نئی باتیں / نئی سوچ

Saturday, July 30, 2011

جیکی چیان

 گمنامی سے شہرت تک
جیکی چیان کو یہ اعزاز اور احترام اتنی آسانی سے نہیں ملا، اِس عزت اور شہرت کے پیچھے مجبوری اور محرومیوں کی ایک طویل داستان چھپی ہوئی ہے ـ جیکی نے اپنی سوانح ’’آئی ایم جیکی چیان، مائی لائف اِن ایکشن‘‘ کے راوی تو وہ خود ہیں مگر لکھا کسی اور نے ہے ـ 7 اپریل 1954ء کو ہانگ کانگ میں ایک بچے کا جنم ہوا ـ والدین اتنے غریب تھے کہ خوشیاں منانے کی بجائے برطانوی نژاد ڈاکٹر سے گذارش کی کہ وہ خود یا تو بچے کو گود لے لیں یا پھر یتیم خانے میں بھیجنے کا انتظام کردیں ـ

اسپتال نے بچے کیلئے جو دودھ کی بوتل دی تھی وہ گر کر ٹوٹ گئی ـ عمارتوں میں معمولی مزدوری کرنے والے والدین کے پاس خرچ ادا کرنے کیلئے بھی پیسے نہیں تھے ـ جیکی تقریبا سال بھر ماں کے پیٹ میں رہا، آپریشن کرکے نکالا گیا تو وہ اچھا خاصا ساڑھے تین کلو کا تھا، اسکی ماں لی لی پیار سے جیکی کو پاؤ پاؤ (توپ کا گولہ) پکارتی ـ اسپتال کے رجسٹر میں جیکی کا نام چانگ کانگ سانگ درج تھا جس کا مطلب ہانگ کانگ کا بیٹا ہے ـ آج جیکی چیان کے نام پر کم از کم تیس ہزار ویب پیج اور تقریبا آٹھ مقبول کتابیں لکھی جاچکی ہیں ـ کئی زبانوں میں انکے تراجم بھی ہوچکے، مگر خود اسے پڑھ نہیں سکتا اور لکھنے کا انداز بہت ہی خراب ہے ـ جیکی اپنا آٹو گراف مختلف طریقوں سے دیتا ہے کہ پہچاننا دشوار ہوتا ہے کہ یہ واقعی جیکی چیان کے دستخط ہیں ـ


بچپن میں وہ اپنے پسندیدہ ہیرو ’’بروسلی‘‘ کی فلم دیکھنے کیلئے ماں سے پیسے کی ضد کر رہا تھا، پیسے نہیں ملے تو وہ الٹا کھڑا ہوگیا اور تب تک کھڑا رہا جب تک اسے پیسے نہیں دیدیئے ـ جیکی چیان خود کہتا ہے: ’’اپنے کو ایذا پہنچانے سے بڑی سزا یہ ہے کہ اپنی تکلیفوں سے دوسروں کو اذیت پہنچائی جائے، اِس سے قدرت کا توازن بنا رہتا ہے ـ اسلئے اکثر میں بھوکا رہتا ہوں، جب لوگ یہ کہنے لگیں کہ اب کھالو ورنہ مرجاؤ گے ـ ویسے میں ایک وقت میں دو مرغ اور ایک درجن انڈے کھا کر دو لیٹر دودھ پی سکتا ہوں اور پانچ چھ گھنٹے کی کسرت سے اسے ہضم بھی کرسکتا ہوں ـ‘‘ ہانگ کانگ میں فرانسیسی سفیر کا آسٹریلیا تبادلہ ہوگیا اور وہ اپنے نوکروں کے ساتھ انکے بچے سانگ (جیکی) کو بھی ساتھ لے گیا ـ

