جیکی چیان
The Myth کے مرکزی اداکار :
جیکی چیان، کم ہیی سیون، ٹونی لونگ کفائی اور ملیکا شیراوت
پروڈکشن ڈیزائنر:
اولیور وانگ
کاسٹیوم ڈیزائنر:
تھاماس چونگ
موسیقی:
نتھان وانگ
ڈائرکٹر آف فوٹو گرافی:
وانگ ونگ ہانگ (H.K.S.E)
ترمیم و ترتیب:
یاؤ چی وائی (H.K.S.E)
سٹنٹ ڈائرکٹرس:
جیکی چیان، اسٹانلی ٹونگ اور رچرڈ ہونگ
ایکزیکیوٹو پروڈیوسرس:
جیکی چیان، البرٹ یونگ، ویللی چیان اور یانگ بوٹنگ
پروڈیوسرس:
ویللی چیان، سولون سو اور باربی ٹونگ
کہانی اور ڈائریکشن:
اسٹانلی ٹونگ
بچپن میں وہ اپنے پسندیدہ ہیرو ’’بروسلی‘‘ کی فلم دیکھنے کیلئے ماں سے پیسے کی ضد کر رہا تھا، پیسے نہیں ملے تو وہ الٹا کھڑا ہوگیا اور تب تک کھڑا رہا جب تک اسے پیسے نہیں دیدئیے ـ جیکی چیان خود کہتا ہے: ’’اپنے کو ایذا پہنچانے سے بڑی سزا یہ ہے کہ اپنی تکلیفوں سے دوسروں کو اذیت پہنچائی جائے، اِس سے قدرت کا توازن بنا رہتا ہے ـ اسلئے اکثر میں بھوکا رہتا ہوں، جب لوگ یہ کہنے لگیں کہ اب کھالو ورنہ مرجاؤ گے ـ ویسے میں ایک وقت میں دو مرغ اور ایک درجن انڈے کھا کر دو لیٹر دودھ پی سکتا ہوں اور پانچ چھ گھنٹے کی کسرت سے اسے ہضم بھی کرسکتا ہوں ـ‘‘ ہانگ کانگ میں فرانسیسی سفیر کا آسٹریلیا تبادلہ ہوگیا اور وہ اپنے نوکروں کے ساتھ انکے بچے سانگ (جیکی) کو بھی ساتھ لے گیا ـ
پہلا عشق
سانگ کی پہلی محبوبہ اِس سے عمر میں پانچ سال بڑی تھی، وہ اسکول میں سینئر تھی ـ یہ بھی عام رومانی کہانیوں کی طرح ہے، سانگ سائیکل پر گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگ ایک لڑکی کو چھیڑ رہے تھے اور اسکے ساتھ زور زبردستی بھی کر رہے تھے ـ پھر سانگ نے سائیکل کو ہتھیار بنایا اور سب کو مار بھگایا، سائیکل ٹوٹ کر بکھر گئی اور سانگ کے پاؤں کی ایک ہڈی بھی ٹوٹ گئی ـ اس لڑکی نے سانگ کو نئی سائیکل خرید کر دی اور پھر دونوں میں دوستی ہوگئی ـ جیکی ہر وقت تنگ دست اور پریشان رہتا تھا اسکے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا ـ اسی دوران اس نے اپنی محبوبہ کو ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پر مدعو کیا، بِل دینے کا موقع آیا تو سانگ نے ویٹروں سے مار پیٹ کرتے ہوئے حوالات پہنچ گیا ـ یہ اسکی پہلی محبت کا آخری دن تھا ـ ویسے بعد میں جیکی نے وہ ریسٹورنٹ ہی خریدلیا اور اسے اسی حالت میں رکھا جیسے وہ پہلے تھا ـ سال میں دو بار (سانگ اور اسکی محبوبہ کی سالگرہ کے دن) وہاں دعوت عام ہوتی ہے، جیکی نے اپنی بیٹی کا نام بھی اسی محبوبہ کے نام پر رکھا ہے ـ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیکی نے اپنے کسی انٹرویو، ڈائری اور کتاب میں اپنی محبوبہ کا اصلی نام نہیں بتایا، وہ پیار سے اسے شینڈی کہتا تھا ـ




میں جیکی کے نام پر لاعلمی کے تحت تبصرہ نہیں کرسکتا کہ وہ چَین ھے یا چَیان، البتّہ چَن میری ناقص رائے میں بہتر ھے۔
لیکن مجھے لگتا ھے کہ ملیکا در اصل مَلِکَہ ھونا چاھئے تھا۔
دوسرے قابلِ ذکر نام ھیں آفتاب، عائشہ، نغمہ۔ بھلے ھی لوگ ف غ یا ع صحیح نہ بولتے ھوں، ھم اور آپ پر یہ ذمّہ داری عائد ھوتی ھے۔ پھرآپ کو یہ ذمّہ داری خود ساختہ ھی کیوں نہ لگے :)
دوسری بات آپ کے "پاپ/پوپ اَپ" سے متعلق
وہ بس اتنی کہ جسطرح ھم طبّی رائے کیلئے طبیب اور ادب کیلئے ادیب سے رجوع کرتے ھیں، مذاہب کیلئے ملّا یا پنڈت نہ سہی کم از کم مذہب شناس کی رائے ھی بہتر ھوگی۔
ھم اور آپ اس میں نہ ھی پڑیں تو بہتر ھوگا۔ آپ بھی مانیں گے کہ ادیب سے طبّی نسخہ لینے کا کیا حشر ھوگا۔
آپ نے خود کو روشن خیال کہہ کر مجھے دقیانوسی ھونے کا شدید احساس دِلایا ھے۔ :)
بہت اچھا لگا
جیکی کی تقریباََ تمام فلموں کا علم تو ہے مگر اس کے حالاتِ زندگی کے بارے میں اتنا پتا نہیں تھا