نئی باتیں / نئی سوچ

Thursday, March 30, 2006

اِن سے ملو ـ 15

یہ خدا ہے

یوں تو خدا کی نیت سے سبھی واقف ہیں جلسے اور جلوسوں کی عظیم مملکت فلسطین سے نظریں ہٹا کر اب خدا کو کیا سوجھی، خود امریکہ کو ایران پر ترس آنے لگا ـ سعودی عرب کے تہہ خانے میں پاکستانی میزائل دانوں کے مشاغل، خدا کو یہ اُمید ہرگز نہیں تھی ـ امریکہ نے مثال کے ساتھ خدا کو تسلّی دی سو دن کا چور ایک دن ضرور پکڑا جاتا ہے ـ افغان اور عراق دونوں عذاب میں مبتلا اور اب ایران بھی خدا کے غضب سے زیادہ دور نہیں پھر اسکے بعد پاکستان کا بھی نمبر آئے گا جسے اُسامہ کے بارے میں جوابدہ ہونا ہے ـ خدا کو صرف وہی پسند ہیں جو امریکہ کو بادشاہ تسلیم کرے ورنہ پاکستان کو نظرِ رحمت سے دیکھنا خدا کو گوارا نہیں ـ تیل سے مالا مال چکنے اور موٹے عربوں کی یہ مجال، خدا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر غوری کے بے غیرت میزائلوں کو اپنے تہہ خانے میں چھپا رکھا ہے ـ خدا کے فرشتے (سیٹیلائٹس) کبھی جھوٹ نہیں بولتے وہ تو شکر ہے جرمن میگزین کا جس نے اِس کی مخبری کی ـ اب کرے تو کیا کرے، ایران پر حملہ یا سعودی عرب اور پاکستان کے خفیہ کارناموں پر تحقیقات؟ خدا خود کنفیوژ ہے، ایسے میں امریکہ کی رائے سے بہتر خدا کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ـ سعودی حکومت کو تباہی کا سامان بنانے کی کیا ضرورت جبکہ اُسکا سب سے بڑ اسائبان امریکہ زندہ ہے اور اُس پر پاکستان کو تباہی پیدا کرنے کیلئے سعودی عرب کا امداد بھیجنا خدا کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنے جیسا ہے ـ پریس میڈیا کو بلواکر خدا نے اعلان کیا: میری عزت اور جلال کی قسم، خدا مرا نہیں ابھی زندہ ہے ـ بڑے تو بڑے اب بچے بھی تباہی کا سامان بنانے لگے، کوئی کُھل کر تباہی مچا رہا ہے اور کوئی ہمارے پیٹھ پیچھے ـ ایک دن تم سب تباہ ہوجاؤ گے اور میرا یقین ہے تم لوگ اپنے خدا کو بھی تباہ کردو گے، دنیا سے واپس آسمان بھی چلا جاؤں تو مجھے پانے کے چکر میں عرش تک میزائل مارو گے تم انسانوں کی ذہنیت ایسی کہ اعتبار کرنا مشکل ہے ـ کاش میں آدم کو نہ بناتا کہ ایک دن اُسکی اولاد اُس کے بنانے والے کو ہی مار دے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

Blogger Nasir said...

Nice to find an Urdu blog..
its great

April 02, 2006 1:44 PM  
Blogger Hypocrisy Thy Name said...

سعودی تہہ خانوں میں غوری میزائل ؟ یہ میرے علم سے باہر ہے ۔

April 03, 2006 4:33 PM  
Blogger SHUAIB said...

