Monday, November 14, 2005

گھبراؤ نہیں ـ 3

خدا سے ملو چین نے جھک کر آداب بجاتے ہوئے خدا کے دربار میں عرض کیا کہ اس نے تقریبا آٹھ لاکھ مرغیوں کو ہلاک کردیا ہے ـ خدا نے تعجب کا اظہار کیا بھلا یہ کونسا نیا ریکارڈ ہے جس کا مجھے علم ہی نہیں اور پھر امریکہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا کہ اچانک شیراک نے لقمہ دیدیا: آقا یہ کوئی ریکارڈ بنانے جیسا نہیں بلکہ نئی بیماری برڈ فلو سے بچنے کیلئے تمام ملکوں میں یہ ضروری ہوگیا کہ اپنی مرغیوں کو دیکھتے ہی ہلاک کر ڈالیں ـ اِس پر بلیئر نے شیراک کی ٹانگ کھینچی تم سے فرانس کے حالات سنبھالے نہیں جا رہے اور چلے لقمہ دینے؟ ہمیں دیکھو دوسرے ملکوں پر دندناتے ہوئے چلے جاتے ہیں پھر بھی ہماری شان ہے ـ بلیئر نے خدا کو سمجھاتے ہوئے بتایا: جس طرح انسانوں میں ایڈس جیسی بیماری ہے، اسی سے ملتی جلتی بیماری اب پرندوں میں آچکی ہے اور ہم نے اِس بیماری کا نام پیار سے ’’برڈ فلو‘‘ رکھا ہے لیکن اِس بیماری سے لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کا قوی امکان بھی ہے ـ اتنا سننا تھا کہ خدا چراغ پا ہوگیا پھر بلیئر سے مخاطب ہوا ـ ـ شرم، شرم، تمہارا مطلب ہے کہ انسانوں کو دیکھ کر اب پرندے بھی بدکاری میں پیش پیش ہیں؟ جبکہ ہم نے پرندوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تو بھلا وہ بدکاری کیونکر کریں گے؟ خدا نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: انسان اتنا ترقی کر چکا ہے کہ اس نے ایڈس، شوگر، کینسر اور پتہ نہیں کیسی کیسی بیماریاں ایجاد کرلیں اور مجھے شک ہے کہ کسی نے پرندوں کیساتھ بدفعلی کی ہوگی جس کی وجہ سے ایسی بیماری وجود میں آئی ـ میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ برڈ فلو بھی انسان کی ایجاد ہے اور بیچارے پرندوں کا اِس میں کوئی قصور نہیں ـ لوگوں نے خدا کی یہ باتیں سنیں اور شرم سے اپنے ناخن چبانے لگے ـ ـ جاری باقی پھر کبھی پہلا حصہ : گھبراؤ نہیں خدا سے ملو دوسرا حصہ : گھبراؤ نہیں خدا سے ملو .
Anonymous Kirdar said...

Although I believe in God but this work is really a piece of art. And you disclaimer on the blog, it is funny..do you mean to say that who ever is hurt by reading your blog is not "roshan khiyal"?

November 15, 2005 3:19 PM  
Anonymous SHUAIB said...

آپ کی آمد اور تبصرے کیلئے شکریہ ـ
بلاگ پر صرف ان لوگوں کیلئے نوٹس لگایا ہے جو میری تحریر پڑھتے ہی بھڑک جاتے ہیں پھر ایسا تبصرہ چھوڑ جاتے ہیں کہ مجھے مجبور ہوکر ہر بار معذرت خواہانہ جواب دینا پڑتا ہے حالانکہ اپنی تحریروں میں معذرت چاہنے جیسا لکھتا ہی نہیں پھر بھی دوسروں کے جذبات کے احترام میں بار بار معذرت چاہنا پڑتا ہے ـ ایک گذشتہ تبصرے میں بھی لکھ چکا ہوں کہ جاہلوں کو صرف پڑھنا معلوم ہے مگر سمجھتے وہی جو انکے دماغ میں آئے ـ
میری اسطرح کی تحریروں کو آپ نے آرٹ کہا، مجھے ابھی پتہ چلا کہ مجھ بھی ایک آرٹ ہے (;

November 15, 2005 10:33 PM  
Blogger Danial said...

شعیب تمہاری یہ سیریز بہت ہی دلچسپ اور خوبصورت ہے تم اسطرح زیادہ سے زیادہ لکھا کرو اردو کو تم جیسے نئے تخلیق کاروں کی ضرورت ہے۔ اپنے اس بلاگ کے دو گرافک ایڈ بنا کر مجھے ای میل کردو۔

size: width: 400 height: 110

November 16, 2005 4:51 PM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

خیرات
ٹی وی ریموٹ
جیکی چیان
گھبراؤ نہیں ـ ٢
جذبات سے چھیڑ چھاڑ
آج کی پوسٹ
اردو انیمیشن (مزید)
اردو انیمیشن
Gmail
امارات کی خبریں

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters