نئی باتیں / نئی سوچ

Saturday, December 24, 2005

میرے شہر سے مختصرات

چلتی کاروں میں ڈی ڈی نیوز یکم جنوری 2006 سے دہلی، چنئی، ممبئی اور بنگلور کے لوگ چلتی کاروں میں ڈی ڈی نیوز دیکھ سکیں گے ـ اس کیلئے انہیں اپنی گاڑی پر ایک خصوصی انٹینا نصب کرنا ہوگا جو ڈیجیٹل ٹرانسمیشن کرسکے اور یہ 12 وولٹ کی DC بیٹری سے چلے گا ـ عام طور پر 50 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلہ میں 35 کلو میٹر کی رینج کے اندر اچھی تصویر نظر آئے گی ـ دور درشن فی الحال دہلی، چنئی، ممبئی، بنگلور اور کولکتہ سے DTTS کے ذریعہ ٹرانسمیشن چلاتا ہے ـ دور درشن کے پانچوں چینل DD نیوز، DD اسپورٹس، DD انڈیا کے علاوہ ریجنل سروس پرسار بھارتی نے اس زمینی ٹرانسمیشن DTTS کو موبائل Reception میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ـ فی الحال یہ صرف DD (دور درشن) نیوز کیلئے ہوگا ـ اب صرف چند ہی مہینوں کے اندر تمام موبائل صارفین بھی اپنے موبائل سیٹ پر دور درشن کے پانچوں ٹیلیویژن چینل دیکھ سکیں گے اور گذشتہ روز ہندوستان کا انساٹ 4A کو خلاء میں بھیجنا بھی اسی کی ایک کڑی میں شامل ہے البتہ یہ ابھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اِن ٹیلیویژن چینلوں کو ریسیو کرنے کیلئے موبائل فون میں کسطرح کی خصوصیات ہونی چاہئیں ـ سروے میں دیکھا گیا ہے نیوز چینل کی تصویر اچھی آتی ہے تاہم فلک بوس عمارتوں کے نزدیک، تنگ گلیوں اور رش والے چوراہوں پر تصویر میں گڑبڑ ہوتی ہے ـ کال سنٹر گرل (کال گرل)؟ کال (سنٹر) گرلز اور کال گرلز میں جبکہ نمایاں فرق ہے، کال گرل تو دھندے والی لڑکیوں کو کہا جاتا ہے جب کہ کال سنٹر گرل وہ لڑکیاں اور عورتیں ہیں جو رات کے اندھیرے میں BPO کمپنیوں کے کال سنٹرس میں کام کرتی ہیں اور یہاں کام کرنے والی عورتوں اور لڑکیوں کیلئے زیادہ تر رات ہی کی ڈیوٹی پر لیا جاتا ہے ـ مشہور امریکی کمپنی Hewlett-Packard گلوبل اپلیکیشن سرویس ڈیسک نامی کمپنی کے کال سنٹر میں کام کرنے والی بیاہتا عورت کا قتل اِس عورت کو روزانہ دفتر پہنچانے والے وین ڈرائیور کے ہاتھوں ہوا تھا ـ چوبیس سالہ پرتیبھا شری کنٹ مورتی کا اغوا، عصمت دری اور پھر قتل کرنے والا قاتل کوئی اجنبی نہیں بلکہ اسے کام کی جگہ پہنچانے والا وین ڈرائیور ہے ـ اس بہیمانہ قتل کے بعد شہر بنگلور کے کال سنٹرس میں کام کرنیوالی لڑکیاں اور انکے والدین کافی پریشان دکھائی دے رہے ہیں اسکے علاوہ عام شہری بھی اس معاملہ پر شدید غصّے کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی کے دفتر کے سامنے پرزور احتجاج کیا کہ یہ شہر صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی یا ہائی ٹیک کمپنیوں اور کال سنٹر والوں کا نہیں بلکہ یہاں غریب اور درمیانی طبقے کے افراد بھی بستے ہیں ـ اِس قتل کی خبر کے بعد وزیراعلی دھرم سنگھ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس مسٹر سیال کو بھی میڈیا کے آگے جواب دینا پڑا، اِس قتل کی واردات سے نہ صرف بنگلور شہر میں بلکہ ریاست اور ملک بھر میں بھی اِس واقعہ کو اچھالا جا رہا ہے ـ شہر کی ہائی ٹیک کمپنیوں میں آدھی رات گئے وہی لڑکیاں کام کرتی ہیں جو مجبور ہوں یا ضرورت سے زیادہ آزاد خیال کی ہونگی یا پھر ہمّت والی لڑکیاں ـ میڈیا والوں نے اِس قتل کیلئے شہر کے پولیس کشمنر کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی ہے جو کہ بچکانہ ہے، پولیس کمشنر آدھی رات گئے ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنے ہر ایک کے گھر تک تو نہیں پہنچ سکتے؟ خفیہ کیمروں کا شہر محکمہ پولیس نے پہلے صرف چند مخصوص علاقوں میں خفیہ کیمرے لگا رکھے تھے مگر گذشتہ ماہ سے شہر کے سبھی علاقوں میں خفیہ کیمرے لگانے کی مہم شروع ہوگئی ہے ـ ہمارے گھر کے قریب چوراہے پر بھی کیمرے نصب کر دیئے گئے ہیں، اب مجھے سر جھکاکر شریفوں کی طرح آنا جانا ہے ـ خیر، میں اتنا بھی زیادہ شریف نہیں پڑوس کے سبھی عمارتوں اور فلیٹوں میں خوبصورت پریاں رہتی ہیں ـ اسکے علاوہ شہر سے باہر نکلنے والے سبھی ہائی ویز پر راڈار بھی نصب ہیں جو حادثوں اور غلط طریقے سے ڈرائیو کرنے والوں پر نظر رکھیں گے ـ شہر بھر میں اسوقت تقریبا دیڑھ لاکھ انفارمیشن ٹیکنالوجیز کی کمپنیاں فعال ہیں اور انکی تعداد دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی کمپنیاں بھی ہیں ـ شہر پر بھر پور نظر رکھنے کیلئے محکمہ پولیس نے اِن خفیہ کیمروں کی مہم لگا رکھی ہے ـ سوریہ کاریں یعنی سورج کی شعاعوں سے چلنے والی کاریں آجکل یہاں گلیوں میں گھوم رہی ہیں اور اکثر اسکول کالج کی طالبات میں پہلی خواہش یہی وہ کار ہے چونکہ یہ ایک ہلکی پھلکی اور آٹومیٹک گیئر والی ٹو سیٹر کار ہے ـ چند سال قبل اِس کار کو شہر کی رامیّا کالج کے طالبعلموں نے تیار کیا تھا جو سورج کی شعاعوں سے دوڑتی ہے علاوہ اس میں موجود طاقتور بیٹری کو ایک بار چارج کرلینے سے دو دنوں تک آرام سے بھاگتی ہے اور اسکی قیمت بھی بہت کم ہے ـ گھروں سے شکایت ہے کہ پیٹرول کی بچت تو ہوگئی مگر بجلی کا بل سر چڑھ کر بول رہا ہے ـ گوگل بنگلور ـ روز گار کے مواقع چند سال قبل گوگل والوں نے گوگل انڈیا کے نام سے دو دفاتر ایک حیدرآباد دوسرا بنگلور میں قائم کیا تھا اب چونکہ بنگلور میں گوگل کا دفتر کچھ زیادہ ہی فعال ہوچکا ہے فی الحال یہاں بنگلور آئی ٹی میں جاب کے متلاشیوں کیلئے سنہری مواقع دستیاب ہیں اور گوگل کی جاب سائٹ پر بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے ـ ٹیلیویژن چینلوں کی بھرمار اسوقت گھر کے کیبل سے ریسیو ہونے والے ٹیلیویژن چینلوں کی تعداد تقریبا آٹھ سو سے تجاوز کرگئی ہے اور اِن میں چار سو سے زیادہ صرف ہندوستانی چینل ہیں ـ سب سے زیادہ چینل مقامی زبانوں میں ہیں اور صرف ہماری ریاست کی سرکاری زبان کنڑ میں تقریبا پچاس ٹیلیویژن چینل نشر ہو رہے ہیں ـ ہندوستان کا سب سے بڑا براڈ کاسٹنگ گروپ Zee نیٹورک کے چینلوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کرگئی ہے علاوہ STAR گروپ والوں کے بھی تقریبا چالیس چینل ملک بھر میں نشر ہو رہے ہیں اور حیدرآباد کے رامو جی راؤ کے E-TV گروپ نے بھی اپنی نشریات تقریبا سبھی ہندوستانی زبانوں میں کردی ہے اسوقت انکے ٹی وی چینلوں کی تعداد تقریبا 35 ہوچکی ہے ـ SAHARA گروپ نے بھی اپنے چینلوں کی تعداد پندرہ سے بڑھا دی ـ اب تو وباء ایسی پھیل ہوچکی ہیکہ ہر کوئی سیاستدان اور بڑا بزنس مین اپنا ذاتی چینل براڈ کاسٹ کرنا چاہتا ہے ـ اِن تمام ہندوستانی ٹیلیویژن چینلوں کے علاوہ بیرون ممالک کے چینلس جیسے بی بی سی انڈیا، سی این این انڈیا، فیشن ٹی وی انڈیا، سی این بی سی انڈیا، نیشنل جیوگرافک انڈیا، ڈسکوری انڈیا، ایم ٹی وی انڈیا، چینل [وی] انڈیا، HBO انڈیا، AXN انڈیا، Halmark انڈیا ــــ اِن ہی جیسے اور بھی سینکڑوں چینل نشر ہو رہے ہیں ـ
Blogger Abdul Qadir said...

آپ بنگلور کب گئے ، کیا پکے پکے چلے گئے؟

December 25, 2005 12:22 PM  
Blogger iabhopal said...

یہ خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ کسی نے بنگلور سائنس کانفرنس میں گولی چلا کر ایک پروفیسر صاحب کو ہلاک اور کئی کو زخمی کر دیا

December 29, 2005 9:54 AM  
Blogger SHUAIB said...

جناب قدیر
پکا پکا اپنے گھر پہنچے ماہ ہونے کو آ رہا ہے ۔ تین سال بعد مزے نصیب ہوئے ۔ امید ہے آپ بھی بخیر ہونگے ۔ بہت دنوں بعد ایک لمبی سی تحریر پوسٹ کر ر رہا ہوں، امید ہے آپ کے سمجھ سے باہر کی ہے کاش میری بھی سمجھ میں کچھ آجائے ۔

جناب افتخار صاحب
میرے پرامن شہر پر پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئیی؟ مجھے بھی بہت افسوس ہوا ۔ فی الحال شہر میں حالات معمول کی طرف رواں ہیں ۔ بہت دنوں بعد لمبی سی تحریر پوسٹ کر رہا ہوں ۔ نہ جانے کن خیالوں میں کل ہی رات ٹائپ کیا ہے جب سب لوگ سوگئیے اور فلم دیکھنے کے بعد بھی نیند نہیں آئی تو کچھ اس قسم کی تحریر بنی جو آپ کے خیالات کے خلاف ہے ۔

January 05, 2006 10:37 PM  
Blogger urdudaaN said...

شعیب صاحب! آپ دبئی سے جوں ھی بنگلور گئے، عالمی حالات تو سنبھل گئے لیکن اُس شہر میں کھلبلی مَچ گئی۔ آخر بات کیا ھے؟ :)

January 07, 2006 9:58 AM  

Post a Comment

Friday, December 23, 2005

میرا بھارت مہان

ہندوستان کے سب سے زیادہ طاقتور اور عصری ٹیلی مواصلاتی سیٹلائٹ انساٹ 4A کو کامیابی کے ساتھ آج صبح مدار میں پہونچا دیا گیا ـ اس طرح ملک میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) ٹیلی ویژن براڈ کاسٹنگ سرویسز کے شعبہ کو ایک نئی تحریک ملے گی ـ آریان 5G راکٹ کے ذریعہ سٹیلائٹ کو خلاء میں پہنچایا گیا، کل صبح ساڑھے چار بجے پرواز کے چند منٹ بعد ہی اس نے مصنوعی سیارہ کو اس کے مدار GT0 میں پہنچا دیا اور اِس کامیاب تکمیل کے ساتھ ہی اسرو کے عہدیداروں نے تالیاں بجاکر اپنی مسرت کا اظہار کیا ـ انساٹ 4A جس پر بارہ KU بینڈ کے ٹرانسپونڈرس ہیں، یہ DTH ٹیلیویژن کی ضروریات کو پورا کرنے والا پہلا مصنوعی سیارہ ہے ـ مزید بتایا جا رہا ہے کہ انساٹ 4A کی کامیابی سے ہندوستان میں ٹیلی مواصلات اور کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک نیا انقلاب ہے ـ گذشتہ سال ہندوستان نے اپنا ایجوکیشن سیٹیلائٹ خلاء میں داغا تھا جس سے ہندوستانی تعلیمی اداروں کو زبردست فائدہ ہو رہا ہے ـ مزید خبریں: The Hindu Deccan Herald N A T I O N Barnama

Post a Comment

Thursday, December 22, 2005

ہندوستان سے مختصرات

ملک کو جلد سے جلد ترقی یافتہ بنانے کا منصوبہ صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے سرکردہ صنعت کاروں سے کہا کہ مستقبل کی معیشت اور سماج کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے وہ اختراعی لیڈر بنیں اور راست بیرونی سرمایہ کاری کی آمد و رفت پر زور، انفارمیشن و مواصلاتی ٹیکنالوجی کو دیہی علاقوں تک پہنچانے، توانائی سیکوریٹی جامع پروگرام کے ساتھ زرعی شعبہ کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے ترقی کے ایک مکمل ماڈل کے خد و خال پیش کئے ـ ہندوستان کے صدر مسٹر عبدالکلام کے ترقیاتی منصوبے کا مقصد سال 2020 تک ہندوستان کو ایک مکمل ترقی یافتہ ملک بنانا ہے ـ ہندوستانی ثقافتی مراکز کا قیام ٹوکیو میں ہندوستانی ثقافتی مرکز (انڈین کلچرل سنٹر) کے کارکرد ہونے کے بعد اب وزارت خارجہ کو ایسے مراکز کے قیام کیلئے کم از کم سات تجاویز موصول ہوئی ہیں جن میں واشنگٹن، بیجنگ، وارسا (پولینڈ) اور تہران شامل ہیں ـ مملکتی وزیر خارجہ راؤ اندرجیت سنگھ نے ایک تحریری جواب میں لوک سبھا کو بتایا کہ ٹوکیو میں جاریہ ماہ کے پہلے ہفتے سے انڈین کلچرل سنٹر فعال ہوگیا ہے، دیگر تجاویز زیر غور ہیں ـ انڈین کونسل برائے ثقافتی تعلقات کو کھٹمنڈو، بنکاک اور کابل میں بھی کلچرل سنٹرس کے قیام کیلئے درخواستیں موصول ہوئی ہیں ـ کونسل نے جنوب مشرقی ایشیاء میں جکارتہ، بالی اور کوالالمپور کے علاوہ لاطینی امریکی علاقوں گیانا، سورینام، ٹرینی داڈ اور ٹوباگو میں بھی ہندوستانی ثقافتی مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے ـ راؤ اندرجیت نے کہا کہ کونسل نے ماریشیس اور فیجی، جہاں قابل لحاظ تعداد میں ہندوستانی برادری کے لوگ رہتے ہیں، ایسے ہی ثقافتی مراکز کا قیام عمل میں لایا ہے ـ ’’الفرقان الحق‘‘ ـ حکومتِ ہند نے پابندی لگادی الفرقان الحق نامی کتاب جس کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ نئی ملینئیم کا قرآن ہے، ہندوستان نے پابندی لگادی ہے ـ بتایا جا رہا ہے کہ اِس کتاب کی پبلش کرنے والے عیسائیوں کا ایک بڑا طبقہ ہے جو صہونیت سے بہت ہمدردی رکھتا ہے اور امریکہ کے برسرِ اقتدار طبقے کے افراد اسی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ـ اِس کتاب نے اسلامی حلقوں میں زبردست بے چینی پیدا کر رکھی ہے ـ گذشتہ ہفتے حکومت ہند نے پارلیمنٹ میں کسٹمس کا ایک نوٹیفکیشن پیش کیا جس میں ممبران پارلیمنٹ کو اِس کتاب پر پابندی لگنے سے متعلق آگاہ کیا ـ اور اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر متنازعہ کتاب (الفرقان الحق) پر پابندی لگائی جا رہی ہے ـ اس کتاب میں موجود کسی بھی حصے کی پرنٹنگ اور پبلیشنگ کو ہندوستان کے دائرے میں ممنوع قرار دیا گیا ہے ـ حکومت ہند نے اِس متنازعہ کتاب پر پابندی تو لگادی مگر کوئی بھی شخص انٹرنیٹ پر اسے آسانی سے پڑھ سکتا ہے؟ دنیا کا سب سے سستا پیغام فی الحال ہندوستان کو یہ مقام حاصل ہے کہ موبائل فون کے ذریعے بھیجے جانے والے پیغامات sms کے چارجس مفت ہونے کے برابر ہیں یعنی کہ صرف ایک پیسہ؟ یہ اسکیم سب سے پہلے ٹاٹا موبائل کمپنی نے شروع کی تھی پھر بعد میں دوسری کمپنیوں نے بھی اپنے صارفین کیلئے ایک اسکیم کے تحت نئے سال کے موقع پر موبائل کالس کے چارجس نصف سے بھی کم کردی گئیں ہیں ـ اسوقت ہندوستان میں موبائل سروسز کی تقریبا بیس / بائیس کمپنیاں فعال ہیں جن میں سب سے آگے VSNL، Tata Nova، Hutch، Airtel، اسپیس، اورینج، BPL وغیرہ شامل ہیں ـ اب ایک لمبا سا پیغام لکھ کر چند سکینڈس میں دنیا کے کسی بھی کونے تک بھیجا جاسکتا ہے ـ موبائل فون پر گندی فلمیں دہلی اور ممبئی کے بعد اب ہمارے شہر بنگلور میں بھی پولیس نے جال بچھا کر ایک گروہ کو گرفتار کرلیا جو کالج کے لڑکوں کو انکے موبائل پر MMS کے ذریعے Blue فلموں کے ویڈیو کِلپس فروخت کرتے ہیں ـ چند سال قبل شہر میں سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے محکمہ پولیس نے ایک ضابطہ قانون بنایا تھا ساتھ ہی سائبر مجرموں پر نظر رکھنے اور انہیں پکڑنے کیلئے ایک باقاعدہ ٹیم بھی تشکیل دی تھی جسکی وجہ سے آج شہر میں انٹرنیٹ جرائم قدرے کم ہوگئیں مگر یہ کیا؟ اب تو موبائل سے جرائم اور وہ بھی گندی فلموں کی خرید و فروخت شروع ہوگئی ـ اب اسکے لئے بھی حکومت ایک نیا قانون لاگو کرنے والی ہے، پولیس کرائم برانچس میں جدید کمپیوٹر سافٹویئرس کے ذریعے شہر بھر میں استعمال ہونے والے موبائل فونس انکے جدید ٹیکنالوجی آلات Bluetooth اور انفراریڈر کے علاوہ ایم ایم ایس messages پر بھی نظر رکھیں گے ـ پولیس نے اپنی اِس انوکھی کارروائی میں جن موبائل فونس کو اپنے قبضے میں لیا ہے، فی موبائل تقریبا پندرہ بیس Blue فلموں کی ویڈیو کلپس کے علاوہ بہت ساری ننگی تصویریں بھی پائی گئیں ـ میں بھی دیکھ رہا ہوں کہ آج یہاں بچہ بچہ اپنے موبائل سیٹ کیلئے زیادہ اسپیس والے 526MB اور 1GB والے Multimedia Card کیوں خرید رہے ہیں؟ یہ تو اچھا ہوا کہ یہاں آنے سے پہلے وہیں دبئی میں اپنے موبائل سے سارے گندے ویڈیوز ڈیلیٹ کردیئے
Blogger میرا پاکستان said...

بنگلور کي رونقيں مبارک ہوں۔ اميد ہے اسي طرح آپ کے ذريعۓ ہندوستان کے متعلق جاننے کامزيد موقع ملے گا۔
والدين اور بہن بھائيوں کو سلام کہۓ گا۔

December 23, 2005 7:00 AM  
Anonymous SHUAIB said...

شکریہ جناب، امید کرتا ہوں آپ بھی خیر و عافیت کے ساتھ ہونگے ـ باتوں باتوں میں یہاں میرے اٹھارہ دن گذر گئے آئندہ دس بارہ دنوں میں واپس دبئی آجاؤں گا تب تک یہاں سے ایک یا دو پوسٹ ضرور لکھوں گا ـ

December 23, 2005 7:47 PM  

Post a Comment

Tuesday, December 20, 2005

ہندوستان سے آداب

Blogger iabhopal said...

میرے بلاگ پر آپ کے تبصرہ کا جواب یہاں بھی نقل کر رہا ہوں
شکریہ ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ زکریا بیس دسمبر رات کو واہ چلا گیا تھا ۔ آج شام انشاءاللہ ہم جائیں گے تو آپ کا سلام اُسے پہنچ جائے گا ۔ ڈسٹرب کے متعلق انشاءاللہ کل لکھوں گا۔
آپ آجکل بنگلور کی بہاریں لوٹ رہے ہیں ۔ اپنے گھر میں سب کو میرا سلام کہہ دیجئے بالخصوص اپنی والدہ محترمہ کی خدمت میں موءدبانہ سلام عرض کر دیجئے

December 22, 2005 8:07 AM  
Blogger SHUAIB said...

شکریہ اجمل صاحب

December 22, 2005 10:07 PM  

Post a Comment

Tuesday, December 06, 2005

چھٹی پر

posted by Shuaib at 9:34 PM 2 comments

Blogger Prerona said...

Hi, I came here looking for translations of ghalib's verses. This looks like a nice blog but unfortunately I cannot read Urdu!

December 06, 2005 10:28 PM  
Blogger محمد شمیل قریشیShameel Qureshi said...

