Wednesday, May 11, 2011

نواز نے بینظیر کو مار دیا

خدا نے ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کردیا، پوچھنے پر بتایا: تارے زمین پر اُتر آئے ـ اِن تاروں کو ہم صرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہیں مگر یہ جاننا ضروری نہیں سمجھتے کہ یہ کیسے جگمگاتے ہیں ـ خدا نے کہا: سبھی لوگ بچوں سے پیار کرتے ہیں مگر اِن کی معصوم ذہنیت کو سمجھ نہیں پاتے ـ ماں باپ اپنے بچوں کو لاڈ کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں! کوئی بچہ اوٹ پٹانگ حرکت کرے تو رشتہ داروں کے مشورے پر اُسے بورڈنگ اسکول میں پھینک دیتے ہیں، ایک معصوم جان کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہے؟ خدا سے پوچھا: مگر یہ فلم دیکھ کر آپ کیوں اتنا رو رہے ہیں؟ خدا نے فرمایا: میاں، ہمیں اپنے بچپن کی معصوم حرکتیں یاد آگئیں، واللہ کتنے بھولے بھالے تھے ہم! ہمارے پاس ایسا کوئی جادو نہیں کہ واپس بچپن میں چلے جاتے! کاش یہ ممکن ہوتا!! خدا کو بتایا: ہاں یہ ممکن ہے، چڈی پہن کر کچھ دیر کیلئے خود کو بچہ سمجھ لیں ـ

دھوم مچالے ـ وونس مور کی چیخوں کیساتھ خدا نے دوبارہ زبردست ٹھمکے لگائے ـ اتنا خوفناک ڈانس دکھایا کہ پورا اسٹیج خراب کردیا ـ دوسرے دن اخباروں نے لکھا: خدا کو ناچ گانے میں ذرا بھی تمیز نہیں، خود ناچا اور نوجوانوں کو بھی ایسے نچایا کہ لڑکیوں کا پاجامہ تک پھٹ گیا ـ خدا نے میڈیا کے آگے کہا: وہاں سبھی لوگ ناچنے میں اتنا مصروف ہوگئے کہ کب کس کا پاجامہ پھٹا پتہ ہی نہ چلا، واللہ ہمارا پاجامہ تک غائب تھا (شاید یہ بھی القاعدہ والوں کی شرارت تھی!) خدا نے افسوس کا اظہار فرمایا: لوگ ناچ گانے میں ایسے مصروف ہوجاتے ہیں اپنا پاجامہ پھٹنے کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے ـ خدا نے میڈیا والوں سے کہا: اگلے سال ہم تھوڑا دھیرے دھیرے ناچیں گے تاکہ نظر رکھ سکیں کون کس کا پاجامہ پھاڑ رہا ہے! پھر خدا نے خود کے کان میں کہا: خدا کی قسم! جب تک ڈسکو میں شریف لڑکیاں آتی رہیں گی ہم اُن کا پاجامہ ایسے پھاڑتے رہیں گے!!

بینظیر کی میّت پر خدا نے رونے کی ایکٹنگ کی، پوچھنے پر فرمایا: یہاں سبھی رونے دھونے کی اداکاری میں ایکدوسرے پر بازی مار رہے ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں؟ خدا نے افسوس کا اظہار فرمایا: اچھا خاصہ پاکستان بغیر جمہوریت جیسے تیسے آگے بڑھ رہا تھا پھر ایک عورت جمہوریت کی جھلک دکھلانے کیا آئی اب تاقیامت یہ ملک خونین فسادات کی نظر ہوگیا ـ ناک پر ہاتھ رکھے خدا نے پوچھا: یہ سب کیسے ہوا؟ خدا کو بتایا: القاعدہ والوں نے اپنا وعدہ نبھایا اور بینظیر کو مار ڈالا ـ القاعدہ والے وعدے کے پکّے ہیں جو کہا وہ کر ڈالا ـ خدا نے فرمایا: بینظیر کی ہلاکت سے پہلے پچھلی قسط میں ہم نے فرمایا تھا: (اقتباس) "خدا سے پوچھا: پاکستان میں جب مارشل لاء نافذ ہے تو الیکشن کروانے کا مطلب کیا ہے؟ خدا نے جواب دیا: سِمپل سی بات ہے، بینظیر اور نواز کو گھیر لاؤ جہاں پیدا ہوئے وہیں دفناؤ" ـ اپنا کالر چڑھاکر خدا نے کہا: میاں ہم خدا ہیں سب جانتے ہیں ـ

میڈیا والوں سے بات کرتے ہوئے خدا نے کہا: بینظیر کی میّت پر ہم رونے کیا گئے، وہاں دوسروں کو روتا دیکھ ہماری ہنسی نکل گئی، اِس سے پہلے کہ پبلک ہمیں مارتی وہاں سے بھاگ نکلے ـ خدا کو بتایا: کسی کی میّت پر اسطرح مذاق نہیں کرتے ـ خدا نے کہا: میاں، ہم مذاق نہیں کر رہے، واقعی وہاں رونے دھونے کا جیسے مقابلہ چل رہا تھا نواز شریف تو اتنا رو رہا تھا کہ بینظیر کے سگے رشتہ دار بھی اُتنا نہیں روئے ـ چار لوگوں کے پیچھے کھڑا نواز شریف جھانک جھانک کر رو رہا تھا جیسے دیکھ رہا ہو بہن جی ٹھیک سے مری کہ نہیں ـ واللہ، اسکی شکل پر لکھا تھا کہ قاتل کون تھا!! خدا نے کہا: خود پاکستانیوں نے بینظیر کو مار ڈالا، آٹھ سال عیش کرنے کے بعد پھر سے پاکستانیوں پر راج کرنے چلی آئی تھی ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 61 ]

Post a Comment