Thursday, July 06, 2006

اِن سے ملو ـ 20

یہ خدا ہے

جہاں کہیں بھی رونق لگی خدا اپنی رحمتیں نچھاور کرتا ہے اور خدا کو جنازوں میں شرکت کا تجربہ نہیں البتہ جلوسِ جنازہ کو بھی بارات کی طرح اِنجوائے کرتا ہے ـ ممبئی کی بے رونق سیلابوں سے جہاں اسکولی بچوں کو راحت ملی وہیں خدا کے چاہنے والوں نے اُسے گالیاں بھی دیں ـ برسات میں بہتے گھروں کو خدا نے سوئمنگ پول کے القاب سے نوازا، بھلے کسی کیلئے رحمت ہو یا زحمت ـ ٹوٹی چھتوں سے ٹپکتے پانی کو بھی اِنجوائے کرنے کا حکم دیدیا اگر برداشت کے قابل نہیں تو کسی سنیما ہال میں بیٹھ کر نائٹ شو دیکھنے کا فرمان جاری کیا ـ آسمان کو اُمید کی نظروں سے دیکھنے والے کسان بھی، اُن بیچاروں کو کیا معلوم برسات کی دعاؤں سے پانی اِتنا برسے کہ کھیت کلیان ہی اُجڑ گئے ـ کاش خدا بھی ایک کسان ہوتا تو اُسے خودکشی تک راس نہ آتی ـ آج بھی بنگلہ دیشیوں کو خدا حقارت بھری نظروں سے دیکھتا ہے، اُدھر کیتھرینا والوں کے آنسو طوفان میں ایسے بہا دیئے کسی کو احساس بھی نہیں کہ کب کیا ہوا تھا لیکن بنگالیوں کے آنسو خود سیلاب ہیں ـ جب تک خدا آسمانوں میں اُڑتا رہا اُسے دنیا کی خبر نہیں اور جس دن سے امریکہ کا مہمان بنا تب سے اُس کی نیت کچھ ٹھیک نہیں، صرف ایک اسرائیلی سپاہی کی خاطر درجنوں فلسطینیوں کو کچل دینا اُسکی عظمت کو مزید چار چاند لگانے کے برابر ہے ـ کاش خدا ایک فلسطینی ہوتا تو آج وہ بھی شہید کہلاتا ـ وہ تو امریکی تابعدار جس کے اِشاروں پر غریب انڈونیشیا کو جھڑکتا جا رہا ہے، حالانکہ وہاں کے لوگوں نے پُکارا بھی کہ خدا کو خدا کی قسم ہمارے غریب ملک پر اپنی بری نظر ہٹالے کیونکہ ہم بھی امریکہ پر تھوڑا بہت ایمان رکھتے ہیں ـ پتہ نہیں امریکہ نے خدا کو کونسا خواب دکھا دیا کہ اُس نے اب جنت بھی امریکہ میں بنانے کا ارادہ رکھ لیا ـ ممبئی والوں نے توجہ دلائی کہ ایک نظر یہاں بھی ڈالے، یہ کیسی بیحودہ برسات ہے یا پھر خدا کی دیوانگی؟ کاش خدا کو لوکل ٹرینوں میں لٹکنے کا تجربہ ہوتا، کاش خدا کو جھونپڑوں میں رات کاٹنے کا تجربہ ہوتا ـ یہاں تک کہ مفت میں کِرِش دکھانے کیلئے خدا کو آفر بھی دیا تھا تاکہ اِسی بہانے خدا ممبئی آئے اور برسات تھمے مگر خدا نے توبہ کرلی کیونکہ وہ پہلے نیا سُپرمین دیکھنا چاہتا ہے ـ خدا تو امریکی تابعدار جس کے پاس ذرا بھی فرصت نہیں جو اسوقت ایران پر اپنی نظرِ زحمت گاڑے بیٹھا ہے اور اُسکے فرشتے بھی اپنے ناخن تیز کرلئے پتہ نہیں کب حکم ملے اور ایران کو کھروچیں ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

Anonymous زکریا said...

بہت عرصے بعد آپ کے بلاگ پر آیا ہوں اور خدا سے ملو کی نئی قسطیں پڑھ رہا ہوں۔ اصل میں آپ نے شاید اپنے بلاگ کی فیڈ بند کی ہوئی ہے۔ اوپر سے آپ کا بلاگ فائرفاکس میں بھی نہیں کھلتا۔

July 10, 2006 7:55 AM  
Anonymous SHUAIB said...

زکریا بھائی:
آپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سیریز کیسی رہی، اور مجھے بتائیں کہ یہ فائرفاکس آخر کیا بلا ہے؟ یہاں امارات میں ہر جگہ صرف اور صرف مائیکروسافٹ کا ایکسپلورر عام ہے جس میں میرا بلاگ بالکل ٹھیک ٹھاک دکھائی دیتا ہے ـ جی ہاں میں نے اپنی فیڈ بند کئے کافی عرصہ ہوگیا، میری رائے ہے کہ برائے مہربانی آپ اُردو سیّارہ کا نام بدل کر اسلامی سیّارہ رکھ دیں جہاں میری تحریریں کسی کے پلّے نہیں پڑتیں ـ

July 10, 2006 8:41 PM  
Anonymous زکریا said...

آپ کی سیریز اچھی جا رہی ہے۔ آچھا لکھتے ہیں آپ۔

فائرفاکس ایک براوزر ہے جو انٹرنیٹ ایکسپلورر سے کافی بہتر ہے۔

اگر آُ جیسے لوگ اردو سیارہ میں شامل نہیں ہوں گے تو ظاہر ہے وہ اسلامی سیارہ ہی بنتا رہے گا۔ میں تو مشورہ دوں گا کہ پھر سے شامل ہو جاءیں۔ آگے آپ کی مرضی۔

ویسے اگر آُ اردو سیارہ پر اپنی تحریریں نہیں چاہتے تو مجھے بتا دیں میں آپ کے بلاگ کو وہاں سے نکال دوں گا۔ مگر اپنی فیڈ تو چالو کریں۔ اس سے بلاگ فالو کرنے میں کافی آسانی رہتی ہے۔

July 18, 2006 8:13 AM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

بلدیہ شارجہ
اِن سے ملو ـ 19
اِن سے ملو ـ 18
امّی، بھوک لگی ہے ـ ـ ـ
اِن سے ملو ـ 17
چڑھتی جوانی
فنا
اِن سے ملو - 16
خدا کے میزبان
ایسی رہی یاترا

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters