہ ’’فائدہ نہیں‘‘ ـ میری آپ سے عاجزانہ گذارش ہے کہ آپ تھوڑی دیر کیلئے مذہب سے باہر آکر دیکھیں مگر آپ کو یہ قبول نہیں اور اسے شیطانی حرکت سمجھیں گے ـ صرف تھوڑی دیر کیلئے مذہب کو اپنے خیال سے نکال دیں، مجھے پوری امید ہے آپ اپنے وجود کو اچھی طرح جان جاؤگے ـ مگر اسطرح کرنا تو آپ کو ہرگز گوارا نہیں اور اسے گناہِ عظیم تصور کرتے ہیں ـ اپنے بلاگ پر یہ ضرور لکھوں گا کہ میری زندگی خوشگوار کیسے بنی ـ

ڈیئر فہد مرزا :
سب سے پہلے عمدہ تبصرے کیلئے میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں مانتا ہوں کہ اسلام طاقت کے زور پر نہیں بلکہ ایک امن پسند مذہب ہے اور اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ وہ دوسرے قوموں کا احترام کرے ـ

عالیجناب اجمل صاحب :
میں آپ کیلئے نیک خواہشات رکھتا ہوں کہ آپ صحت و عافیت کے ساتھ ایک اور سو سال تک سلامت رہیں ـ اور مانتا ہوں کہ میری اکثر تحریریں آپ کی سوچ کے خلاف ہیں ـ مجھے خوشی ہے کہ ہم اردو بلاگرز میں ایک نیک صفت بزرگ بھی ہیں اور وہ آپ ہی ہیں ـ آپکی اچھی باتیں اور نصیحتیں سر آنکھوں پر اور میں آپ کا احترام کرتا ہوں ـ

October 03, 2005 8:53 PM  
Blogger urdudaaN said...

شايد آپ نے ميرے دوسرے تبصرے سے smiley كو نظر انداز كرديا، معاف كريں جبكہ آپ كے جذبات كو ميں ٹھيس لگا چكا ھوں

اب آپ اور ھم، مذھبوں سے نيچے يا اوپر جاكر انا، لالچ، طاقت، تہذيب اور نسل و رنگ كى بات كريں تو بہتر ھوگا
يہاں ميں آپ كو بتلارھا ھوں، نہ كہ نصيحت۔
١۔ مذہبوں سے زياده تہذيبوں نے لڑايا هے
٢۔ حاليہ جانيں مذھبوں كيلئے نھيں، مادہ پرستى كى ھوس اور نسلوں كى انا كيلئے لڑى جارھى ھيں
٣۔ اگر مذھب لڑاتے تو ھم مذھب آپس ميں نہ لڑتے، مطلب انا لڑاتى ھے
٤۔ ھم مذھب ايك دوسرے كو اونچ نيچ نہ گردانتے اگر نسل و رنگ كى لعنت نہ ھوتى
٥۔ اور "سيكولرزم" بغير مذھب كے بے معنى چيز ھے جسے لامذھبوں نے اغوا كرليا ھے
٦۔ دوسرے مذھبوں كا احترام كرنے كيلئے كسى مذھب كا مطيع ھونا اشد ضرورى ھے ورنہ وه ايك كاغذى دعوىٰ ھوگا
٧۔ بہتيرے مذاھب دراصل تہذيبيں ھيں

خيــــر؛ آئيے اردو ھم سب كى منتظر ھے
شعيب آپ يوں ھى حسبِ معمول لكھتے رھيں۔ آخر يہ آپكا blog ھے جو آپ ھميں پڑھنے دے رھے ھيں، نہ كہ كوئى اخبار جس پر ھم اعتراض كريں۔

October 03, 2005 9:39 PM  
Anonymous SHUAIB said...

شکریہ جناب پرویز صاحب (اردو دان) اور معاف کرنا میں نے ابھی ابھی smiley دیکھا اور خوش ہوگیا، گستاخی معاف کریں ۔

October 03, 2005 10:16 PM  
Blogger میرا پاکستان said...