پہلا عشق
سانگ کی پہلی محبوبہ اِس سے عمر میں پانچ سال بڑی تھی، وہ اسکول میں سینئر تھی ـ یہ بھی عام رومانی کہانیوں کی طرح ہے، سانگ سائیکل پر گھر لوٹ رہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگ ایک لڑکی کو چھیڑ رہے تھے اور اسکے ساتھ زور زبردستی بھی کر رہے تھے ـ پھر سانگ نے سائیکل کو ہتھیار بنایا اور سب کو مار بھگایا، سائیکل ٹوٹ کر بکھر گئی اور سانگ کے پاؤں کی ایک ہڈی بھی ٹوٹ گئی ـ اس لڑکی نے سانگ کو نئی سائیکل خرید کر دی اور پھر دونوں میں دوستی ہوگئی ـ جیکی ہر وقت تنگ دست اور پریشان رہتا تھا اسکے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا ـ اسی دوران اس نے اپنی محبوبہ کو ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پر مدعو کیا، بِل دینے کا موقع آیا تو سانگ نے ویٹروں سے مار پیٹ کرتے ہوئے حوالات پہنچ گیا ـ یہ اسکی پہلی محبت کا آخری دن تھا ـ ویسے بعد میں جیکی نے وہ ریسٹورنٹ ہی خریدلیا اور اسے اسی حالت میں رکھا جیسے وہ پہلے تھا ـ سال میں دو بار (سانگ اور اسکی محبوبہ کی سالگرہ کے دن) وہاں دعوت عام ہوتی ہے، جیکی نے اپنی بیٹی کا نام بھی اسی محبوبہ کے نام پر رکھا ہے ـ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیکی نے اپنے کسی انٹرویو، ڈائری اور کتاب میں اپنی محبوبہ کا اصلی نام نہیں بتایا، وہ پیار سے اسے شینڈی کہتا تھا ـ

آج جیکی کے پاس کم سے کم تین جہاز ہیں، مگر پہلی محبوبہ کی دی ہوئی سائیکل کو اپنے ہانگ کانگ کے اسٹوڈیو کے باہر کانچ کے فریم میں سجا رکھا ہے ـ جیکی کی یہ محبوبہ 2003ء میں ایک کار حادثہ میں فوت ہوگئی ـ موت کے وقت تک شینڈی کو معلوم نہ تھا کہ اس کے بچپن کا دوست اور محبوب سانگ (جیکی) دنیا کا ممتاز اداکار بن چکا ہے ـ جیکی کو جذباتی صدمے کے علاوہ بے شمار جسمانی اذیت کا بھی سامنا کرنا پڑا ـ ایکشن کے اس ممتاز اداکار کی ناک کی ہڈی تین بار ٹوٹ ہوچکی ہے، ایڑی دو بار چٹخ چکی ہے، دونوں ہاتھوں کی تمام انگلیاں ٹوٹتی رہتی ہیں اور ان پر پلاسٹر لپٹا رہتا ہے اور اسکے شانوں، جبڑں پر بھی بے شمار چوٹیں آئیں ہیں ـ جیکی کہتا ہے ’’میری سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ رونا نہیں آتا جبکہ میں رونا چاہتا ہوں ـ میری امیج ہی کچھ ایسی بن گئی ہے کہ اب میں اس پر بھروسہ کرنے لگا ہوں، اسلئے رونے سے ڈرتا ہوں ـ مجھے یاد ہے کہ آخری بار اس دن رویا تھا جب مجھے اسکول سے نکال دیا گیا تھا، میرا خیال ہے کہ رونے سے دل کی سیاہی دھل جاتی ہے اور ہنسنے کا نیا موقع ملتا ہے، ہنسنا اور رونا ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں ـ‘‘