محترم اجمل صاحب ۔ یہ بالکل نیا انکشاف ہے یہاں تک کہ امریکہ کو بھی ابھی پتہ چلا ۔ مگر سچ کیا ہے مجھے نہیں معلوم ۔

April 03, 2006 9:20 PM  

Post a Comment

Monday, March 27, 2006

xara 3D پر ایک نظر

ویب سائٹس اور بلاگز پر جاذب نظر ٹائٹلس لگوانا ہر کسی کو پسند ہے تاکہ اپنے الیکٹرانک صفحے پر مزید چار چاند لگیں ـ اکثر ویب ڈیزائنرس معمولی نوعیت اور خوش رنگ گِف تصاویر یا پھر بٹن اور مینو بار بنانے کیلئے xara سافٹ ویئر استعمال کرتے ہیں کیونکہ اِس میں کسی بھی object کو متحرک (انیمیٹ) کرنے کیلئے صرف ایک منٹ درکار ہے ـ اِس سافٹویئر میں logos، ٹائٹلس، ہیڈ لائنس کے علاوہ bottons بنانا بہت آسان ہے ـ ویسے تو انٹرنیٹ کے جنگل میں گِف انیمیشن کے بے شمار سافٹویئرس موجود ہیں، اسوقت xara 3D کی قیمت 44.99 US ہے علاوہ ازیں پندرہ دنوں کا ٹرائل ورژن بھی دستیاب ہے اسکے علاوہ ہمیشہ کیلئے مفت خوری بھی مہیا ہے یعنی xara کی سائٹ پر سبھی سافٹویئر موجود ہیں ـ آن لائن رہتے ہوئے تیار شدہ اور خود کار انیمیٹر فلٹرس کا استعمال کرتے ہوئے صرف ایک منٹ میں اپنی پسند کا ٹیکسٹ انیمیٹ کیا جاسکتا ہے جسے گِف فارمیٹ میں تبدیل کرکے اپنے کمپیوٹر پر محفوظ کرسکتے ہیں ـ اِس سافٹویئر میں دوسری بہت خوبیاں بھی ہیں جیسے اپنی پسند کا تھری ڈی Screen Saver اور تصویروں پر اسپیشل افیکٹس وغیرہ ـ ـ ـ ـ

ٹائپ کرو اور بناؤ اپنے نام کی انیمیشنس

xara 3D گیلری سے چند نمونے

Anonymous Neha said...

Do you know how to save .swf files?

March 29, 2006 9:43 AM  

Post a Comment

Friday, March 24, 2006

گوگول پیجز پر میرا صفحہ

گوگل والوں نے میری گذشتہ پوسٹ پڑھ لی اور مجھےگوگل پیجز پر اپنا صفحہ بنانے کے لئے خوش آمدید کہا -
http://shuaib.shuaib.googlepages.com/home

Post a Comment

Wednesday, March 22, 2006

گوگل پیجز

اُمید تو یہ تھی gmail اکاؤنٹ رکھنے والوں کو ہی گوگل پیجز تک سب سے پہلے رسائی حاصل ہوگی ـ میرے چند یار دوستوں کو Google Pages میں انٹری مل گئی ـ گوگل سے بہت سارا مفت مال پالیا جو سبھی فائدے مند ہیں ـ مختلف فری سائٹس پر اپنے نام کی تقریبا آٹھ ـ دس ویب سائٹس آویزاں ہیں پھر بھی مفت خوری ایسی کہ اب گوگل پیجز کا انتظار ہے ـ گوگل والوں بار بار میل کرنے کے بعد جواب دیا تمہارا نمبر بھی جلد آئے گا، تب تک گوگل پیجز کے Discuss فورم میں آتے جاتے رہنے کو کہا ہے ـ