شعيب صاحب
آپ کي اس پوسٹ اور دوسرے دوستوں کي راۓ پڑھنے کے بعد ہم بھي اپنا نقطہ نظر پيش کرنے کي جسارت کررے ہيں۔
١۔ جتنے صاحبان نے آپ کو نصيحتيں کيں ان سے چند سوال کيجۓ۔
آپ کتنے باعمل مسلمان ہيں۔
آپ نے پانچ وقت کي نماز کب سے پڑھني شروع کي
کيا آپ مسلمان ہوتے کي ساري شرائط پوري کرتے ہيں اگر آپ اس امتحان ميں پورے اترے تو وصيحت کيجۓ وگرنہ پہلے اپنا محاسبہ کيجۓ۔
٢۔ انسان بھي گرگٹ کي چرح رنگ بدلتا ہے اور ضروري نہيں کہ جس کو آپ پسند کرتے ہيں اسکو ساري عمر آپ پسند کريں اور اس کو دوسرے لوگ بھي پسند کريں۔ آپ اس کو اسلۓ پسند کرتے ہيں کہ وہ آپ کا خيال رکھتا ہے اور آپ کا دل نہيں دکھاتا۔ جيسا کہ آپ نے اپنے ولديں کے بارے ميں لکھا ہے۔ مگر ابھي لگتا ہے آپ اپني جواني کے ابتدائي دور ميں ہيں اور جوں جوں وقت کي چکي ميں پستے جائيں گے آپ کے خيالات بدلتے جائيں گے۔ آج اگر آپ اپنے والديں کو پسند کرتے ہيں تو کل کو شادي کے بعد ہو سکتا ہے کہ آپ اپني بيوي کي طرفداري کرنے لگيں اور والدين آپ کو زہر لگنے لگيں۔ پھر ضروري نہيں کہ ساري اولاد اپنے والديں سے ايک جيسا لگاؤ رکھے۔ کوئي والدين کو زيادہ پيار کرے گا اور کوئي کم۔ ميرا خيال يہ ہے کہ ہم سب انسان ہيں اور سب مطلبي ہيں۔ آپ کو ہزاروں ميں ايک آدمي ملے گا جو بےلوث ہو گا۔ انسان کو اس کے رشتے سے نہيں پہچانو بلکہ اس کي شخصيت سے پہچانو۔۔

October 04, 2005 1:57 AM  
Blogger WiseSabre said...

آپ آرام سے دانت دیں گے یا پھر مجھے زبرھستی نکالنے پڑیں گے؟

رمضان مبارک ہو آپ کو

October 04, 2005 6:19 PM  
Blogger SHUAIB said...

میرا پاکستان :
آپکی آمد اور تبصرے کیلئے شکریہ ـ
واقعی ہم انسان چہروں سے جیسے بھی ہوں مگر مطلبی ہیں ـ میٹھی میٹھی باتیں، حسن و سلوک، ہمدردی، پیار و محبت پتہ نہیں اور کیا کیا انسان اپنے مطلب کیلئے استعمال کرتا ہے، دل میں کچھ منہ میں کچھ ـ کبھی کبھار دعوتوں میں ہندو اور مسلم ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں مگر انکے دلوں میں ایکدوسرے کیلئے سخت نفرت ہوتی ہے اور یہی حال اسلام میں موجود تمام فرقوں میں بھی ہے جسے ہم سب اچھی طرح محسوس کرتے ہیں ـ
آپ نے لکھا: انسان بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے (مگر یہ جملہ یوں ہونا چاہئے) گرگٹ بھی انسان کی طرح رنگ بدلتا ہے ـ

ثاقب :
آپ میرے منہ میں بیٹھ کر دانت نکالو ۔ رمضان آپ کو بھی مبارک

October 04, 2005 10:30 PM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters