Monday, November 21, 2005

زلزلہ

سائنس اور مذہبی نقطہ نظر سے زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے بارے میں ایک مقدمہ مذہب کے تناظر میں قائم کیا گیا ہے ـ دوسرا مقدمہ وہ ہے جسے ہم غیر مذہبی کہہ سکتے ہیں ـ اسکے تحت معاملے کی سائنسی توجیہہ کی جاتی ہے ـ اس سے یہ مراد لینا صحیح نہیں ہوگا کہ مذہب سائنسی تاویل کی نفی کرتا ہے ـ دونوں کے باہمی تعلق کی وضاحت میں آگے چل کر کروں گا ـ اہلِ مذہب کا بالعموم یہ کہنا ہے کہ اِن واقعات کی نوعیت اللہ کے عذاب کی ہے جو قوموں پر احکام الہی سے عمومی رو گردانی کے نتیجے میں نازل ہوتا ہے ـ گویا یہ لوگ معاملے کی ما بعد الطبیعیاتی تعبیر پر یقین رکھتے ہیں ـ غیر مذہبی نقطہ نظر یہ ہے کہ اِن واقعات کو انسان کے مشاہدے اور تجربے کی مدد سے طبیعی اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہئیے ـ یہ زمین کی تہہ میں آنے والی بعض تبدیلیاں ہیں جو زلزلہ برپا کرتی ہیں یا موسمی تبدیلیاں ہیں جو بارش میں شدت لاتی ہیں اور اسے طوفان بنا دیتی ہیں ـ انکا کوئی تعلق انسان کے اخلاقی رویے یا احکام الہی سے انحراف کے ساتھ نہیں ہے ـ غیر مذہبی تعبیر اس ضمن میں جو دلائل دیتی ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
  • زلزلے انسان کے وجود میں آنے سے پہلے بھی زمین پر کثرت کے ساتھ آچکے تھے، اسلئے انہیں انسانی اعمال سے منسوب کرنا درست نہیں ہے ـ
  • دوسرے یہ کہ انسان آج زمین کے ایک بڑے حصے پر آباد ہے لیکن زلزلے مخصوص علاقوں میں زیادہ آتے ہیں جن کا تعین کیا جاچکا ہے ـ اگر ان کا تعلق انسانی اعمال کے ساتھ ہوتا تو پھر انہیں انسانی آبادیوں سے زیادہ نسبت ہونی چاہئے نہ کہ جغرافیہ سے ـ
  • تیسرے یہ کہ انسانی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو زلزلے جیسے حادثات سے بڑی حد تک بچ سکتا ہے ـ جاپان اور کیلی فورنیا وغیرہ میں مکانات کے جو ڈیزائن اختیار کئے گئے ہیں اور جس طرح کا سامان تعمیر استعمال کیا جارہا ہے اس سے نقصانات کی شدّت کو بہت کم کردیا گیا ہے اور مستقبل میں ظاہر ہے کہ یہ مزید کم ہوجائیں گے کیونکہ تحقیق کا عمل جاری ہے ـ عذاب کے بارے میں مذہب کا مقدمہ یہ ہے کہ جب وہ آجاتا ہے تو انسانی کوشش اس سے بچا سکتی ہے نہ اس میں تخفیف کرسکتی ہے ـ انسان کا تجربہ اس کی تائید نہیں کرتا جیسا کہ جاپان کے معاملے سے واضح ہے ـ
  • چوتھے یہ کہ عذاب مجرموں کیلئے ہوتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی علاقے میں زلزلہ آتا ہے تو نیک و بد بلا امتیاز اس کی زد میں ہوتے ہیں ـ اس کا مطلب یہ ہے کہ اِن واقعات کا محرک کوئی حکیم ذات نہیں بلکہ وہ بے رحم طبیعیاتی قوانین ہیں جو معاملات کی اخلاقی تعبیر پر یقین نہیں رکھتے ـ اہلِ مذہب کی طرف سے اس کا عمومی جواب یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں کئی ایسی اقوام کا ذکر ہے جنہوں نے احکام الہی سے رو گردانی کی روش اختیار کی اور اس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا ـ بظاہر یہ ایک مضبوط دلیل ہے لیکن اس میں دو مسائل ہیں:
  • ایک تو یہ کہ اس نوعیت کی دلیل کسی ایسے فرد ہی کو قائل کرسکتی ہے جو اس دین کو مانتا ہے جو مذہبی فکری ڈھانچے ہی کو تسلیم نہیں کرتا یہ دلیل ظاہر ہے کہ اسے قائل نہیں کرسکتی ـ
  • دوسرا یہ کہ جو دین کو مانتا ہے وہ بھی یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اس تاویل میں بعض امور وہ ہیں جو خود مذہب کے بنیادی تصورات سے متصادم ہیں ـ مثال کے طور پر خدا کی کتاب یہ کہتی ہے کہ عذاب مجرموں کے لئے ہوتا ہے تو پھر نیک لوگ یا معصوم بچے اس کی زد میں کیوں آتے ہیں؟ اللہ تعالی کی صفت عدل اور ان واقعات میں تطبیق کیسے پیدا کی جائے گی ـ یا پھر یہ اعتراض کہ جو لوگ اعلانیہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں وہ پوری طرح محفوظ ہیں بلکہ انسان مجبور ہیں کہ ان زلزلوں کے اثرات سے بچنے کے لئے ان کی ٹیکنالوجی اور مادی امداد سے استفادہ کریں ـ میرا کہنا یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات بہت بنیادی ہیں اور اگر مذہب کو اپنا مقدمہ جیتنا ہے تو پھر اسے ان کے ایسے جوابات دینے ہوں گے جو انسانی ذہن کو مطمئن کرسکیں ـ میرے نزدیک اس باب میں تین باتیں ایسی ہیں جنہیں پیش نظر رکھے بغیر مذہب کے مقدمے کو ثابت کرنا آسان نہیں ـ
  • پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہب بحیثیت مجموعی زندگی کی جو تعبیر اختیار کرتا ہے جس میں آخرت کا تصور بھی لازما شامل ہے اسے عقلی سطح پر ایک حقیقت بنا دیا جائے ـ میرے نزدیک انسان کی زندگی میں جو تضادات موجود ہیں ان کی کوئی توجیہہ آخرت کو مانے بغیر ممکن نہیں ہے ـ مذہب اگر یہ بات ثابت کردیتا ہے تو پھر اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ان تمام مقدمات کو ماننا پڑے گا جو مذہب نے قائم کئے ہیں اور جو مابعد الطبیعاتی ہیں ـ
  • دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ آیات الہی کی جو تاویل کی جارہی ہے کیا وہ مذہب کے مقدمے کو صحیح طور پر بیان کر رہی ہے ـ یہ ممکن ہے کہ آج جو اعتراضات اٹھ رہے ہوں اس کا تعلق مذہب کی اصل تعلیمات سے نہیں بلکہ اس تاویل سے ہو جو انسانی فکر کا نتیجہ ہے ـ لہذا اس سوال پر غور کیا جانا چاہئے کہ قرآن مجید کیا عذاب الہی کا کوئی باضابطہ قانون بیان کرتا ہے؟ اور اگر کرتا ہے تو اس کا اطلاق تاریخی واقعات پر کیسے ہوگا اور اس کی روشنی میں عصری حادثات کی کیا تعبیر ممکن ہے ـ
  • تیسری بات یہ ہے کہ کیا سائنس اور مذہب دونوں کا میدان ایک ہے؟ اگر ہم یہ ثابت کردیں کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے متصادم نہیں ہیں بلکہ دونوں کا دائرہ عمل ایک دوسرے سے مختلف ہے تو پھر وہ اعتراض باقی نہیں رہتا جو مذہب پر کیا جارہا ہے ـ سائنس دریافت کا نام ہے نہ کہ تخلیق کا، سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں مختلف واقعات کیسے پیش آتے ہیں ـ یہ بات کبھی سائنس کا موضوع نہیں رہی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، مثال کے طور پر ایک سائنس داں یہ تو بتا سکتا ہے کہ زلزلہ زمینی پلیٹوں کی حرکت سے آتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ حرکت کون دیتا ہے اور وہ اس سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے مگر سائنس اس سوال سے بحث نہیں کرتی ـ جیسے ہی ایک سائنسداں اس سوال کو موضوع بناتا ہے وہ سائنس کے دائرے سے نکل کر فلسفے کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے ـ گویا اگر یہ ثابت کردیا جائے کہ زلزلے اور اس نوعیت کے واقعات کی سائنسی توجیہہ کو مانتے ہوئے بھی مذہب کے مقدمے کی نفی نہیں ہوتی اور اس کو تسلیم کرنے سے سائنس کے مقدمے کی نفی لازم نہیں ہے تو پھر وہ تصادم باقی نہیں رہتا جو مذکورہ بالا سوالات کے حوالے سے اٹھتا ہے ـ پھر واقعات کی سائنسی توجیہہ کو مان کر بھی مذہب کا مقدمہ ثابت کیا جاسکتا ہے ـ یعنی ہم ایک معاملے کی طبیعاتی اور مابعد الطبیعاتی دونوں پہلوؤں کو ساتھ ساتھ رکھ کر دیکھ سکتے ہیں ـ لہذا سائنس اور مذہب دونوں کے اعمال ایک طرح سے پہلو بہ پہلو یعنی باہم متوازی جاری رہتے ہیں ـ میرا خیال یہ ہے کہ اِن تینوں باتوں کو بیک وقت پیش نظر رکھ کر ہی آج مذہب کا مقدمہ ثابت کیا جاسکتا ہے ـ اِن میں سے کسی ایک کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ـ مثال کے طور پر ایسے تمام واقعات کو عذاب قرار دینے سے دینی تعلیمات کا جو تضاد سامنے آتا ہے اس کا جواب مذہب کی روایتی تعبیر سے ہٹ کر ہی دیا جاسکتا ہے ـ اسی طرح مذہب اور سائنس کو ایک قرار دینے سے یا مذہب کی تائید میں نئی سائنسی دریافتوں سے دلائل تلاش کرنے کے بھی بعض سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے ـ اہلِ مذہب اس فکری چیلنج سے کس طرح عہد بر آ ہوتے ہیں اس کا اندازہ آنے والے دنوں ہی میں ہوسکے گا ـ تحریر : خورشید ندیم شکریہ روز نامہ انقلاب ممبئی
  • Blogger محمد شمیل قریشیShameel Qureshi said...