Post a Comment

Tuesday, March 21, 2006

اِن سے ملو - 14

یہ خدا ہے

اب خدا کی آزمائش کا وقت آچکا جب عوام نے اسکا امتحان لینا چاہا ـ قوموں کے اختلاف کے باوجود خدا کو اس آزمائشی مرحلے سے گذرنا پڑا دوسری طرف امریکہ نے خاموشی اختیار کرلی ـ عوام کے سوالات خدا کو نیزوں کی طرح چبھنے لگے جیسے دونوں کے بیچ جنگ چِھڑ چکی ہے ـ دنیا کی سبھی قومیں خدا سے ناراض ہیں انکے اولیاء اور بزرگان کے دور میں آرمسٹرانگ جیسے شخص کا وجود کیوں نہیں تھا؟ کاش بل گیٹس پرانے زمانے میں ہوتے تو آج وہ بھی پیامبر کہلاتے ـ خدا کے فرشتوں میں سائیکل بنانے جیسی صلاحیت نہیں ورنہ کیا ضرورت تھی ہمارے بزرگان مہینے بھر خچروں پر سفر کرتے نہیں تھکتے ـ شکر ہے اب ایسی خرافات نہیں ورنہ آج کے دور میں سبھی پیامبر گورے اور امریکی ہوتے اور وکّی پیڈیا پر انکی مقدس کتابوں میں ترمیم کی گنجائش بھی ملجاتی ـ اب یہ طئے ہے نئی روایت کو ترتیب دیا جائے اور امریکہ کو پیمبری سونپی جائے چونکہ آج ساری دنیا اسی کے آگے سر جھکاتی ہے، مقدس کتاب کی ضرورت نہیں ویسے امریکی قول سے کسی کو انکار بھی نہیں ـ آج ساری دنیا امن کو دھونڈ رہی ہے اور امریکہ سے بہتر امن کا پیامبر دوسرا کوئی نہیں افغانستان اور عراق دونوں کا مختلف ماحول اُسکی تازہ مثالیں ہیں ـ عربوں نے قیاس ظاہر کیا یوں ہماری تاریخ مٹی پلید ہوسکتی ہے البتہ تازہ ہوا آنے کی امید ہے ـ مانا کہ خدا کی عظمت کا کوئی ثانی نہیں مگر ہم انسانوں کو مذہبوں میں بانٹنا اُسکی عظمت کو گوارا نہیں ـ خدا کی یکلخت خاموشی اُسکی قدرت پر سوالیہ نشان ہیں اُسکے عجیب قصے اب لائیو نشر نہیں ہوتے ـ ہوسکتا ہے وہ دنیا کا نظام چلانے والا واحد ہو مگر دیکھنے میں امریکہ بھی پچاس فیصد برابر حصہ دار ہے یا پھر خدا کی نقل کرتا ہے ـ امریکہ کے کارناموں سے خدا بالکل ناراض نہیں حالانکہ اُس نے خدا کی اجازت کے بغیر افغانستان اور عراق پر حملہ کیا تھا اب ایران اور شام کی دعائیں بھی بے سود نظر آتی ہیں ـ فی الحال عوام کنفیوژن کا شکار ہیں خدا کو دنیا میں ابھی آنا تھا؟ اگر ہزار سال پہلے آجاتا؟ لوگ اس سے ٹیکنالوجی مانگتے، گھوڑوں اور خچروں پر سفر کرنے والے جدید طرز کی سواریاں مانگتے اور بیچارے خدا کے پاس علاء الدین کا چراغ تو نہیں کہ وہ لوگوں کے ارمان پورے کرسکے؟ کاش خدا کے فرشتوں میں آرمسٹرانگ جیسا شخص ہوتا تو سینکڑوں زمانے پہلے ہمارے بزرگان بھی ہوائی جہاز کے سفر سے لطف اندوز ہوسکتے تھے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

posted by Shuaib at 11:52 PM 0 comments

Post a Comment

Friday, March 17, 2006

Illusions

یعنی آنکھ کا دھوکہ
مجموعہ خاندان ـ ماں، باپ اور بیٹی

تصویر سے ظاہر ہے شباب میں چور ہاتھی میاں ڈانس کر رہے ہیں مگر انکے پاؤں گنتے میں تو تھک گیا

آرٹسٹ جو بھی ہو اُنکی ذہنیت نیچے کی تصویر میں صاف ظاہر ہے اُس پر ڈولفنس کی صحیح تعداد بھی پوچھتے ہیں، تصویر میں مجھے آٹھ ڈولفنس نظر آئیں

سیاہ رنگ کے dots گنتے گنتے میری نظروں کے سامنے تارے چمکنے لگے پتہ نہیں کس سے کیا جڑا ہے؟

ایک نہیں بلکہ دو چہرے

تصویر میں 3D شکل کا ہاتھ

پہلے تو گھوڑے جیسا لگا

یہ آدمی ہے یا گدھا؟

غور سے دیکھا تو بوڑھے کے چہرے پر ایک داستان نظر آئی

جناب کے دماغ میں کچھ تو ہوگا

انکے دماغ میں بس یہی ہے

بطخ کہوں یا خرگوش؟


دروازہ کھلا تو ہے مگر اندر یا باہر؟
واہ کیا جوڑ ہے

اُلٹا سیدھا

چور ـ پولیس

شاید انہیں گھوڑے بہت پسند تھے

یہ اِنکی بیوی تو نہیں لگتیں شاید نواسی ضرور ہونگی

posted by Shuaib at 6:17 PM 1 comments

Blogger iabhopal said...

ہیں تو سب محنت کی پیداوار ۔ کُچھ جیومیٹری کے اُصولوں سے قفیت رکھنے والے لوگوں نے بنائے ہیں اور کچھ کچھ کے بنانے والے سیکس سٹاروڈ ہیں ۔

March 18, 2006 11:42 AM  

Post a Comment

Tuesday, March 14, 2006

چھٹی پر

ابھی دو ماہ پہلے مہینہ بھر چھٹی کرنے بعد ایک بار پھر اپنے گھر والوں سے ملنے اپنے شہر بنگلور جا رہا ہوں ـ والدین کا اصرار ہے کہ بڑی بہن کی شادی اٹینڈ نہ کرسکا تو چھوٹی بہن کی شادی میں میرا ہونا بہت ضروری ہے ورنہ سب ناراض ہوجائیں گے ـ والدین کی ناراضگی میری زندگی کیلئے بہت بڑی مصیبت بن سکتی ہے، صرف اُنکی خوشنودی حاصل کرنے میرا جانا ضروری ہے ـ پہلے اپنے منیجر کو منایا وہ نہ مانا کہ ابھی تو ایک مہینہ چھٹی مناکر آیا ہے اور یہاں کام بھی بہت زیادہ ہے ـ ڈائریکٹ کمپنی مالک کے کیبن میں گُھسا، کچھ دیر تک منّت سماجت کرنے کے بعد بالآخر پندرہ دن کی چھٹی دینے پر مالک رضا مند ہوگیا ـ نان اسٹاپ نہ ملا سمّر شروع ہوچکا اور اسکول کی چھٹیاں بھی، یہاں ہندوستانی اتنے ہیں کہ باقی لوگ چار پانچ دکھائی دیتے ہیں ـ یہاں موجود انڈین اسکولوں کے بچے بچیاں اپنے نانا نانی کے گھر چھٹیاں منانے سب ایک ماہ پہلے ہی ٹکٹیں بک کروا چکے، آئندہ پندرہ دنوں تک بنگلور کیلئے سبھی ایئر لائنز بک ہیں اور ممبئی کیلئے تو سبھی فلائٹس فُل ـ ہمارے ایک ایجنٹ دوست کی مدد سے بالآخر Air Arabia میں ممبئی تک کا ٹکٹ ملا، اور یہیں سے انٹرنیٹ پر ممبئی سے بنگلور جانے کیلئے کنگ فِشر ایئر لائنز میں سیٹ بک کروا لیا ـ اچھا تھا اگر ایک ماہ پہلے ہی بنگلور کیلئے ٹکٹ بک کر دیتا، اب افسوس کرنے سے کیا فائدہ صرف والدین کو خوش کرنے کیلئے جانا ہے کہ آپ نے بلایا اور میں آگیا ـ
خدا سے تیرہ بار ملو

posted by Shuaib at 9:58 PM 1 comments

Blogger iabhopal said...