1986ء ـ ایک واقعہ

کوریا کی عدالت میں افیم اسمگلنگ کا مقدمہ زیرِ سماعت تھا، ملزمہ ادھیڑ عمر کی ایک خاتون تھی، ثبوت اتنے پختے تھے کہ سزائے موت یقینی تھی ـ خاتون کے بیان کے مطابق اس کا نام لی لی چارلس تھا، وہ ہانگ کانگ کے ایک غریب خاندان سے تھی اور آسٹریلیا سے لیکر جاپان تک گھروں میں کام کرکے گزر بسر کرتی تھی ـ اس کا کہنا تھا کہ اسکے بیٹے کے دشمنوں نے اس کو بدنام کرنے کیلئے اس معاملہ میں بلا وجہ پھنسایا ہے، وہ بے گناہ ہے ـ عدالت نے بیٹے کا نام دریافت کیا تو خاتون نے اپنے بیٹے کا نام بتایا اسکے ساتھ ہی پوری عدالت میں یکدم سنّاٹا چھا گیا، وہ خاتون جیکی چیان کی ماں تھی ـ جیکی کیوجہ سے اسکی سزا کم کردی گئی اور اچھی خاصی رقم کا جرمانہ عاید کردیا جسے بعد میں جیکی نے ادا کیا ـ جیکی اس بات کو کبھی نہیں بھولتا کہ اسکی پیدائش اور پرورش کا ابتدائی خرچ ریڈ کراس نے اٹھایا تھا، اسلئے وہ اس ادارے کو پابندی سے عطیہ دیتا ہے ـ وہ اکثر یتیم خانوں میں بھی جاتا رہتا ہے اور کسی نہ کسی طرح انکی مدد کرتا ہے ـ یہ ہے آج کا جیکی چیان، جو پردے پر کچھ نظر آتا ہے اور جس نے اپنا بچپن نہایت ہی غربت اور کسم پرسی میں گذارا تھا ـ





Labels: , , , , , , , , , , , ,

Anonymous Urdudaan said...

janaab,

yeh chiyaan/chyaan kya hota hai? ham ne to chan hi suna tha.

August 14, 2011 3:32 PM  
Blogger Shuaib said...

چن ہو چیان اور میرا خیال ہے انگریزی لہجہ میں چیان ہی صحیح ہے ۔ :)

August 14, 2011 5:06 PM  
Blogger TariqRaheel said...

Thanks شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

August 23, 2011 2:24 PM  
Blogger TariqRaheel said...

Thanks..............شکریہ

August 23, 2011 7:12 PM  

Post a Comment

Tuesday, July 12, 2011

اسکول ڈے ـ پہلا حصہ (ایڈیٹ 63 سے)

آج کلاس روم میں خدا نے بچوں پر بھاشن جھاڑتے ہوئے فرمایا: آپ اپنے ننھے منّے دماغوں میں ابھی سے یہ بات گانٹھ لو کہ ہم خدا ہیں اور اِس سارے جہاں کے ایک اکیلے اور تنہا مالک ہیں ـ چونکہ ہم خدا ہیں اِس لئے چین و جاپان، امریکہ و بوسنیا، ہندوستان، پاکستان اور قبرستان ہر جگہ کی خبر رکھتے ہیں ـ ایک بچے نے کھڑے ہوکر خدا سے پوچھا: پاکستان میں ٹائم کیا ہے؟ خدا نے بچے کو پیار سے پاس بلایا پھر اُسکے دونوں کان پکڑ اٹھالئے اور جھنجوڑتے ہوئے کہا: بدتمیز! ہم خدا ہیں ناکہ گھڑی ساز! بھلا ہمیں کیا معلوم کہ پاکستان کی اوقات کیا ہے؟ بچے نے کپکپاتے ہوئے کہا: دراصل کل شام کو میرے ابّو گھر میں ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے بڑبڑا رہے تھے کہ ”پاکستان کا ٹائم خراب چل رہا ہے!“ خدا نے بچے کو واپس اُسکی جگہ پٹخنے کے بعد فرمایا: ہر ایک کی قسمت میں اچھا بُرا ٹائم چلتا رہتا ہے اور اس کا ذمہ دار خود انسان ہے ـ جس نے بھلا کیا اُس کا بھلا ہوتا ہے اور جس نے بُرا کیا اُس کا ٹائم خراب چلتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ انسان کا دشمن شیطان نہیں بلکہ انسان ہی ہے ـ

کلاس روم میں سبھی بچے خدا پر چڑھ گئے، کسی نے کان کاٹا تو کسی نے ناک کاٹ لیا ـ دراصل خدا نے بچوں سے سوال پوچھا تھا کہ ستاروں کی صحیح گنتی بیان کرو؟!! کسی نے بھی صحیح جواب نہیں دیا تو خدا نے بطورِ سزا بچوں کو قیامت پر غزل لکھنے کا حکم دیا ـ اب بھلا بچوں کا قیامت سے کیا لینا، سیدھا اسکول پر ہی غزل لکھ مارے کہ قیامت اور اسکول دونوں برابر ہیں ـ خدا نے سب بچوں کو لائن میں کھڑا کردیا اور انکے ننھے پچھاڑوں کو لاٹھی سے مار کر لال کر دیا پھر بچے بھی بدلے میں خدا پر چڑھ گئے جگہ جگہ کاٹ کر خدا کو دیوانہ بنا دیا ـ حالت نازک ہوگئی خدا نے فوری اسکول سے استعفی دیدیا: کہ بھئی خدا کا کام صرف عذاب اُگلنا ہے نہ کہ اِن کمبخت بچوں کو پڑھانا ـ خدا نے خود اپنے نام کی قسم کھاکر فرمایا: لعنت ہے ہم پہ جو آج کے بعد کسی بچے سے ایک پائی کا بھی سوال پوچھے ـ شام کو میڈیا کے آگے خدا نے روتے ہوئے کہا: آج کے بچوں میں پہلے جیسی بات نہ رہی، اپنے ٹیچروں کا ذرا احترام نہیں اور اگر ضِد پر آجائیں تو خدا کی بھی خیر نہیں!!

ٹھہر ٹھہر کر باہر بارش ہو رہی ہے کلاس روم میں بچے جماہیاں مارنے لگے، خدا نے موڈ بنانے کے لئے بچوں کے سامنے اپنی چمتکاری کے جوہر بکھیرنا شروع کر دیئے ـ اپنا روپ بدل کر خدا نے بچوں سے پوچھا: پہچانو، ہم کون؟ سب بچوں نے آنکھیں پھاڑ کر چلاّیا: ”اُسامہ بن لادن!“ واپس اپنی اصلی شکل میں آکر خوفناک انداز میں مسکراتے ہوئے خدا نے بچوں سے کہا: شاباش! خوب پہچانا ـ سچّی بات یہ ہیکہ اُسامہ اور خدا دونوں بھی ہم ہیں جو ساری دنیا کو پریشان کرتے پھر رہے ہیں جس کیلئے امریکہ سے ہمیں پیسے بھی ملتے ہیں ـ ـ ـ اور بہت جلد ہم اپنا تازہ ویڈیو ریلیز کرنے جا رہے ہیں جس میں اُسامہ نے ڈائریکٹ خدا پر ہی دھمکیاں ماری ہیں ـ ـ ـ دانت دکھاتے ہوئے خدا نے فرمایا: یہ راز کی بات ہے مگر کسی کو بتانا نہیں!! سب بچوں نے ڈر اور خوف کے مارے رونا شروع کردیا تو خدا نے دہاڑ کر کہا: خاموش!! ورنہ ہم اِس اسکول کی عمارت پر میزائل ٹھوک دیں گے ـ بچوں نے خوشی میں تالیاں بجائیں کہ یہ شُبھ کام آج ہی چار بجے اسکول چھٹنے کے فوری بعد کر دیں ـ

آج اسکول ڈے کے موقع پر سبھی بچّے کھڑے خدا کی شان میں ترانے گائے ـ دانت دکھاکر خوش ہونے کے بعد خدا نے مائک پر زور سے کہا: شاباش! بیٹھ جاؤ اور ایک ایک کرکے ہم سے پوچھو کہ کیا پوچھنا ہے ـ ایک بچے نے کھڑے ہوکر با ادب خدا سے پوچھا: مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے مثالوں کے ساتھ بیان فرمائیں ـ خدا نے غصّے میں بچے کو گول گھماکر دور پھینکنے کے بعد کہا: بدتمیز! خدا سے بیحودہ سوال کرتے ہو؟ یعنی کہ ہم مر کر زندہ ہوئے ہیں! ہم خدا ہیں اور ابھی تک زندہ ہیں، بھلا ہمیں کیا معلوم کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے ـ ایک اور بچے نے خوف کے مارے کانپتے ہوئے خدا سے کہا: لیکن ہماری مذہبی کتابوں میں مرنے کے بعد نہایت ڈراؤنے واقعات لکھے ہیں ـ خدا نے ڈانٹتے ہوئے کہا: ارے نالائق بچّو! مرنے کے بعد کے واقعات زندہ لوگوں نے ہی لکھے تھے نا ـ نہ کہ کسی مردہ نے؟ خود زندہ لوگوں نے اناپ شناپ کتابیں چھاپ دیں کہ مرنے کے بعد ایسا ہوتا ہے ویسا ہوتا ہے انکی امّاں کی ٹانگ ہوتی ہے!! سب بچوں نے کھلکھلاکر ہنس دیا تو خدا نے دہاڑ کر کہا: خاموش!! زندہ دل لوگ اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں اور مردہ دل والے اپنے مرنے کے بعد تک کے حالات سوچ سوچ کر پاگل ہوجاتے ہیں ـ

حالات حاضرہ پر خطبہ پڑھتے ہوئے خدا نے بچوں سے کہا: آپ واقعی بچے ہیں من کے سچے ہیں، شرارت تمہارے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہے مگر تمہارا دماغ نہایت معصوم ہے ـ تمہارا چہرہ اتنا پیارا کہ ہر کوئی تمہیں گود میں اٹھاکر چوم لے مگر کس کو کیا خبر کہ آدھی رات کو اٹھ کر انٹرنیٹ پر تم کیا دیکھتے ہو؟ باپ کا کریڈٹ کارڈ چراکر ننگی فلموں پر ہزاروں لٹاتے ہو؟ صرف ننگا تماشہ دیکھنے کیلئے مہنگا موبائل خریدتے ہو؟ ٹیکنالوجی کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بیحودہ چیزیں ایکدوسرے کو ایم ایم ایس کرتے ہو؟ ـ ـ ـ چھاتی پیٹ کر روتے ہوئے خدا نے کہا: مگر قصور تم بچوں کا نہیں، قصور تو حالات کا ہے جسے تمہارے بڑوں نے جنم دیا، ہر سال ایک نیا زمانہ لاتے ہو ایک نیا کلچر پیدا کرتے ہو ـ کہیں باپ اپنی بیٹی کی مار رہا ہے اور ماں اپنے بیٹے سے مروا رہی ہے ـ باہر دنیا میں الگ پہچان ہے اور گھروں کے دروازےکے اندر عجب تماشہ ہے ـ تم لوگ دور دور کی خبر گیری کرتے ہو مگر اپنے پڑوسی کا احوال نہیں پتہ! تم معصوم بچے اسی کو اپنا کلچر مان لیتے ہو ـ کتابوں میں لکھی اچھی باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آتیں، اب سوائے گالی کے تمہیں ڈانٹ نہیں ملتی، بس میں کنڈیکٹر سے گالی کھاتے ہو، گلی میں آئس کریم والے سے گالی سنتے ہو، اب اسکول میں ٹیچر بھی تمہاری ماں بہن کی گنتے ہیں!!

دہاڑ کر روتے ہوئے خدا نے کہا: سارا کا سارا قصور ہمارا ہے کہ ہم نے انسان کو بنا دیا، آج یہ انسان اتنا ترقی کرگیا کہ خدا پر بھی میزائل مارنے کی صلاحیت رکھتا ہے ـ پہلے زمانے میں لوگ بڑے ہوکر بدمعاش بنتے تھے مگر آج کے بچے بچپن میں ہی بڑے بدمعاش بن گئے! ـ توبہ کیا زمانہ آگیا کہ اُستاد اور شاگر ساتھ بیٹھ کر شراب پیتے ہیں، اب غنڈوں کے بجائے ٹیچر لوگ بھی عصمت دری کی خبروں میں خوب چھائے رہتے ہیں! ـ پڑھائی کے نام پر سیکس کو موضوعِ بحث بناتے ہیں ـ پہلے اُستاد کا مار پھولوں کا ہار سمجھا جاتا تھا اور آج اسکولوں میں پٹائی کے نام پر بچوں کے دانت توڑتے اور ہاتھ توڑتے ہیں یہاں تک کہ مار مار کر بیہوش بھی کر ڈالتے ہیں ـ خدا نے تین بار کہا: لعنت ہے لعنت ہے لعنت ہے ـ ـ ـ اسکولوں میں ہزاروں کی فیس لوٹنے والو، پڑھائی کے نام پر دھندہ چلاتے والو ـ ـ ـ ڈاکٹری پڑھنے کے بعد لٹیرے بنتے ہو، انجینئرنگ کرنے کے بعد لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو اور جس نے وکالت سیکھ لیا اُس نے اپنے باپ پر ہی الزام ٹھوک دیا ـ ـ ـ آنسو پونچھتے ہوئے خدا نے بچوں سے کہا: میاں،تالی تو بجاؤ کہ ہم نے اتنا زبردست بھاشن بولا ـ سب بچوں نے زوردار تالیاں بجاکر خدا کو خوش کر دیا ـ

موڈ بنانے کیلئے ایک بچے نے خدا سے پوچھا: کیا آپ نے نئی فلم ”ڈھلی بیلی“ دیکھی؟ بیزارگی سے خدا نے کہا: میاں، ہم اتنے بھی فضول نہیں کہ فضول فلمیں دیکھ پاتے ـ البتہ ہم نے اِس فلم میں گندے مکالموں کے خلاف جلوس میں شامل ہوکر نعرے لگائے ـ خود اِس کے فلمسازوں نے ہم سے کہا کہ میڈیا کے آگے ہماری فلم کے پوسٹرس پھاڑو تاکہ مفت میں پبلسٹی ملجائے اور اس کام کے لئے ہمیں سو روپئے ملے ـ سب بچوں نے خدا کی چالاکی پر تالیاں بجاکر سواگت کیا ـ پھر انتاکشری کھیلتے جب خدا کی باری آئی تو 'ٹ' پر اٹک گئے ـ خدا نے اُس بچے کو پاس بلاکر خوب پٹائی کر دی جس نے 'ٹ' پر گانا ختم کیا، خدا نے غصّے میں کہا: حالانکہ 'ٹ' پر کوئی گانا ہمیں یاد نہیں اور جب ہماری باری آئی تو 'ٹ' پر اٹکا دیا؟ ایک بچّی نے کھڑے ہوکر خدا سے کہا: 'ٹ' سے ٹن ٹن ٹن اسکول کی گھنٹی بجاؤ اور ہماری چھٹی کرو ـ خدا نے بچوں سے کہا: واقعی یہ قسط کافی لمبی ہوچکی ہے نا؟ ایک بچے نے خدا سے پوچھا: یہ آپکی قسطیں کون پڑھے کہ کس کے پاس اتنا ٹائم ہے؟ خدا نے جواب دیا: میاں، ہماری قسطیں ایک کڑوا سچ ہے جو ہر کسی سے ہضم نہیں ہوتا، کئی پڑھنے والوں کی زبان لڑ کھڑا جاتی ہے اور کئی پڑھنے والے ایک سانس میں پڑھ جاتے ہیں!!

