Saturday, May 07, 2011

سمجھوتہ پر خدائی ایکسپریس

بے رنگ سُرخیوں سے تنگ اخبار مروڑ کر پھینکنے کے بعد خدا بڑ بڑایا: گررر ـــ سارے کے سارے اخبار چھید ہیں، ہم پر کوئی خبر نہیں، کل باتھ روم میں جو پھسلے واللہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ـ گذشتہ ماہ زبردست برفباری چلی تو پورا نیویارک خدا پر طعنے مار رہا تھا جیسا کہ ہم آگ جلائے ہاتھ سینک رہے ہیں، ارے بیوقوفوں ہم بھی تو تھر تھر کانپ رہے تھے ـ خدا سے پوچھا: اخبار پھینکنے کے بعد اب آپ کیوں کانپ رہے ہیں؟ برجستہ خدا نے جواب دیا: میاں ہم کانپ نہیں رہے بلکہ اخبار کی اِس خبر پر خوشی منا رہے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ہم سوار نہیں تھے ـ ورنہ تم سب کو خدا کے بغیر گذارا کرنا پڑتا ـ خدا نے فرمایا: خدا کا شُکر ہے کہ ہم ٹرینوں اور طیاروں میں سفر کے عادی نہیں، ہم تو خدا ہیں دھواں بن کر کہیں بھی اُڑ جائیں گے ـ خدا سے کہا: چلو جی آپ تو بچ گئے، اب چل کر مرنے والوں کے رشتہ دار سے اظہارِ ہمدردی جتالیں تاکہ آپکے خدا ہونے کا کچھ تو ثبوت ملے ـ خدا نے ٹھٹھرتے ہوئے فرمایا: نہ بابا نہ، اُن کی چیخ و پکار اور آہیں سنتے ہی ہم بیہوش ہوجائیں! میاں، کیا ضرورت تھی سمجھوتہ پر سفر کرنے کی، جبکہ سب جانتے بھی ہیں کہ اِن دونوں ممالک کے سمجھوتوں پر ٹیریرسٹ حضرات ہمیشہ سے ناخوش ہیں کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں واللہ، ہم خدا ہوتے بھی خود دہشت گردوں سے خوف کھاتے ہیں ـ خدا کو بتایا: خدارا، اپنی زبان سنبھالو ـ یہاں حادثہ ہوا ہے درجنوں لوگ ٹپک چُکے رشتہ دار واویلا مچا رہے ہیں اور آپ ہیں کہ مذاقیہ انداز میں اناپ شناپ بولے جا رہے ہیں ـ منہ بصورتے ہوئے خدا نے فرمایا: ارے یار، دہشت گردی پر کیا کہا جائے؟ مان لو آج کے دور میں یہ بھی ایک فن ہے اور بہت ہمّت والا کام ہے بھئی، ٹی وی پر لائیو دیکھ کر ہم خود دنگ رہ گئے واللہ کیا جگر تھا ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلند عمارتوں میں طیارہ لیکر گھُس پڑے ـ کان کھینچ کر خدا سے کہا: اووہ آپ خدا ہو کہ پاجامہ، آپکی بکواس بھی یہاں لائیو چل رہی ہے اور دہشت گردوں کو لتاڑنے کی بجائے آپ اُنہیں داد دے رہے ہیں! ـ اُنگلیاں کترتے ہوئے خدا نے کہا: حُررر ــــ پہلے کیوں نہیں بتایا کہ ہمارا لائیو ہے؟ پھر کالر سیدھا کرتے ہوئے فرمایا: یہ عادت سے مجبور دہشت گرد بیچارے جو صرف دہشت مچانے کیلئے جہاد کی ڈگریاں اُٹھا لائے اور خدا کی خوشنودی کیلئے معصوم انسانوں پر بم پھینک بھاگ جاتے ہیں تاکہ جنّت میں سکون سے رہ سکیں ـ واللہ، مگر ہم ایسا ہرگز نہ ہونے دیں گے ـ شروع زمانوں سے آج تک بھی کسی دہشت گرد کو آرام سے موت نہ آئی! وہ ہر جگہ بے موت مارے گئے اور بہت ہی بُری حالت میں اپنی لاشیں چھوڑ گئے اسکے باوجود پھر بھی اپنا دہشت گردانہ پیشہ نہیں چھوڑا ـ توبہ، کتنا منحوس دماغ ہے اِن دہشت گردوں کا، جب دیکھو معصوم عوام سے بدلہ لیکر جہاد سمجھتے ہو بالآخر خود کتّے سے بدترین موت مارے جاتے ہو!!! یہ بکواس نہیں، اگر آپ کو ہماری بات بکواس لگے تو خود سوچو کہ یہ جہاد کا نعرہ کب کامیاب رہا! جہاں کہیں بھی یہ نعرہ لگایا خود خاک کھانی پڑی ـ آپ مارو تو جہاد اور کوئی آپ کو مارے تو ظلم! یہ کہاں کا انصاف ہے ـ خدا کو یاد دلایا: یہ بھاشن کا وقت نہیں! دونوں ملکوں میں اسوقت غم و غصّے کا ماحول ہے، کچھ تو امن امان کی میٹھی باتیں بولو جیسا کہ آپ دلاسہ دے رہے ہیں کہ آگے ایسے حادثات نہیں ہونگے ـ کھنکھارنے کے بعد خدا نے فرمایا: دیکھو بھئی، سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں میں جتنے بھی لوگ مرے، اُن کے ذمہ دار ہم ہی ہیں جیسا کہ آپ انسانوں کا ماننا ہیکہ موت و حیات صرف خدا کے ہاتھ میں ـ (سرگوشی میں خدا سے کہا: خدارا، کیا بک رہے ہو پبلک سے جوتے کھانے کا ارادہ ہے؟) دوبارہ کھنکھارتے ہوئے خدا نے بولنے کی کوشش کی پھر چلّاتے ہوئے کہا: ہم کیا بولیں؟؟ اِس حادثہ پر کس کی ماں بہن کو گالی دیں؟؟ (خدا سے کہا: ادب و آداب میں بات کریں، اِسوقت آپ لائیو پر ہیں) خدا چنگھاڑا: بھاڑ میں جائے لائیو ـ اب تک کی قسطوں میں گلا پھاڑ پھاڑ کر سمجھایا، اپنے آپ پر گالیاں لکھوالیں، خود کی وحدانیت کا مذاق اُڑالیا، اپنے آپ کو مسخرہ بناکر ہنسایا ـــــــ تاکہ یاد دلاتے رہیں تم سب ایک انسان ہو ـ گر یونہی مذاہب پر لڑتے رہو گے تو چھیتڑے پھاڑے دھماکوں میں مرتے رہوگے یا پھر کسی دن خدا کو بھی مار کر تاقیامت ہماری میّت کو دفناتے رہوگے ـ خدا نے مزید فرمایا: امن و امان کی باتیں کرنے والے اے انسانوں ذرا ٹھہرو، ہم اپنا ناڑا کھول کر راز بتادیں ـ واللہ ہم نہ ہندو ہیں نہ مسلمان نہ عیسائی! بس جو بھی ہیں باقاعدہ خدا ہیں ـ اپنے آپ کو سچّے مومن کہلوانے والے اے لوگوں تمہارا کوئی ایمان نہیں! ورنہ کیا ضرورت تھی مسلمان کو دہشت گرد اور ہندو کو کافر بولنے کی؟ دانت پیستے ہوئے فرمایا: کیچڑ سے ٹینس کھیلنے والے گندے دماغ کے لوگوں! پتّہ پتّہ ہماری قدرت کی گواہی دیتا ہے، ہمارے حکم سے ہوائیں اپنا رُخ بدلتی ہیں، ہر ذرّہ ذرّہ ہمارے ہی وجود سے ہے اگر ہم نہ ہوتے تو یہ جہاں نہ ہوتا اور یہ جہان نہ ہوتا تو تم جیسے گھٹیا سوچ کے انسان ہی نہ ہوتے مگر خدا کو خدا کی قسم! ہم شُکر مناتے ہیں اپنے خدا ہونے پر، گر ہم بھی انسان ہوتے تو تمہاری طرح کنفیوژ رہتے کہ یہ دھماکے ہندوؤں کیطرف سے ہیں یا مسلمانوں سے؟؟ چھاتی ٹھونک کر خدا دہاڑا: اپنے وجود کی قسم، ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں سمجھوتہ ایکسپریس پر دھماکے ضرورت ہندو اور مسلمانوں کی ملی شرارت ہے جو کہ دونوں انسانیت کے دشمن ہیں! ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

[ یہ خدا ہے ـ 53 ]

Post a Comment