جِس نے والدین کو خُوش کیا وہ سدا خوُش رہا

March 15, 2006 11:31 AM  

Post a Comment

Sunday, March 12, 2006

سشمتا سین

posted by Shuaib at 9:45 PM 0 comments

Post a Comment

Wednesday, March 08, 2006

بش طواف نہ کرسکے!

ہندوستان پہنچ کر اِن کا برسوں پرانا خواب بالآخر سچ ثابت ہوا مگر حسرت رہ گئی تاج محل دیکھ نہ پائے ـ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا واپسی پر بہت ہی رنج و غم کے ساتھ صحافیوں سے مخاطب تھے دوسری طرف اُنکی اہلیہ نمبر اول ٹِشو سے آنسو پونچھے جا رہی تھیں ـ تاریخ گواہ ہے جب بھی کوئی بیرون ممالک سے ہندوستان آئے وہ تاج محل کے طواف سے فیضیاب ہونا چاہتا ہے گذشتہ ماہ جب سعودی کے شاہ نے ہندوستان کا دورہ کیا تب انہوں بھی بلکہ وہ خاص طور پر تاج محل کے طواف کیلئے ہی ہندوستان گئے تھے پتہ چلا اُنکے شیڈول میں تاج محل سرفہرست تھا ـ تاج محل کی زیارت کیلئے دنیا بھر سے سالانہ لاکھوں لوگ ہندوستان آتے ہیں اور ایسے کروڑوں ہندوستانی بھی ہیں جنہوں نے تاج محل کو صرف تصویروں تک ہی پرکھا ہے ـ تاج محل کو اپنے شیڈول میں نہ پاکر بش پہلے چراغ پا ہوئے پھر انہیں بہانہ بھی مل گیا فرمانے لگے مجھے اُمید ہے بہت جلد ہندوستان پھر سے سرکاری دعوت نامہ بھیجے گا اور اُسوقت ضرور اپنی اہلیہ نمبر دو (اول) کو ساتھ لیکر تاج محل کا طواف کروں گا ـ

posted by Shuaib at 10:46 PM 0 comments

Post a Comment

Sunday, March 05, 2006

پولینڈ میں بالی ووڈ

بالی ووڈ کے پاؤں دھیرے دھیرے بیرون ممالک میں پھیلتے ہی جا رہے ہیں، پولینڈ میں بھی ہندی فلمیں اب اپنا جلوا بکھیرنے لگیں ـ امیتابھ، شاہ رُخ اور سلمان کی پچھلی ہٹ فلمیں پہلی بار یوروپی ملک پولینڈ کی راجدھانی وارسا اور دوسرے شہروں میں ریلیز کیجا رہی ہیں ـ خبر ہے کہ وارسا میں مختلف جگہوں پر کرینہ کپور، کاجول اور ایشوریہ کے فلمی پوسٹرس دیکھے جاسکتے ہیں ـ ہندی نیوز چینل سھارا نے اپنی ویب سائٹ پر خبر دی ہے کہ فی الحال وہاں امیتابھ کی پچھلی ہٹ فلم ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ کو انگریزی میں Some times sunshine & Some times rain کے نام سے ریلیز کیا گیا ہے ـ وہاں کے لوگوں میں اِس فلم کو لیکر اچھا تاثر لیا ہے دراصل وہاں کے روز مرّہ اور کلچر سے فلم کچھ حد تک میل بھی کھاتی ہے ـ علاوہ ازیں اِس فلم کو میڈیا کوریج اور کمرشیل ٹی وی والے خوب تشہیر بھی کر رہے ہیں ـ بتایا جا رہا ہے وہاں غیر ملکی فلموں میں اِس فلم کو اب تک کی سب سے زیادہ پبلسٹی ملی ہے ـ پچھلے دنوں پولینڈ میں چند ہندی فلموں کی CDs کو ریلیز کیا گیا تھا اور حال ہی میں پولیش ایف ایم ریڈیو اسٹیشن سے ہندی گانے بھی سنائے جا رہے ہیں ـ خبر میں لکھا ہے پولینڈ کی عوام ہندی فلم ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ میں ایکساتھ ہندوستانی کلچر، ڈرامہ اور موسیقی ہونے سے سنیما ہال پر اُمڈ آئی ـ

posted by Shuaib at 10:46 PM 1 comments

Blogger iabhopal said...

جناب میں صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ بلاگ سپاٹ کھلتا ہے یا نہیں ۔ میں نے براہِ راست کھولا اور کھُل گیا ۔

March 06, 2006 12:40 PM  

Post a Comment

Thursday, March 02, 2006

اِن سے ملو - 13

یہ خدا ہے بُش کی قسمت چمک اٹھی جب خدا نے اُنہیں ہندوستان سفر کرنے کا حکم دیا ـ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کیلئے سفر کرنا اُنکی دلی آرزو کے علاوہ آخری خواہش بھی یہی تھی یہ جانتے ہوئے بھی وہاں کی عوام اُن پر جوتے مارنے تیار کھڑی ہے پھر بھی ہندوستان آنے کا جنون سر پر سوار ہے ـ میڈیا والوں نے لکھنا شروع کردیا دوسری طرف ٹی وی پر مباحثوں میں عوام کو بھی شریک کرلیا، خدا کو دنیا میں آئے چھ ماہ ہوگئے لیکن ابھی تک امریکہ سے باہر نہیں نکلا ـ خدا پر کسی کا زور نہیں اور وہ کسی کا عاجز بھی نہیں ـ خدا کی مرضی وہ جہاں چاہے جائے مگر حد ہوگئی، اُسے امریکہ سے باہر کی دنیا بھی دیکھ لینی چاہئے ورنہ قوموں کا اعتبار اُس پر سے جاتا رہے گا ـ منموہن جی نے خدا کو مطلع بھی کردیا: آپکے بدنام زمانہ سفیر (بش) کی سیکوریٹی کے ہم ذمّہ دار نہیں! پورے سو کروڑ سے بھی زیادہ آزاد خیال عوام کا ملک ہے ـ خدا کو بھی بہانہ مل گیا، اُس نے جواب لکھ بھیجا: بُش کو خوش کرنا ہماری خوشنودی حاصل کرنے برابر ہے، وہ ہمارے سفیر ہی نہیں بلکہ میزبان بھی ہیں اور ہم نے اُنکے سر پر بادشاہت کی ٹوپی پہنا رکھی ہے ـ یہ خوشی کی بات ہے کہ امریکہ اور چین کے بعد اب خدا کی نظریں ہندوستان کی طرف ہیں ـ سبھی کو خدا کی جھلک دیکھنے کی تمنّا ہے، کیا معلوم وہ عیسی کی شکل میں ہوگا کہ بھگوان گنیش کی طرح اگر وہ ہوبہو انسانوں کیطرح ہے تو پتہ نہیں کونسے سائز کا ہوگا؟ شاید داڑھی بھی ہوگی اور عمر کے لحاظ سے عینک بھی لگائی ہو ـ یہ عوام کے تاثرات ہیں جو ٹی وی پر بحث میں شامل ہیں ـ ـ جاری باقی پھر کبھی

posted by Shuaib at 10:34 PM 2 comments

Blogger iabhopal said...

بُس کی یہ تصویر کِس نے اور کب بنائی تھی ؟

March 15, 2006 12:03 PM  
Anonymous SHUAIB said...

مجھے نہیں معلوم یہ تصویر کس نے اور کب بنائی ۔ انٹرنیٹ میں کہیں سے مل گئی اور یہ نہیں معلوم کس سائٹ سے؟

March 22, 2006 9:43 PM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters