Wednesday, October 18, 2006

یہ خدا ہے ـ 36

عید کا چاند؟ خدا کی بارگاہ میں امریکہ نے چین پر مقدمہ ٹھونکا، خفیہ طور سے چاند پر فلیٹوں کی مارکیٹنگ شروع کردی ہے، وہ دن دور نہیں جب پورے چاند پر چین اپنا قبضہ جمالے ـ پھر پتہ نہیں اُن لوگوں پر کیا گُذرے گی جو چاند سے عقیدت رکھتے ہیں، عربیوں کو بھی اپنا کیلنڈر عیسوی سے جوڑنا پڑے گا پھر عید کیلئے چاند دھونڈنے کی بجائے امریکہ سے پوچھنا پڑے گا ـ ضروری ہے چاند کو اپنی حالت پر چھوڑ دے ورنہ کئی لوگوں کو افطار کیلئے اندھیرا ہونے تک بھوکا رہنا پڑے گا ـ اِس مقدمے پر خدا غور ہی فرما رہا تھا، اچانک روس نے خدا کے کان میں سُر پھونکی: سچّی بات تو یہ ہے امریکہ اُن ممالک سے بہت جلتا جو چاند پر جاچکے ہیں، دراصل امریکہ کبھی چاند پر گیا ہی نہیں اُوپر سے جھوٹے دعوے کرتا ہیکہ سب سے پہلے چاند کی تسخیر اُسی سے ہوئی ـ صف میں کھڑے مشرف نے بھی اپنا سوال اُٹھایا: ہمارے ملک میں ہمیشہ سے عید کا چاند ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، آدھی قوم کو چاند دکھائی دیتا ہے تو باقیوں کو دوسرے دن نظر آتا ہے اور یہ سلسلہ زمانہ دراز سے ہمارے بیچ انتشار بنا ہوا ہے ـ جاپان نے رائے دیا: اچھا ہے ہر ایک ملک کا اپنا چاند ہو، اور ہمارے لئے چاند بنانا کوئی مشکل کام نہیں ـ اِس پر سعودی شاہ نے آمین کہا: سب سے پہلے ہم اُسے خریدیں گے ـ اتنا سب سُننے کے بعد امریکہ نے بانگ دیا: جب خدا خود ہمارے ساتھ ہے تو چاند کی کیا ضرورت؟ اور خبردار، اگر کوئی خدا کے چاند کو چھیڑے تو امریکہ اُس پر عذاب بن کر اُترے گا ـ امریکہ نے دانت دکھاتے کہا: ہم نے خدا کو تک نہیں بخشا، ہماری قید میں ایسے پھنسا کہ وہ توبہ کرنا بھول گیا ـ ہماری روشن خیالی کی قسم، اگر کوئی چاند پر قبضہ جمانے کی کوشش کرے تو چاند کو ہمیشہ کیلئے غائب کردیں گے اور پھر ساری دنیا ہم سے پوچھ کر سوئے گی کہ رات ہوگئی!!! ـ ـ جاری باقی پھر کبھی اس تحریر پر ہندی زبان میں تبصرے

Labels:

Blogger میرا پاکستان said...

آپ کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں

October 25, 2006 1:45 AM  
Blogger sahil said...

chand kk hal ka nayab koshish ka shukriya

July 01, 2009 4:11 PM  

Post a Comment