نئی باتیں / نئی سوچ

Thursday, August 17, 2006

اِن سے ملو ـ 29

یہ خدا ہے

لبنان کو بیلی ڈانس کرواتے خدا نے اپنی ٹانگ توڑ لی، صحتیاب ہوجانے پر دوبارہ نئے انداز سے ناچ دکھانے کی اُمید ہے ـ آج عرب ممالک کے چہرے خوشی سے کِھل اُٹھے، خدا کی ٹانگ کیا ٹوٹی حزب اللہ کی فتح سمجھ بیٹھے ـ امریکہ نے مکمل آرام کا مشورہ دیا مگر ٹانگ ٹوٹنے کے باوجود ایران میں اپنا لنگڑا ناچ دکھانے خدا بیقرار ہے ـ اُدھر جاپان نے امریکہ کو وارننگ لکھ بھیجا، بس بہت ہوگیا اب خدا کو امریکہ سے باہر نکلنا ہی ہوگا باقی دنیا اُسکی جھلک دیکھنے بیتاب ہے ـ اگر امریکہ خدا کو آزاد نہ کرے، ورنہ وہ خود مختلف اقسام کے خدا بناکر فروخت کرے گا ـ دوسری طرف روس، کوریا اور وینزویلا نے جاپان کی حمایت کردی، وہ دن دور نہیں جب ہر ملک کا اپنا خدا ہوگا ـ مگر امریکہ کی خوش قسمتی کہ سب سے اعلی درجے کا خدا اُسکے اپنی قید میں ہے، بارہا امریکہ نے کہا: خدا کا شکریہ کہ خدا ہماری قید میں ہے ـ جس دن خدا زمین پر آیا تو اُسکی عظمت کی گارنٹی لینے والا امریکہ کے سِوا دوسرا کوئی ملک سامنے نہیں آیا اور آج امریکہ پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں کہ وہ خدا کی قدرت کا غلط استعمال کر رہا ہے ـ اگر یوں ہی غریب ملکوں کو روندتا پھرے تو ایک دن خدا کی قدرت بھی ضائع ہوجائیگی اُسکے بعد امریکہ خود خدا بن بیٹھے گا ـ اکثر مواقع پر خدا نے اپنا بیان دیا تھا اور اسوقت بھی اپنی ٹانگ تُڑوانے کے فورا بعد فرمایا: ہمیں امریکہ ہی میں رہنا پسند ہے کیونکہ یہاں تعصب، فرقہ پرستی، مذہبی اختلافات جیسی واہیات نہیں ـ اور دوسرے ملکوں میں جانے کو ڈر لگتا ہے چونکہ ہمارا کوئی مذہب نہیں اور اُن مذہبی انسانوں کو اپنا کیا منہ دکھاتے ـ خدا نے پھر ایک بار نہایت ہی غضبناک انداز میں فرمایا: خدا کو خدا کی قسم، جو شخص امریکہ کو سُپر پاور نہیں مانتا وہ ہم میں نہیں ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

Labels:

Post a Comment

Monday, August 14, 2006

آج چھٹی ہے

صبح سویرے پریڈ گراؤنڈ پہنچو، پرچم لہراؤ منتریوں کا بھاشن سُنو اور تالیاں بجاؤ پھر مٹھائی کھاؤ

صبح صرف دو گھنٹے آزادی کا جشن منانے کے بعد آج چُھٹی کا دن ہے، ہم سب ہندوستانیوں کو 59 ویں آزادی کی چھٹی مبارک

صبح سویرے گراؤنڈ میں پہنچ کر آزادی ملنے کی خوشی میں اپنے جوش و جذبے کا اظہار قومی ترانہ گا کر کیا پھر سبھی ہندوستانیوں نے پوری آزادی کے ساتھ صبح صبح تھنڈی سانس لی کہ آج چھٹی کا دن ہے ـ اسکولی بچوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ کِسطرح شہیدوں نے اپنی قربانیوں سے وطن کو آزاد کروایا، اور اُنہی کی قربانیوں کیوجہ آج ہم آزادی سے سانس لے رہے ہیں ـ بچے تو مان گئے مگر آج بھی چند بالغ لوگوں کا رونا ہے کہ یہ کیسی آزادی ہے؟ کون کہتا ہے بھارت آزاد ملک ہے؟ ایسے لوگ اور پچاس سال بعد ویسے ہی روتے نظر آئینگے کہ بھارت تو آزاد ہے مگر ہم ابھی تک غلام ہیں ـ آج اگر بھارت چند دوسرے ترقی پذیر ملکوں سے دو قدم پیچھے ہے تو صرف اُن لوگوں کیوجہ سے جو اتنے بڑے آزاد ملک میں ڈرتے ہوئے سانس لیتے ہیں ـ ہر کوئی سچّا بھارتی اپنے وطن میں پوری آزادی سے سانس لے رہا ہے کیونکہ یہ صرف اپنا ملک ہی نہیں بلکہ ہماری ماں سمّان ملک ہے اور اپنی ماں کی گود میں پوری آزادی سے سانس لینے والا کسی سے نہیں ڈرتا اور وہ آرام سے ہنستا کھیلتا ہے ـ خدا کا بے انتہا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ایسے جنّت مقام ملک میں پیدا کیا جہاں پوری پوری آزادی ہے ـ اخباروں میں خبریں پڑھ کر ڈر لگتا ہے کہ خدانخواستہ اگر ہمارا جنم کسی ایرے غیرے ملک میں ہوتا تو ـ ـ ـ ـ خدا نے ہماری قسمت چمکا دی کہ ایک آزاد اور خوشحال ملک کا شہری بنایا اور باقی دنیا کی نظروں میں عزّت دی جس پر فخر سے کہنے کو دل کرتا ہے ہم ہندوستانی ہیں ـ

Post a Comment

دُوردرشن اُردو

ہر کسی کو اپنی زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ہمارے راشٹرپتی عالیجناب عبدالکلام صاحب، جنہیں بچپن سے اپنے وطن کی خدمت کرنے کی خواہش تھی اور وہ اپنے نیک مقصد میں کامیاب رہے ـ اور مجھے بچپن سے گرافک کا شوق تھا، اِس میں ڈپلومہ کے بعد آج صبح و شام صرف گرافک پر کام کرتا ہوں ـ اسکے علاوہ ایک اور خواہش بھی ہے کہ اگر دولت ملے تو مابدولت اپنے ٹیلیویژن چینلس بھی براڈکاسٹ کریں گے اور ایک اُردو ٹی وی چینل بھی ہوگا ـ پتہ نہیں مابدولت کا یہ خواب کب پورا ہوگا ـ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج آخرکار بھارت سرکار نے اُردو ٹیلیویژن چینل DD URDU شروع کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ـ جب بنگلور میں نوکری کر رہا تھا، تو ہمارے باس نے بھی اُردو ٹی وی چینل شروع کرنے کی سوچی اور تبھی ہم نے خوشی اور جوش میں آکر ملٹی میڈیا میں ڈپلومہ کیلئے جوائن کرلیا ـ مگر اسپانسرس میں اختلاف ہوگیا کہ اِس ٹی وی چینل کو خالص اسلامی بنائیں گے کیونکہ بھارت میں ایک بھی اسلامی ٹی وی چینل نہیں ہے، اور کچھ دوسرے اسپانسرس بھی اڑ گئے چونکہ اُردو چینل کا بیڑا اُٹھایا ہے تو یہ خالص اُردو انٹرٹینمنٹ چینل ہی بنے گا کیونکہ اسلامی چینل میں کوئی اشتہار نہیں دیتا اور یہ چینل اشتہار کے بغیر نہیں چلتا ـ اور پھر وہ ٹیلیویژن چینل شروع تو نہیں ہوا مگر ہمارا ملٹی میڈیا ڈپلومہ کمپلیٹ ہوگیا اور دل میں ٹھان لی کہ مابدولت کے پاس کچھ دولت آجائے تو پھر اُردو تو کیا، بھارت کے سبھی زبانوں میں اپنا ٹیلیویژن چینل ہوگا ـ اِس سے پہلے کہ ہم اپنا اُردو ٹی وی چینل شروع کرتے بھارت سرکار ہم سے آگے نکل گئی اور 15 اگست 2006 سے ’’دُوردرشن اُردو‘‘ براڈکاسٹ ہونے کی خوشخبری سنائی ـ اب تو ہم اِس سرکاری چینل کو اپنا ہی سجھیں گے ـ

Post a Comment

Sunday, August 13, 2006

اِن سے ملو ـ 28

یہ خدا ہے

’’قسم خدا کی، خدا کو نچاتے ہی رہیں گے‘‘ ـ اُسامہ کے شاگردوں نے نیا ویڈیو کیسٹ ریلیز کردیا ـ دوسری طرف امریکہ کو لندن سے لفافہ ملا، خدا کیلئے ہدایت ہے ’’باہر نکلو تو نقاب میں رہے، زمانہ خراب ہے‘‘ ـ مگر وہ تو بے نقاب لبنان میں اپنا جوش و جذبہ دکھا رہا ہے ـ عرب ممالک کی آہ و زاری اور بیشتر ملکوں میں لبنان سے ہمدردی کیوجہ امریکہ شش و پنج میں مبتلا ہے ـ ایسے موقع پر مشرف کِس کام کے؟ اِن کے اکثر آئیڈیئے امریکہ کیلئے سودمند ثابت ہوئے ـ پاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک کے کئی باشندوں کو زبردستی بکرا بنایا اور ہیتھرو سے لیکر باقی دنیا کے طیرانگاہوں میں ہائی الرٹ کر دیا ـ ابھی راستہ صاف ہے، سب کی توجہ طیرانگاہوں کی طرف ـ اب تو لبنان میں خدا کُھل کر تباہی مچائے ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

Labels:

Post a Comment

Friday, August 11, 2006

اِن سے ملو ـ 27

یہ خدا ہے

بھارت نے خدا کو ستیہ دیکھنے پر اُکسایا کہ کِسطرح بُرے کا انجام بُرا ہوتا ہے ـ خدا غرّایا: ہم نے کب کسی کا بُرا چاہا؟ اگر وہی طالبان کو دکھاتے تو ہمارے حملے سے قبل ہتھیار ڈال دیتے ـ خدا نے مثال رکھی: اُسامہ کو ہم نے مہرہ دکھایا، اور وہ سنجیدگی کے ساتھ آج بھی ہمارے لئے ایک مہرہ کا رول نبھا رہے ہیں ـ خدا کو اِسوقت بالی ووڈ کی فلمیں کچھ زیادہ ہی پسند آنے لگیں، راتوں میں اُٹھ کر سنی دیول کی طرح دہاڑتا ہے اور کبھی نانا پٹیکر بن کر دیواروں سے گفتگو کرلیتا ہے ـ خدا کو خونین جنگوں پر مبنی فلمیں بھی دکھائیں جو اُسے راس نہ آئی، جیمس بانڈ شروع ہوتے ہی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ لارڈ آف دی رِنگ سے بھی پوری طرح فیضیاب نہ ہوسکا ـ کاش خدا بھی خونین جنگوں والی فلمیں دیکھ لیتا، کہ کسطرح لاکھوں کی تعداد میں عوام مارے جاتے ہیں، ہزاروں بچے یتیم اور عورتوں کو بیوہ بن کر رنڈیوں کیطرح خدمات دینی پڑتی ہے ـ کاش خدا دیکھ لیتا کہ تباہیوں سے کسطرح خوشحال گھرانے اُجڑتے ہیں، دھماکوں کی ہلچل سے عوام کسطرح چیختے ہوئے بھاگتے ہیں، وہ منظر بھی دیکھ لیتا کہ بچے اپنی ماں سے بچھڑ کر کسطرح بِلک کر روتے ہیں ـ مگر خدا سے ایسی دردناک فلمیں دیکھی نہیں جاتی، اور خون خرابہ، فتنہ فساد تو بالکل پسند نہیں کسی پر ظلم ہوتے دیکھنا بھی گوارا نہیں ـ آج بھی عراق میں خدا کو چیخ چیخ پکارا جا رہا ہے مگر مجال ہے خدا نے کبھی اُنکی سُنی، افغانوں کی اُمید، اُمید ہی رہ گئی کہ عنقریب غیبی امداد نصیب ہوگی اور وہ امداد غائب ہی رہی، بوسنیا اور چیچنیا والوں کو بھی خدا پر بھروسہ تھا کہ وہ مدد کیلئے ضرور آئے گا مگر اُنہیں بھی مایوسی نصیب ہوئی ـ یہ انسانی فطرت ہے یا پاگل پن، ہمیشہ خدا کو ہی یاد کیا جاتا ہے مگر خدا ہیکہ کِس کِس کو یاد رکھے؟ جسے یہ بھی نہیں معلوم کہ انسان زمین کھود کر ایندھن نکالتا ہے، خلاء میں کان پھاڑتے گذرتا ہے، چاند پر اُتر کر جھنڈا گاڑتا ہے، اندھیروں میں روشنی لاتا ہے، دنیا بھر کے حالات و واقعات کو کمیونیکیٹ کرتا ہے ـ خدا کے فرشتے اور اُسکے چہیتوں نے جو کچھ نہیں کرسکے اُسے آج کا انسان انجام دے رہا ہے ـ باوجود پھر بھی خدا کو دھونڈنے کا کام جاری ہے، پتہ نہیں کس کی شکل پر خدائیت نظر آئیگی؟ ـ ـ جاری

باقی پھر کبھی

Labels:

posted by Shuaib at 10:27 PM 0 comments

Post a Comment

Wednesday, August 09, 2006

اپنی خبر آپ

اخبار کا نام: روز نامہ انقلاب
مقام: ممبئی
زبان: اُردو
کل کے اخبار میں شہہ سُرخی: ’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘
(چونکہ یہ اخبار گِف فارمیٹ میں خبریں شائع کرتا ہے، سُرخی کا لِنک نہیں ملا)

تبصرہ:
بہت پہلے اسی اخبار میں ایک سرخی پڑھی ’’اسرائیل کے حملے میں پانچ معصوم فلسطینی شہید‘‘ ـ یہاں رہتے ہوئے عرصہ ہوگیا ابھی تک کسی بھی فلسطینی کو معصوم نہیں پایا، اگر فلسطینیوں کو معصوم لکھا جائے تو ضروری ہے کہ سبھی انسانوں کو معصوم لکھا جائے ـ یہی فلسطینی اگر اسرائیلیوں کو مارے تو وہ مرے اور اسرائیلی انہیں ماریں تو یہ شہید کہلائے کیونکہ فلسطینی چند لوگوں کی نظر میں آج بھی معصوم ہیں ـ ویسے ہی حزب اللہ نام کا گروہ ساری دنیا کیلئے دہشت گرد گروپ ہے اور چند لوگ تو انہیں مجاہدین تصور کرتے ہیں بھلے اُنکا مقصد کچھ بھی ہو، یہ اپنے فائدے کیلئے لڑیں اور دوسروں کو ماریں دنیا بھر میں بدامنی پھیلائیں پھر بھی ایک خاص طبقے کیلئے مجاہد ہی کہلائیں گے حالانکہ اِن سے رتّی بھر فائدے کی امید نہیں ـ اِنکے گروہ کا نام حزب ’’اللہ‘‘ معنی کچھ بھی ہوں مگر مقصد کچھ اور، تبھی تو عرب ممالک کا بھی اِس گروہ سے اختلاف ہے ـ القاعدہ والوں نے جو وعدے اور دعوؤں کے ساتھ بلند بانگ نعرے لگائے تھے، دنیا دیکھ چکی ہے کہ اُنہیں کس طرح منہ کی کھانی پڑی ـ اگر القاعدہ گروہ حق پر ہوتا تو آج امریکہ القاعدہ والوں کے تلوے چاٹتے نظر آتا ـ

پوری عرب دنیا خاموش ہے، اور اِس اخبار کی سُرخی شاید ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کیلئے چھاپی تھی ـ آج تک ’’حزب اللہ‘‘ کا تعارف نہ تو کہیں پڑھنے کو ملا اور نہ سُنا، اِس گروہ کی تعریف میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ اسرائیل کا کٹّر دشمن ہے، اسرائیل کے آرام میں خلل ڈالتا ہے ـ انکے گروہ کا عربی نام اتنا پیارا کہ اسرائیل کے ساتھ اٹکھیلیاں کھیلنے والے کو بھی مجاہد کے القاب سے نواز دیا ـ لبنان کے تازہ بُرے حالات کا ذمہ دار اسرائیل سے زیادہ حزب اللہ گروہ صاف دکھائی دیتا ہے ـ اگر حزب اللہ گروپ حق پر ہوتا تو آج صرف عرب ممالک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا حزب اللہ کی حامی ہوتی ـ اپنے مفاد کیلئے عوام کا لہو بہانے والے مجاہد نہیں کہلاتے ـ اخبار کی سُرخی’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں، کیونکہ دوسرے ہی دن اِس اخبار کی سُرخی کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے: ’’حزب اللہ کے جواب میں اسرائیل کا لبنان پر سب سے بدترین حملہ‘‘ وغیرہ ـ اخبار کا کام ہے بغیر کسی طرفداری کے خبریں چھاپے، اخبار کسی ایک خاص طبقے کو خوش نہیں کرسکتا، اگر اخبار کی خبریں بھی جانبدار رہیں تو وہ اخبار ہر کسی کیلئے خاص نہیں ـ

posted by Shuaib at 11:16 PM 1 comments

Anonymous Anonymous said...

بھائی جان آپ کو اس خبر سے تو بڑی تکلیف ہوئی۔۔لیکن زرا سی این این آن کیجیے وہ جواسرائیل کے حق میں زمین آسماں کے قلابے ملا رہے ہیں ان کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟؟؟

August 17, 2006 6:29 PM  

Post a Comment

Saturday, August 05, 2006

اب ہماری کون سُنے؟

کمال ہوگیا ـ ہم نے جو چاہا وہی ہوا ـ دو اُردو بلاگرس کو گالیوں کا جو تمغہ بھیجا تھا، اُس تمغے کو بھی سرِ عام پبلش کر دیا جو کہ ہم چاہتے بھی یہی تھے کہ وہ خود اپنی بے عزتی کا چرچہ کرلیں ـ پبلش کرنے والے صاحب نے اپنا گالیوں والا سرٹیفکیٹ کے نیچے یہ بھی لکھ دیا کہ یہ تمغہ صرف صاحبِ موصوف کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم کیلئے ہے ـ کمال کی بات ہے تمغے میں صرف اُن موصوف کا نام نمایاں طور پر لکھا تھا مگر اُنہوں نے داد حاصل کرنے کیلئے اِس تمغے کے حق داروں میں پورے پاکستان کو شریک کرنے کی ناکام کوشش کی ـ ہمیں کیا ضرورت کہ کسی سے یوں دشمنی مول لیں؟ مگر ہم سے کوئی دشمنی کرے تو شاید اُنہیں خدا بھی نہ بچائے ـ

ہند و پاک کے لوگ آپس میں صرف رشتہ دار ہی نہیں بلکہ، اب تو دونوں ملکوں کے بیچ دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ایکدوسرے کو بھائی کہتے ہیں ـ ایسے خوشگوار موقع پر ہمیں کیا ضرورت تھی کہ پڑوسی ملک کے کسی صاحب کو گالی اور دھمکی دے؟ اُس کا ہمارے اوپر کوئی احسان نہیں اور نہ ہمارا اُس پر ـ دونوں موصوفوں کو ہماری طرف سے یوں ہی مفت میں گالیاں نہیں ملیں، شاید سبھی اُردو بلاگرز کو احساس ہے کہ اُن دونوں کی قسمت میں گالیاں اِس لئے وصول ہوئیں کیونکہ وہ دونوں ہمارے خلاف کچھ زیادہ ہی نہایت گندی بکواس لکھ کر سرِ عام پوسٹ کی ـ اگر ہماری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی اُنہیں ہم سے بُری گالیوں سے نوازتا ـ بے شرمی کی انتہاء کہ پرائیویٹ گالیاں سہہ لینے کی بجائے سرِ عام دھنڈورا پیٹا جا رہا ہے ـ گالیوں کا سرٹیفکیٹ اُنکے پاس ہی ہے اُس پر ان کا نام بھی ہے، اور وہ دونوں بے شرم پورے پاکستان کا فیصلہ کرنے بیٹھے ـ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے آپسی رنجشیں پیدا ہوتی ہیں ـ ہر انسان مختلف گالیوں کا حافظ ہے اور دوسرے کو گالی تبھی دے گا جب اُسکی ذات پر کوئی اُنگلی اٹھائے جسطرح ہم نے کیا ـ

وہ دونوں صاحبان، پتہ نہیں پاکستان کے کس نیچ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ اگر وہ بھی باقی پاکستانی بلاگرز کیطرح باشعور اور پڑھے لکھے ہوتے تو اپنی بے عزّتی کی یوں چرچہ نہ کرتے ـ یہاں امارات میں آج بھی درجنوں پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، کبھی احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایکدوسرے کے پڑوسی ملکوں سے آئے ہیں ـ امارات، شاید دنیا کا پہلا ملک ہے یہاں ہند و پاک عوام کی بھائی چارگی ہر جگہ نظر آتی ہے ـ یہ پوسٹ لکھنے کا مقصد کچھ نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں کسی وضاحت کی ضرورت ہے ـ مگر اُن دونوں دھنڈورا پیٹنے والوں نے ہماری طرف سے بھیجی گئی پرائیویٹ گالیوں کو پورے پاکستان کیلئے قبول کروانے نکل پڑے، اُن دونوں نے اُن کا اپنا بلاگ اور سیّارہ تو گندہ کیا اِسکے علاوہ دوسروں کے بلاگز کو بھی گندہ کر دیا ـ اِس پوسٹ کا مقصد تو یہ تھا کہ دوبارہ واضح کردیں کہ وہ گالیاں ہم نے خاص اُنہی کیلئے بھیجی تھیں جنہوں نے ہمارے خلاف پوسٹ لکھ کر سرِ عام بدنام کرنے پر تُلے تھے مگر ناکام رہے ـ اگر ہم چاہیں تو یہیں بیٹھے بیٹھے اُن دونوں کو اُنہی کے محلّے میں بدنام کروا دیتے اور ہم تو اُن سے اچھا لکھنا جانتے ہیں، اگر چاہتے تو اُنکے خلاف بھی پوسٹ لکھ دیتے ـ مگر ہم اُن کی طرح نہیں کہ اپنے بلاگ کے ساتھ اُردو سیّارہ کو بھی گندہ کرے؟ اِسی لئے ہم نے اُنہیں پرائیویٹ طریقے سے گالیوں سے نوازا تھا ـ

یہ بلاگ ہمارا اپنا ہے، یہاں کچھ بھی بکواس لکھی جائے وہ ہماری مرضی ـ ہم وہ نہیں لکھ سکتے جو دوسرے یہاں آکر پڑھنا چاہتے ہیں، ہم تو یہاں یہی لکھیں گے جو ہم چاہتے ہیں ـ ہمارا بلاگنگ کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اپنے خیالات کو کھل کر لکھو، وہ نہ لکھو جو دوسرے پڑھنا چاہتے ہیں ـ ہماری قسط وار تحریریں ’’خدا سے ملو‘‘ یہ بھی ہمارے عجیب خیالات ہیں، جسے پڑھ کر سمجھنے والا اگر سمجھے تو حیران ہو اور نہ سمجھے تو پریشان ہو ـ خدا کسی کی جاگیر نہیں، ہم اپنے خدا کو گالی بھی دیں مگر کسی کی مجال جو ہمیں ٹوکے؟ ہم نے اپنی قسطوں کا ’’ہیرو‘‘ خدا کو بنالیا ہے، خدا پر اُلٹا پُلٹا کچھ بھی لکھ دیں یہ ہماری مرضی اپنا خدا ہم جو چاہے اُسکے ساتھ سلوک کریں گے ـ کوئی ہمّت نہ کرے کہ ہمارے اور خدا کے بیچ کلام میں خلل ڈالے ـ روز مرّہ کے واقعات اور حالاتِ حاضرہ کو دماغ میں رکھ کر ہم یہ قسطیں لکھتے ہیں اور وہی لکھیں گے جو ہماری سمجھ میں آئے ـ ہم بھی تھوڑا بہت پڑھ لکھ کر آئے ہیں اور جانتے ہیں کہ دوسروں کی دل آزاری کرنا بُری بات ہے، یہ بھی جانتے ہیں کہ دوسروں کے جذبات سے چھیڑ خانی کرنا گھٹیا حرکت ہے ـ اسکے باوجود ہماری تحریروں سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہم نے کونسا اُن کی ذات پر لکھا ہے؟ اِن قسطوں میں ہم نے کسی بھی دھرم مذہب کو جھوٹا نہیں لکھا، کیونکہ ہمارے والدین بھی کٹّر مذہبی ہیں اور ہم اُنکی مہذّب اولاد میں سے ایک نایاب نکل پڑے ـ ہماری اُن قسطوں میں وہی لکھا جاتا ہے جو ڈھکی چھپی باتیں ہوتی ہیں، ہماری سوچ اُن گہری باتوں میں گھسنے کے بعد ہی ایسی تحریر اُبھر آتی ہے ـ اور یہی ہمارے خیالات ہیں اور یہ تحریریں بھی ہمارے اپنے لئے ہے ـ انٹرنیٹ پر ایکدوسرے مذہب کے خلاف بہت سارا گھٹیا مواد ہے اور لوگ باگ ہیں کہ صرف ہماری ہی تحریروں میں نقص نکالنے لگے ـ

آخر میں ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں اتنی عقل تو دی کہ زندگی گذارنے کے اداب کی سمجھ آئی، دنیا اور انسانیت کو پہچاننے کی دماغی قوت نصیب ہوئی ـ ہم اگر اپنے بھائی بہنوں کی طرح کٹر مذہبی رہتے تو شاید آج ہم بھی اندھوں کی طرح جی رہے ہوتے ـ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں مذہب اور فرقہ جیسی بُری بلا سے بچالیا ورنہ آج ہم بھی فطرتا اپنے مذہب کو چھوڑ باقی مذہبوں سے نفرت کرتے ـ پتہ نہیں ہمارے میں کونسی خوبی خدا کو پسند آئی کہ ہمیں چھان کر نکالا اور سبھی مذہبی اختلافات بکواسیات سے پاک کیا اور ہمیں فرشتہ تو نہیں مگر ایک مہذّب انسان بنایا، خدا کا شکر ہے کہ اُس نے ہماری سُن لی ـ

اب انگریزی میں بھی

posted by Shuaib at 10:13 PM 3 comments

Anonymous Neena said...

Did you really wrote that email? What happened to your posts at Urdu Planet?

August 09, 2006 9:32 AM  
Anonymous کردار said...

شعیب آپ کو یاد ہو گا ایک مرتبہ میں نے آپ کی تحریر کو’آرٹ ورک’ قرار دیا تھا۔ لیکن حالیہ تحاریر میں جس انداز سے آپ نے گالیوں کی بھرمار کی ہے وہ ادبی شائستگی سے بہت دور ہے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کی یہ پوسٹ پڑنے تک میں ان دو ای میلز کو جعلی سمجھ رہا تھا۔۔ اور سرحد پار کچھ کرنے کی دھمکیاں تو سمجھ میں آنے والی نہیں۔ کیا آپ نے بھی کوئی دہشت گرد تنظیم بنا رکھی ہے

August 09, 2006 2:59 PM  
Anonymous SHUAIB said...

کردار:
شکریہ، بڑے دنوں بعد مگر سہی پوسٹ پر تشریف لائے ـ ایک مرتبہ یہیں کسی تحریر پر تبصرے میں لکھا تھا، بقول آپ کے ’’میں دل سے نہیں عینک لگا کر پڑھتا ہوں‘‘ ـ تو اس کا مطلب ہے اوپر کی پوری تحریر پڑھتے ہوئے آپ نے عینک نہیں لگایا ـ اگر چاہے تو عینک لگا کر دوبارہ پڑھ سکتے ہیں ـ

Sorry Neena; i can not give any reply to anonymous

August 09, 2006 10:43 PM  

Post a Comment

ہندوستان سے پہلا اُردو بلاگ
First Urdu Blog from India

IndiBlogger - The Largest Indian Blogger Community

حالیہ تحریریں

سویتا بھابی کا وال اچھا
تو میرا خدا میں تیرا خدا
دھونڈو تو خدا بھی مل جائے
مصروفیت
معلوماتِ خداوندی
2 اکتوبر، گاندھی جینتی کے موقع پر خاص پوسٹ
رام کہانی ـ رحیم کی زبانی
میرے چاند کے تکڑے
اس بلاگ پر اگلی پوسٹ

Hindi Blog

Urdu Graphic Blog

Motion Blog

Powered by ShoutJax

Counters