سیکس
بھی ہر جگہ غیر قانونی سیکس آسانی کیساتھ دستیاب ہے ـ مگر وہاں ہندوستان کے بڑے شہروں میں سیکس کیلئے مخصوص علاقے آباد ہیں جہاں باقاعدہ لائسنس یافتہ لوگ انسانی جسموں کا کاروبار کرتے ہیں جس سے ہونے والی آمدنی کو ہنسی خوشی کیساتھ سرکار، پولیس، دلال اور دوسرے بھائی لوگ آپس میں بانٹ لیتے ہیں ـ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ غیر قانونی سیکس بھی تمام ترقی پذیر ملکوں کا راز ہے ـ
جرم کو جرم بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ اسکا دارومدار سزا دینے والی سرکار پر ہے، وہ جو چاہے کرسکتی ہے، مجرم کو معاف اور بے گناہ کو سزا بھی دے سکتی ہے ـــــــ انسانی حقوق، آزاد خیال، عیاشی کا سامان اور تعلیم ہر ترقی پذیر ملک کی شان ہے ـ ہندوستان ان سب چیزوں سے بہت دور تھا مگر اب یہاں سب کچھ موجود ہے جو ایک ترقی پذیر ملک میں ہونا چاہیئے ـ اپنے ملک کیلئے نیک امیدیں رکھتا ہوں کہ دن بدن ترقی کرتا جائے ـ