    آپ پر سلامتی ہو ۔

    ماشاء اللہ ، عمدہ لکھا ہے ۔میں آپ کے خیال سے صد فیصد اتفاق کرتا ہوں ۔ مولوی صاحبان کی اس سائنس دشمنی نے ہماری کالونی میں بھی عزاب ڈھایا ۔ وہ اس طرح کہ جمہ کے ایک ختبہ میں سائنسی معلومات دیتے ہوۓ کہا گیا " انگریز غلط کہتے ہیں کہ وہ چاند پر پہنچے گۓ ہیں ۔ بھلا آپ بتائیں۔۔۔۔اگر انگریز کی چاند گاڑی پہلی رات کے چاند پر اترتی تو چاند کے پتلے ہونے کے سبب پھسل نہ گئی ہوتی ۔۔۔۔؟ " ۔

    November 22, 2005 2:58 PM  
    Blogger میرا پاکستان said...

    ہم ہميشہ کہا کرتے ہيں کہ کسي مقدمے کا انصاف پر مبني فيصلہ تبھي ہوتا ہے جب دونوں فريقين کي بات سني گئ ہو۔ يہاں آپ نے سائيس کي تحرير ڈھونڈ کر پوسٹ کرکے اپنا نقطہ نظر پيش کرديا اب آپ مزہب کو بھي موقعہ ديں اور اس کي دليل بھي کہيں سے ڈھونڈڈ کر شائع کريں۔
    شائد اس سلسلے ميں اجمل بھوپال صاحب کچھ مدد کرسکيں۔

    November 22, 2005 5:13 PM  
    Blogger urdudaaN said...

    اللّہ کی قدرت ھی دراصل سائنس ھے۔
    بھلا ایک مُشرک زمین میں دانہ ڈالے اور ایک صاحبِ ایمان بھی تو جہاں حالات ذیادہ سازگار ھوں وہیں پیداوار عمدہ ھوگی نہ کہ جس کا ایمان بہتر ھو۔
    اسی طرح اگر زنا کیا جائے تو اُس کے نتیجے میں بھی وہی معصوم صورت پیدا ھوگی جو باضابطہ شادی کے نتیجہ میں ھوگی۔
    سوال یہ اٹھتا ھے کہ اگر زنا اللّہ کی نزدیک اتنا مکروہ عمل ھے تو وہ اس سے اولاد پیدا ھی کیوں ھونے دیتا ھے۔ اور اگر شرک ناقابلِ معافی ھے تو مشرک کا بویا ھوا دانہ ضائع کیوں نہیں ھوجاتا۔
    جواب یہ ھیکہ اللّہ نے اسکی قدرت کے ضابطے بنائے ھیں، جن میں اعتقاد کو کوئی عمل دخل اس نے جان کر نہیں رکھّا ھے، ھم اسی لئے اپنے اعمال کی سزا پائینگے۔

    زلزلہ کی وجوہات لامذہب کہیں گے سائنسی ہیں اور کسی خدا کا کوئی ہاتھ نہیں۔ مذہبی مسلمان کہیں گے اللہ کا قہر ھے۔
    میری رائے میں یہ اللّہ کی مرضی ھے۔ اور وہ ایسے "حالات" بناتا ھے کہ زلزلہ وقوع پذیر ھو، کیونکہ وہ کچھ غیر معمولی نہ کرتے ھوئے اپنی قدرت کے ضابطہ سے کام لیتا ھے۔
    اللّہ نے کیوں ایسے حالات پیدا کیے کہ اتنا جانی نقصان ھو؟ کیا اسے اب انسانوں سے ٧٠ ماؤں کی محبّت نہ رہی؟ جواب یہ ھوسکتا ھےکہ کیا ھماری ماں ھماری غلطیوں پر کسی تعصّب کی بناء پر سزا دیتی ھے۔

    سائنس مذہب سے اسلئے دور محسوس ھوتی ھے کیونکہ سائنسدانوں کو سب سے پہلے مذہب کو خیر باد کہنا پڑتا ھے۔
    کیا وہ سائنس نہیں مانی جاتی تھی جب یہ کہہ دیا گیا تھا کہ انسان بندر سے بنا ھے۔ جب میں نے یہ سنا تو پہلا سوال یہ کیا تھا کہ بندروں میں نر و مادہ میں بالوں کی تعداد میں وہ فرق نہیں ھوتا جو مرد و عورت میں ھوتا ھے۔ ارتقاء نے عورتوں پر ظلم کیا یا مردوں کو نظر انداز کردیا؟
    اگر اسلام میں اتنا بڑی خامی پائی جاتی تو ردّی کی ٹوکری کی نظر ھوجاتا۔ لیکن انسان اپنائیت سے اپنی سائنس کو بچاتا اور اسے سنوارتا آیا ھے جبکہ مذاہب کے تئیں رویّہ اسکے برعکس رھا ھے۔

    November 22, 2005 9:26 PM  
    Blogger SHUAIB said...

    (میرا پاکستان):
    آپ نے صحیح فرمایا لیکن مجھے ایسی تحریریں بہت پسند ہیں جہاں پر سائنس مذہب پر حاوی ہوجائے ـ شکر ہے اجمل بھوپال صاحب کی نظر ابھی تک اِس تحریر پر نہیں پڑی ورنہ وہ مذہب کا مقدمہ جتانے کیلئے انکے بلاگ پر سلسلہ وار تحریر شروع کردیں گے (; (مذاق)

    اردو دان :
    بہترین تبصرے کیلئے آپ کا شکریہ ـ

    November 22, 2005 10:18 PM  

    Post a Comment

    ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
    First Urdu Blog from India

    IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

    حالیہ تحریریں

    فقیرانہ تحفہ
    نئی باتیں / نئی سوچ
    سیّارہ پر آخری پوسٹ
    گھبراؤ نہیں ـ 3
    خیرات
    ٹی وی ریموٹ
    جیکی چیان
    گھبراؤ نہیں ـ ٢
    جذبات سے چھیڑ چھاڑ
    آج کی پوسٹ

    Hindi Blog

    Urdu Graphic Blog

    Motion Blog

    Powered by ShoutJax

    Counters