Friday, February 03, 2006

میں شہید ہوں

دوسرا پارٹ آج ہی اُڑتے ہوئے یہ خبر ملی کہ والدہ سخت عَلیل ہیں اور میرا نام اُنکے لَبوں پر ہے، مرنے سے پہلے وہ مجھے دیکھنا چاہتی ہیں ـ یہ پورا ہفتہ جہاد کیلئے مجھے سَرگرم رہنا ہے، بقولِ امیر صاحب دھماکہ چاہے تھیٹر میں کریں یا بازار میں، دونوں کا ثواب برابر ہے ـ میں تو ٹھہرا مجاہد، خدا کو خوش کرنے کیلئے مجھے اور بھی سینکڑوں دھماکے کرنے ہیں تاکہ جنّت میں اپنا ایک پختہ مکان بنالوں ـ گھر سے نکلے تقریبا دیڑھ سال کا عرصہ ہوچکا، نہیں معلوم اپنے ہاتھوں کتنے لوگوں کی چھاتیوں پر گولیاں برسائیں، شکر ہے ابھی تک قانون کے ہاتھ نہیں لگا ـ میرا مقصد ایک ہے خدا کیلئے خُون خرابہ اور دَنگے فساد کرنا پھر یوں مارتے مرتے شہید ہوجاؤں ـ گذشتہ ماہ میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں جب امیر صاحب نے مجھے اپنے کندھوں پر بٹھاکر ناچا ـ دہلی کے بازاروں میں جو دھماکے ہوئے تھے، وہ مَیں نے کئے مگر کوئی اور پکڑا گیا ـ امیر صاحب نے میرے گلے میں میگزین کی مالائیں پہناکر خوب شاباشی دی اور خدا کے حضور میری لمبی عمر کی دعائیں مانگیں ساتھ میں یہ خوشخبری بھی سنائی کہ بہت جلد مجھے لندن، فرانس، اٹلی وغیرہ بھیجا جائیگا تاکہ وہاں کے بازاروں میں بھی بم دھماکوں کے ذریعے جہاد کروں اور خوب اجر پاؤں ـ اپنی عَلیل والدہ کو دیکھنے میرے پاس وقت نہیں، امیر صاحب کہتے ہیں خدا کے حکم کے آگے کچھ بھی نہیں ـ شہید ہونے کے بعد جنّت پہنچ کر وہیں اپنے والدین سے ملوں گا ـ میں شہید ہوں : پہلا پارٹ
Anonymous زکریا said...

میں پہلے پریشان ہوا کہ یہ آپ کیا لکھ رہے ہیں مگر پھر احساس ہوا کہ کہانی ہے۔

February 03, 2006 3:07 AM  

Post a Comment