خدا نے بچوں سے کہا: اب زیادہ بور ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آخری پیراگراف ہے ـ اپنے سارے کے سارے ہاتھ آسمان کیجانب اُٹھاکر خدا نے بچوں سے کہا: دنیا میں انسانیت صرف نام کو ہے، خود انسان ایکدوسرے پر خدا ٹھہرے ـ تم بچے بھی بڑے ہونے کے بعد یا تو خدا بنو گے یا محکوم ـ تم بچے اچھائی دکھانا چاہتے ہو مگر ہر جگہ رسوائی ملتی ہے، بھلائی کرو تو پبلک تمہاری دُھلائی کرتی ہے، تمہاری نیک نیّتی کسی کو اچھی نہیں لگتی، تمہارے بھولے پن سے دوسرے فائدہ اُٹھاتے ہیں ـ پڑھائی میں دھوکہ، پڑھ لکھنے کے بعد بھی دھوکہ ـ نوکری کیلئے دھکّے کھاتے ہو پھر نوکری پالینے کے بعد دوسروں کو دھکّے مارتے ہو؟ ـ ـ ـ اچھا ہے کہ تم بچے ہی رہو، معصومیت قائم رکھو ـ ـ ـ اگر دنیا میں کہیں انسانیت ہے تو وہ صرف تم بچوں میں ہے ـ تم بڑے ہوجاؤگے تو انسانیت کو چھوڑ کر کوئی ہندو بنے تو کوئی مسلمان، پھر اپنے بچپن کی یاری بھول کر ایکدوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہو گے ـ پڑھ لکھنے کے بعد خدا کو بیوقوف بناتے ہی ہو مگر شرم کی بات ہے کہ تم خود بھی بیوقوف بنتے ہو ـ ـ ـ دہاڑ کر روتے ہوئے خدا نے بچوں سے کہا: تم نہ ہندو ہو نہ مسلمان بلکہ معصوم ننھے منّے بچے ہو اور خدا کے نزدیک سب سے عزیز تم ہی ہو ـ ـ ـ سبھی بچوں نے زبردست تالیاں بجائیں، خدا نے شکریہ کے طور پر بچوں میں پانچ پانچ روپئے بانٹے تو بچوں نے خوشی میں دوبارہ تالیاں بجائیں ـ ـ ـ خدا نے بچوں کو ڈانٹا: اوئے کمبختوں! بس بھی کرو ہمارے پاس اور پیسے نہیں!! ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

یہ خدا ہے ـ اصل 63 اور ایڈیٹ کے بعد 85 ویں قسط

Labels: , , , , , , , , , , , , , , ,

Post a Comment

Tuesday, July 05, 2011

گبّر اور سامبا




     گبّر -- کتنے آدمی تھے؟
 سامبا -- سردار 2
گبّر -- مجھے گنتی نہیں آتی، 2 کتنے ہوتے ہیں؟
سامبا -- سردار 2، 1 کے بعد آتا ہے
گبّر -- اور 2 کے پہلے؟
 سامبا -- 2 کے پہلے 1 آتا ہے.
گبّر -- تو بیچ میں کون آتا ہے؟
سامبا -- درمیان میں کوئی نہیں آتا
گبّر -- تو پھر دونوں ایک ساتھ کیوں نہیں آتے؟
 سامبا -- 1 کے بعد ہی 2 آ سکتا ہے، کیونکہ 2، 1 سے بڑا ہے.
 گبّر -- 2، 1 سے کتنا بڑا ہے؟
 سامبا -- 2، 1 سے 1 بڑا ہے.
گبّر -- اگر 2، 1 سے بڑا ہے تو 1، 1 سے کتنا بڑا ہے؟
 سامبا -- سردار، میں نے آپ کا نمک کھایا ہے، اب مجھے گولی کھلا دو

Labels: , , , , ,

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters