Saturday, May 07, 2011

یہ خدا ہے ـ 43

مُلاؤں کے قومی اجتماع میں خدا پر اجتماعی لعنت بھیجا، اِس خدا کو جس خدا نے بنایا اُس خدا پر بھی لعنت ہے جس نے ہمارے لئے دوغلی چال والا خدا بھیجا ـ ہم تو سالوں سے دعا گو رہے کہ خدا مرے تو پاکستان میں گرے مگر وہ زندہ سلامت امریکہ میں اُترا ـ اُسکی میت کو عبادت سمجھ کر ہم کندھا دینے تیار تھے مگر لعنت ہے خدا پر جو ہماری میت کا سامان لیکر اُترا ـ کاش ہم بِن خدا کے پیدا ہوتے، کاش ہم خود خدا بن کر پیدا ہوتے یا پھر پیدا ہی نہ ہوتے! بیشک ہم مُلا ہیں مگر خدا کیطرح امریکی چمچہ نہیں، وہ حاکم ہے تو ہم مفتی ہیں، وہ مالک تو ہم مجاہد ہیں اور وہ رزاق ہے تو ہمیں چندے دینے والے بہت ہیں ـ رات دن سجدے ٹھونک کر چھاتی تک داڑھی لئے ہم انتظار کرتے ہی رہ گئے کہ خدا کی امداد عنقریب ہے، مگر صدیاں بیت گئیں جہاں کہیں بھی اپنی ملائیت قائم کرنے کی کوشش کی ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی ـ لعنت ہے ہر اُس دن پر جس دن مُلا پیدا ہو، نہیں معلوم ہمارے پُرکھوں نے ایسا کیا گناہ کیا دنیا کے ہر کونے میں ہم مُلا لوگ شروع زمانے سے بے عزّت ہی ٹھہرے ـ ہمارے پاس کوئی ہنر نہیں اور کرنے کو کچھ آتا نہیں چار شادیاں کرلیں تو بدنام ٹھہرے جہاد کا پیشہ اپنایا تو بھی بدنامی نے پیچھا نہیں چھوڑا ـ دوسروں کو نظرِ رحمت سے دیکھنے والے اے خدا، آخر ہم مُلاؤں کا قصور کیا؟ کیا واقع ہماری سوچ گندی اور جھوٹی ہے؟ اپنے پُرکھوں کے خیالات پر ہم ایمان لائے، ایک عجیب قسم کی تعلیم ہم پر لازم بن گئی پھر شعور آیا تو خود بخود دوسرے مذاہب کیلئے نفرت جاگ اُٹھی ـ سمجھ میں نہیں آتا یہ نفرت ہمیں وراثت میں ملی یا عجیب تعلیم سے؟ زمانہ جہالت سے لیکر آج تک ہماری پوری تاریخ خون سے رنگین ہے ـ کیا خاک زندگی پائی، ہمیں کوئی عزت دینے والا نہیں صرف ایک خدا پر اعتبار تھا اب افسوس کہ وہ خود امریکی پالیسیوں کا حامی ہے ـ یقین نہیں آتا کیا یہی خدا ہے جو ہم نے اپنے پُرکھوں سے سُنا تھا، خود کو جنّتی مان کر جو اکڑ کر چلتے رہے اب ہمیں شرم سی آتی ہے خدا خود امریکہ میں آ بسا ـ کاش خدا بتا دے کہ ہمیں کونسا راستہ اختیار کرنا ہے اپنے پُرکھوں والا یا گرین کارڈ والا؟ ہم جو دوسروں سے نفرت کرتے رہے آج ساری دنیا کے لوگ ایک ہوکر ہمیں نفرت اور حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں ـ ہم ملا ہیں تو کیا ہوا، آخر خدا کے ہی بندے ہیں بھلے ہم اُسکے قوانیں میں ترمیم کرلیں، اپنی ملائیت کو قائم رکھنے کیلئے ہمارے پاس جہاد کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ـ دنیا سے ملائیت کا دور ختم ہونے کو ہے اِسی لئے پاکستان کو دوسرا سعودی بنانے نکلے تو خود اپنے ہی ہماری ٹانگ کھینچنے لگے ـ اِسوقت ہر طرف امن اور اتحاد کی بات ہو رہی ہے اور یہاں ہمارے اپنے ساتھ چھوڑنے لگے ـ ہم خوش تھے کہ خدا صرف ہمارے لئے جہاں میں اُترا ہے مگر جب سے آیا اپنی تو واٹ لگی ہے ـ چیچنیا، بوسنیا، عراق، افغان اور لبنان میں مدد کیلئے آوازیں دیتے رہے اُسوقت خدا امریکہ میں بیٹھے برگر کھا رہا تھا حالانکہ وہ اُسی کے بندے ہیں، کیا خدا اپنے بندوں میں اونچ نیچ کا فرق رکھتا ہے؟ ہمیں فرقوں میں بانٹ کر کیا تماشہ دیکھنا چاہتا ہے؟ صاف صاف کیوں نہیں بتاتا کہ ہم مُلا لوگ سب سے افضل ہیں ـ مگر ہماری تو پیدائش ہی حقیر، وجود بھی حقیر، یونیفارم بھی حقیر مرنے تک بھی حقیر جبکہ ہم بیوقوف مُلا اِس حقیرانہ زندگی کو صوفیانہ اور خدا کی خوشنودی سمجھتے رہے ـ آج تو طئے ہے ہم اُسی خدا کی قسم کھاتے ہیں جو ہم انسانوں کو مختلف قوموں میں بانٹ رکھا ہے، مگر ہم مُلاؤں کی ذات کو سب سے حقیر بنانے کا مقصد کیا ہے یہی تو ایک ذات ہے جو خدا کی شان میں گُستاخی برداشت نہیں کرتے لیکن دوسری ذات کے لوگ خدا پر تھوک بھی دیں تو وہ اُسے تبرک سمجھتا ہے، کیا اُسے ہمارے تھوک کی بدبو برداشت نہیں؟ جبکہ ہر قدم ہم خدا کا نام لیتے ہیں ـ خدا کو چاہئے کہ آج ہمارا ذہن کلیئر کردے، اگر ہماری ملا گیری داغدار اور ڈھکوسلی ہے تو پھر کیوں ہمارے پُرکھوں نے ہمیں جنّت کا ممبر بتایا؟ زندہ رہنے تک ہمیں کہیں بھی عزّت نہیں ملی تو جنّت پر کیسے اعتبار کرلیں؟ مہذب تعلیم کی بجائے نفرت اور تعصب سے بھری کتابیں ہم پر واجب ہوئیں، اپنے ذہنوں میں نفرت پالنے کو ہم عبادت سمجھے اور نفرت سے ہٹ کر کچھ دوسرا سوچنے کو گناہ سمجھے ـ  ہماری عبادتوں کا یہی صلہ ہیکہ دنیا کی ساری قومیں ہم سے صرف نفرت ہی کرتے رہیں؟ آخر ہمارے میں ایسی کیا برائی ہیکہ باقی لوگ ہمیں پسند نہیں کرتے، ہمارا نام و نشان مٹانے پر تُلے ہیں ـ ہماری مقدس جنگ (جہاد) کو دہشت گردی سمجھتے ہیں اور آج حالت یہ ہیکہ ہمارے اپنے ہمیں امریکہ کے چنگل میں پھنسانے کی تیاری میں ہیں ـ ہماری قوم منتشر ہوچکی، زمانے کی رفتار کیساتھ ہمارے اپنوں کی ذہنیت بدل گئی ـ اب ہمیں امریکہ سے زیادہ ہمارے اپنوں سے خوف ہے، ہر طرف دشمنوں سے گھِرے ہوئے ہم، اے خدا تو ہمیں بچالو ـ

خدا نے بولنا شروع کیا

سچّی بات تو یہ ہیکہ اب اپنے پاس پہلے جیسی خدائیت نہیں رہی، زمین پر آئے تو بچی کُچی قدرت امریکہ کو سونپ دی ـ پہلی بار تفریح کیلئے زمین پر اُتر آئے پھر اکّھی دنیا چھاننے کے بعد امریکہ میں قیام پسند فرمایا یہاں کروٹ بدلنے کی بھی تکلیف نہیں پورا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہے ـ صدیوں سے دنیا کو پالتے ہمارے دماغ کی ماں بہن ایک ہوگئی، یاد بھی نہیں آتا پہلے انسان بنایا تھا یا بندر ـ اپنے وجود کی قسم ہمارے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ زمین پر اِتنی ساری قومیں دیکھنے کو ملیں گی، حیرت ہے ہماری غضب کھوپڑی پر کیا عجب انسان بنایا چاہے تو خدا کو بھی قید میں ڈال دے ـ اِس سے پہلے بھی دنیا میں بہت سی قومیں آئیں کئی نے اپنے آپ کو خدا منوایا اور کوئی خود کو خدا کا اوتار بتایا، خود کتابیں لکھ کر اُسے خدا کا قول قرار دیا ـ اپنی غضب کھوپڑی کی قسم، ہم نے اُنہیں زلزلے اور طوفانوں سے تباہ و برباد کر دیا اور اب فی الحال یہ کام امریکہ کو سونپ دیا ـ دو پل خوشی کیلئے زنا کرلیں تو کوئی حرج نہیں، فحاشی اور عیاشی دونوں قبول ہے، کوئی ڈسکو میں جائے یا بھاڑ میں ہمارا سایہ اُن پر قربان مگر کوئی ہمارے نام پر مذہبی دکان چمکائے یہ ہمیں برداشت نہیں ـ کچھ یاد آیا، ہم نے صرف انسان بنایا اُس کو پیار سے بندر پکارا پھر ننگا زمین پر اُتار دیا ـ بس وہ دن اور آج کا دن پھر ہم نے انسان کو پہلی بار اب دیکھا ـ تعجب ہے، خود انسانوں نے اپنے نام رکھ لئے کنبوں میں بٹ کر مذہب بنالئے، بڑی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں اور مرتب کی جگہ خدا کا نام لکھ دیا ـ تعجب ہے، خدا انپڑھ ہے، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کس نے ہمارا نام خدا رکھا؟ ہم پیدائشی لاوارث ہیں جنّت کے کھیت میں ننگے پڑے تھے تھوڑی جوانی آئی تو محسوس ہوا ہم ہی خدا ہیں P: ہماری روشن خیالی کی قسم، اے منحوس ذہنیت کے انسانوں لعنت ہے تم پر ـ تمہارے دقیانوس خیالات اور ڈھکوسلے حرکتوں پر نہ ہنسنے کو جی کرتا ہے نہ رونے کو ـ ہمیں کیا کھجلی تھی کہ تم انسانوں کو فرقوں میں بانٹ کر تماشہ دیکھیں! ہمیں تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ تم گھنے جنگل کی طرح آباد ملو گے ـ یاد رکھو کہ خدا ایک ہے اور اُسکے نزدیک سارے انسان زمانہ جہالت سے لیکر آج تک سبھی ایک ہیں ـ ہمارا کوئی ثانی نہیں اور نہ ہی کوئی خبری، ہمارا دین مذہب کچھ نہیں اسلئے تمہارا بھی نہیں ـ ہم نے تمہیں خالص انسان بنایا سوائے بارش کے دوسرا کچھ نازل نہیں کیا ـ خدا کو خدا کی قسم، ہم نے آج تک کسی کی مدد نہیں کی، خود انسان ایکدوسرے کیلئے مددگار ہے، چاند پر انسان کو پہنچانے میں ہمارا ایک بھی ہاتھ نہیں، آپ اپنے رزق کے خود ذمہ دار ہو کیونکہ خدا کو چائے بنانا بھی نہیں معلوم ـ اپنے دل و دماغ کی اچھی بری سوچ کیلئے تم ہی ذمہ دار ہو، بیویوں کو لگانا اور بچے پیدا کرنے پر تم ہی قادر ہو، پھر اپنے بچوں کی تربیت تمہارے ہی اختیار میں ہے چاہے ڈاکو بناؤ یا مُلا خدا کو کوئی اعتراض نہیں ـ ہم نہ ہندو ہیں نہ مسلمان بولے تو اپنا اسٹائل ہی ڈیفرنٹ ہے ـ خدا کو خدا ہی رہنے دو اُسے سولی پر نہ چڑھاؤ، بولے تو ہاتھی کا سونڈھ بھی نہ لگاؤ ـ بند کرو یہ بدمعاشی، کہو تو قیامت خیز ٹھمکے لگائیں ـ سیدھے ہوجاؤ انسان کے بچے بنو، تمہاری عبادت نہیں چاہئے صرف آپس میں ایک ہوجاؤ، اپنی پہچان انسانیت سے بناؤ ملا سے نہیں، اور جنت کا خیال دل سے نکالو کیونکہ یہ دنیا ہی جنت ہے ـ اپنی غضب کھوپڑی اتنی حسین دنیا بنائی اور تم نے خوبصورت عمارتوں سے سجایا ـ یاد رکھو مرنے سے پہلے انسان بن جاؤ یا پھر امریکہ کو پچھاڑا دکھانے تیار ہو جاؤ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

یہ خدا ہے ـ 43

Post a Comment