پیارے دوست شعیب ،

کچھ دنوں پہلے آپ کو ایک اردو خط لکھا۔ پر آج تک اس کا جواب نہں ملا ۔

جواب کا طالب

shameelq@gmail.com
shameelqureeshi@hotmail.com

شمیل

December 13, 2005 3:38 PM  

Post a Comment

Sunday, December 04, 2005

چھوٹی چکن

روزانہ آدھی رات کو اخبار کے دفتر سے ڈیوٹی کرکے گھر آکر کھانا کھانے کے بعد جب اپنے کمرے میں چلا جاتا پھر تھوڑی ہی دیر میں میری زور دار ہنسی کی آواز سنکر امّی گھبراتے ہوئے میرے کمرے میں آکر کہتیں: پاگل کہیں کا، ہر دن سونے سے پہلے پتلے (کارٹون فلمیں) دیکھ کر سوتا ہے ـ یہ اچھی بات نہیں، اب ٹی وی بند کرکے سوجا ـ ـ ـ کارٹون فلمیں کسے پسند نہیں، گھروں میں ٹام & جیری دیکھ کر نانیاں بھی لوٹ پوٹ ہوجاتی ہیں ـ لوگ بیکاری میں شعر و شاعری کرنا پسند کرتے ہیں، کیرم کھیلتے ہیں، گپ شپ بھی کرلیتے ہیں یا پھر سو جاتے ہیں ـ اگر میرے پاس کچھ فضول وقت ملجائے تو کارٹون فلمیں دیکھتا ہوں یا پھر خود اپنے کمپیوٹر پر چھوٹی موٹی انیمیٹڈ فلمیں بناکر ڈیلیٹ کر دیتا ہوں ـ اسی ہفتے ریلیز ہونے والی چکن لِٹل جو کہ ایک 3D انیمیٹڈ فلم ہے، میرا خیال ہے یہ فلم بنانے میں جو خرچ آیا تھا، اسکا آدھا حصہ تو صرف پبلسٹی پر خرچ ہوا ہوگا ـ مزید یہ کہ چکن لِٹل (آواز: زاک براف) سے جو توقعات تھیں مگر اِس بار Disney والوں نے مجھے مایوس کردیا ـ ایک ہلکی پھلکی کلاسیکل کہانی جسے ڈیجیٹلائز کیا گیا، جانوروں کو ایلیئنز (خلائی مخلوق) سے جنگ کرتے دکھایا گیا ہے، البتہ کامیڈی معقول رہی لیکن موسیقی میں کچھ دم نہیں تھا ـ ایسا لگتا ہے کچھ لے دے کر Disney والوں نے اِس فلم پر اپنا لیبل چپکا دیا ہے ـ خیر جو بھی ہو، فیملی کے ساتھ دیکھنے لائق کارٹون فلم بناکر میک ڈینڈل اسوقت خود کو ایک کامیاب ڈائریکٹر تصور کر رہے ہونگے ـ آج جہاں ہر طرف برڈ فلو کا چرچا ہے، لوگ مرغی اور انڈے کا نام سنکر دور بھاگ رہے ہیں، ایسے موقع پر ایک چھوٹی چکن سب کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے ـ اسوقت ہالی ووڈ / بالی ووڈ میں بننے والی سبھی فلمیں ایک اچھے خاندان کیلئے غیر مہذّب مانی جاتی ہیں لیکن چکن لِٹل کو پوری فیملی کے ساتھ پر لطف ہوکر دیکھا جاسکتا ہے مزید چکن لِٹل کی چند تصویری جھلکیاں
چکن لِٹل کے ویڈیو ٹریلرز یہاں اور یہاں

posted by Shuaib at 10:30 PM 0 comments

Post a Comment

بلاگ کی دوسری سالگرہ

بلاگ کا تعارف اِس بلاگ کو صرف وقت گذاری کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بلاگ کا میرے ساتھ برسوں پرانا رشتہ ہے اور شاید تاحیات رہے گا ـ اردو میں بلاگنگ اسلئے کہ یہ میری مادری زبان ہے، اردو ٹائپنگ ایسے ہی شوقیہ سیکھ لیا ـ اردو اخبارات اور بچوں کی کہانیاں پڑھتے ہوئے اردو تلفظ میں کافی بہتری آئی اور اب اردو میں بلاگ لکھنے کے قابل بن گیا ـ مجھے افسانے، ناول اور شعر و شاعری کا بالکل شوق نہیں ـ میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اردو کی ترویج میں کچھ نہ کچھ کرتا رہوں، تقریبا پانچ سال پہلے ہی اردو کے مختلف فونٹس بناکر کمپیوٹر پر گھما پھراتا رہا مگر اب یونیکوڈ کے آگے میرے بنائے ہوئے نستعلیق فونٹس ناکارہ لگنے لگے ـ فی الحال اِس بلاگ کو اپنے صحیح مقصد کیلئے استعمال کرتے ہوئے بہت مزہ آ رہا ہے ـ آج سے دو سال پہلے بلاگ کے بارے میں پتہ چلا پھر بلاگر پر اپنا بلاگ بنایا انگریزی میں کچھ بھی لطیفے کہانیاں وغیرہ لکھتا رہا ـ انٹرنیٹ پر تلاش کرتے ہوئے اردو بلاگنگ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، زکریا اجمل کے بلاگ پر اردو بلاگنگ کے متعلق ٹیوٹوریل پڑھ کر مجھ میں بھی اردو بلاگ بنانے کا شوق آیا ـ مجھے یاد ہے اسوقت اردو میں بلاگ کرنے والے صرف چار یا پانچ لوگ تھے، اردو بلاگرز میں شاید چھٹواں نمبر میرا ہی ہے ـ آج تقریبا دو درجن سے زیادہ اردو کے بلاگز دیکھنے کو ملتے ہیں، امید ہے اردو میں بلاگنگ کی آسانی کو دیکھتے ہوئے آئندہ سالوں میں اردو بلاگرز کی تعداد سینکڑوں میں ہوگی ـ عمیر سلام، زکریا، دانیال اور آصف ـ مجھے یاد ہے سب سے پہلے صرف اِن چاروں کے بلاگز پر اردو یونیکوڈ نظر آتا تھا ـ میں زکریا اور دانیال کا شکر گذار ہوں کہ اِن کے ٹیوٹوریلس اور بلاگ کے سورس فائلوں کو پڑھ کر اردو میں بلاگ کرنا سیکھا ـ اگر میں اپنے خیالات کو انگریزی میں لکھ کر پوسٹ کرتا تو اپنے ہی جان پہچان اور خاندان والوں میں (کچھ زیادہ ہی) مشہور ہوجاتا جو صبح و شام آن لائن بیٹھے رہتے ہیں، شکر ہے ان سب لوگوں کو اردو نہیں آتی سوائے میرے والدین کے ـ اردو میں بلاگ کرتے ہوئے تقریبا دیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا ہے مگر اِس بلاگ کو شروع کئے دو سال مکمل ہوگئے جسکی وجہ سے میرے بلاگ کی یہ دوسری سالگرہ ہے ـ اور میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ پہلا ہندوستانی اردو بلاگر میں ہی ہوں ـ

posted by Shuaib at 10:21 PM 4 comments

Blogger Asma said...

Assalam o alaykum w.w.!

Congrats and happy birthday to ur blog!!!

wassalam

December 05, 2005 2:05 AM  
Anonymous Munir Ahmad Tahir said...

بلاگ کی دوسری سالگرہ پر بہت بہت مبارک باد جناب۔
دعا ہے کہ آپ اسی طرح لکھتے رہیں اور ہم جیسے ناسمجھ آپ کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں۔

December 05, 2005 12:24 PM  
Anonymous SHUAIB said...

ڈیئر اسما اور منیر صاحب،
مبارکبادی دینے کیلئے آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ

December 05, 2005 11:31 PM  
Blogger شعیب صفدر said...

بلاگ کی سالگرہ مبارک ہو۔۔۔۔۔۔۔ ویسے آپ کی چند تحریریں میرے پلے تو نہیں پڑی۔۔۔۔۔

December 07, 2005 12:08 AM  

Post a Comment

Friday, December 02, 2005

گھبراؤ نہیں ـ ٧

خدا سے ملو (خاص برائے ورلڈ ایڈز ڈے) یومِ ایڈس پر خدا کو مہمانِ خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ہے، آج خدا عوام کے سامنے ایڈس پر اپنا خطبہ دے گا ساتھ ہی ایڈس کے مریضوں سے ملاقات کرکے انہیں تسلّی بھی دیگا ـ افتتاحی تقریب میں امریکی بچوں نے قومی ترانہ گایا پھر جنیفر اور شاکرہ نے اپنا ناچ دکھایا پھر دولتمند ممالک سے آئے ہوئے مندوبین کیلئے عالیشان ہوٹل میں عشائیہ رکھا پھر ذاتی طور پر خدا سے ملاقات کرنے کیلئے انہیں موقع بھی دیا گیا پھر بڑے لیڈران کیلئے شام تک رنگ برنگی محفلوں کا اہتمام کر دیا سب سے پہلے دنیا کی عظیم بیلے ڈانسروں نے اپنا رقص پیش کرکے دولتمند لیڈران اور خدا کیجانب سے دادِ تحسین پائیں پھر ایڈس کے متعلق فیشن شو کروایا جس میں حسین اور عریاں ماڈلوں نے اپنے جسموں پر ’’ایڈس کی روک تھام کرو‘‘ جیسے اسٹیکرس لگا رکھے تھے پھر چائے پانی کی محفل منعقد کی گئی یہاں دولتمند ممالک کے لیڈروں نے اپنے شیڈول بنائے بجٹ میں ترمیمات کیں ساتھ ہی اپنے ملکوں کی کارروائی کا نوٹ لکھا پھر سمندر کنارے کھلی فضا میں چہل قدمی کا اہتمام ہوا یہاں پر عالمی لیڈران کیلئے شراب کباب شباب کا سخت سیکوریٹی میں معقول انتظام رہا پھر بالآخر سبھی لیڈران خدا کے ہمراہ عالمی ایڈس کانفرنس ہال میں تشریف لائے دنیا بھر سے چنے ہوئے چار ایڈس کے مریضوں کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا پھر سبھی نے انکے ساتھ تصویریں کھینچوالیں پھر ہر ایک ملک کے لیڈر کو ڈائس پر آکر ایڈس کے متعلق بولنے کا موقع ملا پھر سبھی نے ایڈس کی روک تھام میں کوتاہی کیلئے ایکدوسرے ممالک پر الزامات عائد کئے پھر شور شرابہ بلند ہوا پھر نوبت ہاتھا پائی تک آگئی پھر گالی گلوچ پھر خدا چیخ پڑا کہ یہ کیا تماشہ ہو رہا ہے؟ آپ لوگ اسوقت عالمی یومِ ایڈس کی کانفرنس میں مدعو ہیں نہ کہ کسی مچھلی بازار میں، اسی بات پر خدا نے کانفرنس کو برخواست کردیا دوسرے دن اخبارات میں ایڈس کے مریضوں کے ساتھ بڑے لیڈران کی تصاویر شائع ہوئیں، خبروں میں لیڈران کے بیانات بھی شائع کئے گئے کہ ایڈس کی روک تھام کیلئے کروڑوں ڈالر درکار ہیں ـ ـ جاری باقی پھر کبھی عرب امارات کا 34 واں نیشنل ڈے

posted by Shuaib at 6:25 PM 2 comments

Blogger iabhopal said...

جناب عالی ۔ اللہ سبحانہ و تعالی کے فضل و کرم سے میں نے آج سے ساڑھے تیس سال پہلے متحدہ عرب عمارات میں پندرہ دن بطور شاہی مہمان گذارے تھے ۔ میں نے ہلٹن کی بجاۓ شارجہ شہر سے باہر ولّا میں ٹھہرنے کی خواہش کی تھی جو پوری کر دی گئی تھی ۔ میری خدمت کے لئے ایک کیپٹن یا لیفٹیننٹ اور شوفر ہر وقت مستعد یعنی اس ولّا کے ایک کمرہ میں موجود رہتے تھے ۔ ایک وی وی وی آئی پی کار ہر وقت ولّا کے باہر کھڑی رہتی ۔ ان لوگوں کو میری بری عادتوں کا کسی طرح علم ہو گیا تھا اس لئے میں نے وہاں کوئی خرافات نہ دیکھی مگر کچھ لوگ چند دنوں میں میرے دوست بن گئے اور انہوں نے مجھے نہ صرف اپنے ملک کے لوگوں متعلق کافی کچھ بتایا ۔

December 03, 2005 12:24 PM  
Blogger a sane voice in a mad world said...

- جناب عالی

assalamu aleikum

I have copied this bit of Urdu, but I would like to know if there is an online Urdu keyboard from where I can also post in Urdu.

December 04, 2005 4:20 PM  

Post a Comment

Thursday, December 01, 2005

بروسلی

اِس عظیم انسان کو ہم سے بچھڑے کئی عرصے ہوگئے مگر آج بھی ہر ایک کی زبان پر انکا نام ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ـ یہ بھی ایک فطرت کی بات ہے جب کبھی بروسلی کا نام زبان پر آئے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جسم میں ایک عجیب سی روحانی لچک پیدا ہوجاتی ہے مگر افسوس کہ اِس عظیم انسان کو خون خرابوں اور لڑائی جھگڑوں کے موقع پر بھی یاد کیا جاتا ہے ـ اگر اسکی ذاتی زندگی پر نظر ڈالیں تو وہ ایک نہایت ہی شریف اور رحم دل انسان تھا ـ ہر کوئی عظیم اور مشہور نہیں ہوتا بلکہ انسان کے اوصاف، اسکے کارنامے، اسکی اچھائیاں اسے عظیم بناتی ہیں پھر زمانے بدل جائیں اِس شخص کی عظمت برقرار رہتی ہے ـ بروسلی، اب تک انکی زندگی اور کارناموں پر سینکڑوں کتابیں پبلش ہوچکی ہیں، انٹرنیٹ پر بروسلی کو تلاش کریں تو تقریبا پانچ لاکھ ربط نمودار ہوتے ہیں ـ آج اِس عظیم شخص کی 65 ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں صرف ہانگ کانگ میں ہی نہیں بلکہ امریکہ، بوسنیا، جرمنی، اٹلی، فرانس، ہندوستان، جاپان کے علاوہ عرب ممالک وغیرہ میں لاکھوں چاہنے والوں کے علاوہ سرکاری پیمانے پر بھی یاد کیا جا رہا ہے ـ بروسلی، صرف بڑے پردے پر ہی نہیں بلکہ وہ حقیقت میں ایک ہیرو تھے اور صرف 33 برس کی عمر میں وفات پاگئے ـ
بروسلی کے متعلق تازہ ترین خبریں : یہاں اور یہاں
November 27th 1940 - July 20th 1973

posted by Shuaib at 10:16 PM 0 comments

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters