Cosmo Girl
Cosmopolitan
Fashion India - Beauty
Fashion Planet
Glamour
Harper's Bazaar
Live India.Com - Fashion & Models
Vogue
British Council - India
Consulate General of India - Toronto
Consulate General of India - Frankfurt
Consulate General of India - Sydney
High Commission of India - Brunei
High Commission of India - Tanzania
High Commission of India - London
High Commission of India - Singapore
Indian Consulate - Johannesburg
Indian - American
UK - Indian
US consulate - Mumbai
Capital Market - Stock Market
Business Today
Business Standard
Economic Times
Financial Express
Commercenet India
Trade India
India Vibes Online
Sourcing Hardware
Bharti - Telecom
Bharat Sanchar Nigam Ltd.
BPL - Mobile
Cellular Service Providers
Cellular Operator Association of India
Ericsson India Private Limited
Hutch India
India-Cellular.com
Inca Informatics Pvt. Ltd.
Primus Telecommunications
Panasonic Mobile - India
Reliance Infocomm
Spice Telecom
posted by Shuaib at 4:12 PM
![]()
|
آپ کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں کہ میری اس تحریر کو صحیح نظریے سے پڑھا پھر بہت ہی اچھے انداز سے تبصرہ بھی لکھا ـ
میں ہمیشہ کچھ اسی قسم کی تحریریں لکھنا پسند کرتا ہوں جبکہ میری گذشتہ کارٹون والی پوسٹ جو صرف ایک خبر تھی جسے میں نے اپنے بلاگ پر نمایاں کر دیا تھا، مگر پڑھنے والوں میں سے ایک جاہل اور کند ذہن شخص جس نے ابھی ایک ہفتہ پہلے بلاگ لکھنا شروع کیا ہے، یہاں میرے بلاگ پر گھٹیا انداز میں تبصرہ کیا پھر اس نے اپنے بلاگ پر بھی میرے خلاف پوسٹ لکھی (اگر وہ ایک باپ کی اولاد ہوتا تو ایسا ہرگز نہیں لکھتا) (آپ سے معذرت) ـ ـ ـ میں نے بلاگ کی شروعات اخبار کے مضامین لکھ کر کیا تھا پھر بعد میں سمجھ آئی کہ بلاگ تو اپنے خیالات کو لکھنے کی جگہ ہے اور میرے اِن خیالات کو وہی لوگ پھیلا رہے ہیں جو یہ بلاگ پڑھتے ہیں ـ
(میرا پاکستان):
میں آپ کو ایک باشعور اور اچھے خیالات کا انسان مانتا ہوں اور آپکی تحریروں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ آپ اپنی قوم کیلئے ہمیشہ بہترین باتیں لکھتے آرہے ہیں ـ اور میں یہ بھی سمجھ سکتا ہوں کہ آپ پچھلے کئی مہینوں سے میرا یہ بلاگ بھی پڑھتے رہے ہیں ـ کیا آپ نے کبھی میرے بلاگ پر کوئی ایسی تحریر پڑھی جس میں میں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک لفظ بھی لکھا ہو؟ حالانکہ میں کھلے طور سے مذہبوں پر طنز کرتا آ رہا ہوں، پچھلے دو سالوں کی تحریریں اِس بلاگ پر آج بھی جوں کی توں موجود ہیں اگر تمام تحریروں پر نظر ثانی کریں تو آپ کو کہیں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک جملہ بھی نہیں ملے گا ـ میرا اندازِ بیاں کچھ اور ہے مگر تعجب ہے کہ جاہلوں کو بھی پڑھنا آتا ہے کاش انکی سمجھ میں بھی کچھ آجاتا اور افسوس کئی ایسے ہیں جو باقاعدہ تعلیم یافتہ جاہل ہوتے ہیں ـ
اسکے بعد بھی مختلف قسم کی تحریریں لکھتا رہوں گا جو جاہلوں کی سمجھ سے باہر ہونگی اور وہ میری تحریریں پڑھ کر واویلا بھی مچائیں گے لیکن ان میں اتنی ہمّت نہیں ہوگی کہ وہ میرا ایک بال بھی اکھاڑ سکیں ـ آخر میں ایک ضروری بات بھی لکھ دیتا ہوں کہ میں نے کبھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نہیں لکھا اور آئندہ بھی نہیں لکھوں گا ـ
(اگر اس تبصرے میں کسی جملے سے آپ کو ٹھیس پہنچتی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں)
گالی دینا انتہائی برا فعل ہے اور یہ وہی کرتے ہیں جن سے خود کچھ نہیں بن پاتا، البتہ تعمیری تنقید کی جا سکتی ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ اردو بلاگرز کا اتفاق و اتحاد قائم رہے اور تعمیری تنقید کر کے ایک دوسرے کے خیالات و جذبات کو ابھارتے رہیں ۔ آمین
(نوٹ ۔ آپ کا بلاگ فائرفاکس پر اوپن نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہے)
آپ نے لکھا ’’یہ قبول کے ساتھ ٹ پتا نہیں کیسے لگ گئی‘‘
ٹ سے ٹکاؤ ہے مگر کہیں بھی نہیں ٹکتی (مذاق)
میں نے اردو لکھنا پڑھنا اپنے گھر میں سیکھا تھا، شکر ہے آپ کی اردو میری سمجھ میں آگئی ـ لیکن تعجب ہے کہ آپ نے صرف دو جماعت پڑھیں پھر بھی اپنے بلاگ پر بہترین انداز میں اردو کیسے لکھ لیتے ہیں (; آپ جھوٹ کہتے ہیں کہ صرف دو جماعتیں پڑھیں، جبکہ آپ خود اپنے بلاگ کے کسی پوسٹ میں لکھ چکے تھے ـ ـ ـ مجھے یاد پڑ رہا ہے، شاید آپ نے BSc لکھا تھا ـ کیا میں نے صحیح لکھا؟
آپ کی یاد داشت قابل تعریف ہے، ذرا بتائیے کہ میں نے اپنے بلاگ پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف (خبروں کو چھوڑ کر) کبھی کچھ لکھا ہے؟
منیر احمد طاہر :
جناب آپ کے تبصرے اور نیک مشوروں کیلئے بے حد ممنون ہوں، شکر ہے اردو بلاگرز میں باشعور اور ترقی پسند افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ـ یہ میری انسانیت ہے کہ میں دوسروں کے جذبات کا احترام کرتا ہوں، میرا بلاگ ایم ایس ایکسپلولر اور اوپرا میں صاف دکھائی دیتا ہے اور ابھی تک مجھے پتہ نہیں کہ فائر فاکس میں کیوں نظر نہیں آتا ـ مجھے بہت خوشی ہوگی آپ کا اور میرا ساتھ ہمیشہ بنا رہے ـ